donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Eucational Article -->> Muslim Moashra
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Reyaz Azimabadi
Title :
   Muslim Naujawan Apne Kardar Ki Tameer Khud Karen



 مسلم نوجوان اپنے کردارکی تعمیر خود کریں


غ‘ کے ۶ الفاظ  سے اپنی عملی زندگی میں اجتناب برتنے کا عزم کریں


ریاض عظیم آبادی 


یہ ربیع لاولاول کا مبارک  مہینہ ہے ۔ہمارے نبی کریم  ﷺاسی ماہ  میںرحمت عالم بن کر دنیا میں تشریف لائے اور اسی ماہ میں اسی تاریخ کوپردہبھی فرما لیے۔ ہمارے نبی رحمت المسلمین نہیں بلکہ رحمت العالمین  ہیں۔انکے حکم کی تعمیل کرنا اورانکی اتباع کرنا ایمان کا جز ہے۔نبی کریمﷺکا حکم  ہے کہ کوئی مسلمان دوسرے مسلمان سے تین دنوں سے زیادہ ناراض نہہیں رہ سکتا ہے۔قران کریم میں خدا کا فرمان ہے ’مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔‘ اب ان دو باتوں کی روشنی میں اپنے کردار کا جائزہ لیں۔آج کا مسلمان خود مسلمان کا دشمن بنا ہوا ہے،حسد جلن ،کینہ اورنفرت کی بیماری کا شکار ہے۔مسلک کے نام پر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بنے ہوئے ہیں۔کسی نے کہا ہے…’سچے دل سے اگر یقین کرلو اس بات پر کہ وہی ہوتا ہے جو خدا چاہتا ہے تو جو کچھ بھی آج تک تمہا ری زندگہ میں ہوا ہے اس سے بہتر کچھ ہو ہی نہیں سکتا تھا کیوںکہ خدا جو کرتا ہے بہترین کرتا ہے اور تم چاہ کر بھی اسکی مصلحت نہیں سمجھ سکتے ہوجب تک وہ خود نہ ظاہر کر دے‘۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے’ جو شخص اللہ سے تھوڑی روزی پر رازی رہے  اللہ تعالیٰ بھی اسکی طرف سے تھوڑے عمل پر راضی ہو جاتے ہیں…‘ آپ خود کااحتساب کریں اور خود  سے سوال کریں آپ کہاں کھڑے ہیں؟

    میں پٹنہ میں  بہار کے مسلم نوجوانوں کی  ایک مشاورتی مٹنگ کا انعقاد کرنا چاہتا ہوں اور ویسے مسلم نوجوانوں سے رابطہ چاہتا ہوں جوملت و قوم کا درد رکھتے ہوں اور ان کے لیے کچھ کرنے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں ملک کی موجودہ حالات  پیدہ ہونے والے خطرات کو محسوس کر رہے ہوں۔ مگر مجھے مایوسی ہوتی ہے۔آپ کسی بھی ضلع میں رہ رہے ہوں تو مجھ سے فون پر رابطہ کریں۔

    اردو کا ایک لفظ ہے ’غ‘ اسکی اہمیت کا احساس تب ہوا جب میر ے دوست اور بڑے بھائی  ایم ٹی خان نے مقبول و محبوب  بننے کے لیے چھہ چیزوں سے احتناب برتنے کے محمد ظفیر صدیقی کے مضمون کی فوٹو کاپی عنایت کی جس میں ’غ‘ سے بنے  ۶ الفاظ سے اجتناب برتنے کا مشورہ دیا گیا ہے جس سے   نہ صرف آپکی شخصیت میں نکھار پیدا  ہو گا بلکہ آپ کے کردار کو بھی صالح بنا دیگا،آپکی مقبولیت میں اضافہ کرے اور آپ معاشرے کی محبوب ترین شخصیت  بن جائیںگے۔ اگر آج کے نوجوان اپنی عملی زند گی میں درج ذیل چھہ باتوں سے احتناب برتنے کا عزم کر لیں تو اسکا فائدہ انہیں  جلد ہی نظر آنے لگے گا۔’غ‘ سے یہ چھہ باتیںحسب ذیل ہیں انہیں باریکی سے سمجھیں اور اسکا استعمال کریں اور اجتناب برتیں…

