donateplease
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Personality
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Reyaz Azimabadi
Title :
   Kalam Haidri : Fiction Ka Darakhshan Sitara, Adbi Sahafat Ka Naqeeb



 کلام حیدری:فکشن کا درخشاں ستارا،ادبی صحافت کا نقیب


 ریاض عظیم آبادی


    کلام حیدری کون ہیں؟ اردو کا معتبر افسانہ نگار؟ فکشن کی دنیا کا درخشاں ستارا؟ادبی صحافت کا نقیب؟ ایک کامیاب بزنس مین؟ادب نواز ؟ ادب شناس؟ گیا کی سماجی زندگی کا ایک ستون؟ سابق کامریڈ؟یا پھر ایک تحریک کار؟کلام حیدری کی شخصیت کے کس پہلو کو نظر انداز کیا جائے؟
    ریاض تم فل ٹائم صحافت کرتے ہو مورچہ کے لیے کیو ں نہیں لکھتے؟ کلام بھائی آپ کا حکم سر آنکھوں پر لیکن گیا آکر کام ممکن نہیں ہوگا! ٹھیک ہے میرا اسٹاف تم سے رپورٹ لے لیا کرے گا۔میرا کوئی بڑا بھائی نہیں ہے،آپ نے میری زندگی کی اس کمی کو پوری کی ہے،میں آپ کا احترام کرتا ہوں!ٹھیک ہے، میں جو دونگا اسے خاموشی سے اپنی جیب میں ڈال دینا۔کلام حیدری نظریاتی طور پر اشتراکی تھے،فرقہ پرستی اور مذہب کی سیاست کے خلاف تھے،وہ مزدوروں اور کسانوں کے استحصال ، نراجیت اور رجعت پسندی کے خلاف ایک تلوار تھے،اپنے اصولوں کے پابند تھے ،روایت شکن توتھے ہی،ادب میں بت پرستی کے خلاف تھے اورادب میں نئی پود کوبڑھاوا دینے میں یقین رکھتے تھے۔وہ ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے،اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔دولت رہتے ہوئے بھی گھمنڈ کا شائبہ بھی نہ تھا۔

    کلام حیدری کا نام محمد کلام الحق عرف کلام حیدری تھا،انکے والد محمد انعام الحق ایک پولس آفسر تھے،والدہ کا نام نورلعین تھا ۔وہ مونگیر کے موضع رانکڑ میں 2اپریل1930کوپیدا ہوے جو انکا نانہال بھی تھا۔دادہال بھی مونگیر ضلع کے پچنہ میں تھا۔ انکی ابتدائی تعلیم ناناڈاکٹر علی حسن کی نگرانی میں یو پی کے ضلع ا ییٹہ کے قصبہ جلبسیہ میں استاداللہ بخش کے زیر شفقت ہوئی۔ انہوں نے انگر یزی کی تعلیم بہار کے استاد جناب عبدلحنان سے حاصل کی ۔ میٹرک کا امتحان پٹنہ مسلم ہائی اسکول سے 1945میںپاس کیا۔ اس سے قبل 1942میں وہ رام موہن رائے سیمینری کے اسٹوڈنٹ رہے اور تحریک آزادی کا حصہ بنے۔ 1947میںرپن کالج کولکاتا سے آئی کام کا امتحان پاس کیا۔ انہوں نے رانچی کالج رانچی سے1950میں بی اے آنرز اور پٹنہ یونیور سیٹی سے ایم اے اردو کی ڈگری حاصل کی۔انہوں نے 195سے 1958تک پورنیہ ڈگری کالج میں لکچرر کی نوکری کی،نوکری سے استعفیٰ دیکرگیا میں کنکریٹ انڈسٹری قائم کی اور تا دم حیات  انکا یہی مشغلہ رہا۔1956میں انکی شادی ڈاکٹر ابولخیر مرحوم کی صاحبزادی شاہدہ خیر کے ساتھ ہوئی اور1958 میں ایک بچی کے والد بنے جسکا نام نگارینہ حیدری رکھا جسکی شادی انجینیر افسر احمد کے ساتھ ہوئی۔افرین احمد اور سارہ احمد ،دو نواسیوں کے نانا بنے۔3فروری 1994وہ  اپنی اہلیہ شاہدہ حیدری ،بیٹی رینا اور دونوں نواسیوں کو بلکھتا چھوڑ کرمالک حقیقی  سے جا ملے۔

