donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Personality
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Khurram Sohail
Title :
   Aik Diwane Ka Diwane Tareekh

"ایک دیوانے کا’’ دیوانِ تاریخ
 
 خرم سہیل
 
شاعری کے مجموعے کو دیوان لکھتے ہیں اورتاریخ کے مضمون پر لکھی جانے والی تحریروں کو کے مجموعے تصنیف کہلاتے ہیں،لیکن میں ایک ایسے شخص کو جانتاہوں،جس کی پروازِ جنوں کاعالم یہ ہے کہ اس نے تاریخ کے مضمون کوکچھ اس طرح باندھا ہے ،جیسے کوئی شاعر اپنا دیوان تخلیق کرے۔واقعات کاتسلسل،معلومات کی ترسیل،اندازِ بیاںکی تہذیب،احوال کی ترتیب،دن ،ہفتے،مہینے ،برس اوراس کے ساتھ ساتھ مشاہدے کی ریاضت اورتاریخ کی کہانی سناتی ہوئی تصویریں۔ایک دنیا ہے اس دیوانِ تاریخ میں۔یہ کام کوئی عام حوصلے کا آدمی نہیں کرسکتا۔
 
دنیابھر میں معلومات حاصل کرنے کے آسان ذرایع پیدا کیے گئے ہیںتاکہ کسی کوبھی مطلوبہ معلومات تک رسائی میں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔اس کی ایک مثال عالمی انسائیکلو پیڈیا’’کرونیکل آف ٹوئینٹھ سنچری‘‘ہے،جس کے سحر میں یہ صاحب آئے تو مختلف موضوعات پر ایک جدید اوروسیع معلومات کاحامل انسائیکلوپیڈیامرتب کردیا۔
 
انسائیکلو پیڈیا جیساکام جتنی ریاضت مانگتاہے،عموماً اس نوعیت کے کام کوانجام دینے کے لیے دنیامیں ادارے مصروف عمل ہوتے ہیں۔یہ ادارے کئی ٹیمیں تشکیل دیتے ہیں،پھر مجموعی جدوجہد،کثیر سرمایہ اوران اداروں کے بے پناہ وسائل کی معاونت سے اس نوعیت کے انسائیکلو پیڈیا کاکام پایہ تکمیل کوپہنچتاہے،لیکن دنیا میں ایک انسائیکلوپیڈیا ایسا بھی ہے،جس کو تن تنہافردواحد نے مرتب کیااورمرتب کرکے وہ اسے بھول نہیں گئے،بلکہ اب تک اس کے دوایڈیشن آچکے ہیں،اگلے برس تک تیسرے ایڈیشن کی اشاعت متوقع ہے اورہرایڈیشن اضافہ شدہ ہے۔یہ ایک جہدِ مسلسل ہے،جس میں وہ محو ہیں۔پہلا ایڈیشن 1088صفحات پر مشتمل تھا،جبکہ دوسرے ایڈیشن میں ان کی تعداد 1128ہوگئی ہے۔تیسرے ایڈیشن میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔یہ صاحب معلومات کے گہرے سمندر میں اضافے کا بھنور پہن کر محوِ رقص ہیں۔
 
اس شخصیت کانام عقیل عباس جعفری ہے۔ان کے تخلیقی کینوس پر صرف ’’پاکستان کرونیکل‘‘ کی تالیف ہی کاسنہری رنگ نہیں ہے،بلکہ آنکھوں کوحیرت میں مبتلا کردینے والی ایک اورضخیم کتاب’’پاکستان کے سیاسی وڈیرے‘‘بھی ہے،جس کاسحر ابھی ٹوٹا نہیں تھا کہ انہوں نے ہمیں ایک اورحیرت فراہم کردی۔موسیقی سے شغف رکھنے والے قارئین کو ان کی مرتب کردہ کتاب’’مضامینِ موسیقی‘‘ بھی یاد ہوگی،جو شاہد احمددہلوی کے شاندار مضامین کامجموعہ ہے۔سوال وجواب سے متعلق کیاہوا ان کاکام توکسی سے ڈھکاچھپا نہیں ہے۔
 
