donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Tajziyati Mutalya
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Ahmad Rasheed Alig
Title :
   Tanab Naqd Ke Hawale Se Dr Mushtaq Ahmad Ka Tanqidi Vision


’طناب نقد‘ کے حوالے سے ڈاکٹر مشتاق احمد کا تنقیدی وژن


احمد رشید علیگ


سرائے رحمن، علی گڑھ- 1

 

ڈاکٹر مشتاق احمد کے کارناموں کی مختلف جہتیں ہیں۔ ان کی مدبرانہ صلاحیتوں کا اظہار ’جہان اردو‘ کے اداریوں سے ہوتا ہے جو اردو کے گمشدہ قاری کا متلاشی اور تعمیری ادب کا ترجمان ہونے کے علی الرغم، سیاسی ، معاشی اور تعلیمی مسائل کے سد باب کیلئے عمل پیرا اور ایک صالح و صحت مند سماج کا رویہ ہے۔ اردو درس وتدریس کے مسائل، زبان ولسان کے تقاضے اور خصوصی طور سے اردو کے فروغ اور مستقبل پر دور رس نگاہ موصوف کی باریک بینی اور سنجیدگی کا اشاریہ قارئین کو پڑھنے اور سوچنے کے لئے آمادہ کرتا ہے۔

ایک مترجم کی حیثیت سے ’بلچمنا‘ کے عنوان سے ایک ناول اردو زبان میں ترجمہ اہمیت کا حامل ہے۔ تعلیم کے تعلق سے انگریزی زبان میں لکھی ہوئی ان کی کتاب Miniority Education of India میں اقلیتی طبقہ کے تعلیمی مسائل پر روشنی ڈالی گئی ہے، خصوصی طور سے مسلمانوں کی تعلیمی وسیاسی پسماندگی کے اسباب کی تلاش میں ان کے ملّی درد کی ٹیس دوسری تصنیف ’Muslim Reservation: Vote Bank Politics or way to uplift‘ میں محسوس کی جاسکتی ہے۔منزل کی انتہائی بلندی چھونے کے بعد مسلمانوں کا ایک بے حد مختصر Elite طبقہ جس کی خود پر اپنی ضرورتوں اور آرزوئوں کی تکمیل پر نظریں مرتکز ہوجاتی ہیں اور زمینی مخلوق جو اس کی نگاہ میں پسماندہ ہونے کے سبب اس لئے نظر انداز ہوتی ہے کیوںکہ وہ اپنی تخلیقی بنیاد کو بھول جاتا ہے کہ وہ بھی مٹی کی ایک اکائی ہے۔ موصوف کی مولانا آزاد کی حیات اور ان کے کارناموں پر انگریزی زبان میں ایک اہم تصنیف ’Maulana Abulkalam Azad‘ ہے جو سوانح نگاری کے زمرہ میں آتی ہے۔ 
تنقید وتحقیق کے تعلق سے ان کی تقریباً چودہ (14) تصانیف ہیں جو ان کے تنقیدی وژن کی وضاحت کرتی ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ چند کتابیں یک موضوعی ہیں جو ان کی تحقیقی وتنقیدی بصیرت اور صلاحیت کی غماز ہیں۔ سر دست موصوف کی نئی تصنیف ’طناب نقد‘ زیر نگاہ ہے جو تنقیدی طناب کو نشان زد کرتے ہوئے فن پارہ کو مخصوص نقطہ کی عینک سے دیکھنے سے انکار کرتی ہے اور تخلیق کو زندگی اور اس کے سروکاروں سے جڑے رہنے کی حمایت کرتی ہے۔مذکورہ کتاب چودہ 14 مضامین پر مشتمل ہے جن میں کھرے کھوٹے کی نشاندہی کرتے ہوئے موجودہ عہد اور ماضی قریب کے تخلیق کاروں کا جائزہ لیتے ہوئے ادب میں ان کی اہمیت وافادیت کا تعین کیا گیا ہے۔ موصوف نے ماضی قریب میں جامعات میں تحقیق وتنقید کے موضوعات پر ہونے والے کاموں کے معیار ومیزان پر سوالیہ نشان قائم کیا ہے :

’’عہد حاضرہ میں ایسے قارئین جن کی نگاہ تحقیق وتنقید کے تقاضوں پر ہو ان کا تناسب مایوس کن ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ تحقیق وتنقید کی سمت تاریک ہوکر رہ گئی ہے کہ قارئین میں کوئی انگشت نمائی کرنے والے نہیں رہے۔‘‘               

(طناب نقد، صفحہ -5)


موجودہ وقت میں اصول تحقیق و تنقید کے معیار ومیزان کاپاس ولحاظ نہ رکھنے کے وجوہات بیان کرتے ہیں۔:

’’ زندگی کے دور میں ہر کسی کے پاس وقت کم ہے اور کام زیادہ ہے۔ کسب معاش کا مسئلہ سہولتوں کی فراہمی اور سماجی وقار کی ہوسناکی جیسی بیماریوں نے معاصرے کو ہی بدلنا شروع کردیا ہے اور اس کی وجہ سے ادب کا معیار ومنہاج بھی تبدیل ہونے لگا ہے۔ نتیجتاً ہماری جامعات کے اکثر تحقیقی مقالات برائے امتحانیہ محض کاپی پیسٹ ہو کر رہ گئے ہیں۔‘‘       

(ایضاً- صفحہ-6 5)

