rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Islamic Articles -->> Islamic Education
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Ghaus Siwani
Title :
   Hazrat Ali bin Abi Talib Aur Ramzanul Mubarak Ka Moqaddas Mahina


حضرت علی بن ابی طالب اور

 

رمضان المبارک کا مقدس مہینہ


تحریر: غوث سیوانی، نئی دہلی   

 

امیرالمومنین حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا شمار دنیا کی ان چند برگزیدہ شخصیات میں ہوتا ہے جنھوں نے اپنے اثرات سے دنیا کی تاریخ کو متاثر کیا۔ اس لئے اسلام کی تاریخ اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتی جب تک کہ حضرت مولائے کائنات کرم اللہ وجہہ کا ذکر نہ ہوجائے۔ آپ کی خصوصیت یہ رہی کہ آپ کی ولادت مسجد حرم میں ہوئی اور آپ کی شہادت مسجدکوفہ میں ہوئی۔ زندگی کا ایک بڑا حصہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں گزرا اور آپ کی تربیت بھی بارگاہ نبوت میں ہوئی۔بچوں میں سب سے پہلے آپ نے اسلام قبول کیا اور اسلام کی نصرت وحمایت میں کمرباندھا۔مولائے کائنات حضرت علی مرتضیٰ کا رمضان کے مقدس مہینے سے بھی خاص لگائو ہے۔ ہجرت نبوی کے بعد جب رمضان کے روزے فرض ہوئے ،اس کے بعد ہر رمضان آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں گزارااور جن حالات کا سامنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرنا پڑا،انھیں کا سامنا مولائے کائنات نے بھی کیا۔ہجرت کے بعد سے وصال مبارک تک رسول کریم صلی للہ علیہ وسلم کو ہررمضان یاتو جنگ میں گزارنا پڑا یا جنگی تیاری کے بیچ اور ان حالات میں حضرت علی بھی آپ کے ساتھ ساتھ رہے۔آپ قائم اللیل اور صائم الدہر تھے۔ دن ،روزہ اور رات عبادت میں گزارتے تھے اور آپ کی شہادت بھی رمضان کے مہینے میں نماز اور روزے کی حالت میں یہ کہتے ہوئے ہوئی کہ ’’خدا کی قسم میں کامیاب ہوگیا‘‘ ۔

رمضان میں یوم شہادت علی

    عبد الرحمن بن ملجم خارجی ، ان تین آدمیوں میں سے ایک تھا کہ جنہوں نے مکہ معظمہ میں قسم کھا کر عہد کیا تھا کہ تین بڑی اسلامی شخصیتوں حضرات علی بن ابی طالب ، معاویہ بن ابی سفیان اور عمروبن عاص (گورنرمصر)کو قتل کرڈالیں گے۔ان میں سے ہر کوئی اپنے منصوبے کے مطابق اپنی جگہ کی طرف روانہ ہوا اور عبدالرحمن بن ملجم کوفہ آیا۔ یہ ۴۰ ہجری کا شعبان کا مہینہ تھا۔ اس نے یہاں کچھ لوگوں کو اپنا معاون اور مددگار بنایا اور ایک مہینہ کی تیاری کے بعد رمضان کی انیسویں رات کو جامع مسجد کوفہ میں جا چھپا، جہاں حضرت علی رضی اللہ عنہ نماز ادا فرمایا کرتے تھے۔ جب حضرت علی نے مسجد کے محراب میں داخل ہوکر نماز شروع کی ، ابھی پہلے سجدے سے سر اٹھا ہی رہے تھے کہ شبیب بن بجرہ جو اس کا مقامی مددگار تھا،نے شمشیر سے حملہ کیا مگر یہ وار ناکام گیا کیونکہ تلوار محراب کے طاق کو جالگی اوراسکے بعد عبد الرحمن بن ملجم نے حملہ کردیا ۔ تلوار کی زد میں مولائے کائنات کا مقدس سرآیااورپیشانی کے اگلے حصے میں شگاف ہوگیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ محراب میں گر پڑے اوراسی حالت میں آپ کی زبان سے نکلا: 

    بسم اللہ و بااللہ و علی ملتّ رسول اللہ ، فزت و ربّ الکعبہ

( خدائے کعبہ کی قسم ، میں کامیاب ہو گیا۔)

    حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد عالم اسلام میں ایک زبردست خلا آگیا۔ اسلامی خلافت جو کہ طریقہ نبوی کے مطابق جاری تھی اس کا تقریباً خاتمہ ہوگیا اور اس کی جگہ ملوکیت نے لے لی جہاں حکمرانوں نے اسلامی روایت کے برخلاف جبراً یا لالچ ورشوت کے ذریعے اپنے بیٹوں کو حکمراں بنانے کے لئے بیعت لینا شروع کردیا۔ اس شہادت کا افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ جس خلافت راشدہ کا خاتمہ حضرت علی مرتضیٰ کے ساتھ ہوا،اس کا دوبارہ قیام آج تک ممکن نہ ہوسکا۔

