donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Islamic Articles -->> Islamiyat
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Abdul Aziz
Title :
   Pas Aye Umar : Allah Ki Taraf Chalo, Allah Ki Taraf Chalo


پس اے عمر! اللہ کی طرف چلو، اللہ کی طرف چلو
 
ترتیب:  عبدالعزیز 
 
اللہ تعالیٰ کے اپنے الفاظ میں اس زمین پر لوگوں کی ہدایت اور اصلاح کیلئے اب دنیا میں ایک ہی کتاب رہ گئی ہے جس کا نام قرآن مجید ہے۔ اللہ نے اپنے اس کلام کو جو اس وقت کتاب کی شکل میں دنیا کے ہر کونے میں دستیاب ہے اور سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے (افسوس ہے کہ اسے غور و فکر کے ساتھ کم ہی لوگ تلاوت کرتے ہیں)۔ آج بھی یہ کتاب لوگوں کو بدلنے میں سب سے زیادہ کارگر ہے۔ اسی کتاب کے مندرجات پڑھ کر یا سن کر ہزاروں لوگ اسلام کے آغوش میں آجاتے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا چراغ بجھانے نکلے تھے اپنی پیاری اور لاڈلی بہن فاطمہ کے عزم و ہمت کو دیکھ کر اور سورہ طٰہٰ کو پڑھ کر ایسے بدلے کہ جس کی جان لینے نکلے تھے اس کے عاشق اور شیدائی بن گئے۔ کیسے بدلے اور ایمان لائے ملاحظہ فرمائیے۔ 
 
’’ حضرت عمرؓ کے قبول اسلام کی سب سے زیادہ مشہور اور معتبر روایت یہ ہے کہ جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کی نیت سے نکلے تو راستہ میں ایک شخص نے ان سے کہاکہ پہلے اپنے گھر کی خبر لو، تمہاری اپنی بہن اور بہنوئی اس نئے دین میں داخل ہوچکے ہیں۔ یہ سن کر حضرت عمرؓ سیدھے بہن کے گھر پہنچے۔ وہاں ان کی بہن فاطمہؓ بنت خطاب اور ان کے بہنوئی سعیدؓ بن زید بیٹھے ہوئے حضرت خَبّابؓ بن اَرت سے ایک صحیفہ کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ حضرت عمرؓ کے آتے ہی ان کی بہن نے صحیفہ کو فوراً چھپالیا، مگر حضرت عمر اس کے پڑھنے کی آواز سن چکے تھے۔ انھوں نے پہلے کچھ پوچھ گچھ کی۔ اس کے بعد بہنوئی پر پل پڑے اور مارنا شروع کردیا۔ بہن نے بچانا چاہا تو انھیں بھی مارا، یہاں تک کہ ان کا سر پھٹ گیا۔ آخر کار بہن اور بہنوئی دونوں نے کہاکہ ہاں ہم مسلمان ہوچکے ہیں، تم سے جو ہوسکے کرلو۔ حضرت عمر اپنی بہن کا خون بہتے دیکھ کر کچھ پشیمان سے ہوگئے اور کہنے لگے کہ اچھا مجھے بھی وہ چیز دکھاؤ جو تم لوگ پڑھ رہے تھے۔ بہن نے پہلے قسم لی کہ وہ اسے پھاڑنہ دیں گے ۔ پھر کہاکہ تم جب تک غسل نہ کرلو ، اس پاک صحیفے کو ہاتھ نہیں لگا سکتے۔ حضرت عمرؓ نے غسل کیا اور پھر وہ صحیفہ لے کر پڑھنا شروع کیا۔ اس میں یہی سورہ طٰہٰ لکھی ہوئی تھی۔ پڑھتے پڑھتے یکلخت ان کی زبان سے نکلا ’’کیا خوب کلام ہے‘‘۔ یہ سنتے ہی حضرت خباب بن ارت جو ان کی آہٹ پاتے ہی چھپ گئے تھے، باہر آگئے اور کہاکہ ’’بخدا مجھے توقع ہے کہ اللہ تعالیٰ تم سے اپنے نبی کی دعوت پھیلانے میں بڑی خدمت لے گا، کل ہی میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ خدایا؛ ابوالحکم بن ہشام (ابو جہل) یا عمر بن خطاب دونوں میں سے کسی کو اسلام کا حامی بنادے۔ ’’پس اے عمر؛ اللہ کی طرف چلو، اللہ کی طرف چلو‘‘۔ اس فقرے نے رہی سہی کسر پوری کردی اور اسی وقت حضرت خبابؓ کے ساتھ جاکر حضرت عمرؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اسلام قبول کرلیا۔ یہ ہجرت حبشہ سے تھوڑی مدت بعد ہی کا قصہ ہے۔ 
 