    ۱۔ غفلت۔اگر آپ اچھے انسان بننا چاہتے ہیں تو علماء نے غفلت کو کافی اہمیت دی ہے۔غفلت اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے  یہ دوستوں ،بیوی ،بچوں اور رشتہ داروں کے ساتھ رنجش کا سبب بنتا ہے۔غفلت انسان کو اپنے فرض کی ادائگی سے دور کر ذلت و رسوائی کا سبب بناتا ہے۔

    ۲۔غیبت۔اسے شریعت نے گناہ کبیرہ قرار دیا ہے۔ہم میںزیادہ تر لوگوں نے ایک دوسرے کی پیٹھ پر انکی برائی بیان کرنے کی عادت بنا لیے ہیں جو کہ گناہ ہی نہیں گناہ کبیرہ بھی  ہے۔

    ۳۔غلَ۔اسکا مطلب ہوا اپنے دل میں کینہ رکھنا۔علماء کہتے ہیں شب قدر میں اللہ بڑے سے بڑا گناہ معاف کر دیں گے،لیکن اگر کسی بندے کے دل میں کسی کے لیے کینہ ہے تو شب قدر میں اسے معاف نہیں کریںگے۔اگر ہمارے دل میں کسی ایمان والے کے لیے کینہ ہے تو اپنے دل سے نکال دیںاور خدا کی ناراضگی سے بچیں۔

    ۴۔غلو۔ یعنی کسی چیز کو غیر معمولی طور پر اہمیت دینا۔اپنے مفاد کے لیے یا رشتہ داری میں کسی کو اہمیت دیکر دل آزاری کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو غلط ہے۔عام طور پر نوجوانوں میں ڈینگیں مارنے کی عادت پائی جاتی ہے جو بعد میں اسے رسوا کراتی ہے۔

و    ۵۔غرور۔تکبر،گھمنڈ اور خود نمائی خدا کو قطئی پسند نہیں ہے۔اگر بندے کو اپنے حسن پر یا اپنی کسی صلاہیت پر غر ور ہو جائے تو وہ اللہ کی ناراضگی مول لے رہا ہے۔فرعون کو غرور و تکبر کی بنیاد پرہی ڈ بو دیا گیااور شیطان کو تکبر اور غرور کی وجہہ سے  دھتکارا گیا۔

    ۶۔غصہ۔ یہ انسان کے  لیے سب سے تباہ کن ہے،علماء  نے اسے حرام قرار دیا ہے۔ غصہ انسان کو انسان سے نفرت سیکھاتا ہے۔نبی کریمﷺبڑے رحیم تھے اسی لیے آپ کے صحابہ آپ پر اپنی جانیں قربان کر نے کے لیے تیار رہتے تھے حدیث میں ہے کہ جو شخص دوسروں کی غلطیوں کو جتنی جلدی معاف کرے گا قیامت کے دن اللہ بھی اسکی غلطیوں کو جلدی معاف فرمائیںگے۔غصہ انسان کو محبت اور انصاف سے محروم کر دیتا ہے۔بخاری شریف میں ہے کہ’رشتہ داروں بد سل؛وکی کرنے والا جنت میں نہیں جائے گا

(بخاری ۵۹۸۴)

    نوجوان اگر فیصلہ کر لیں اور اپنے ضمیر کو مردہ ہونے سے بچا لیں تووہ معاشرے میں اصلاح کے داعی بن سکتے ہیں اورمعاشرے اسلامی انقلاب  برپا کر دے سکتے ہیں۔

(رابطہ9431421821)
 

 

 

 


( رابطہ۔9431421821)

 

 


ب کی اشاعت پر مبارک باد دی۔تقریب کا انعقاد رابطہ کمیٹی کے دفتر میں کیا گیا تھا۔پروفیسرسید احمد نرگس جہاں کے مامو ہیں جو اس تقریب شریک ہونے کے لیے کینیڈا سے تشریف لائے تھے،
    کتاب کے ملنے کا پتہ۔۔ڈاکٹر نرگس جہاں باروی ایڈوکیٹ،شاہ ارزاں کالونی،سلطان گنج پٹنہ ۸۰۰۰۰۶،اور بک امپوریم سبزی باغ پٹنہ۔                    
                                                    
                                                    (ریاض عظیم آبادی)

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 452