rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Personality
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Dr. Mushtaq Ahmad
Title :
   Maulana Abul Kalam Azad : Aik Naqeebe Falah wa Bahboodoo Bashar


مولانا ابوالکلام آزاد:ایک نقیب ِ فلاح و بہبود بشر


ڈاکٹر مشتاق احمد

موبائل :9431414586

 

    مولانا ابوالکلام آزادکی یوم ِ پیدائش سرکاری ریکارڈ کے مطابق ۱۱ نومبر ۱۸۸۸ء ہے اور اسی بنیاد پر حکومت ِ ہند نے ان کی یوم ِ پیدائش کو یوم ِ تعلیم قرار دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ مولانا آزادکی قومی و ملّی خدمات سے زمانہ واقف ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس خاص موقعے پر اچھے خاصے مضامین اخبار و رسائل میں شائع ہوتے ہیں۔ اگرچہ بہتیرے ایسے مضامین بھی منظر عام پر آتے ہیں جن سے مولانا ابوالکلام آزادجیسی ہمہ جہت و نابغۂ روزگار شخصیت کے افکار و نظریات کے تعلق سے گمرہی بھی پیدا ہوتی ہے۔ کیونکہ اس موقعِ خاص پرکچھ لوگ رسم کی ادائیگی کے لئے اپنے زنگ آلود قلم کو جنبش دینافریضہ ٔ  آزاد سمجھتے ہیں تو کچھ لوگ پیش پا افتادہ مضامین سے استفادہ کر آزاد شناسوں میں اپنا نام لکھوانا مقدر سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب جبکہ ’’آزادیات ‘‘ایک خصوصی مطالعے کا متقاضی ہو گیا ہے باوجود اس کے مولانا آزاد کی شخصیت کے کئی ایسے پہلو ہیں جو ہنوز مخفی ہیں۔ ان کی تصانیف کے حوالے سے بھی جو مضامین لکھے جاتے ہیں ان میں بھی تشنگی کا احساس پایا جاتا ہے۔ہاں ہند و پاک میں چند ایسے ماہر آزادیات بھی ہیں جو مستقل طور پر ان کے افکار و نظریات کی افہام و تفہیم کو وسعت دے رہے ہیں۔ غرض کہ مولانا آزاد کے افکار و نظریات کی گہرائی و گیرائی تک رسائی حاصل کرنے کے لئے نہ صرف ان کی تصانیف کا عمیق مطالعہ لازمی ہے بلکہ اس عہد کے سیاسی تناظر او رسماجی و مذہبی حالات سے واقفیت بھی ضروری ہے ۔ یعنی جب تک بیسویں صدی کی تاریخ نگاہوں میں نہ ہوگی اس وقت تک ہم مولانا ابوالکلام آزاد کی تابناک شخصیت سے ضیاء حاصل نہیں کر سکتے۔ واضح ہو کہ ہندستان کی سیاسی تاریخ قدرے متنازعہ فیہ رہی ہے۔ خاص کر انگریزوں کے ذریعہ تحریر شدہ تاریخ جوہم ہندستانیوں کے درمیان ’’پھوٹ ڈالو اور راج کرو‘‘ کے مقصد سے لکھی گئی ہے ،اس نے بھی مولانا ابوالکلام آزادکی شبیہہ کو مسخ کیا ہے اور بعد کے دنوں میں سنگھ نظریہ کے حامیوں نے بھی ان کی شخصیت کو مجروح کرنے کی کوشش کی ہے۔ افسوسناک صورت حال تو یہ ہے کہ ہمارے درمیان کے بھی کچھ لوگ ان ہی انگریزوں اور شدت پسند ہندوتو نظریہ والوں کی تحریر کردہ تاریخ سے استفادہ کرکے رسمی مضامین لکھتے رہتے ہیں۔ انہیں یہ نہیں معلوم کہ ان کے اس طرح کے گمراہ کن مضامین سے نہ صرف مولانا آزادکی عبقری شخصیت مجروح ہوتی ہے بلکہ ہماری نئی نسل بھی گمرہی کی شکار ہو جاتی ہے۔