سورہ کا موضوع و مبحث: سورہ کا آغاز اس طرح ہوتا ہے کہ اے محمدؐ! یہ قرآن تم پر کچھ اس لئے نازل نہیں کیا گیا ہے کہ خواہ مخواہ بیٹھے بٹھائے تم کو ایک مصیبت میں ڈال دیا جائے۔ تم سے یہ مطالبہ نہیں ہے کہ پتھر کی چٹانوں سے دودھ کی نہر نکالو، نہ ماننے والوں کو منواکر چھوڑو، اور ہٹ دھرم لوگوں کے دلوں میں ایمان پیدا کرکے دکھاؤ۔ یہ تو بس ایک نصیحت اور یاد دہانی ہے تاکہ جس کے دل میں خدا کا خوف ہو اور جو اس کی پکڑ سے بچنا چاہے وہ سن کر سیدھا ہوجائے۔ یہ مالک زمین و آسمان کا کلام ہے۔ اور خدائی اس کے سوا کسی کی نہیں ہے۔ یہ دونوں حقیقتیں اپنی جگہ اٹل ہیں، خواہ کوئی مانے یا نہ مانے۔ 
 
اس تمہید کے بعد یکایک حضرت موسیٰؑ کا قصہ چھیڑ دیا گیا ہے۔ بظاہر یہ محض ایک قصے کی شکل میں بیان ہوا ہے۔ وقت کے حالات کی طرف اس میں کوئی اشارہ تک نہیں ہے، مگر جس ماحول میں یہ قصہ سنایا گیا ہے اس کے حالات سے مل جل کر یہ اہل مکہ سے کچھ باتیں کرتا نظر آتا ہے جو اس کے الفاظ سے نہیں بلکہ اس کے بین السطور سے ادا ہورہی ہیں۔ ان باتوں کی تشریح سے پہلے یہ بات اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ عرب میں کثیر التعداد یہودیوں کی موجودگی اور اہل عرب پر یہودیوں کے علمی و ذہنی تفوق کی وجہ سے، نیز روم اور حبش کی عیسائی سلطنتوں کے اثر سے بھی، عربوں میں بالعموم حضرت موسیٰ علیہ السلام کو خدا کا نبی تسلیم کیا جاتا تھا۔ اس حقیقت کو نظر میں رکھنے کے بعد اب دیکھئے کہ وہ باتیں کیا ہیں جو اس قصے کے بین السطور سے اہل مکہ کو جتائی گئی ہیں: 
 
(1  اللہ تعالیٰ کسی کو نبوت اس طرح عطا نہیں کیا کرتا کہ ڈھول تاشے اور نفیریاں بجاکر ایک خلق اکٹھی کرلی جائے اور پھر باقاعدہ ایک تقریب کی صورت میں یہ اعلان کیا جائے کہ آج سے فلاں شخص کو ہم نے نبی مقرر کیا ہے۔ نبوت تو جس کو بھی دی گئی ہے، کچھ اسی طرح بصیغۂ راز دی گئی ہے جیسے حضرت موسیٰ کو دی گئی تھی۔ اب تمہیں کیوں اس بات پر اچنبھا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم یکایک نبی بن کر تمہارے سامنے آگئے اور اس کا اعلان نہ آسمان سے ہوا نہ زمین پر فرشتوں نے چل پھر کر اس کا ڈھول پیٹا۔ ایسے اعلانات پہلے نبیوں کے تقرر پر کب ہوئے تھے کہ آج ہوتے؟ 
 
(2  جو بات آج محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیش کر رہے ہیں (یعنی توحید اور آخرت) ٹھیک وہی بات منصب نبوت پر مقرر کرتے وقت اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو سکھائی تھی۔ 
 
(3  پھر جس طرح آج محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بغیر کسی سر و سامان اور لاؤ لشکر کے تن تنہا قریش کے مقابلے میں دعوتِ حق کا علمبردار بناکر کھڑا کر دیا گیا ہے، ٹھیک اسی طرح موسیٰ علیہ السلام بھی یکایک اتنے بڑے کام پر مامور کر دیئے گئے تھے کہ جاکر فرعون جیسے جبار بادشاہ کو سرکشی سے باز آنے کی تلقین کریں۔ کوئی لشکر ان کے ساتھ بھی نہیں بھیجا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے معاملے ایسے ہی عجیب ہیں۔ وہ مَدین سے مصر جانے والے ایک مسافر کو راہ چلتے پکڑ کر بلالیتا ہے اور کہتا ہے کہ جا اور وقت کے سب سے بڑے جابر حکمران سے ٹکرا جا۔ بہت کیا تو اس کی درخواست پر اس کے بھائی کو مددگار کے طور پر دے دیا۔ کوئی فوج فرّا اور ہاتھی گھوڑے اس کارِ عظیم کیلئے اس کو نہیں دیئے گئے۔ 
 