    کلام حیدری اپنی سماجی و ادبی مصروفیات کی وجہہ سے گیا شہر کی معروف ترین شخصیت  بن چکے تھے۔انہوں نے دو کالج ایک اردوگرلس ہائی اسکول اور ایک ارردو گرلس میڈل اسکول کھولوانے میں کلیدی  رول ادا کیاانہوں نے ادیبوں فنکاروں کو اعزاز و اعتراف کے لیے کلچرل اکادمی قائم کیا۔بہار انجمن ترقی اردو کے جنرل سیکریٹری  اور انجمن ترقی مصنفین کے سرگرم رکن رہے۔کلام حیدری نے 1963 میں گیا سے ہفتہ وار مورچہ کی اشاعت شروع کی1966میں انہوں نے ایک ادبی رسالہ ماہنامہ آہنگ کی اشاعت شروع کی جسکا فکشن نمبر اور احتشام حسین نمبر کافی مقبول ہوا۔ماہنامہ سہیل کے جمیل مظہری اوربھاگلپور کا ادبی ماحول نکالنے میںمعاون رہے کلکتہ سے 1974میں ماہنامہ نغمہ و نور بھی نکالا تھا جسکی کوئی کاپی دستیاب نہیں ہے۔گیا سے شائع ہونے والے ہفتہ وار بودھ دھرتی کے لیے کئی سال تک کالم  لکھتے رہے۔  1979 میں مزامیر کے نام سے1970سے 1978کے درمیان لکھے گئے تنقیدی شذرات کا انتخاب ،اسی سال ’فرازدار‘ کے نام سے مختلف اداریوں کا مجموعہ شائع ہوا  1980 میںبرملا کے نام سے ادبی تبصروں کا مجموعہ شائع ہوا۔انکا افسانوی مجموعہ الف لام میم جو ۱۴ افسانوں کا مجموعہ ہے فروری1979میں شائع ہوااورکافی مقبول ہوا۔اس سے قبل 1974 میں۱۶ افسانوں کا مجموعہ ’سفر‘ کے نام سے1983 میں ۱۸ افسانو پر مشتمل کتاب گولڈن جبلی کی اشاعت ہوئی۔1983 میں تفہیمات کے نام سے انکے مقالوں کا کلکشن شائع  ہوا۔ ادب صحافت اور کاروباری مصروفیت اور سماجی سگرمیوں کو کیسے adjustکرتے تھے،یہ صرف کلام حیدری سے ہی ممکن تھا۔ان کے زمانے ملک کا کوئی بھی شاعر،ادیب یا صحافی ایسا  نہیں تھا جو کلام حیدری  کا مداح نہیں تھا۔کلام صاحب جیسی کشش رکھنے والی شخصیت کم ہوا کرتی ہیں۔وہ اپنی اہلیہ سے بے پناہ محبت کرتے تھے اسلیے صنف نازک کے رشتے سے انکا کردار بے داغ رہا۔کبھی  وہ کسی اسکنڈل کے شکار نہیں بنے۔کاروبار کے علاوہ انکے دل و دماغ پر فکشن اور اردو ادب قابض رہتا تھا۔انکی تخلیقی شخصیت کے محرکات کیا ہیں ؟ کے جواب میں  انہوں نیعلیم اللہ حالی صاحب کو بتا تھا کہ…’پہلے میں فرائڈ کا ہمنوا تھا،بعد میں فلسفہ فرائڈ سے ہٹ کر زمانے کے سامنے آیا۔