    جب کبھی مولانا ابوالکلام آزاد کے تعلق سے جنگ آزادی کا ذکر آتا ہے تو اس حقیقت کااعتراف تو ان کے دشمن بھی کرتے ہیں کہ مولانا نے نہ صرف کانگریس پارٹی کو توانا ئی بخشی بلکہ اس وقت کے ہندستانی سماج میں جو اضطراب تھا اس کے خاتمے کے لئے بھی جد و جہد کی ۔وہ اپنے ہم عصر کئی دیگر سیاسی رہنما ئوں سے نظریاتی اختلافات رکھتے تھے باوجود اس کے ملک کی سا  لمیت کے لئے ان کے قدم سے قدم ملا کر چلتے رہے۔ وہ ایک حساس انسان تھے اور اس وقت کے ہندستانی معاشرے کے معاملات و مسائل سے بخوبی واقف تھے۔ ان کے نزدیک مذہب ، ذات پات، فرقہ اور کسی طرح کی گروہ بندی جنگ آزادی کی راہ میں روڑے کی مانند تھی ۔ اسی لئے وہ جنگ آزادی کے وقت ہندو مسلم اتحاد کو قدرے زیادہ اہمیت دے رہے تھے۔ ان کے خطبات یا خطوط کے مطالعے سے بھی یہ عقدہ کھلتا ہے کہ وہ ہر قیمت پر ہندو مسلم اتحاد کو بنائے رکھنا چاہتے تھے۔ ان کا واضح نظریہ تھا کہ اگر اس وقت ہندو مسلم کے درمیان کسی طرح کی دیوار کھڑی ہوتی ہے تو وہ ہماری آزادی کے لئے بڑی مشکل ہوگی۔ اس لئے انہوں نے ۱۹۲۳ء کے انڈین نیشنل کانگریس کے خصوصی اجلاس دہلی میں یہ واضح کر دیا تھا کہ ’’آج اگر ایک فرشتہ آسمان کی بلندیوں سے اتر آئے اور قطب مینار پر کھڑے ہوکر یہ اعلان کر دے کہ سوراج ۲۴ گھنٹے کے اندر مل سکتا ہے بشرطیکہ ہندستان ہندو مسلم اتحاد سے دست بردار ہو جائے تو میں سوراج سے دست بردار ہو جائوں گا مگر اس سے دست بردار نہ ہوں گا کیونکہ اگر سوراج کے ملنے میں تاخیر ہوئی تو یہ ہندستان کا نقصان ہوگا لیکن اگر ہمارا اتحاد جاتا رہا تو یہ عالم انسانیت کا نقصان ہے‘‘۔ (خطبات ِ آزاد۔مالک رام،ص۔۲۰۵) ۔

    اسی طرح آل انڈیا خلافت کانفرنس کانپور ۱۹۲۵ء میں صدارتی خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ ’’اگر ہندوئوں سے انہیں منصفانہ طرز عمل کا مطالبہ کرنا ہے تو پوری قوت سے کرنا چاہئے لیکن ساتھ ہی یہ ضروری ہے کہ ہماری باہمی آویزش ملکی جنگ کے میدان سے ہمیشہ الگ رہے‘‘۔غرض کہ مولانا آزادمذہب کی بنیاد پر کسی طرح کے تفرقہ کو ملک کی آزادی کے لئے مضر سمجھتے تھے ۔ انہیں اس بات کا احساس بھی تھا کہ اس وقت مسلم لیگ کی ایک الگ روش تھی اور بہتیرے مسلم لیگ کے لیڈران مولانا آزادکے نظریے کی مخالفت بھی کر رہے تھے لیکن مولانا آزادان سے بھی کبھی شاکی نہیں رہے۔ وہ متحدہ قومیت کے قائل تھے مگر ملک کی تقسیم انہیں کسی طور گوارہ نہیں تھی۔ ظاہر ہے مولانا آزادکی پرورش ایک مذہبی فضا میں ہوئی تھی ۔ وہ ایک سچّے وپکّے مذہبی انسان تھے لیکن ان کا خیال تھا کہ مذہب قومیت کے تصور میں کہیں دیوار نہیں بنتا بلکہ مذہب انسان کے اندر تعمیری فکر پیدا کرتا ہے جیسا کہ انہوں نے کہا تھا کہ ’’ میں مسلمان ہوں اور فخر محسوس کرتا ہوں کہ مسلمان ہو ں ۔ اسلام کی تیرہ سو برس کی شاندار روایتیں میرے ورثے میں آئی ہیں۔ میں تیار نہیں کہ اس کا کوئی چھوٹے سے چھوٹا حصّہ ضائع ہونے دوں ۔۔۔۔۔۔۔۔میںفخر کے ساتھ محسوس کرتا ہوں کہ میں ہندستانی ہوں ۔ میں ہندستان کی ایک ناقابل تقسیم متحدہ قومیت کا ایک عنصر ہوں‘‘۔