(4  جو اعتراضات اور شبہات اور الزامات اور مکر و ظلم کے ہتھکنڈے اہل مکہ آج محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں استعمال کر رہے ہیں ان سے بڑھ چڑھ کر وہی سب ہتھیار فرعون نے موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں استعمال کئے تھے۔ پھر دیکھ لو کہ کس طرح وہ اپنی ساری تدبیروں میں ناکام ہوا اور آخر کار کون غالب آکر رہا؟ خدا کا بے سرو سامان نبی؟ یا لاؤ لشکر والا فرعون؟ اس سلسلہ میں خود مسلمانوں کو بھی ایک غیر ملفوظ تسلی دی گئی ہے کہ اپنی بے سرو سامانی اور کفارِ قریش کے سرو سامان پر نہ جائیں جس کام کے پیچھے خدا کا ہاتھ ہوتا ہے وہ آخر کار غالب ہی ہوکر رہتا ہے۔ اسی کے ساتھ مسلمانوں کے سامنے ساحرانِ مصر کا نمونہ بھی پیش کیا گیا ہے کہ جب حق ان پر منکشف ہوگیا تو وہ بے دھڑک اس پر ایمان لے آئے اور پھر فرعون کے انتقام کا خوف انہیں بال برابر بھی ایمان کی راہ سے نہ ہٹاسکا۔ 
 
(5 آکر میں بنی اسرائیل کی تاریخ سے ایک شہادت پیش کرتے ہوئے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دیوتاؤں اور معبودوں کے گھڑے جانے کی ابتدا کس مضحکہ انگیز طریقے سے ہوا کرتی ہے اور یہ کہ خدا کے نبی اس گھناؤنی چیز کا نام و نشان تک باقی رہنے کے کبھی روادار نہیں ہوئے۔ پس آج اس شرک اور بت پرستی کی جو مخالفت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کر رہے ہیں وہ نبوت کی تاریخ میں کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ 
 
اس طرح قصۂ موسیٰ کے پیرائے میں ان تمام معاملات پر روشنی ڈالی گئی ہے جو اس وقت ان کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی باہمی کشمکش سے تعلق رکھتے تھے۔ اس کے بعد ایک مختصر وعظ کیا گیا ہے کہ بہر حال یہ قرآن ایک نصیحت اور یاد دہانی ہے جو تمہاری اپنی زبان میں تم کو سمجھانے کیلئے بھیجی گئی ہے۔ اس پر کان دھروگے اور اس سے سبق لوگے تو اپنا ہی بھلا کروگے۔ نہ مانوگے تو خود برا انجام دیکھوگے۔ 
 
پھر آدم علیہ السلام کا قصہ بیان کرکے یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ جس روش پر تم لوگ جارہے ہو یہ در اصل شیطان کی پیروی ہے۔ احیاناً شیطان کے بہکائے میں آجانا تو خیر ایک وقتی کمزوری ہے جس سے انسان بمشکل ہی بچ سکتا ہے، مگر آدمی کیلئے صحیح طریق کار یہ ہے کہ جب اس پر اس کی غلطی واضح کر دی جائے تو وہ اپنے باپ آدم کی طرح صاف صاف اس کا اعتراف کرلے، توبہ کرے اور پھر خدا کی بندگی کی طرف پلٹ آئے۔ غلطی اور اس پر ہٹ اور نصیحت کئے جانے پر بھی اس سے باز نہ آنا، اپنے پاؤں پر آپ کلہاڑی مارنا ہے جس کا نقصان آدمی کو خود ہی بھگتنا پڑے گا، کسی دوسرے کا کچھ نہ بگڑے گا۔ 
 
آخر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو سمجھایا گیا ہے کہ ان منکرین حق کے معاملے میں جلدی اور بے صبری نہ کرو۔ خدا کا قاعدہ یہ ہے کہ وہ کسی قوم کو اس کے کفر و انکار پر فوراً نہیں پکڑ لیتا بلکہ سنبھلنے کیلئے کافی مہلت دیتا ہے۔ لہٰذا گھبراؤ نہیں، صبر کے ساتھ ان لوگوں کی زیادتیاں برداشت کرتے چلے جاؤ اور نصیحت کا حق ادا کرتے رہو۔ 
 
اسی سلسلے میں نماز کی تاکید کی گئی ہے تاکہ اہل ایمان میں صبر و تحمل، قناعت، رضا بقضا اور احتساب کی وہ صفات پیدا ہوں جو دعوتِ حق کی خدمت کیلئے مطلوب ہیں‘‘۔
(تفہیم القرآن) 
 
 موبائل: 9831439068
azizabdul03@gmail.com      

************************

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 256