donateplease
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Islamic Articles -->> Islamiyat
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Abdul Aziz
Title :
   Aik Laddakhi Ladki Ka Quboole Islam


ایک لداخی لڑکی کا قبولِ اسلام 
 
واویلا مچانے والوں کو منہ توڑ جواب 
 
عبدالعزیز 
 
اسٹنزین سیلڈون  (Stanzin Saldon)لداخ کے ایک علاقہ لیہ میں 1987ء میں پیدا ہوئیں۔ ان کا پیدائشی مذہب بدھ مت تھا۔ جب وہ پڑھ لکھ کر بالغ ہوئیں تو ایک مسلم لڑکے سید مرتضیٰ آغا سے شادی کرلی، جس کی وجہ سے بدھسٹوں نے آسمان سر پر اٹھالیا اور ہر طرح سے واویلا مچانے لگے۔ ان کا مطالبہ ہوا کہ وہ اپنے پرانے مذہب میں واپس آجائے۔ 19ستمبر 2017ء کی اشاعت میں انگریزی روزنامہ ’دی انڈین ایکسپریس‘ نے ان کا ایک مضمون شائع کیا، جس کا عنوان ہے ’’میں سیلڈون ہوں اور میں شفا ہوں‘‘۔ ’’مجھے دونوں نام محبوب ہیں اور میری شادی اور قبولِ مذہب کو لے کر مجھے ڈرایا اور دھمکایا جارہا ہے‘‘۔ 
شفا نے اپنے قلم سے نہایت جرأتمندانہ تحریر پیش کی ہے۔ ملاحظہ ہو :
’’میرا نام اسٹینزن سیلڈون ہے۔ میں اپنے آپ کو شفا بھی کہتی ہوں۔ میری پیدائش 1987ء میں ایک بدھسٹ خاندان میں ہوئی۔ میں نے سرکاری میڈیکل کالج جموں میں جوائن کیا لیکن چار سال کی مسلسل ٹریننگ اور تربیت کے بعد میں نے اپنا میدان تبدیل کرلیا؛ کیونکہ مجھے سماجی کاموں سے دلچسپی تھی۔ سوشل ورک کے ساتھ میں نے بی اے کا امتحان بھی پاس کرلیا اور مجھے فی الحال نوکری کرتے ہوئے چار سال ہونے کو آئے۔
 
ایک مسلمان سے شادی کرنا میرا ذاتی انتخاب تھا جسے لداخ بھر میں فرقہ وارانہ تناؤ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ ’لداخ بدھسٹ ایسوسی ایشن‘ (ایل بی اے) کا انتہائی غلط اور بے بنیاد الزام ہے کہ میرے شوہر سید مرتضیٰ آغا نے مجھے حرص اور لالچ دے کر پیار محبت کے جال میں پھنسا دیا جس کی وجہ سے مجھے مجبوراً اسلام قبول کرنا پڑا۔ ایل بی اے نے تمام مسلمانوں کو الٹی میٹم دیا کہ وہ مجھے ان کے حوالے کر دیں یا پورا علاقہ خالی کرکے جہاں چاہیں چلے جائیں۔ 7ستمبر کو اس الٹی میٹم سے وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر محبوبہ مفتی کو ایک خط کے ذریعہ آگاہ کیا گیا۔ کسی نے جانچ اور تحقیق کی زحمت گوارا نہیں کی اور بدھسٹ اور مسلمانوں میں فرقہ وارانہ آگ بھڑکانے کی کوشش کی گئی جبکہ یہ میرا بالکل ذاتی معاملہ ہے۔ اس معاملہ میں کسی نے میری رائے جاننے کی ضرورت محسوس نہیں کی اور گندی سیاست کا کھیل کھیلنا شروع کر دیا۔ میڈیا کا ظلم و ستم بھی دیکھنے کی چیز تھی۔ نہایت متعصبانہ انداز سے اس معاملہ کو اچھالنے لگی ، میری رائے اور مرضی کو جانے بغیر۔
 
