rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Present Situation -->> Hindustan
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Reyaz Azimabadi
Title :
   VHP Ka Khatarnak Mansuba



وی ایچ پی کا خطرناک منصوبہ


ریاض عظیم آبادی


    وشو ہندو پریشد اب ملک کے ہندو نوجوانوں  کے درمیان ترشول تقسیم کر گؤ کشی اور مبینہ نام نہاد لو جہاد کے خلاف  جنگ کے لیے تیار کر مسلمانوںکے خلاف ایک نیا فرنٹ کھولنے کی سازش کر رہی ہے۔اتر پردیش کے کئی علاقوں  میں بجرنگ دل اپنے رضاکاروں کو ہتھیار چلانے کی ٹریننگ دینے کا کام کر رہی ہے۔

     وی ایچ پی ہو یا بجرنگ دل مسلسل ہندو نوجوانوں کو مسلمانوں  کے خلاف جاری نفرتی مہم کاحصہ بنانے کی کاروائی کو تیز تر کرتی جا رہی ہے ۔ ظاہر ہے انہیں ریاستی حکومت کی سرپرستی حاصل ہے۔انتظامیہ کوئی کاروائی کرے گی ایسی امید کرنا ہی فضول ہے۔وی ایچ پی گجرات میں نوجوانوں کے لیے ترشول کنوکیشن کا انعقاد کر رہی ہے وی ایچ پی اور بجرنگ دل  مل کر ایسے کنوکیشنوں میں نوجوانوں کے درمیان ترشول تقسیم کر رہی ہے۔ تا کہ نوجوان اپنے آپ کو مسلمانوں سے جنگ (؟) کے لیے تیار کر سکیں۔

    احمدآباد سے موصول خبر کے مطابق ایسے کئی کنو کیشنوں میںسیکڑوں ہندو نوجوانوں کو ترشول تقسیم  کیے جا چکے ہیں۔12جون کو گاندھی نگر میں75نوجوانوں کوترشول دیا گیا۔دونوں تنظیموںکا دعویٰ ہے کہ ترشول کنوکیشن کا مقصد ’گو کشی‘ کا دفاع او’ر لو جہاد‘ کے خلاف جنگ ہے۔تنظیم نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ  اب تک گجرات میں 4000نوجوانوں کو ترشول دیا جا چکا ہے۔ گزشتہ پانچ ماہ سے مسلسل ترشول کنوکیشنوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔صرف 6پروگراموں میں 700 ترشول تقسیم کیا گیا ہے۔بجرنگ کے جارحانہ تیور کا اندازہ بہار میں ہو چکا ہے۔ہماری اطلاع کے مطابق آر ایس ایس کا ہدف بہار میں ایسے حالات پیدہ کر دینا ہے کہ لالو اور نتیش ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں اور نتیش کمار جھک مار کر بھاجپا  جد (یو)کے پرانے گٹھ جو ڑ کو زندہ کرنے پر مجبور ہو جائیں۔اپریل میں نوادہ اور آرا کے واقعات کا جائزہ لیں تو حکومت بہار نے فساد کرانے کے بہت بڑے منصوبے کو ناکام بنا دیا ہے۔نوادہ میں ایک مرکزی وزیر کے اکساوے اور ور غلانے پر بجرنگ دل کے کارکنان نے مسلمانوں پر قہر ڈھایا اس پر ستم یہ کہ نوادہ پولس کا رویہ بھی مسلم مخالف نظر آیا، یہاں تک کہ جنتا دل (یو) کے ممبر قانون کونسل کے گھر کو بھی اپنا نشانہ بنایا۔آرا میں بھی بجرنگ دل نے سورشوں کا مظاہرہ کیا۔ نوادہ امیں unwanted ایک طرفہ کاروائی سے مسلمان  حیرت زدہ رہ گئے۔سماجی کارکنوں اور مسلمانوں کے صبرو تحمل نے بجر نگ  دل کی سا زشوں کو ناکام بنا دیا  اور بڑا فساداد ہونے سے رہ گیا۔ گجرات کو ایک بار پھر نشانہ بنانے سازش کی جا رہی ہے کیوں کہ  گجرات میں اسمبلی کا انتخاب ہونے والا ہے ۔آخر ہندو نوجوانوں کو کس  ’لوجہاد‘ کے خلاف جنگ کے لیے تیار کیا جا رہا ہے؟اس اعداد شمار کو سامنے آنا ہی چاہیے کہ کتنی تعداد میں لو جہاد کے واقعات انجام پزیر ہو چکے ہیں۔ لیکن ایسا کوئی اعداد شمار کہاں سے  لائیںگے ! جھوٹ کی بنیادپر فاشسٹ یا فسطائی طاقتیں سرگرم رہتی ہیں۔ گو کشی کے نام  پر مسلمانوں کے خلاف ایک طویل عرصے سے منصوبہ بندسازشوں کے جال کو پورے ملک میں پھیلانے کی تیاری جاری ہے۔ترشول کنوکیشن در اصل ہندو نوجوانو کومسلمانوں کے خلاف قتل و غاتگری کی ٹریننگ دینے کی سازش کا حصہ ہے۔