خلافت کی ذمہ داری

    آپ نے خلافت کی ذمہ داری بہت مشکل حالات میں اپنے کندھوں پر لی۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد جب مدینہ منورہ میں افراتفری تھی اور لاقانونیت کا دور دورہ تھا،ایسے میں تین دن تک مسندخلافت خالی رہی ۔ یہ بے حدنازک وقت تھا۔باغی پورے مدینہ منورہ میں دندناتے پھررہے تھے۔ حضرت عثمان غنی کی شہادت کے چوتھے دن، مدینہ منورہ کے اکابرصحابہ کرام ،جن میںمہاجرین اورانصار دونوں شامل تھے، نے حضرت علی کو خلیفہ بننے کا مشورہ دیا مگر آپ نے یہ ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کردیا۔اس دوران حضرات طلحہ ، زبیربن العوام، حضرت سعدابن وقاص، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کوبھی خلیفہ بننے کی پیش کش کی گئی تھی لیکن ان تمام صحابہ کرام نے خلافت کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکارکیا۔جب باغیوں نے اہل مدینہ کومخاطب کرکے یہ اعلان کیاکہ تم دودن کے اندراپناخلیفہ نامزدکرلو کیونکہ تمہاراحکم، امت محمدیہ پرنافذالعمل ہوگا، ہم نئے خلیفہ کی بیعت کرکے واپس چلے جائیں گے ،ورنہ ہم تمام اکابرکوقتل کردیں گے، تب اہل مدینہ نے دوبارہ حضرت علی مرتضیٰ کی خدمت میں حاضر ہوکر خلافت قبول کرنے کی پیشکش کی اور پھر آپ نے منصب خلافت قبول کرلیا۔ حالانکہ آپ کا دور خلافت چیلنج سے بھرا رہا۔ جہاں ایک طرف یہ مطالبہ ہوتا رہا کہ قاتلین عثمان سے بدلہ لیا جائے، وہیں اس کے لئے حالات سازگار نہیں بن پائے ۔ دوسری طرف مملکت اسلامی میں بغاوت کے آثار بھی نظر آتے رہے اور اسی کشمکش میں آپ کا دور خلافت گزر گیا۔

حضرت علی کی خصوصیت

    مولائے کائنات علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی بہت سی خصوصیات ہیں اور بہت سے فضائل بھی ہیں جن کا ذکر احادیث کریمہ میں تفصیل کے ساتھ ملتا ہے۔ آپ کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد ہیں اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد کا سلسلہ آپ ہی کی نسل سے چلا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بے شک اللہ تعالی نے مجھے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کا نکاح حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کرنے کا حکم دیا۔ (المعجم الکبیر     للطبرانی) گویا حضرات علی وفاطمہ کا نکاح اللہ کی مرضی سے ہوا تھا۔ اسی طرح ایک روایت میں ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہر نبی کی ذریت اس کی صلب سے جاری فرمائی اور میری ذریت حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی صلب سے چلے گی۔

( المعجم الکبیر لطبرانی، کنزل العمال)

جانشین نبی

     رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا کہ جب آپ کسی سفر پر تشریف لے جاتے تو مدینہ منورہ میں کسی کو اپنا جانشیں بناجاتے جو آپ کی غیر موجودگی میں آپ کی ذمہ داریاں نبھاتا تھا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو غزوہ تبوک کے موقع پر اپنا خلیفہ بنایا تو انہوں نے عرض کیا۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ مجھے عورتوں اور بچوں پر خلیفہ مقرر کر رہے ہیں؟ اس پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ آپ اس چیز پر راضی نہیں کہ آپ میرے لئے اس طرح بن جائیں، جس طرح کہ ہارون علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قائم مقام تھے مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ (صحیح بخاری ،مسلم

 
    یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ محاذ جنگ پر جانے کا شوق رکھتے تھے مگر آپ کو جنگ پر لے جانے کے بجائے ،مدینہ منورہ میں نیابت کی ذمہ داری سونپی جارہی تھی جس کے پیچھے ظاہر ہے کہ کچھ مصلحت ہوگی،اسی لئے آپ نے سوال کیا تھا۔ حالانکہ نیابت کی ذمہ داری بھی کم بڑی ذمہ داری نہیں ہے۔ حضر ت موسیٰ علیہ السلام جب کوہ طور پر توریت لینے گئے تھے تو انھوں نے اپنے سب سے قریبی اور عزیز بھائی ہارون کو اپنا نائب مقرر کیا تھا۔اسی قربت کو ایک دوسری حدیث میںیوں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت براء  رضی اللہ عنہ کی ایک روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں۔(بخاری شریف)  ان روایات سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کس قدر قربت تھی اور نبی کو علی سے کتنا لگائو تھا۔ 

حضرت علی کی محبت ایمان کی علامت

     حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے صحابہ کرام بے حدمحبت کرتے تھے اور آپ کا احترام کیا کرتے تھے۔ احادیث کی کتب میں ایک مکمل باب حضرت علی کی فضیلت میں ملتا ہے اور عہد نبوی میں صحابہ کرام، مومن اور منافق کی پہچان کے لئے حضرت علی کی محبت کو پیمانہ بناتے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے دانہ چیرا اور جس نے جانداروں کو پیدا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا کہ مجھ سے صرف مومن ہی محبت کرے گا اور صرف منافق مجھ سے بغض رکھے گا۔ (صحیح مسلم) اسی لئے صحابہ کرام کا کہنا ہے کہ ہمیں اپنے دور میں اگر کسی منافق کی پہچان کرنی ہوتی تو یہ پہچان حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بغض سے کر لیتے جس کے دل میں حضرت علی شیر خدا رضی اللہ عنہ کا بغض ہوتا صحابہ پہچان لیتے کہ وہ منافق ہے۔اسی طرح حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا حضرت علی کا ذکر عبادت ہے۔

(کنزالعمال)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 149