کسب معاش کا مسئلہ گزشتہ دور میں بھی تھا لیکن اب مسئلہ جلد بازی، سہل پسندی اور اخلاقی پستی کا ہے۔ اس مسابقتی دور میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے میں ہرکسی کا حد سے تجاوز کرنا بھی شامل ہے۔ڈاکٹر مشتاق احمدنے جس اہم بیماری کی طرف توجہ دلائی ہے وہ سماجی وقار کی ہوسناکی ہے۔ دیگر ہمارے عصری پیشہ وارانہ نقاد کا نظریہ تنقید وتحقیق کا ابہام کا شکا ر ہونا بھی ہے۔ڈاکٹر صاحب کو پیشہ وارانہ نقاد ہونے کا شوق بھی نہیں ہے، بلکہ مطالعہ ادب سے روحانی آسودگی، حظ وانبساط اور ذہنی روشنی حاصل کرنا مقصود ہے، ادب کی افادیت پر بھی نگاہِ امید رکھتے ہیں۔ زندگی اور ادب کی قربت کا احساس شدت سے ہے۔ وہ ادب کو آئینہ زیست خیال کرتے ہیں۔ حیات وممات کی معنویت تلاش کرنے کی سعی کرتے ہیں۔ اسی لئے تخلیق کار کا تصور حیات اور ایک نقاد کا تصور زیست کبھی یکساں نہ ہونے پر یقین رکھتے ہیں۔ موجودہ دور قاری اساس زمانہ ہے۔ اس لئے تخلیق کار کے فن کے متعلق یا تخلیقی متن کی قرأت پر کوئی توجہ ممکن بھی نہیں ہے۔موصوف فرماتے ہیں:

’’تخلیق کار کا یا فنکار کے احساسات وجذبات اور مشاہدات وتجربات کی گہرائی وگیرائی تک رسائی حاصل کرنے میں مختلف ناقدین ادب کے میزان نقد بھی الگ الگ ہوسکتے ہیں۔‘‘       

   (طناب نقد، صفحہ-6) 

دراصل ڈاکٹر صاحب تنقید کے کسی بھی مکتبہ فکر یا رجحان کے حامی ہیں نہ ہی مخصوص نقطۂ نظر سے فن پارہ کو جانچنے کے قائل ہیں۔ وہ براہ راست شہ پارہ کو پڑھنے اور آزدانہ رائے زنی کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔ان کے نزدیک نقاد کو یہ آزادی حاصل ہوتی ہے کہ وہ کسی تخلیق کا احتسابی جائزہ لیتے وقت اپنی علمی وادبی بصیرت وبصارت کی بنیاد پر فیصلہ کرے اور اپنے تنقیدی شعور کا اظہار کرے ۔ اسی لئے مذکورہ کتاب کی فہرست میں شامل مضامین میں متن کی قرأت سے جو کچھ انہوںنے اخذ کیا وہ باوجود کسی حتمی حیثیت کے حامل نہیں ہوتے ہوئے محض ان کی رائے کا اظہاریہ ہے جسے ہم تاثراتی تنقید کے زمرہ میں شمار کرسکتے ہیں۔

’’طناب نقد‘ میں پیش لفظ کے بعد ’غالب: شاعر فکر وآگہی‘ اور اقبال کا بین علومی مطالعہ‘‘ دونوں مضامین کو فہرست میں اولیت کا درجہ دے کر ایک طرح سے وہ عظیم فنکاروں کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ماہر غالبیات اور اقبالیات کے علاوہ بیشتر ناقدین نے غالب اور اقبال پر کثیر تعداد میں کتابیں لکھی ہیں۔ ان کے اشعار کی تشریحات ان کے فن رموز ونکات کا بیان مختلف پیرایوں میں کیا ہے۔ ڈاکٹر احمد نے خود اقبال کے تعلق سے دو کتابیں ’’اقبالیات کی وضاحتی کتابیات ‘‘ اور ’’اقبال کی عصری معنویت ‘‘ پر سیر حاصل مباحثہ کرکے ان کی عظمت کا اعتراف کیا ہے۔ اس کے باوجود غالب واقبال ہر زمانہ میں اس عصر کے معنوی اور علمیاتی حوالوں سے پڑھے جائیں گے، کیوںکہ ان کو تخلیقی فن اور علمی بنیادوں پر آفاقیت کا درجہ حاصل ہے اور آج مابعد جدید دور میں بھی ان کی پرواز زماں ومکاں کی قیود سے آزاد ہوکر ایک لامتناہی سفر کی جانب گامزن ہے۔موصوف کے نزدیک جس عہد میں فنکار کی ذہنی پرداخت ہوتی ہے، اس عہد کے تاریخی پس منظرکو جاننا ضروری ہے۔اس لئے یہ لازمی ہے کہ غالب کے فکر وفن کا احتسابی جائزہ لیتے وقت اس زمانے کے تاریخی، سماجی اور سیاسی حالات سے واقف کارہونا چاہئے۔ ’دلی جو دیار عیش‘ تھا اس کو ’جائے مقتل‘ میں تبدیل ہونے کے وہ چشم دید گواہ تھے۔ اس لئے ان کی شاعری مناظر شاداں وحرماں کا شاخسانہ ہے۔ ان کی غزلیات میں زبان وبیان کا تخلیقی اور تمثیلی استعمال ملتا ہے۔ کثرت سے استفہامیہ انداز اور اظہار میں ڈرامائی کیفیت ملتی ہے۔غالب کے یہاں الفاظ کی نشست وبرخاست کا خاص اہتمام، احتیاط کے ساتھ ملتا ہے۔ ان کے یہاں متوازن اور مترنم انسلاکی برتائوفنکارانہ انداز میں موجود ہے۔ انہوںنے اردو شاعری کے کردار، اصلاحات اور روایات کو نئے معنی عطا کیے۔ انسانی تجربات اور معاشرتی شعور کو بڑے ہی فنکارانہ انداز میں شعری پیکر میں ڈھالا ہے۔