ڈاکٹر قمر رئیس کے مطابق…’ترقی پسند تحریک اور اشتراکی نظریہ و فکر سے وابستگی نے یوں تو انہیں بہت کچھ دیا لیکن جس شئے پر انہیں ہمیشہ ناز رہا وہ زیر دستوں اور غریبوں کی حمایت  تھی  جس نے درد مندی اور انسانی  دوستی کے ایک شفاف رشتہ سے صدا کے لیے جوڑ دیا اور وہ ان بے نام نیم تاریک گلیوں میں داخل ہو گئے جہاں بے نام لوگ رہتے ہیں…‘یہی احساس بے نام گلیاں جیسا شاہکار افسانہ لکھنے کا محرک بنا۔ کلام حیدری کے ایک شاہکار افسانہ’ کھلیان اورسلاخیں‘ کے بارے میں ڈا کٹر قمر رئیس کہتے ہیں ’… پریم چند اور سہیل عظیم آبادی کی حقیقت پسندانہ اسلوب میں لکھی ہوئی ہے ایسی کہانی ہے جسے آج کا قاری بھی دلچسپی اور شوق سے پڑھے گا اس لیے کہ اس میں انسانی  رشتوں اور انسانی دکھ سکھ کے نقوش تخلیقی حسن کے ساتھ ابھارے گئے ہیں۔‘ کلام حیدری کے مزاج  کے متعلق ڈاکٹر محمد حسن لکھتے ہیں… ’کلام  کے لیے سب سے بڑا صدمہ اور تعجب کی بات یہی ہو سکتی ہے کہ لوگ ان سے اتفاق کر لیں۔ایسے موقع پر وہ بڑی الجھن میں پڑ جاتے۔یہ کہنا غلط نہ  ہوگا کہ وہ حزب مخالف کے لیے پیدا ہوے تھے اور اپنے اس منصب کو انہوں نے بڑی طرحداری کے ساتھ نبھایا۔‘شمس الرحمٰن فاروقی،جوگندر پال،مہدی جعفر،ڈاکٹر افصح ظفر،احمد یوسف،وفا ملک پوری،عبدالصمد،پروفسر حسین  الحق،مشتاق احمدنوری،ڈاکٹر ارتضیٰ کریم،پروفسر شہزاد انجم،نیر حسن،ڈاکٹر نکہت ریحانہ،ڈاکٹر عبد الواسع۔۔۔۔۔ کتنے نام لوں ۔کون کلام حیدری کا مداح نہیں رہا ہے؟ آخری دنوں  میںکون سا غم لگا کہ انہوں نے دونوں پرچہ بند کر دیا،پریس فروخت کر دیا ،دلی میں مکان لے لیا لیکن گیا کی سنگلاخ  زمین نے انہیں جو عزت،دولت اور شہرت دی اور اسی زمین کی آغوش میں سما گئے۔کسی نے انہیں بے نام گلیوں کا مسافر کہا تو کسی نے زندہ آدمی قرار دیا۔کسی نے انہیںجدید افسانوں کا خالق بتایا تو کسی نے ترقی پسند افسانہ نگار بتایا،کسی نے انہیں اپنی ذات میں گم بتا دیا،کسی نے انکی تنقید نگاری کو سراہا تو کسی نے  ایک مستند صحافی قرار دیا۔کسی نے انہیں تخلیقی نقاد کہا تو کسی نے ادبیاتی صحافی بنا دیا۔انجمن ایک ،انسان ایک… لیکن چاہنے والوں کا ہجوم۔شاہدہ حیدری کو یقین ہے کہ جب کبھی فکشن کی بات ہوگی تو کلام کی چرچہ ضرورہو وگی کیونکہ ادب مرتا نہیں ہے اور ادیب اپنے فن کے ساتھ زندہ رہتا ہے۔

