rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Present Situation -->> Hindustan
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Reyaz Azimabadi
Title :
   Kashmir Hindustan Ka Hai Aur Kashmiri Naujawan Aur Awam


 کشمیر ہندستان کا ہے اور کشمیری  نوجوان اورعوام؟


٭ریاض عظیم آبادی


    میں دو ہفتہ سے میرے ذہن ایک ہی سوال گونج رہا ہے…بے شک کشمیر ہندستان کا اٹوٹ حصہ ہے تو کشمیر کے نوجوان اور عوام ہندستان کے دشمن ہیں ؟بولٹ اور پیلٹ گولیوں کا  مقابلہ کچھ گمراہ نوجوان پتھر بازی سے کر رہے ہیں! ہندستان کی ایک چھوٹی ریاست میں امن و امان قائم کرنے اور بھائی چارہ کا ماحول بنانے میں ریاستی و مرکزی حکومتیں بری طرح ناکام ہیں۔ملک کی عدالت کو جواب دیا گیا کہ حکومت صرف رجسٹرڈ پارٹیوں سے بات کرے گی علحدگی پسندوں کو گھانس نہیں ڈالے گی اور پیلٹ گولیوں کا استعمال جاری رکھے گی۔کیا کشمیر میں کشت و خون کا سلسلہ جاری رہے گا؟ایک آرٹی آئی کے جواب میں حکومت تسلیم کیا ہے کہ27سال میں یعنی1990 سے2017 تک 41900افراد مارے جا چکے ہیں جن میں13ہزارفوجی یا پولس کے اہلکار ہیں۔کشمیری عوام کو ایک طویل عرصے تک کرفیو کے عذاب کو جھیلنا پڑا ہے۔تعلیمی نظام درہم برہم ہے۔یہ المناک حقیقت ہے کہ کشمیر کا شاہدہی ایسا گھر بچا ہے جس گھر کا کوئی نوجوان گولیوں کا شکار نہیں ہوا ہو۔

    حکومت نے آسام اور ناگا لینڈ کے انتہا پسندوں  سے بات چیت کی وہاں پر رجسٹرڈ پارٹی کا سوال نہیں اٹھا لیکن کشمیرمیں چونکہ مسلمان مارے جا رہے ہیں عدالت کے مشورے کو تسلیم نہیں کیا ۔ ایک اعداد شمار کے مطابق کرفیو زدہ کشمیر میں صرف45ویں  دن تک بچے دودھ اور دوا سے محروم رہے ہیں،80کاقتل پہلے ہی ہو چکا تھا یعنی 25اگست2016تک 45دن میں 70کشمیری فوج کی گولیوں کے شکار بنے 16000افراد ز خمی ہوے،اس عرصے میں15لاکھ پیلٹ گولیوں کا استعمال کیا گیا،6000کشمیری پیلٹ گولی سے اپنی بینائی سے محروم ہو گیے۔کشمیر میں اب تک 20افراد خودکشی کر چکے ہیں اور 10000 افراد اپنا دماغی توازن کھو چکے ہیں،سیکڑوں خواتین بیوہ ہو چکی ہیںاور ہزاروں بچے یتیم ہو چکے ہیں،  40ہزار افراد لا پتہ ہیں۔

