donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Eucational Article -->> Muslim Moashra
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Hafiz Md. Shahnawaz Alam
Title :
   Azdawaji Zindagi Khoda Ki Behtareen Nemat Hai

 

ازدواجی زندگی خدا کی بہترین نعمت ہے


حافظ محمد شاہ نواز عالم سہرسوی


اسلام جس اعلیٰ تہذیب و تمدن کا داعی ہے وہ اسی وقت وجود میں آسکتا ہے جب ہم ایک پاکیزہ معاشرہ تعمیر کرنے میں کامیاب ہوں اور پاکیزہ معاشرے کی تعمیر کیلئے ضروری ہے کہ آپ خاندانی نظام کو زیادہ سے زیادہ مضبوط اور کامیاب بنائیں۔ خاندانی زندگی کا آغاز شوہر اور بیوی کے پاکیزہ ازدواجی تعلق سے شروع ہوتا ہے۔ ذیل میں ہم پہلے ان کے آداب و فرائض کو بیان کرتے ہیں جن کا تعلق شوہر سے ہے اور پھر ان آداب و فرائض جن کا تعلق بیوی سے ہے۔

بیوی کے ساتھ اچھے سلوک کی زندگی گزارئیے اس کے حقوق کشادہ دلی کے ساتھ ادا کیجئے اور ہر معاملہ میں احسان اور ایثار کی روش اختیار کیجئے۔ خدا کا ارشاد ہے : اور ان کے ساتھ صحیح طریقے سے زندگی گزارو ۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے: کوئی مومن اپنی مومنہ بیوی سے نفرت نہ کرے۔ اگر بیوی کی کوئی عادت اس کو ناپسند ہو تو ہو سکتا ہے کہ دوسری خصلت اس کو پسند آجائے۔

 بیوی کی کوتاہیوں ، نادانیوں اور سرکشیوں سے چشم پوشی اختیار کیجئے۔ عورت عقل و خرد کے اعتبار سے کمزور اور نہایت ہی جذباتی ہوتی ہے اس لئے صبر و سکون، رحمت و شفقت اور دل سوزی کیساتھ اس کو سدھارنے کی کوشش کیجئے اور صبر و ضبط سے کام لیتے ہوئے پناہ کیجئے۔ اس کے علاوہ آپؐ نے فرمایا کہ اپنی  بیوی کو پیار و محبت کے ساتھ ایک گلاس پانی پیش کرے تو اللہ تعالیٰ اس (شوہر )کو اللہ کے راستے میں صدقہ کرنے کے برابر ثواب عطا کریں گے۔ تو ہر مسلمان مرد کو اپنی بیوی کی ہر کوتاہیوں کو در گزر کرتے ہوئے اسے دین کی تعلیم سے آراستہ کریں اور اس سے محبت کریں۔

آگے اللہ اور رسولؐ نے بیویوں کو بھی سمجھایا ۔ اللہ کا ارشاد ہے:نیک بیویاں اس(شوہر) کی اطاعت کرنے والی ہوتی ہیں۔ حضورﷺ کا ارشاد ہے: کوئی عورت شوہر کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزہ نہ رکھے۔ اس کے علاوہ آپ ؐ نے فرمایا کہ اس عورت کی نماز سروں سے اونچی نہیںاٹھتی جو شوہر کی نافرمانی کرے جب تک کہ شوہر کی نافرمانی سے باز نہ آجائے۔ اپنی آبرو اور عصمت کی حفاظت کیجئے اور ان تمام باتوں سے دور رہئے جس سے دامنِ عصمت پر دھبہ لگنے کا اندیشہ ہو۔ یہ انتہائی ضروری ہے ۔خدا کی ہدایت کا تقاضا بھی یہی ہے اور ازدواجی زندگی کو خوشگوار بنائے رکھنے کیلئے بھی یہ انتہائی ضروری ہے۔

حضور ﷺ نے فرمایا: جب کوئی آدمی اپنی بیوی کو جنسی ضروری کیلئے بلائے اور وہ نہ آئے اور اس بنا پر وہ شوہر رات بھر اس سے خفا رہے تو ایسی عورت پر صبح تک فرشتہ لعنت کرتے ہیں۔ (بخاری و مسلم

ایسا ہی ایک واقعہ گزرا ہے ۔ ایک مرتبہ آپ ﷺ کے پاس ایک انصاریہ آئی اور آپ ؐ سے سوال کیا۔ اے اللہ کے رسول ؐ میرا نکاح ہونیوالا ہے۔ ذرا مجھے شوہر کے حقوق کے بارے میں بتادیجئے تو آپ ؐ نے فرمایا شوہر کا حق یہ ہے کہ تیرا شوہر بیمار ہو اور ایسا بیمار کہ اس کے پورے بدن میں پھنسی (دانہ) وغیرہ ہوجائے اور اس پھنسی سے پیپ نکلنا شروع ہوجائے اور تو اس پیپ کو اپنی زبان سے چاٹ کر صاف کرے تو پھر بھی تو نے شوہر کا حق ادا نہیں کیا۔ اس حدیث سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ بیوی اپنے شوہر کی ہر بات کو مانتے ہوئے اسے ہر طرح سے راضی کرنے کی کوشش کرے۔ ایسے کافی واقعات اللہ کے نبیؐ نے شوہر کے حق میں بتایا ہے لہٰذا ہر عورت اپنے شوہر کی اچھی طرح سے خدمت کرے اور اسے راضی رکھنے کی کوشش کرے۔ اپنے شوہر سے محبت کیجئے اور اس کی رفاقت کا قدر کیجئے۔یہ زندگی کی زینت کا سہارا اور راہِ حیات کا عظیم معین و مددگار ہے۔ خدا کی عظیم نعمت پر خدا کا بھی شکریہ ادا کیجئے اور اس نعمت کی بھی دل و جان سے قدر کیجئے۔ حضورؐ نے ایک موقع پر فرمایا کہ نکاح سے بہتر کوئی چیز دو محبت کرنے والوں کیلئے نہیں پائی گئی۔

*******************

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 451