انہوں نے موجودہ مرتب شدہ کام’’پاکستان کرونیکل‘‘بیس برس میں مکمل کیا۔اس کانام کتنا بامعنی ہے،یعنی ’’پاکستان کی سرگزشت‘‘جس میں واقعات،اداروں اورافراد کاتاریخ وار احوال درج ہے۔میری محدود معلومات کے مطابق ،یہ پاکستان میں تاریخ کے موضوع پر اپنی نوعیت کامنفرد اوریکتاکام ہے۔اس انسائیکلو پیڈیا کااشاریہ بھی پڑھنے لائق ہے،جسے عالمی معیار کے تحقیقی اصولوں کے مطابق لکھاگیاہے۔
 
پاکستان میں لوگ دوچار کتابیں لکھ کر اپنے آپ کو تیس مار خاں سمجھنے لگتے ہیں اورکچھ تو ایسے بھی ہیں ،جو لکھواتے کسی اورسے ہیں اورشایع اپنے نام سے کرواتے ہیں۔ایک قسم ایسی بھی ہے،جوصرف رٹے رٹائے معلوماتی مواد پر ہی گزارا کررہی ہے،ایسے ماحول میں اس نوعیت کاکام کرنے والے محقق کی زندگی کے بارے میں مجھے خیال آتاہے کہ اس نے کس طرح ذاتی اورپیشہ ورانہ زندگی میں توازن قائم رکھاہوگا،کیونکہ یہ قلم برداشتہ کام نہیں ہے،جنون اورمستقل مزاجی کی ایک تحریک ہے،جس کو وقت نے انسائیکلو پیڈیا کی شکل دی ۔
 
میرامشاہدہ ہے کہ ہمارے ہاں محققین کی اکثریت ایسی ہے،جو ایک دوکتابوں پر کام کرکے ہانپ جاتے ہیں،یاپھر یہی سننے کوملتاہے، ہاں کام ہورہاہے،کام کررہے ہیں،مگر نہ وہ کام ہوتاہے اورنہ وہ کام کرتے ہیں۔ہماری جامعات میں چند ایک اساتذہ کو چھوڑ کر باقی سب جس طرح کی تحقیق کروارہے ہیں،وہ بھی سب کے سامنے ہے۔پھر ہمیں جعلی قسم کے دانشوروں کی ایک بڑی تعداد کابھی سامناہے۔اسی طرح ٹی وی اسکرینوں پر بڑے بڑے جغادری تاریخ کے موضوع پر اپنی معلومات جھاڑتے دکھائی دیتے ہیں۔یوم آزادی پر کسی میزبان کوخیال نہیں آیا کہ بیس سال میں تالیف ہونے والے اس پاکستان کے انسائیکلو پیڈیا کے مولف کو بلا کر یہ کتھا سنیں کہ اس سفر کی ابتدا کیسے ہوئی اورایک اکیلے آدمی نے کئی اداروں کا کام تن تنہا کیسے کردکھایا؟مگر کتاب سے عدم دلچسپی کے جراثیم اہلِ اسکرین میں بھی ہیں۔یہ کوئی چاند سے توآئے نہیں،اسی دنیا کے باشندے ہیں،جہاں مہنگاکھانا توکھایاجاسکتاہے،مگر کتاب خریدنے کے لیے قوت خرید ساکت ہوجاتی ہے۔ہم سب اس بے توجہی میں برابر کے شریک ہیں۔
 
بہرحال یہ انسائیکلو پیڈیا معلومات کاوہ خزانہ ہے،جس کی فائلوں کو دیمک کھاچکی ہوتی یا پھر ان تک آپ کی رسائی کاکوئی ذریعہ نہ ہوتا۔ہمارے ملک میں آرکائیوز تقریباً ناپید ہیں،تحقیق کرنے والوں سے پوچھ کردیکھیں،وہ کیسے جوکھم اٹھاتے ہیں۔کم از کم ’’پاکستان کرونیکل‘‘نے بہت سے تحقیق کاروں اورطلبا کا وقت محفوظ کیا۔یہ کتاب پاکستان میں سیاست،ادب،موسیقی، مصوری،فنِ تعمیر،فلم،ٹیلی ویژن، ریڈیو،صنعت و تجارت اورکھیلوں کی دنیا میں پیش آنے والے واقعات اوراس سے وابستہ شخصیات کی مکمل اورمستند تاریخ ہے۔
 