    دو سال قبل دہلی جانے کے دوران ایک درجن کشمیری نوجوانوں میری بحث ہوئی تھی جن میںدو دوشیز ا ئیںبھی شامل تھیں۔میں نے کہا میں صحافی ہونے کے ساتھ مسلمان بھی ہوں  اور آپ لوگوں سے کھل کر بات کرنا چاہتا ہوں۔جب وہ راضی ہو گئے تو میں نے سوال کیا…’ہم مہنگا چاول اور چینی خریدتے ہیں اور آپ لوگوں کو سبسیڈی دیکرسستا کھلاتے ہیں اس پر آپ لوگ پاکستان زندہ باد کا نعرہ کیوں لگاتے ہیں؟ ‘ ان میں سے ایک نوجو ان نے کہنا شروع کیا  …’ہم میں سبھی اعلیٰ تعلیم  یافتہ ہیں اور ملک کے حالات پر نظر بھی رکھتے ہیں۔آپ بتائیں گجرات،رانچی جمشید پور میں مسلمانوں کے کیسا سلوک کیا گیا،گاجر مولی کی طرح قتل کیا گیا،کروڑوں کی جادلوٹ لی گئی،بابری مسجد کو شہید  کر دیا گیا،پورے ملک میں مہم چلائی گئی کہ وہ خدا کا گھر توڑ کر رام کا مندر بنائیں گے،پورے ملک میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہم چلائی جا رہی ہے۔آپ کے پاس آپشن کیا ہے؟ قتل ہونا ہے لٹنا ہے اورمودی جی کی جئے کار کرتے رہنا ہے مودی جی کی حکومت کے اشارے پر ہی سبرامینیم سوامی،یوگی اادتیہ ناتھ،ساکچی مہاراج اورپروین توگڑیا جیسے لوگوں کومسلمانوں اور اسلام کے خلاف زہر پھیلانے  کی چھوٹ دے رکھی ہے۔ہم کیوں آر ایس ایس اور بھاجپا کی سازشوں کے شکار بنیں،اس ملک میں 16 فیصد مسلمان  جب وہ انصاف کے لیے ترس رہے ہیں  توپھر ہم کشمیریوں کو انصاف کی امیدکیوں کرنی چاہیے؟ان میں سے ایک دوشیزہ نے کہنا شروع کر دیا…’ایک طرف گولی پیلٹ گولی دوسری طرف زندہ باد کہنے  کے مطالبہ کا کوئی جواز ہے؟شاید کوئی ایسا گھر ملے گا جس  نے اپنا بیٹا نہیں کھویا ہے۔جگ موہن نے اپنی گورنری کے دور میںنسل کشی کی پالیسی اپنائی تھی۔آج بھی وہی ہو رہا ہے۔‘

    ’آپ پتھر بازی بند نہیں کریںگے،ہم آہنگی کا ماحول بننے نہیں دیںگے آخر آپ چاہتے کیا ہیں؟میں نے سیدھا سوال کیا۔

    ہم آزادی چاہتے ہیں ۔نہ ہم ہندستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں اور نہ ہی پاکستان کے ساتھ!
    میں نے سمجھاتے ہوئے کہا  …’کشمیر نام کا آزاد ملک ممکن نہیں ہے۔کشمیر کی جغرافیائی صورتحال ایک ملک بننے  کے کنڈیشن کو پورا نہیں کرتی ۔نہ تو آپ کے یہاں انڈسٹری ہے اور نا ہی زراعتی پیداوار کا کوئی نظم ہے اگر کو ئی ملک بنا بھی تو اسے کسی ملک پر ہی منحصر کر نا ہو گا ۔امریکہ یا چین کے تعبدار بن جا ئیں گے اور ہما رے ملک کے لیے مستقل  خطرہ بن جا یں گے، ہم ہندستانی مسلمان کسی آزاد کشمیر کی بات سوچ بھی نہیں سکتے بہتر تو یہ ہو گا کہ کشمیری نوجوان اپنے ملک کے ساتھ ملکر ترقی کی دوڑ میں شامل ہوں تشدد کا راستہ چھوڑیں اور امن وآتشی کی بات کریں پا کستان ایک خدا ایک کتاب اور ایک رسو ل ﷺ پر ایمان رکھنے والا ملک ہے لیکن وہاں تشدد کا نہ رکنے والا سلسلا جا ری ہے ہندستان میں مسلمانوں کو جتنی آزادی ہے ویسی آزادی اسلامی ملک میں بھی حاصل نہیں ہے۔کشمیری نوجوان آئی اے ایس امتحان میں کامیابی کا جھنڈہ گاڑ سکتے ہیںتو پھر دوسرے شعبہ میں کامیاب کیوں نہیں ہو سکتے؟ ان میں میں سے ایک نوجوان  نے مچل کر کہا…’ہمیں آزادی  سے کم کچھ نہیں چاہیے۔‘  میں پھر سمجھاتے ہوے کہا…’ہم آپکی طفلانہ ضد اور غیر منتقی مطالبہ کو تسلیم کر اپنے ملک کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیں؟ جن بین الاقوامی طاقتوں کی شہہ پر آپ نوجوان اپنا مستقبل تباہ کر رہے ہیں اس پر غوروفکر کرنے کی ضرورت ہے۔ مجھے کشمیری نوجوانوں سے بحث کے دوران کئی عوامل نظر آئے،اول تو یہ کہ ملک میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات نے انہیں یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ ہندستان میں جب مسلمان محفوظ نہیں ہیں تو انکا مستقبل تابناک کیسے ہوگا؟ دوئم کہ پاکستانی پرو پگنڈوں نے انکے دماغ کو زہرآلود کر دیا ہے  اور سوئم یہ کہ ہمارے فوجیوں کا  رویہ ہمدردانہ نہ ہوکرملک دشمن  کے ساتھ کی جا رہی کاروائی کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔کانگریس ہو یا این ڈی اے کی حکومت دونوں نے کشمیر کو سیاسی ہتھکنڈہ بنا کر رکھ دیا ہے۔قول و عمل میںتضاد نمایاں ہے۔

