donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Eucational Article -->> Muslim Moashra
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Maulana Syed Md. Rabey Hasni Nadwi
Title :
   Wahdat Aur Maqsadiat Millat Ki Zaroorat

 

وحدت اور مقصدیت ملت کی ضرورت 
 
مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی  
 
اس وقت ملت اسلامیہ کے مقاصد کے نام سے جگہ جگہ کوششیں ہورہی ہیں ، جدوجہد اور تحریکیں بھی چل رہی ہیں، قربانیاں بھی دی جارہی ہیں اور اس سلسلہ میں نوجوان عنصر سے بھی بہت طاقت مل رہی ہے بلکہ اکثر ملی اور قومی تحریکوں اور کوششوں میں وہ پیش پیش اور قربانیاں دے رہے ہیں اور مخالف طاقتوں سے لوہا منوارہے ہیں، نوجوان عنصر ہر ملت اور قوم کے لئے بڑی طاقت اور بڑاسہارا ہوتا ہے اور اسکے جذبہ اور جوش سے مقصد کے حصول میں بڑی مدد ملتی ہے، یہ حقیقت جس طرح ماضی میں جانی گئی تھی اس سے کہیں زیادہ حال میں جانی جارہی ہے اسی لئے ہر جگہ اس طاقت کو اپنانے اور اس سے کام لینے کی کوشش کی جاتی ہے، نوجوانوں کو متوجہ کرنے، ان کو قریب کرنے اور ان کو متحرک بنانے کے طریقے اختیار کئے جاتے ہیں اور ان سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے لیکن یہ جائزہ لینے کی بات ہے کہ نوجوانوں کے جذبات کو یہ متحرک کرنے والے کہاں تک بامقصد ہیں، نوجوانوں سے کمیونسٹ تحریک بھی کام لیتی ہے، نوجوانوں سے انقلاب پسند طاقتیں بھی مدد لیتی ہیں نوجوانوں سے باغیانہ عناصر بھی مدد لینے کی کوشش کرتے ہیں ، نوجوانوں سے نیک واعلیٰ مقاصد رکھنے والے بھی کام لیتے ہیں اور ہر ایک کچھ نہ کچھ فائدہ اٹھا لیتا ہے، اس سلسلہ میں مسرور کن مثالیں بھی ہیں ، دراصل نوجوان عنصر ایک طاقت ہے، ایک دھارا ہے صحیح رخ پر لگے تو راستہ کی چٹان کو پاش پاش کردے اورمقصد کی راہ میں حائل ہونے والی رکاوٹوں کو بہالے جائے اور اگر غلط رخ پر لگے تو دشمن کو روکنے والی فصیلوں کو توڑدے اور عظیم قدروں کی بنیادوں کو بھی ہلادے۔ نوجوانوں کی اس طاقت و صلاحیت کی پوری قدر کی ضرورت ہے اور اس سے کام لینے میں اجتماعی و قومی مصلحت کا خیال رکھنے اور تعمیری جذبہ سے کام لینے کی ضرورت ہے اور یہ کام ملت کی قیادت کا ہے کہ وہ غور کرکے فیصلہ کرے کہ اس کو نوجوانوں کو کس طرف چلانا ہے اور ان کی طاقت سے کیا کام لینا ہے۔ 
 
امت اسلامیہ صدیوں سے پسماندگی، انتشار اور بے بضاعتی کی زندگی گزارتے گزارتے پست ہمت ہوچکی ہے، اس میں سنجیدگی اور قوت عمل کی خاص کمی پیدا ہوگئی ، اپنی شاندار تاریخ کے مطالعہ سے تمنائوں اور توقعات کے اس کے سامنے باغات لگ جاتے ہیں، لیکن یہ باغات ماضی کے ہیں حال کے لئے ہم کو خود باغ لگانا ہے، ماضی پر تکیہ کرکے بیٹھ رہناسراب سے امید لگانا ہے۔ دیگر قوموں کی طرح ہماری ملت کا بھی یقینا نوجوانوں کی طاقت کی بڑی ضرورت ہے اور شاید اس آخرالذکر کی ضرورت ا ول الذکر سے کہیں زیادہ ہے، کیونکہ یہ کام قیادت کا ہے کہ ملت کی طاقتوں کو صحیح رخ پر لگائے اور غلط رخ پر اس کے لگنے کے برے نتائج سے امت کو بچائے۔ 
 
موجودہ ملت اسلامیہ کی قیادت اسی ملت سے ابھری ہے، چنانچہ اس کو بے عملی اور بے خیالی اسی ملت سے ورثہ میں ملی ہے۔ یہ قیادت جو کہ بے شمار حصوں اور قسموں میں بٹی ہوئی ہے علی العموم ا پنا معیار مقصد مقرر نہیں کرسکی ہے، اس کے یہ حصے کچھ تو باہم د ست وگریباں ہیں ، کچھ بے مقصد جدوجہد میں مبتلا ہیں اور کچھ محض جذبات میں سرشار ہیں اور جو جذبات پسند عناصر ان کو ہاتھ آگئے ہیں ان کی طاقتوں کو محض جذبات میں سرشار ہیں اور جو جذبات پسند عناصر ان کو ہاتھ آگئے ہیں ان کی طاقتوں کو غیر حقیقی کوششوں میں ضائع کردیتے ہیں۔ مسلمانوں کی قیادت نے وقت کی صحیح ضرورت کو سمجھا اور اخلاص کے ساتھ اس پر محنت کی تو اس کے نتیجے میں ناقابل تصور نتائج حاصل کئے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی متعدد مسلم سلطنتوں میں سے صرف ایک محدود سلطنت کے مالک تھے لیکن انہوںنے اپنی قیادت کو اخلاص کے ساتھ صحیح رخ پر لگایا تو وقت کاسب سے بڑا کارنامہ انجام دیا اور وہ تھا فتح بیت المقدس کا کارنامہ جس کو آج تک سنہرے حرفوں سے لکھا جاتا، اور تا قیامت لکھا جاتا رہے گا۔ 
 
بشکریہ: مشتاق دربھنگوی
……………………………………………
 
Comments


Login

You are Visitor Number : 609