    ڈاکٹر نعیم راہی کی کتاب ’کلام حیدری حیات و خدمات‘ جو ۲۲۰ صفحات پر مشتمل ہے2015میں شائع ہو چکی ہے جس میں ۱۶ معروف شخصیتوں کے تاثرات شامل ہیں۔

    کلام حیدری بڑے افسانہ  نگارتھے یا نہیں  اسکا فیصلہ افسانوی ادب کے ناقدین پر چھوڑتا ہوں۔لیکن ان سے جو ملا انکا ضرور بن کر رہ گیا۔وہ ہندستان کے ادیبوں شاعروں اور دانشوروں کے درمیاں کافی مقبول تھے۔کمیونسٹ ہونے کی وجہہ سے وہ ایک مثبت اور واضح خیالات رکھنے والے دانشوروں میں شمار کیے جاتے تھے،وہ دقیا نوسیت اور مولویت کے خلاف تھے ۔انسانیت کے علمبردار ہونے کی وجہہ وہ مزدوروں کے حامی تھے۔وہ مسلمانوں کی دینی  و مذہب کی سیاست سے دور رہتے تھے کیونکہ وہ عوامی تحریک میں یقین رکھتے تھے۔وہ فرقہ وارانہ سیاست کے کبھی حامی نہیں رہے۔’میں پہلے ادیب ہوں اسکے بعد صحافی۔میری صحافت  کا ایک مقصدنئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے…‘یہ میرے سوالوں کا جواب تھا۔پٹنہ کا اپسرا ہوٹل انکا پسندیدہ ہوٹل تھا جہاں وہ ٹھہرا کرتے تھے۔وہ اپنی ذات پر کسی کااحسان لینا پسند نہیں کرتے تھے ،انکے دوستوں کا حلقہ وسیع ہوتے ہوے بھی کسی کے گھر پر ٹہرنا پسند نہیں کرتے تھے۔ رعونیت یا غرور سے انکا کوئی واسطہ نہیں تھا لیکن اپنے نظریات کے ساتھ کبھی سمجھوتہ۰نہیں کرتے تھے۔گیا  کے قلب میں جگجیون روڈ پر سرکٹ ہاؤس کے مقابل رینا ہاؤس ہے جوادبائ،شعرا،اہل علم،اور ارباب قلم کا شبستان بن گیا تھا۔

    تارا چند رستوگی  کے مطابق…’کلام حیدری کے فکشن میںسماجی مناظرمرکز و محور رہتے ہیںاور یہ رجحان اس حقیقت کاآئنہ دار ہے کہ ان  کو معرض و جود میں لانے والا شخص سماجی و بہبود پر خون جگر بہانے والافعال کارکن تھا…‘ آگے کہتے ہیں’آہنگ‘ کے ذریعہ ا دبی خدمت اور ’مورچہ‘ کیذریعہ سماج  کی خدمت کرنا کلام حیدری کی مطمع نظر تھا۔ کلام حیدری کی صحافت پر لکھتے ہیں…’ہفتہ وار خبروں  کا جائزہ،رفتار زمانہ،گردو پیش کا جائزہ وغیرہ شامل ہوا کرتے  تھے مشمولات میںاداریہ بھی خصوصی اہمیت کا حامل ہوتا تھامگر کلام حیدر ی  مرحوم کی نظریاتی ماحول تک رسائی  میں کمی کا احساس کھٹکتا تھا…‘ رستوگی صاحب کے مطابق…’کلام حیدری ،ان کے ترجمان’آہنگ‘ و’مورچہ‘اور فکشن میں معیاری کام  وغیرہ ایک و حدت میںتحلیل ہو کر ادبیات و صحافت میں شامل ہو چکے ہیں۔وہ اچھے افسانوی شاہکار پیش کر سکتے ہیں کیونکہ وہ صحافتی خصوصیات کے حامل تھے اور اچھے کوائف کے صحافی تھے کیونکہ وہ افسانوی ادبیات کے خدوخال پر بھرپور نظر ڈال سکتے تھے…‘