یہ کتاب مجھے بھی بے انتہا پسند ہے۔اتنے برس گزرجانے کے باوجود میرے مطالعے میں ہے۔میں نے متعدد بار اس سے استفادہ کیا۔انٹرنیٹ کی معلومات پر بھروسہ کم ہے،لہٰذا اس قسم کاانسائیکلو پیڈیا تحقیق اورتصنیف وتالیف کاکام کرنے والوں کے لیے بہت معاون ثابت ہوتاہے۔جعفری صاحب نے صرف عام قاری کے لیے اپنی معلومات کے خزانے کامنہ نہیں کھولا،بلکہ علمی سخاوت کولکھاریوں میںبھی بانٹاہے۔بہت سے خاموش کردار بھی ہیں،جنہیں علم کے اس دریا سے سیراب ہونے کا موقع ملا،مگر ہمارے ہاں اعتراف کی روایت کچھ مضبوط نہیں ہے۔
 
جعفری صاحب کی علم کے لیے دیوانگی اورلگائو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتاہے کہ یہ کیفیت کے طور سے خانہ بدوش ہیں۔کہیں یہ تکرار کے شور میں سوالات کی بُنت کرتے ہیں،کبھی سیاست کے ایوانوں کی طرف نکل جاتے ہیں،توکبھی موسیقی کے رچائو کو مرتب کرنے میں مشغول ہوتے ہیں اورکبھی تاریخ کا دیوان لکھنے بیٹھ جاتے ہیں،ایک دیوانے کی مانند،جس کو اپنے خمارِ عشق کے سوا کچھ یاد نہیں رہتا۔’’پاکستان کرونیکل‘‘یا ’’پاکستان کے سیاسی وڈیرے‘‘جیسا کام مذاق نہیں ہے،جس کی خاطر ان کی زندگی کے اتنے سارے برس دھول بن کر اُڑ گئے،البتہ یہ ضرور مذاق ہے کہ سرکاری سطح پر کہیں بھی ان کی پذیرائی نہیں ہوئی۔انہوں نے پاکستان کی تاریخ لکھی ہے،تو پاکستانی سرکار کوہی اس پر غور کرناہوگا۔
 
جعفری صاحب نے ایک مدت تک کوئز پروگراموں کے لیے سوالات اورا ن کے جوابات لکھے ،پھر ان کی کتابیں مرتب کیں۔جس چیز کوجانا،اس کو آگے تک پہنچایا تاکہ دوسرے بھی استفادہ کریں۔جن لوگوں کے ساتھ یہ بذریعہ سوشل میڈیا وابستہ ہیں،وہ یہ بات بھی خوب جانتے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جعفری صاحب تصویروں ،تحریروں اورکلمات کے ذریعے دوسروں کو کس قدر معلومات فراہم کرتے رہتے ہیں۔علم کو معلوم ہونے کے بعد متعلقین تک پہنچانا شاید ان کے لاشعور کاکوئی گوشہ ہے ،جوانہیں متحرک رکھتاہے۔نوجوان نسل کے لیے ان کی کتابیں سرمایہ ٔ حیات ثابت ہوسکتی ہیں،کیونکہ پاکستان کی معاشرت،جمالیات اورسیاست کے تمام رنگ ایک ہی کینوس پر یکجا ہیں۔
 
میں کبھی کبھی سوچتاہوں ،اتنی دہائیوں سے علم کی مسافت طے کرنے والے اس دیوانے کی تنہائی میں ،جب کوئی لمحہ سراپا سوال بنتاہوگاکہ میری کاوشوں کا اعتراف سرکاری سطح پر بھی کبھی ہوسکے گا؟توساری زندگی علم کی سبیل لگانے والے قلم کار کواس کے جواب میں ابھی تک صرف خاموشی ملی ہے۔جس سے ایک حساس دل کی تنہائی بڑھ تو سکتی ہے،لیکن اس کوکوئی کم نہیں کرسکتا،مگر مجھے یقین ہے ،مستقبل قریب میں وقت کی تاریخ ان کی تحسین کے لیے،ویسے ہی بانہیں کھولے ہوئے کھڑی ہوگی،جیسے انہوں نے اپنا دل کھول کر اس کے لیے ’’پاکستان کرونیکل‘‘میں رکھ دیا۔
 
 خرم سہیل
***********************
Comments


Login

You are Visitor Number : 573