    اگرچہ تقسیم ہند اور پھر انسانوں کی قتل و غارت گری نے  انہیں اندر سے توڑ کر رکھ دیا تھا لیکن جدید ہندستان کی تعمیر و تشکیل کے لئے وہ اپنا سب کچھ نچھاور کر دینا چاہتے تھے۔ ان کے ساتھ جو انصافیاں ہورہی تھیں یا پھر کانگریس کے درمیان جو آپسی چپقلشیں تھیں اس کے وہ شکار بھی ہورہے تھے  لیکن کبھی زباں پہ اُف تک نہیں آنے دیا بلکہ اُسی شدو مد سے وہ ملک و قوم کے لئے کام کرتے رہے جس حوصلے اورجوش و خروش کے ساتھ جنگ آزادی کے وقت کر رہے تھے۔ دراصل مولانا آزادکا تصور حیات فلاح بہود وبشر تھا اور ہندستان کی تکثیریت ان کے لئے حرز جاں تھی ۔ وہ ہر قیمت پر انسانیت کی فلاح چاہتے تھے اور انہیں جو تہذیبی و تمدنی اثاثہ ورثے میں ملا تھا اس کی حفاظت کرنا ایمان سمجھتے تھے۔ ظاہر ہے کہ آزادی کے بعد ہم ایک جمہوری نظام کے پاسدار بن گئے تھے لیکن بابائے قوم مہاتما گاندھی کی شہادت کے بعد ملک میں جو تاریکی پھیلی تھی اس کی وجہ سے بہت سے کانگریسی لیڈر بھی جمہوری تقاضوں سے منحرف ہورہے تھے۔ ایسے وقت میں انہوں نے اپنے ہم نوائوں کو بھی یہ احساس دلایا کہ ’’ جمہوریت کے معنیٰ یہ ہیں کہ طاقت و اقتدار چند افراد کے ہاتھ میں نہیں ، پوری قوم کے ہاتھ میں رہے اور مساوات کے معنیٰ یہ ہیں کہ سب برابر ہوں ۔ لیکن بعض لوگوں نے اپنے لئے کچھ اور ہی قانون بنا لئے ہیں جن کی بنیاد خود غرضیوں اور تعصبات پر ہے۔ ایک طرف تو دنیاوی اور دوسری طرف مذہبی شہزادے پیدا ہوگئے ہیں اور لوگوں کی اجتماعی زندگی ان دو پتھروں کے نیچے دب کر رہ گئی ہے ‘‘۔ (خطبات ِ آزاد۔مالک رام،ص۔۲۴۲) ۔