اقبال کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے وقت خصوصی طور سے علامہ اقبال کی ڈائری کو مرکز نگاہ بنایاہے۔ اقبال نے اپنی ڈائری میں نابغۂ روزگار شخصیات کے متعلق اظہار خیال کیا ہے۔ یہی سبب ہے کہ ڈاکٹر مشتاق احمد فرماتے ہیں:

’’علامہ اقبال کی ہمہ جہت شخصیت اور ان کے افکار ونظریات تک رسائی حاصل کرنے کے لئے صرف ان کا شعری اثاثہ کافی نہیں ہے بلکہ ان کے نثری کارناموں جن میں ان کے مکتوبات، لکچرز، ڈائری ، تقاریر ، تاثرات وغیرہ کا بھی مطالعہ ضروری ہے۔‘‘     

(طناب نقد، صفحہ- 18)

اقبال ایک کثیر المطالعہ شاعر ہی نہیں، نثر نگار بھی تھے۔اس نوعیت سے بھی ان کی قدر وقیمت کا تعین ہونا ضروری ہے۔ انہوںنے مشرقی ومغربی علوم وفنون کا ہی مطالعہ نہیں کیا حکمت، طب، فلسفہ، معاشیات، اقتصادیات، سیاسیات اور تہذیب وتمدن پر بھی ان کو بے حد معلومات تھی۔ معاشیات کا مطالعہ کرنے والوں کے لئے اقبال کی تصنیف ’علم الاقتصادیات‘ کی معنویت آج بھی برقرار ہے۔ اقبال کثیر السان شخصیت تھے، عربی، فارسی، انگریزی کے علاوہ دیگر زبانوں سے بھی ان کو واقفیت تھی۔ ان کا تاریخی مطالعہ بھی بہت وسیع تھا ۔ موصوف فرماتے ہیں:

’’وہ بین علومی مطالعہ کے دلدادہ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے افکار ونظریات بحر ذخار کی حیثیت رکھتے ہیں اور اس کا عکس ان کی شاعری اور نثری تحریروں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔‘‘     

(طناب نقد، ص -23)
دبستان عظیم آباد کا اردو ادب کی خدمات میں وہی کردار رہا ہے جو دبستان دہلی اور لکھنؤ کا تاریخ میں رہا ہے۔ بقول ڈاکٹر صاحب مذکورہ اسکول کی شاعری اپنے دور آغاز سے ہی موضوع واسلوب اور فن کے اعتبار سے منفرد رہی ہے، ساتھ ہی افکار واظہار میں متنوع اور بوقلمونی کا احساس کراتی رہی ہے۔ زیر نظر کتاب میں مشمولہ مضمون ’کلیم عاجز کی غزلوں کی قوس وقزح ‘ بھی دبستان عظیم آباد سے وابستہ ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے مذکورہ مضمون میں اس حقیقت کو واضح کیا ہے کہ کلیم عاجز کی اہم ترین خصوصیت یہ ہے کہ انہوںنے شعری اظہار کے لئے دبستان عظیم آباد کی زبان کو ہی سند جانا ہے۔ کلیم عاجز کی شاعری دل اور روح کی شاعری ہے۔ عام خیال ہے کہ انہوںنے اپنی غزلیہ شاعری کے لئے میرؔ کا لب ولہجہ اختیار کیا لیکن اپنی شاعری میں اپنی لفظیات کی شناخت برقرار رکھی۔ کلیم عاجز کی غزل میں عشق حقیقی اور عشق مزاجی دونوں کا اظہار ہوا ہے۔

’’کیف عظیم آبادی کی پرکیف شاعری‘‘ نے دبستان عظیم آباد کی شعری روایت کو نہ صرف استحکام بخشا بلکہ کلاسیکی غزل سے انہوںنے خاصا استفادہ کیا اور اساتذہ کی زمینوں میں غزلیں کہہ کر اپنے مخصوص لہجے کی بدولت شعر کے معنی وآہنگ دونوں میں ایک طرح کی شگفتگی اور دلکشی پیدا کردی۔ انہوںنے اردو غزل کا خمیر ’’قدیم لفظیات سے تیار کیا۔ انہوںنے اپنے دکھ درد کے ساتھ عام آدمی کے دکھ درد کو شامل کرکے ’غم ذات کو غم جہاں‘ بنا دیا۔مذکورہ مضمون میں موصوف نے مغربی ادب میں جان ڈانؔ اور مشرقی ادب میں ودیاپتیؔ اور نظیرؔ اکبر آبادی کے حوالے سے نقادوں کے جانبدار رویوں کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ’’کیف عظیم آبادی اگر ان گروہ بند نقادوں کی نگاہوں سے اوجھل رہے ہیں تو یہ ان کے حق میں ناانصافی نہیں کہ وقت انصاف پسند ہوتا ہے۔‘‘

 ’’ذکی احمد: شخص اور شاعر‘‘مضمون میں ڈاکٹر مشتاق احمد نے ذکی احمد کے شخصی حوالے سے ان کی شاعری کا جائزہ لیا ہے۔ سوانح حیات اور ان کی شخصیت کے مختلف پہلوئوں کی جانب اشارے کئے ہیں۔ بقول موصوف:

’’ذکی احمد کے سرمائے فکر کے مطالعے سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ ان کا تاریخی شعور بہت پختہ ہے۔ مطالعہ کائنات ان کا شیوہ ہے، دنیاوی مکر وفریب کے وہ کبھی دلدادہ نہیں ہوئے‘‘۔
 آگے فرماتے ہیں:

 ’’کسی تخلیقی فنکار کو اس کی تمام تر نفسی پیچیدگی اور کرداری تضادات کے ساتھ سمجھنا آسان نہیں کیوں کہ وسیلۂ تعلیم وتفہیم صرف تخلیقی سرمایہ ہوتا ہے‘‘۔

 یہاں اس امر کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے کہ ذکی احمد تنقید کے کسی مکتبہ فکر کے حامی نہیں بلکہ وہ فطری شاعر تھے اور تخلیقی عمل کے لئے آزادی کے قائل نظر آتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ ان کے یہاں موضوعات کا تنوع اور خیالات میں ہم آہنگی ملتی ہے۔ وہ بنیادی طور پر نظم کے شاعر ہیں لیکن غزل بھی اس کی تمام تر لوازمات کا خیال کرتے ہوئے کہی ہے۔ انہوںنے حزنیہ لب ولہجہ میں زندگی کے نشیب وفراز بیان کیے ہیں، محض حسن وعشق اور قلبی واردات کا اظہار کرنے پر اکتفا نہیں کیا۔ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں، انہوںنے موضوع کو برتنے اور مطالب کے اظہار وابلاغ کے نئے وسیلے اختیار کیے ہیں اور یہی ان کی انفرادیت ہے۔ مذکورہ مضمون میں نہ صرف ذکی کی غزل گوئی کے امکانات پر روشنی ڈالی گئی ہے بلکہ ان کی نظم گوئی پر بھی مختصر جامع اظہار کیا ہے جن میں ان کی نظمیں ’’میرے دشمن ‘’کسی کی یاد‘’دلجوئی‘ ’آئینہ‘ ’کمال صبر انساں‘ ’عشق‘ ’مسلم آوارہ وطن‘ ’تشنہ لبی‘ عید کے بعد‘ تنہائی ‘‘ اور ’غفلت‘ وغیرہ کا تجزیاتی مطالعہ کرتے ہوئے ان کی فنکارانہ صلاحیتوں کا اعتراف کیا ہے۔

ڈاکٹر احمدنے اپنے ایک مضمون ’عصری حسیت کا فنکار: سلطان اختر‘ میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے کہ وہ اس قبیل کے فنکار ہیں جنہوںنے عصر کو اپنی فکر ونظر کا محور ومرکز بنایا ہے۔نتیجتاً ان کی غزلیں عصری حسیت کی آئینہ دار بن گئی ہیں۔   60؁ء کی دہائی میں جدیدیت جو ترقی پسند تحریک کی صورت میں ملی، فطری تقاضے کے تحت سلطان اختر بھی بدلتے وقت اور متغیر حالات کے ساتھ بدلے۔ چونکہ ادب انسان کے فکر ونظر کا تخلیقی وسیلہ اظہار ہوتا ہے، شعوری طور پر ان کی غزلوں میں جدیدیت کے آثار نمایاں ہوئے لیکن جدید طرز احساس کے ساتھ انہوںنے کلاسیکیت سے بھی استفادہ کیا۔ سلطان اختر نے علامتوں کے ذریعے الفاظ کو وسیع المعانی بنانے کی کوششیں کیں۔ نئے نئے تجربے بھی کیے لیکن اپنی غزلیہ شاعری کو چیستاں نہیں ہونے دیا، جیسا کہ جدیدیت کا طرہ امتیاز رہا ہے۔بقول موصوف:

’’ موضوع اور طرز اسلوب دنوں اعتبار سے غزل کو سنبھالے رکھا اور یہی انفرادیت سلطان اختر کو اپنے ہم عصروں میں ممتاز کرتی ہے‘‘۔

عہد حاضر میں اردو شاعری کو جن شعراء نے جدید وقدیم لفظیات کا امتزاج بنایا ہے اور نئی معنیاتی لہروں سے روشناس کرایا ہے، ان میں رفیع الدین رازؔ نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ایسا انہوںنے مذکورہ تصنیف کے مشمولہ مضمون ’رفیع الدین رازؔ کا سخن سرمایہ ‘میں کیا ہے۔ ان کی شاعری کو مہجری سخن سرمایہ کے زمرہ میں شامل کرسکتے ہیں۔ واضح ہوکہ رفیع الدین راز نے اپنی آنکھیں سرزمین بہار (ہندوستان) میں کھولیں لیکن پاکستان میں ہجرت کرنے کے بعد وہ زندگی کے تلخ تجربات اور عمیق مشاہدات سے ہمکنار ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری ہو کہ نثری سرمایہ، ہر جگہ ان کی انفرادیت نمایاں رہتی ہے لیکن فکری جوہر غزلیہ شاعری میں آئینہ دار ہے ، دم توڑتی ہوئی انسانیت کی آہ وبکا کی عکاس ہے، اخلاقی اقدار کی شکست وریخت کی ترجمان ہے، وہ نہ صرف زندگی کے گہرے نقوش نمایاں کرتی ہے بلکہ المیہ زیست کے لئے مداوا فراہم کرتی ہے، بقول پروفیسر سحر انصاری:

’’۔۔۔۔ زندگی کے مانوس مشاہدوں اور تجربوں کی اپنی جانی پہچانی زبان میں اس طرح لکھتے ہیں کہ ایک انوکھا پن اور ایک قسم کی ندرت پیدا ہوجاتی ہے۔‘‘   

(فلیپ سخن سرمایہ)