    اس پر بحث کی گنجائش نہیں ہے کہ کشمیرپر ہماری پالیسی صحیح ہے یا غلط۔ ہمارا سیدھا سوال ہے کہ کشمیر ہندستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور ہمیشہ رہے گا لیکن  وہاں کے نوجوان اور عوام اس ملک کے شہری ہیں یا نہیں۔ہم نکسلیوں کے خلاف کون سی کاروائی کر رہے ہیں؟فرقہ پرستوں اور گائے کے نام ہو رہے تشدد کو روکنے کے لیے کیا کر رہے ہیں؟ کشمیر کے نصف درجن علحدگی پسند سیاست دانوں کی سنک کا شکار کشمیر کے عوام کو کب تک بنایا جاتا رہے گا؟ کشمیر میں محبوبہ مفتی کے کاندھوں کے سہارے مرکزی حکومت کا حکم چل رہا ہے۔وزیر اعظم نے وافر مالی پیکج بھی دیا ہے۔سوال یہ ہے کہ ہم  بوڈو انتہا پسندوں اور ناگا لینڈ کے انتہا پسندو سے بات کر سکتے ہیں تو کشمیر کے گمراہ نوجوانوں سے کیوں نہیں؟انکے ہاتھوں سے پتھر کیسے گرایا جائے اور انہیں مین اسٹریم میں کیسے لایا جائے اس پر عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔محبوبہ کی حکومت کشمیری عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔

    کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ہماری ملی  جماعتوں نے کشمیری مسلم عوام کو فوج کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا ہے۔حکومت شاید اس انتظار میں ہے جب کشمیر کے تمام نوجوان گولیوں کے شکار ہو جائیں گے تب وہ وہی کاروائی کرے گی جس طرح آزادی کے بعد حیدرآباد کے عوام کے ساتھ کیا تھا۔میری نظر میں بولٹ یا پیلٹ سے مزاحمت اور بڑھے  گی اور مسائل الجھتے ہی چلے جائیں گے۔

    میری تجویز ہے کہ ملی جماعتوں کو ایک آل پارٹی کانفرنس بلانی چاہیے اور پوچھنا چاہیے کہ کشمیر کے عوام اس ملک کے شہری ہیں یا نہیں؟پتھر بازوں کو سمجھانے کا کوئی اور طریقہ ہو سکتا ہے یا نہیں؟ ملی جماعتوں کوکشمیر کے مسلمانون کو اپنے اعتماد میں لینا چاہیے۔اگر حالات کی سنگینی کو نہیں سمجھا گیا اور بروقت کاروائی نہیں کی گئی تووہ دن دور نہیں ہوگا جب کشمیر کا ہر گھر نوجوانوں سے خالی نظر آئے گا اور آر ایس ایس و بھاجپا کا منصوبہ کامیاب ہو جائے گا۔

(رابطہ9431421821)

************************

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 212