donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Eucational Article -->> Muslim Moashra
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Ghaus Siwani
Title :
   Sadgi Se Insan Ki Shakhsiat Me Nikhar Aati Hai


سادگی سے انسان کی شخصیت میں نکھار آتی ہے


تحریر: غوث سیوانی، نئی دہلی

 

    مجھے اپنی زندگی میں مختلف قسم کے لوگوں سے ملنے کا اتفاق ہوا جن میں سیاسی، علمی، ادبی ،سماجی ، معروف وغیر معروف شخصیات شامل ہیں۔ جو چیز میں نے بار بار محسوس کی وہ یہ تھی کہ اعلیٰ درجے کا علم رکھنے والے بے حد سادہ تھے۔ وہ ہر قسم کے تصنع اور بناوٹ سے دور دکھائی دیئے۔ شہرت اور سماجی مرتبہ کی خواہش نے بیزار لگے۔اصل میں تصنع اور خودنمائی سے پاک سادہ زندگی بہت اچھی چیز ہے۔یہ اعلیٰ ظرفی کی علامت ہے جبکہ ریاکاری اور خودنمائی کم ظرفی کی پہچان ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بھی سادہ تھی اور ہر قسم کے تصنع سے پاک تھی۔جس کے نام ہی سے قیصروکسریٰ کے ایوانوں میں زلزلہ آجائے ،اسے تکبر کا زیادہ حق تھا مگر آپ نے اسے ایک اخلاقی خرابی قرار دیا اور پنے پیروکاروں کو سادہ زندگی جینے کی تاکید فرمائی۔ اپنے ہاتھ سے اپنے تمام کام کرنا،کپڑوں میں پیوند لگالینا،جوتوں کی سلائی کرلینا،آپ کا معمول تھا۔

    انسان کی زندگی کی سب سے بنیادی ضرورتیں روٹی کپڑا اور مکان ہیں۔ اگر زندگی میں سادگی آجائے تو ان ضرورتوں کو زیادہ آسانی سے پورا کیا جاسکتاہے۔ ہمارے مسائل کا ایک بڑا سبب ہماری روزمرہ زندگی میں سادی کی کمی بھی ہے۔

سادگی افتخار ہوتی ہے
مرد کا اعتبار ہوتی ہے

    اللہ کی یہ کائنات بہت وسیع ہے اور یہاں زندگی گذارنے کے وسائل بھی بڑی مقدار میں موجود ہیں۔ یہاں جتنے انسان ہیں وہ اس کا آپس میں منصفانہ بٹوارا کرکے ایک امن وچین کی زندگی گذارسکتے ہیں مگر عملی طور پر اس کا برعکس ہورہا ہے۔ ایک شخص یا ایک ملک دوسروں کے حصے پر ناجائز طریقے سے قبضہ جمالیتا ہے اور اس کے حصے کا استعمال اپنے عیش وعشرت کے لئے کرتا ہے۔ ایک ملک میں جو وسائل ہیں ان پر چند طاقت ور افراد قابض ہوجاتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو ان سے محروم کر دیتے ہیں۔ ایسے میں سماج کے اندر بدامنی کا پھیلنا لازم ہے۔ اسی طرح ایک ملک ہزاروں کیلومیٹر کے فاصلے سے دوسرے ملک میں آتا ہے اور اس کے قدرتی وسائل پر قابض ہوجا تا ہے ۔ یعنی وہاں کے باشندوں کو ملکیت سے محروم کردیتا ہے۔ یہ غیر منصفانہ بات ہے اور اس کا سبب ہے انسان کی زندگی سے سادگی کا خاتمہ۔ اگر کوئی عیش وعشرت کی زندگی گذارنے کے لئے دوسروں کی حق تلفی کرتا ہے تو یہ انصاف کے خلاف ہے۔