    ہماری پریشانی یہ ہے کہ ہم کس سے اپنی تشویش کا اظہار کریں؟بہار کو ہدف بنایا گیا ہے۔لیکن نوادہ کی پولس کا رول شرمناک رہا۔نتیش  کمار اپنے حصار سے باہر نکل کر عام لوگوں اور سماجی کارکنان سے ملنا ہی  نہیں چاہتے ۔لالو پرساد مخالف  بھاجپائی مشن کا مقصد صرف اور صرف نتیش سے لالو کو الگ کر دینا ہے۔اشتعال انگیز دیش بھکتی ملک میں عدم استحکام کا ماحول پیدا کرے گی ہم ایک بار پھر کہنا چاہیںگے کہ ہندستان میں فاشزم جرمنی کی طرح جمہوریت پر سوار ہوکر نہیں بلکہ فرقہ پرستی پر سوار ہوکر آسکتی ہے۔یہی وجہہ ہے کہ بھاجپائی لیڈر ملک کے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے ماحول کو بگاڑنے کے لیے کوشاں ہیں۔یو پی میں بجرنگ دل کے ورکروں کو ہتھیار چلانے کی ٹریننگ  اور گجرات میں ترشول کا تقسیم کیا جانا ایک ہی کڑی کا حصہ ہے۔

    ان حالات میں مسلم اکابرین کو حالات کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے اور ملت کو کسی بھی اکساوے کی کاروائی بچنا چاہیے۔اشتعال انگیزی سے بچنے اور اعتدال  پسندی کے دامن کو  نہ چھوڑنے کا عزم کرنا چاہیے۔سب سے بڑھکر قانون کو پنے ہاتھ میں  نہ لینے کا عہد کرنا چاہیے۔اجتماعی کوشش اور دانشمندی سے ہی ہم حالات کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔

    ہم  نے بارہا کہا ہے اور لکھا ہے کہ مسلم نوجوانوں کوفکری اور عملی طور پر منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ہماری تجویز ہے کہ شہرو ںمیں وارڈوں اور دہاتوں میں پنچائیتوں کو ہدف بنایا جائے۔ہر وارڈ اور پنچایت میں  دس مسلم اور دس غیر مسلم نوجوانوں کو ملاکر امن دستہ کی تشکیل دی جائے۔امن دستے کا اپنے علاقے میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضا کو مضبوط بنانا اور امن و امان کو نْقصان پہچانے کی کوششوں کو ناکام بنانا ہوگا۔نوجوانوں کواجتماعی طور پر کو تین عہد کرنا ہوگا۔ اول یہ کہ وہ خود کو اشتعال انگیزی سے دور رکھیںگے، دوئم کہ اعتدال پسندی کو دامن سے دور نہ جانے دیں گے اور سوئم کہ وہ کبھی بھی قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لیںگے۔امن دستہ امن کا پیامبر بنے کا سماجی تحریکوں کو فروغ دینے کی کوشش کریگا۔شراب بندی قانون،کم عمر کی بچیوں کی شادیوں کو روکنے اور تلک و جہیز کی رسم کو اکھاڑ پھیکنے کی تحریک کو مضبوط بنانے اور کامیاب بنانے میں اہم رول ادا کرنا ہوگا۔ہم یہ بار بار محسوس کر رہے ہیںکہ شراب کے دھندے باز کرپٹ پولس اہلکار کے ساتھ ملکر چوری چھپے کروبار جاری رکھنے کے لیے کوشاں ہیں۔امن دستے کو ایسے عناصر پر نہ صرف نظر رکھنی ہوگی بلکہ انہیں قانون کے حوالے کرنے کی کوشش کرنی ہوگی۔ نوجوانوں کی بیداری سے سماج کے ناسوروں کا خاتما ممکن ہو سکے گا۔ہر وارڈ اور سبھی پنچائتوں  میں ایک دو نوجوانوں کو خود ہی پہل کرنی ہوگی۔مجھ سے رابطہ کریں ہم انکی مدد کریں گے۔ہماری فکر یہ ہے کہ نوجوان اپنی دنیا سے باہر آکر اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرنا نہیں چاہ رہے ہیں  جو ہمارے  معاشرے کا المیہ بنتا جا رہا ہے۔کیا  وہ پانی کے سر سے گذر جانے کا انتظار کر رہے ہیں؟ کسی کا انتظار نہ کریں بلکہ خود ہی داعی بنیں۔آپ  میںقیادت کرنے کی صلاحیت موجود ہے ۔ معاشرے کو مثبت طریقے سے بدلنے کا کام صرف نوجوان ہی کر سکتے ہیں۔ہماری ملی تنظیمیں ان امور کو اپنا ایجنڈہ بنائیں اور ایک ملی فرض کو انجام دینے کے لیے پہل کریں۔فکری اور نظریاتی مدد کے لیے مجھ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

(رابطہ9431421821)

*******************

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 116