میں 30 سال کی ہونے والی ہوں۔ میں ایک آزاد اور تعلیم یافتہ عورت ہوں۔ میں نے اپنی زندگی میں ہر کام کیلئے اپنے طور پر فیصلہ کیا۔ یہ حق دستور ہند نے نہ صرف مجھے دیا ہے بلکہ ہندستان کے ہر شہری کو حاصل ہے۔ دستورنے مجھے حق دیا ہے کہ میں اپنی مرضی کے مطابق آزادانہ طور پر اپنے ساتھی کا انتخاب کرسکوں۔ 
 
میں نے سید مرتضیٰ آغا سے شادی کی کیونکہ میں اس سے محبت کرتی ہوں۔ اس کے علاوہ کوئی اور وجہ یا سبب نہیں تھا اورنہ ہے۔یہ کہنا کہ کسی نے مجھ پر دباؤ دیا یا لالچ دیا ہے۔ یہ میرا اور میرے دل و دماغ کی صریحاًتوہین ہے۔ لداخ کی بدھسٹ انجمن ایل بی اے اور اجنبی قسم کے لوگوں نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ مجھے واپس کر دیا جائے ، جیسے کہ میں ان کی جائداد یا پراپرٹی ہوں۔ میں نے اپنا حق و اختیار کسی اور کو نہیں سونپا ہے۔ کسی کو حق نہیں پہنچتا ہے کہ میری طرف سے کوئی میرے ذاتی معاملہ میں دخل دے۔ 
 
میں نے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ آج نہیں کیا بلکہ پانچ سال پہلے کیا ہے۔ یہ اس لئے نہیں کہ میں اس مذہب کو ناپسند کرتی ہوں جس میں میری پیدائش ہوئی ہے۔ اصل میں یہ میری ذاتی تلاش روحانیت تھی اور میں مختلف مذاہب کے مختلف فلسفہ سے دلچسپی رکھتی تھی۔ میری اس جستجو نے مجھے اسلام تک پہنچا دیا۔ اور اس طرح میں نے اسلام مذہب کو اپنایا۔ یہ مرتضیٰ کی ملاقات سے بہت پہلے کی بات ہے۔ اس میں مرتضیٰ کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔
 
22اپریل 2016ء کو میں نے کرناٹک ہائی کورٹ میں یہ حلف نامہ پیش کیا کہ میں مسلمان ہوچکی ہوں۔ اس وقت میں کرناٹک میں ہی رہتی ہوں۔ تلاش اور تحقیق انسان کی چاہت اور شوق سے تعلق رکھتی ہے، اسی لئے جو اپنی دانش و عقل کے ذریعہ بڑی سے بڑی شخصیتوں نے تلاشِ حق کیا ہے اور اپنی رائے اور مذہب کو بدلا اور ساری انسانیت کو ہی درس دیا ہے کہ جستجوئے حق زندگی بھر کرتے رہیں۔ میرے اور مرتضیٰ کے درمیان صرف محبت اور ایک دوسرے کو اپنی زندگی کا ساتھی بنانے کے سوا کوئی اور لالچ یا دباؤ نہیں ہے۔ ذاتی انتخاب انتہائی میرا ذاتی معاملہ ہے۔ اسے میری شادی کے ساتھ جوڑ کر دیکھنا مجھ پر ایک تہمت اور الزام کے سوا کچھ نہیں ہے اور میری صلاحیت اور قابلیت کی بھی توہین ہے۔ میں ہر ایک کے مذہب اور عقیدہ کا احترام کرتی ہوں اور یہی امید دوسروں سے میں اپنے بارے میں رکھتی ہوں۔ میری تبدیلی مذہب پر نہ کسی کو جشن منانے کی ضرورت ہے اور نہ غم و غصہ کا اظہار کرنے کی ضرورت ہے۔ 
 