    ملک میں اعلیٰ سیاسی عہدوں پر بیٹھے ہوئے لوگ ملک کے وسائل کے مختار ہوتے ہیں اور ان چیزوں کا وہ جیسے چاہیں استعمال کرسکتے ہیں۔ ان کے پاس یہ بھی اختیار ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کے حق پر اپنے قبضے کو جائز ٹھہرانے کے لئے قانون بنالیں اور ایسا وہ کرتے بھی ہیں۔ اس کی مثال ہم اپنے ملک میں قدم قدم پر دیکھ سکتے ہیں۔وی آئی پی افراد نے اپنے لئے سرکاری تنخواہ، سرکاری بھتے اور گاڑی وبنگلے وغیرہ کا حق محفوظ کرلیا ہے۔ وہ سفر کریں گے تو انھیں کرایہ بھی سرکاری فنڈ سے دیا جائے گا اور ان کے بچوں کا داخلہ اچھے اسکولوں میں مفت ہوگا۔ ان کی حفاظت کے لئے سرکاری تنخواہ پانے والے باڈی گارڈ زہونگے اور ان کی خدمت کے لئے نوکر چاکر بھی ہونگے۔ یہ سب کچھ عوام کے اس پیسے سے ہوگا جو وہ ٹیکس کی صورت میں اپنی گاڑھی کمائی کا حصہ سرکاری فنڈ میں دیتے ہیں۔ حالانکہ عوام سے جو پیسے وصول کئے جاتے ہیں وہ اس لئے کہ ملک کے فلاحی و رفاہی کاموں پر خرچ کئے جائیں۔ یہاں جنتا کی حفاظت کے لئے پولس والے موجود نہیں مگر ایک ایک نیتا کی ڈیوٹی پر پچیس ، پچیس اور پچاس ،پچاس باڈی گارڈ زموجود ہیں۔ راستہ چلتی عورتیں محفوظ نہیں اور ان کے ساتھ نہ صرف چھیڑ چھاڑ کی وارداتیں ہوتی ہیں بلکہ ریپ جیسے سنگین جرائم ہوتے ہیں اور ذمہ دار کبھی قانون کی گرفت میں نہیں آتے۔ایک طرف سرکاری خرچ پر بارسوخ افراد عیش کررہے ہیں تو دوسری طرف اسی سماج کا ایک دوسرا طبقہ بھوکوں مرنے پر مجبور ہے۔اس کے جسم پر کپڑے نہیں اور سر چھپانے کے لئے چھت میسر نہیں۔ یہ سب کچھ ایک غیرمنصفانہ نظام اور سادگی کے خلاف زندگی گذارنے کے سبب ہوتا ہے۔ انصاف کی بات تو یہ ہے کہ جس طرح ملکی وسائل پہ ایک لیڈر کا حق ہے اسی طرح ایک عام آدمی کا بھی حق ہے۔ جس طرح ایک وزیر کا حق ہے اسی طرح ایک سنتری کا بھی حق ہے۔ یہ بات انصاف کے خلاف ہے کہ کوئی اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرکے دوسروں کو ان کے حقوق سے محروم کردے اور ان کے حصے پر قابض ہوجائے۔ اپنے حصے سے زیادہ کی چاہت آدمی کو سادگی سے دور لے جاتی ہے۔

    اس دنیا میں بڑے لوگوں کی پہچان سادگی رہی ہے،مگر آج بڑے کا مطلب بھی بدل چکا ہے،لہٰذا سادگی کی معنویت کو کوئی سمجھنے والا نہیں۔ایک طرف نمرود اور شداد تھے تو دوسری طرف حضرت ابراہیم علیہ السلام۔ نمرود وشداد کے پاس دنیاوی جاہ حشمت تھی تو حضرت ابراہیم کے پاس سادگی تھی۔ ایک طرف فرعون اور قارون تھے تو دوسری طرف حضرات موسیٰ وہارون تھے۔ فرعون و قارون کے پاس دنیاوی شان و شوکت تھی تو پیغمبران ِ خدا کے پاس سادگی کی دولت تھی۔ ایک طرف ابوجہل اور قریش کی اخلاق باختگی تھی تو دوسری طرف رسول اکرمﷺ کی سادگی تھی۔ ایک طرف قیصر و کسریٰ کا جاہ وجلال تھا تو دوسری طرف ابوبکروعمر کا اخلاقی کمال تھا۔ یہ سادگی پیغمبروں کی سنت اور عظیم شخصیتوں کا طرہ امتیاز رہی ہے مگر آج یہ ہماری زندگی سے رخصت ہوتی جارہی ہے۔ صوفیہ کرام جنھوں نے ساری دنیا میں اسلام کا پیغام عام کیا وہ سادگی کا پیکر ہوا کرتے تھے۔ اگر وہ بھی بادشاہوں کی طرح قصر نشیں ہوتے اور شاہی شان و شوکت کے حامل ہوتے تو اسلام عرب کے ریگستانوں میں دفن ہوچکا ہوتا۔