ڈاکٹر مشتاق احمد کا نظریہ ہے کہ رازؔ کی شاعری عالمی تناظر کی عکاس ہے اور جدید وقدیم غزلیہ فضا سے ہمکنار ہے۔ان کی شاعری اپنے منفرد لب ولہجے کی توانائی اور فکری بصیرت وبصارت سے لبریز ہے۔ انہوں نے شاعری کے فنی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے الفاظ کی نشست وبرخاست کا اہتمام بڑی ہنرمندی سے کیا ہے۔ موصوف کا ایک مضمون ’’بہار میں جدید اردو غزل‘‘ ایک بھرپور مضمون ہے جس میں انہوںنے بہار کے تقریباً ’’سب ہی جدید اردو غزل گو شعرا کو سرسری طور سے سمیٹ لیا ہے۔
جدید غزل کے باب میں شادؔ عظیم آبادی نے اپنی غزل کو نہ صرف وسعتِ تخیل عطا کی ہے بلکہ اسلوب میں بھی نمایاں جدت پیدا کی ہے۔ موصوف نے ان کی غزلیہ شاعری کو ہم عصروں سے قدرے مختلف بتایا ہے۔ جمیل مظہری نے نئے رجحانات کی دنیا کی سیر کرائی اور کلاسیکیت سے بھی دامن کش نہیں ہوئے۔ مظہر امام نے جہان غزل میں ایک نئی صنف ’آزاد غزل‘ کی ایجاد کی۔ پرویز شاہدی نے روایتی غزل میں نئے خیالات کی دنیا آباد کی، حالانکہ پرویز شاہدی کا شمار ترقی پسند شعراء میں ہوتا ہے لیکن انہوںنے اپنی فکری توانائی سے اس تحریک کو استحکام بخشا۔ اس عہد میں بہار کی جدید غزلیہ شاعری کے منظر نامے پر وفا ملک پوری، فرحت قادری ابھرے اور اپنی فکر تازہ سے اپنے ہم عصروں کو چونکانے میں کامیاب ہوئے۔

جدید غزل کی تاریخ میں کلیم عاجز، پرکاش فکری، لطف الرحمن، علیم اللہ حالی، حسن نعیم، سلطان اختر اور صدیق مجیبی نے اپنے جدید فکر ونظر اور اسلوب کی تازگی سے نام درج کرائے۔ مذکورہ سب ہی شاعر تفصیلی جائزہ کے مستحق ہیں، خصوصی طور سے صدیق مجیبی بھی اپنی غزلیہ شاعری کی وجہ سے معتبر ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے تقریباً سب ہی شعراء کے شعری حوالوں سے جدید غزل پر مدلل بحث کی ہے۔ ان کے نزدیک کلیم عاجز مسلک میر کے معتقد ہیں۔ ان کے یہاں کلاسیکیت اور جدیدت کا بہترین سنگم دکھائی دیتا ہے۔ غزل کو حسن تغزل بخشا اور احساس وشعور کی نئی دنیا عطا کی۔ بہار کے جدید غزل گو شعراء میں حسن نعیم اور سلطان اختر کو قدرے زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ ان دونوں شعراء نے غزل کی روح میں اتر کر اپنی دنیا آباد کی۔ جس دور میں ناصر کاظمی، ظفر اقبال، اطہر نفیس، ساقی فاروقی اور شکیب جلالی کی دھوم تھی، حسن نعیم نے اپنے منفرد لب ولہجہ سے اپنی پہچان بنائی۔ انہوںنے جدید غزل کی روایت کو نہ صرف وسعت دی بلکہ غزل کی اپنی تہذیب میں رہ کر اپنی شناخت قائم کی۔سلطان اختر نے نئی غزل کو نئے اسلوب اور نئے موضوع سے روشناس کرانے میں کامیابی حاصل کی۔ موصوف کا خیال ہے کہ انہوںنے معنوی تہہ داری اور فکری ندرت کو کمال بخشا۔ اس طرح ان کی غزلیہ شاعری نیرنگیٔ زیست کی آئینہ دار بن گئی۔ یہ تمام شعراء 1971؁ کے آس پاس غزل کی دنیا میں وارد ہوئے۔

تاج پیامیؔ، مناظر عاشق ہرگانوی، شکیب ایازؔ، ارمان نجمیؔ، رفیع الدین راز، منصور عمر، منیر سیفی، شادب رضی، ناشاد اورنگ آبادی وغیرہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ اگرچہ ان شعرا کا شعری سفر جدید رجحانات کی آمد سے پہلے ہوچکا تھا اور کلاسیکیت کو فروغ دینے والوں میں ان شعرا کا شمار ہوتا ہے لیکن صحرائے جدید غزل میں بھی ان کی آوازیں دور سے پہچانی جاسکتی ہیں۔ 80؁ کے بعد کے شعرا خورشید اکبر، عالم خورشید، نعمان شوق، جمال اویسی، راشد طراز، کوثر مظہری، طارق متین، خالد عبادی، شاہد اختر وغیرہ جدید غزل کے افق پر نمودار ہوئے۔ ان شعرا نے جدیدیت کی زمین اور مابعد جدیدیت کی آب وہوا میں اپنے فکر نو کی دنیا آباد کی ہے۔