میں آپ کو یہ بھی بتا دوں کہ جو بھی حالات نرم اور گرم میرے ساتھ پیش آئے میرا شوہر ہر حال میں میرے ساتھ رہا۔ میری یہ اپیل اور درخواست ہے  اپنے ہم وطنوں سے، خاص طور سے لداخ کے لوگوںسے کہ منفی اور فرقہ وارانہ طاقتوں کو شکست فاش دینے کی کوشش کریں۔ اور ہر قیمت پر امن و امان بحال رکھیں۔ مجھے اس کا بڑا دکھ ہے کہ میرے ذاتی معاملہ کو لے کر نفرت اور کدورت کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ مطالبہ بھی جاری ہے کہ میں واپس چلی آؤں۔ ایسے لوگوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ میں کوئی ایسی شئے نہیں ہوں جسے لوگوں نے چرایا یا چھپایا ہو۔ مجھے خوشی ہے کہ میں اپنے شوہر کے ساتھ خوش و خرم طریقہ سے زندگی گزار رہی ہوں۔ اس کے علاوہ ہم دونوں ملک کے ذمہ دار شہری ہیں۔ ہم نے قانونی پروسیس کو پورا کرلیا ہے۔ میں یہ بالکل پسند نہیں کروں گی کہ مجھ پر کوئی دباؤ ڈالے اور بلا وجہ میرا پیچھا کرے۔ میں ایسی سیاست کی مذمت کرتی ہوں جو میری ذاتیات پر کی جائے۔ 
 
مجھے یہ دیکھ کر بھی پریشانی ہوئی ہے کہ سوشل میڈیا پر کسی نے میری زندگی اور ذات کے متعلق تفصیل پیش کی ہے جس پر بہت سے لوگ سوال اٹھاتے ہیں۔ مجھے حیرت ہوئی اس بات پر کہ میں نے کارگل جو لداخ کا ایک حصہ ہے وہاں کے ایک مسلم لڑکے سے شادی کی۔ یہ دیکھا جارہا ہے کہ ایک لڑکی کو بھگایا گیا ، اس کی وجہ ہے کہ لداخ کا کلچر زوال پذیر ہے۔ میرا کلچر اور میرا ماحول ایسا نہیں ہے کہ جو آسمانی ہے اور مجھے انتخاب کی آزادی حاصل نہ ہو۔ یہ انتہائی گھٹیا قسم کی بات ہے جس پر نظر رکھنا چاہئے۔ عورت کو ایک کھلونا یا بچہ سے تعبیر کرنا بڑی حماقت کے سوا کچھ نہیں ہے۔ عورت مرد کی طرح قدرت کی ایک بڑی شاہکار ہے۔ ایک ذمہ دار مخلوق ہے۔ اس کا اپنا ذہن اور اپنا دماغ ہے۔ یہ بھی ایک پُر فریب بیان ہے کہ خاندان نے مجھے اپنے سے بہت دور رکھا تھا۔ یہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور غلط بیان ہے۔ 
 
لداخ کے سیلف اسٹائل کسٹوڈین نے اس مشکل وقت میں میری زندگی کے فیصلہ کو ایک گندی اور نفرت آمیز سیاست کیلئے استعمال کرنا چاہا۔ ایسے وقت میں میں نے اپنے لداخ اور لیہ کے بھائی بہنوں سے درخواست کی کہ لداخ کے ایسے خود ساختہ کسٹوڈین کے خلاف کھڑے ہوجائیں۔ انھیں دھول چٹائیں اور امن و امان قائم کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ اس سے مجھے تکلیف پہنچی کہ میرے پرسنل معاملہ کو لے کر علاقہ بھر میں نفرت اور کدورت کی مہم چلائی جارہی ہے؛ حالانکہ کسی نے نہ مجھ پر دباؤ ڈالا ہے نہ چرایا ہے اور نہ مجبور کیا ہے۔ یہ میرا اپنا فیصلہ اور انتخاب ہے۔ اس میں کسی فرد یا جماعت کا کوئی دخل نہیں ہے۔ میں سیلڈون اور شفا ہوں۔ مجھے دونوں نام دل سے عزیز ہیں اور میں ہمیشہ خاندان اور لداخ کی بیٹی رہوں گی۔ مجھے محبت سے یہ چیز نصیب ہوئی ہے۔ میں ہر ایک سے یہی درخواست اور گزارش کروں گی جو میری بھلائی اور ترقی چاہتے ہیں وہ خوف و دہشت نہ پھیلائیں بلکہ محبت اور اخوت پھیلائیں۔ 
 
موبائل: 9831439068
azizabdul03@gmail.com      

**********************

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 79