خاک جب خاکسار ہوتی ہے
کس قدر باوقار ہوتی ہے

     سادگی ایک مسلمان کا علامتی نشان ہے۔ رسول اکرم ﷺ کی زندگی بہت سادہ ہوتی تھی اور آپ کسی قسم کے تصنع وبناوٹ کو پسند نہیں فرماتے تھے۔ آپ کے جسم پر جو لباس ہوتا اس پر کئی کئی پیوند لگے ہوتے تھے۔ کھانے میں جو روکھا سوکھا مل جاتا اسے اللہ کا نام لے کر کھا لیتے۔ اکثر آپ کے پاس مال غنیمت یا تحفے میں لاکھوں روپئے آجاتے مگر شام ہوتے ہوتے سب کو خیرات کردیتے۔ خود اپنے ہاتھ سے اپنے کپڑوں پر پیوند لگا لیتے اور اپنے پھٹے ہوئے جوتوں کو سل لیتے۔ گھر کے کام میں بھی ہاتھ بٹاتے اور محفل میں بیٹھتے تو سب کے برابر میں بیٹھتے، کبھی آپ کے لئے اسپیشل انتظام نہیں کیا جاتا۔ آپ سے کسی بھی وقت لوگ آکر مل سکتے تھے اور اپنے مسائل آپ کے روبرو رکھ سکتے تھے۔ معمولی قسم کے مکان میں قیام رہتا جس کے دروازے پر ٹاٹ کا پردہ لٹکا ہوتا تھا۔ وہ مکان جس کی دربانی کرنا فرشتے بھی باعث افتخار  جانتے ہوں،جب اس کی سادگی کا یہ عالم تھا ایسے میں کسی اور کو کیا حق کہ وہ فخرو غرور کی رہائش اختیار کرے۔ آپ کے بعد آپ کے جانشین بھی اسی راستے پر چلتے رہے اور حضرت ابوبکر صدیق خلیفہ بننے کے بعد کپڑوں کا گٹھر لے کر بازار نکل گئے تاکہ اپنے بچوں کی پرورش اور گھر کے خرچ کے لئے کچھ کما سکیں۔حضرت عمر بن خطاب کے نام سے دنیا کے سپر پاور لرزہ بر اندام رہتے تھے مگر ان کی سادگی کا یہ عالم تھا کہ زمین پر سر کے نیچے ایک کوڑا رکھ کر سو رہتے۔ آپ کی سادگی کو دیکھ کر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ خلیفۃ المسلمین ہیں اور ان کے نام سے قیصر وکسریٰ بھی دہشت زدہ ہوجاتے ہیں۔خلفاء راشدین میں یہ سلسلہ جاری رہا مگر خلافت کے ملوکیت میں بدلتے ہی سب کچھ بدلنے لگا اور رسول کے راستے سے دوری بھی بڑھنے لگی۔

    سادگی کا سبق اسلام اور پیغمبر ِ اسلام نے سکھایا تھا ۔ یہ مسلمانوں کی ذمہ داری تھی کہ وہ دنیا کو اس کی افادیت سے آگاہ کراتے مگر افسوس کے آج حالات ایسے ہوگئے ہیں کہ انھیں یہ سبق دوسروں سے سیکھنا پڑرہا ہے۔ آج جو کرپشن اور سرکاری املاک میں خرد برد کا دور چل رہا ہے اس کے تئیں کیا مسلمانوں کی ذمہ داری نہیں بنتی کہ وہ آگے آئیں اور اپنے پیغمبر کے طریقے کے مطابق اس کا راستہ بند کریں۔ یہ زمین اللہ کی ملکیت ہے اور انسان کو اس دھرتی پر اس کا خلیفہ بنا کر بھیجا گیا ہے۔ کیا ہماری ذمہ داری نہیں ہے کہ ہم اس خلافت ارضی کا حق اداکریں اور آگے آکر دنیا کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیں۔ سادگی، شرافت، بھائی چارہ، اخلاق ومروت اور دیگر انسانی خوبیوں کا سبق ہمیں اسلام نے دیا ہے اور اس لئے نہیں دیا کہ اسے کتابوں کی زینت بناکر رکھا جائے بلکہ اس لئے دیا کہ اسے زندگی میں اپنائیں اور دوسروں تک بھی پہنچائیں۔     


آدمیت جذبۂ ایثار ہونا چاہئے
آدمی کو آدمی سے پیار ہونا چاہئے

رابطہ

Email: ghaussiwani@gmail.com
GHAUS SIWANI/Facebook


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 507