    سید احمد قادری کلام حیدری کے قریب رہے تھے۔انکا دعویٰ درست ہے کہ ’کلام حیدری کی شناخت ایک کامیاب افسانہ نگار اور ایک بے باک صحافی کی حیثیت سے ہے اور ان دونوں حیثیتوں سے کلام حیدری نے اردو افسانوں کے فروغ میںنمایا ںرول ادا کیا ہے۔‘ اس میں بحث کی گنجائش نہیں ہے کہ حید ری صاحب بنیادی طور پرایک فنکار تھے اور انہوں نے اپنی ادبی زندگی کا آغازاپنے افسانہ’بھابھی‘ سے کیا تھا جو1964میں کلکتہ سے شائع ہونے والے ماہنامہ ’جدید اردو ‘کے ایک شمارے میں چھپا تھا۔انہیں اپنی افسانہ نگاری پر شروع سے اعتمادو بھروسہ تھا۔انکا پہلا افسانوی مجموعہ’ بے نام گلیاں‘ فروری1055میں شائع ہوا۔اسکے بعد 1975 میں’سفر‘1979میں ’الف لام میم‘ اور 1983میں  ’ گولڈن جبلی ‘ شائع ہوئے تھے۔یہ المیہ ضرور ہے کہ نقادوں نیکلام حیدری کے افسانوں پر اتنی توجہہنہیں دی جسکے وہ مستحق تھے۔تمام افسانوی مجموعوں میں کے بیشتر افسانے مختلف جریدوں شائع ہو چکے تھے یا انہیں محفلوں سنا جا چکا تھا۔کلام حیدری ایک حساس فنکار تھے۔انہوں نے اپنے ارد گرد  کے بدلتے ہوئے حالات،ظلم و ستم اور استحسال کو دیکھا تھا اور اسے محسوس کیا تھا۔ اسی احساسات نے حیدری صاحب سیکئی نمائندہ افسانے لکھوائے۔ماہنامہ’ تہذیب جو سہیل عظیم آبادی کی ادارت میں شائع ہوا تھا  میں کلام حیدری کا افسانہ’کھلیان اور سلاخیں‘ شائع ہوئی جس پر رضیہ سجاد ظہیر نے لکھا کہ افسانے ہر جملے نے انہیں تڑپایا۔وہ اسوقت کلام صاحب سے متعارف بھی نہیں تھیں۔

    کلام حیدری نے صحافت ضرورتاََ شروع کی۔انکے اداریے مضمون کی شکل میں ہوتے تھے۔مجھے اپنی تحریر جمع رکھنے کا کبھی شوق نہیں رہا اسلیے یہ کہنا ممکن نہیں ہے کہ میرے کتنے مضامین و رپورٹ شائع ہوئیں۔جب وہ پٹنہ آتے تو ۱۰۰ کی ایک دو نوٹ میری جیب میں رکھ دیتے تھے۔مورچہ بند ہو گیا،آہنگ کو جاری رکھنے کی ناکام کوشش کی گئی تھی۔بہار میں ایک آہنگ جیسے رسالہ کی لازمیت پر کسی نے دھیان نہیں دیا۔میں 1978 میں مورچہ کا چند ماہ کے لیے حصہ بنا تھا۔1994کی فروری میں ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گئے۔کلام حیدری اعتراضات سے  گھبرانے کی بجائے لطف اندوز ہوا کرتے تھے اور جس بات کو ہ غلطسمجھتے تھے اسکی وہ مخالفت میںقلم کو تلوار بنا لیتے تھے۔میں جے پی کی سمپورن کرانتی والی تحریک کے خلاف تھااور کلام حیدری بھی اس تحریک کے خلاف تھے۔میرے مزاج کے وہ ساتھ تھے۔انجمن ترقی اردو کے جنرل سکریٹری منتخب ہو گئے لیکن ڈاکٹر مغنی صاحب کی’میں‘  کے ساتھ دور تک نہیں چل سکے۔کلام حیدری کی سب بڑی پونجی انکی شرافت اوربذلہ سنجی تھی۔وہ کہتے تھے …’ اگر اس بات کی گارنٹی ہو کہ رونے دھونے یا سر پٹکنے سے مسئلہ کا حل ہو جائے گا تو میں دن بھر ایسا کرنے کے لیے تیار ہو جاؤں،لیکن ایسا نہیں ہوتا ہے اسلیے رونے سے کیا فائدا؟مسائل کا حل تلاش کرو اسے ہی زندگی کہتے ہیں۔‘ پروفیسر علیم اللہ حالی نے حیدری صاحب کا ایک انٹرویو لیا تھا جسے کلام حیدری حیات و خدمات میں شائع کیا گیا ہے۔حالی بھائی کلام صاحب کے قریبی دوستوں میں تھے۔افسانے کی صنعتی حیثیت  سے متعلق حالی صاحب کے جواب میں حیدری صاحب کا ماننا تھا کہ…’ جو لوگ  مختصر افسانے کوتخلیق کے دائرے سے خارج کر دینا چاہتے ہیں وہ در اصل ناول کے مقابلے میں مختصر افسانے کے چھوٹے ہونے کو اسکی اہمیت کی کسوٹی سمجھتے ہیں۔‘ آگے کہتے ہیں ’مختصر افسانہ طویل مختصر افسانہ، مینی افسانہ… یہ سب ذہنی آزادی تخلیقی پابندیوں سے انکار کی پیداوار میں بات در اصل یہ ہے کہ کسی صنف کے لیے اصول پہلے سے نہی بنائے جاتے…‘