’’مثنوی درِّ شاہوار: ایک تنقیدی جائزہ‘‘ دراصل تنقیدی جائزہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک تحقیقی نوعیت کا مضمون بھی ہے۔ بہادر شاہ ظفر کے خلاف انگریزوں کے غیر انسانی سلوک کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں ملے گی۔ مغلیہ سلطنت کی حکومت ختم ہونے کے بعد لال قلعہ کا کارواں تنکوں کی طرح بکھر گیا تھا۔ انہیں بکھرے ہوئے تنکوں میں ایک شہزادہ زبیرالدین بھی تھا جس کو مرزا رئیس بخت کا خطاب ملا تھا۔ مرزا دارا بخش جانشین مرزا بہادر شاہ ظفر ثانی کے صاحبزادے تھے۔ لال قلعہ چھوڑنے کے بعد ہندوستان کے مختلف مقامات پر انہیں پناہ لینی پڑی۔ کسمپرسی کی حالت میں کافی عرصہ بنارس میں بھی رہے۔ حسن اتفاق کہ شہزادہ اپنے کسی کرم فرما سے ملنے بھاگلپور آئے ۔ ڈاکٹر مشتاق احمد کی تحقیق کے مطابق 1881؁ میں مہاراجہ لکشمیور سنگھ کے برادرحقیقی رامیشور سنگھ کے ذریعہ ان سے ملاقات ہوئی۔ مہاراجہ نے محلہ قاضی محمد عظیم ، دربھنگہ میں ان کے لئے ایک بنگلہ تعمیر کرادیا اور ان کو ڈیڑھ سو روپئے ماہانہ وظیفہ مقرر فرمایا۔ شاہزادہ نے اپنی زندگی کے آخری ایام اپنے خاندان کے ساتھ یہیں گزارے۔ دربھنگہ میں 7اگست 1910ء کو ان کا انتقال ہوا۔ اندازے کے مطابق ان کی پیدائش 1845؁ کے آس پاس بتائی جاتی ہے۔ اس طرح ان کی عمر لگ بھگ 65 سال تھی۔
شاہزادہ زبیرالدین ایک پختہ ذہن شاعر تھے۔ ان کا ایک دیوان ’چمنستانِ سخن‘ اور مثنوی ’درِّ شاہوار‘ مطبوعہ ہیں۔ وہ ایک عمدہ نثر نگار بھی تھے۔ ان کی نثری تاریخ’ موج سلطانی‘ ہے جس میں انہوںنے مغل خاندان کی تاریخ لکھی ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے اردو مثنوی کی تاریخ پر ہلکی سی روشنی ڈالتے ہوئے اپنے مضمون میں افسوس کا اظہار کیا ہے کہ اردو میں ایسی کوئی مثنوی نہیں ہے جسے فارسی میں فردوسیؔ کے ’شاہنامہ‘یا سنسکرت میں بالمیکی کی ’رامائن‘ کے مقابلے میں رکھا جاسکے۔ شاہزادہ زبیرالدین کی مثنوی ’در شاہوار‘ اردو کی دیگر مثنویوں سے قدرے مختلف ہے۔ یہ مثنوی کسی ایک قصہ پر مشتمل نہیں ہے بلکہ اس میں عشقیہ اشعار بھی ہیں جن میں بیگم نور جہاں اور شہزادہ سلیم کی عشقیہ داستان بیان کی گئی ہے۔ مثنوی میں علی قلی خان کی شجاعت، شہنشاہ اکبر کی موت اور پھر شیر افگن کا احوال بڑے دلچسپ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔اس کے بعد شاہ جہاں کی تخت نشینی، ان کے مشاغل، قلعہ دہلی کے روزوشب کی داستان کو شاعری کے قالب میں پیش کیا گیا۔ اورنگ زیب عالمگیر کا دکن حیدرآباد پر قابص ہونا اور گولکنڈہ کو فتح کرنے کی تاریخ کو شعری قالب میں ڈھالا گیا ہے۔ مثنوی کا آغاز روایتی طور پر حمد سے ہوا ہے، نعت کے بعد، منقبت، پھر منثوی کی وجہ تصنیف بیان کی گئی ہے۔

اس طرح مذکورہ مثنوی میں تاریخی واقعات کا بیانیہ ہے۔ شاعر نے اخلاقی اسباق بھی پیش کیے ہیں اور اپنی بے بسی اور بے کسی کا بیان بھی کیا ہے۔ موصوف نے مذکورہ مثنوی کو اعلی شاعری کا نمونہ قرار دیتے ہوئے مثنوی کی تاریخ میں اس مثنوی کا ذکر نہ ملنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

ڈاکٹر مشتاق احمد نے اپنی تصنیف ’طناب نقد‘ میں شعر وسخن کے متعلق 9مضامین قلمبند کیے ہیں اور باقی 5مضامین نثری اصناف پر ترتیب دئیے ہیں۔ ان میں سے ایک مضمون بعنوان ’قاضی عبدالودود کا نظریہ تحقیقی وتخلیق‘ پر مبنی ہے جس میں نظریہ تخلیق ان کے اپنے رسالہ ’معیار‘ کے حوالے سے شعری اصناف خصوصی طور سے غزلیات نثری تخلیقات بالخصوص افسانہ اور تراجم کے تعلق سے واضح طور سے بیان کیاہے۔ قاضی عبدالودو، کلیم الدین احمد کی طرح تخلیق اور تحقیق وتنقید کے سلسلے میں مشرقی پیمانۂ تحقیق اور معیار تنقید سے مطمئن نہیں تھے۔ تحقیق کے متعلق جس انداز میں قاضی عبدالودود نے اپنی رائے قائم کی کہ اردو میں جو تحقیقی کارنامے انجام دیئے جارہے ہیںوہ مغربی معیار تحقیق کی بات چھوڑئیے مشرقی پیمانہ تحقیق پر بھی پورے نہیں اترتے۔ بقول ڈاکٹر مشتاق احمد ، قاضی عبدالودود نے جو میزان تحقیق وتنقید وضع کئے وہ ہمارے گلے سے نہیں اترتی جبکہ پروفیسر کلیم الدین احمد قاضی عبدالودود کے تحقیقی رویے کے قائل نظر آتے ہیں۔ دونوں ہی حضرات کو مشرقی ومغربی علوم میں درک حاصل تھا۔ وقیع المطالعہ اور وسیع النظر تھے اور اردو تحقیق وتنقید کو ایک اعلی مقام تک پہنچانے کے لئے کوشاں تھے۔