    مولانا ابو الکلام آزاد ہندستان کی کثیر المذاہب اور کثیر اللسان حقیقت سے بخوبی واقف تھے ۔ انہیں اقلیت کے اندیشۂ فردا کا بھی احساس تھا اور مستقبل میں ہندستانی مسلمانوں کے سامنے جو مسائل درپیش ہوں گے اس سے بھی آشنا تھے ۔ اس لئے وہ اکثر مذہب ، زبان اور تہذیب و تمدّن کے متعلق اپنی وسعت ِ نظری کااظہار کرتے رہتے تھے اور اس کی وکالت بھی کرتے تھے کہ دنیا میں ہندستان تہذیبی و تمدنی اعتبار سے ایک زرخیز خطہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہندستان کی سرزمین نے ہر اس قوم کا استقبال کیا ہے جس نے اسے اپنا مسکن تسلیم کر لیا ہے ۔ بقول مولانا آزاد ’’ ہماری گیارہ صدیوں کی مشترک (ملی جلی) تاریخ نے ہماری ہندستانی زندگی کے تمام گوشوں کو اپنے تعمیری سامانوں سے بھر دیا ہے۔ ہماری زبانیں، ہماری شاعری، ہمارا ادب ، ہماری معاشرت ،ہمارا ذوق، ہمارا لباس، ہمارے رسم و رواج، ہماری روزانہ زندگی کی بیشمار حقیقتیں کوئی گوشہ بھی ایسا نہیں ہے جس پر اس مشترک زندگی کی چھاپ نہ لگ گئی ہو۔ ہماری بولیاں الگ الگ تھیں، مگر ہم ایک ہی زبان بولنے لگے۔ ہمارے رسم و رواج ایک دوسرے سے بیگانہ تھے مگر انہوں نے مل جل کر ایک نیا سانچا پیدا کر لیا۔ ہمارا پرانا لباس تاریخ کی پرانی تصویروں میں دیکھا جاسکتا ہے مگر اب وہ ہمارے جسموں پر نہیں مل سکتا۔یہ تمام مشترک سرمایہ ہماری متحدہ قومیت کی ایک دولت ہے‘‘۔(خطبات ِ آزاد۔مالک رام،ص۔۲۹۹) ۔

    مختصر یہ کہ مولانا ابوالکلام آزاد کے غورو فکر کا محورو مرکز آزادی سے پہلے اور آزادی کے بعد بھی صرف قومی اتحاد اور فلاح بہبود انسانیت تھا ۔ آزادی کے بعد جب انہیں ملک کا اولین وزیر تعلیم ہونے کا شرف حاصل ہوا تو انہوں نے اپنی مدت کار میں جتنے بھی فیصلے لئے اگر اس کا مختصر جائزہ لیں تو یہ حقیقت عیاں ہوجاتی ہے کہ ان کا نظریۂ حیات کیا تھا۔ آج جب ہم جدید ہندستان میں سانس لے رہے ہیں اور ہمارا تعلیمی نقشہ نہ جانے کتنے تجربوں سے گذر چکا ہے ۔ باوجود اس کے مولانا آزاد کے نظریہ ٔ  تعلیم کی عصری معنویت اور اہمیت وافادیت مسلم ہے۔ مولانا آزاد کے متعلق ایک غلط فہمی پھیلائی گئی ہے کہ وہ انگریزی زبان پر درک نہیں رکھتے تھے اور یورپی تعلیم کے اسرا ر رموز تک ان کی رسائی نہیں تھی لیکن جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ آج کا یونیورسٹی گرانٹس کمیشن ، ساہتیہ اکادمی، للت کلا اکادمی ، سائنس ریسرچ سنٹر وغیرہ ان ہی کی دین ہے کہ ان تمام اداروں کے قیام کو عملی جامہ پہنانے کا سہر ا ان کے ہی سر ہے تو یہ غلط فہمی خود بخود دور ہوجاتی ہے۔ ان اداروں اور پھر اس وقت کے اسکول و کالج کے نصابوں کو دیکھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ مولانا آزاد کا ذہن و نظر  کتنا جدید ،سائنسی اور وسیع تھا ۔ یہ اور بات ہے کہ وہ مشرقیت کے دلدادہ

تھے کہ ان کی نگاہ میں مشرقی اقدار انسانیت کے فروغ کے لئے ابدی اہمیت کی حامل ہے۔

**********************


 

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 128