    ڈاکٹر اسلام عشرت کلام حیدری کی صحافت پر لکھتے ہیں… ’وہ جب بھی  قلم ہاتھ میں لیتے تھے تو اکثر سچ بولتے تھے‘ میرا کہنا ہے کہ کلسم حیدری کھلے الفاظ میں اپنی بات کہتے تھے۔لاگ لپٹ کے وہ قائل نہیں تھے۔انکا ایک اداریہ مزامیر میں شائع ہے جس میں وہ اردو آبادی سے خطاب کرتے ہیں…’ہم ایک بار پھر اردو کے انجمنوں سیدرخواست کر رہے ہیںکہ خدا کے لیے  اردو پڑھنے والوں کی کی کم ہوتی ہوئی تعداد کو روکیے اور اردو پڑھنے والوں کی تعداد بڑھایئے۔سرکاری انعامات،اکیڈمیوں اور بورڈ میں الجھ کرنہ رہ جائیے۔ خدا را اصل مسئلے کوکو سمجھیے اردو زبان کی بقا  آج  ہندستان میں اردو والوں کے لیے اصل مسئلہ ہے اردو ادب کی ترقی کا مسئلہ اس کے بعد آتا ہے…‘

 کلام حیدری نے ترقی پسند مصنفین کے مہنتوں اور قاضیوں کے نقلی چہروں سے نقاب نوچنے میں کبھی مروت نہیں کی۔وہ ادب میں عجلت پسندوں کو بھی ٹوکتے ہیں تو کبھی جدید ادب کوعدم توازن کا شکار قرار دیتے ہیں۔کلام حیدری بنیادی طور فکشن  نگار تھے وہ اپنی شناخت افسانہ نگار کی حیثیت سے چاہتے تھے۔وہ صحافی ہوتے ہوئے بھی ایک صحافیکالیبل پسند نہیں کرتے تھے۔ وہ بازاری شور شرابے سے اپنی صحافت کو دور رکھتے تھے۔کردار کشی انکا شیوہ کبھی نہیں رہا لیکن انہوں نے صاف گوئی اور بے باکی کا دامن بھی کبھی نہیں چھوڑا۔ہم اردو پڑھنے والوں کی تعداد  بڑھائیں اورایک اردوو روزنامہ خریدے کے اردو آبادی کو امادہ کرنے تحریک چلانے کا عزم کریں یہی کلام حیدری کے لیے صحیح خراج عقیدت ہے۔    


(رابطہ9431421821)

 *****************************

 


 
 

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 320