قاضی عبدالودود کی نظر کلاسیکی ادب پر زیادہ تھی۔ اپنے ہم عصروں کی بھی انہی تخلیقات کو اپنی فکر ونظر کا محور ومرکز بنایا جن کا تعلق کلاسیکی ادب سے تھا۔ کلیم الدین احمد کی طرح امتیاز علی عرشی، مالک رام اور ڈاکٹر یوسف حسین نہ صرف ان کے بارے میں مثبت رائے رکھتے ہیں بلکہ افسوس کہ ان کے معیار تحقیق وتنقید کے معترف بھی تھے۔ ڈاکٹر مشتاق احمد نے ان کی حمایت کرتے ہوئے فرمایا ہے،’’جو معیار قاضی عبدالودود نے عطا کیا وہی جامعاتی تحقیق کے لئے مشکل راہ ثابت ہوئی۔ یہی سبب ہے کہ حالیہ تین دہائیوں میں کوئی ایسی جامعاتی تحقیق سامنے نہیں آئی جس پر فخر کیا جاسکے۔‘‘ قاضی عبدالودود اپنے زمانے کے تخلیقی ادب سے غیر مطمئن نظر آتے ہیں۔ انہوںنے رسالہ ’معیار‘ میں شاعری اور افسانے کا معیار پست ہونے کے بارہا اشارے کئے ہیں اور اعلانیہ طور سے پرہیز برتنے کی کوشش کی ہے۔ وہ جدید شعرا اور افسانہ نگار کی تخلیقات کو کبھی خاطر میں نہیں لائے۔ وہ غزل کی پاکیزگی اور عصری حسیت کے قائل تھے۔ وہ ہم عصر شعرا نے جس طرح پیش پاافتادہ مضامین کو باندھا اس سے غزل کی پاکیزگی مجروح ہورہی تھی۔ ان کا نظریہ تخلیق یہ تھا کہ تخلیق اپنے عہد کی ترجمان ہو اور اس میں زندگی کی حرارت پیدا کرنے کی قوت ہو۔ وہ ادب کو معاشرے کی اصلاح کا ضامن تصور کرتے تھے اور بالخصوص تخلیقی ادب کو انسانی فلاح وبہبود کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ تحقیق وتنقید میں حق گوئی قائل تھے۔ بقول ڈاکٹر مشتاق احمد، ’’انہوںنے جس طرح اردو تحقیق وتنقید کو مغرب کے تحقیقی وتنقیدی شعور سے آشنا کیا۔ اسی طرح تخلیقی ادب کو بھی مشرقی تہذیب اور مغربی سائنٹیفک نظریے کا عکاس بنانا چاہتے تھے۔‘‘ ’معیار ‘ میں جتنے افسانے شائع ہوئے ہیں ان کے معیار سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی نثری تخلیقی بصیرت و بصارت کس قدر گہرائی وگیرائی رکھتی ہے۔تراجم میں بھی وہ تخلیق کے اخلاقی معیار اور صحت مند فکر ونظر کے وکیل تھے۔قاضی عبدالودود کا تحقیق وتنقید میں اسلوب رواں دواں ہوتا تھا لیکن حق کی تلخی بہرحال اس میں رہتی تھی۔ ان کے نزدیک تحقیق ہو یا تنقید اس کی اصل ’’متن‘‘ ہوتی تھی اس لئے تنقیدی میزان پر متن کی خوبیوں اور خرابیوں پر نظر ڈالتے تھے۔ صاف گوئی ان کی عادت تھی کیوں کہ وہ کسی نظریاتی گروہ کے پیروکار نہیں تھے۔ بقول ڈاکٹر مشتاق احمد :

’’قاضی عبدالودود نے اردو تحقیق کو باضابطہ مطالعے کا موضوع بنانے کی روش عام کی اور متن شناسی کی نئی جہت کی طرف متوجہ کیا۔‘‘

ڈاکٹر مشتاق احمد کا مضمون ’انیسویں صدی کے اہم سفر نامے‘ اس اعتبار سے بہت اہم ہے کہ انہوںنے بطور صنف سفرناموں کی ضرورت اور اہمیت کی وضاحت کی ہے۔ اس کی اردو ادب میں شروعات اور ارتقا پذیری پر توجہ دی۔ ابھی تک صنفیات کی کتابوں میں اس کا ذکر نہ ہونے کے برابر ہے یا یوں کہہ لیجئے کہ صنف کی حیثیت سے اس کو درجہ حاصل نہیں ہے جبکہ سفرنامہ کو نثری حیثیت کے درجے کا اعزاز ملنا چاہئے۔ باضابطہ اور باقاعدہ صنفیات میں اس کی شمولیت ضروری ہے۔ آج ترقی یافتہ دور میں قدیم زمانے کے مقابلے میں بیرونی ممالک سفر کرنے کا رواج عام ہوگیا ہے۔ واپسی پر سفرنامہ لکھنے والوں کی تعداد میں اضافہ بھی ہوا ہے۔ موصوف کا مضمون اس نوعیت سے خاصہ کی چیز ہے کہ شعوری وغیر شعوری طور سے اس کی فنی اہمیت اور ادب میں قدر وقیمت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ آپ نے مغرب میں لکھے گئے سفرناموں کے حوالوں سے ادب میں سفر کے تقاضوں اور اس کی ضرورتوں کا بھی ذکر کیا ہے:

’’انسان کو جوںجوں آمد ورفت کی سہولت میسر ہوئی دنیا کی حدیں سمٹیں اور سفر کی مشکلات کم ہوتی چلی گئیں۔ چنانچہ انسان جو فطرتاً ’جام جم‘ میں دنیا دیکھنے کا متمنی تھا وہ اپنے جغرافیائی حدود سے باہر نکل کر نئی دنیا سے آشنا ہونے کی جدوجہد میں منہمک ہوگیا‘‘۔     

  (طناب نقد، صفحہ- 113) 
دوسرے ممالک کے ادب وعلوم کے مطالعے، سیر وسفر کے حقائق، جغرافیائی حالات، موسمیات اور آب وہوا کا ذکر، مشاہدے کا رجحان، ثقافتی وتہذیبی جانکاری، سیاسی واقتصادی افکار، حفظان صحت وماحولیات، فنون لطیفہ، بین الاقوامی تعلقات، ترقی یافتہ ممالک کی سائنس اور ٹیکنالوجی سے استفادہ کا رجحان بڑھا ہے۔ جدید دور میں ان تمام رجحانات کے فروع پانے کے لئے بیرونی ممالک کا سفر کرنے اور واپسی پر سفر نامے لکھنے والوں کی تعداد میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ اس سے سفرناموں کی ضرورت واہمیت کا اندازہ آسانی سے لگایا جاسکتا ہے۔ میرے خیال میں ڈاکٹر صاحب نے سفرنامہ کی بطور صنف جو تعریف متعین کی ہے وہ مندرجہ ذیل ہے:

’’سفر نامہ، جائے سفر کے حقائق کو ضبط تحریر میں لانے کا عمل ہے۔ ایک سیاح شعوری یا لاشعوری طور پر جن معاشرتی، تہذیبی، ثقافتی، تاریخی پس منظر سے متاثر ہوتا ہے ان تمام باطنی کوائف کو اپنے قوت مشاہدہ کی بدولت تحریری صورت عطا کرتا ہے‘‘۔       

 (طناب نقد، صفحہ- 114)
موصوف آگے مغربی حوالوں سے بات کرتے ہیںکہ ہیرو ڈوٹس جسے عالمی ادب میں اولین سفرنامہ نگار تسلیم کیا جاتا ہے، اس نے حقائق کو فنکارانہ انداز میں پیش کرنے کی شرط لگائی ہے۔ ژینو فون(Xenophon) نے اپی کتاب ’Anabasis‘ میں سفرنامے کو ایک تاریخی اور سماجی دستاویز قرار دیا ہے۔

انسانی معاشرے میں سفرنامہ کی اہمیت وافادیت شروع سے رہی ہے۔ دنیا کے تمام مذاہب کے فروغ اور اشاعت کے لئے سفر ایک ذریعہ رہاہے۔ قرآن مقدس میں زمین پر پھیل جانے کی ہدایت، اُپنیشد میں مکمل انسان ہونے کے لئے سفر کی لازمیت اور عیسائیت میں سفر کو ’Path to the Universe‘ قرار دینا اس بات کی دلیل ہے۔ جین اور بدھ کا فروغ چین، جاپان اور دیگر ممالک میں جو ہواوہ بھکشوئوں اور واعظوں کے سفر کرنے کی وجہ سے ہوا۔ اس طرح سفرنامہ کی مذہبی اعتبار سے بھی اہمیت ہے۔مذکورہ مضمون میں سفرناموں پر تفصیل کے ساتھ گفتگو کی گئی ہے جس میں اس کے ارتقا سے لے کر انیسویں صدی کے اہم سفرناموں پر تنقیدی نگاہ سے جائزہ لیا گیا ہے اور ان کی حقیقت وافادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ انیسویں صدی کے سفرناموں کے مطالعے سے ہی اس عہد کی عالمی معاشرت، سیاسی کشمکش، جدید ایجادات، سماجی ومذہبی تحریکات اور جدید علوم وفنون کی دنیا سے آگاہی ہوتی ہے۔

ایک مضمون ’ذوقی کے ناولوں کا مختصر جائزہ‘ ہے۔ مذکورہ کتاب کا ’انیسویں صدی کے اہم سفرنامے‘ جو بائیس صفحات پر مشتمل ہے، کے بعد سب سے زیادہ طویل مضمون جو میرے پیش نظر ہے جس میں ذوقی کے ناولوں کا بڑی صراحت اور وضاحت کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔میرے نزدیک اس کی تین وجوہات ہوسکتی ہیں۔ ایک تو ناول کا کینوس وسیع ہوتا ہے، دوسرے ذوقی نے بہت لکھا اور خوب لکھا، تیسری وجہ مصنف کی اپنی ذاتی پسند کا بھی معاملہ ہے۔ اس میں فنی بنیاد کے علاوہ معاملہ داری اور تعلقات کی نوعیت بھی ممکن ہوسکتی ہے۔ خیر وجہ جو بھی ہو، ذوقی کا فن فکشن نگاری طویل مباحثہ اور صریح اظہار کا مستحق بھی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے نزدیک 80 کے بعد کی ناول نگاری کا جائزہ لیں تو قرۃ العین حیدر کی طرح صرف ایک شخصیت نظر آتی ہے جس نے یکسوئی کے ساتھ ناول نگاری کے لئے وقف کر رکھا ہے، وہ نام مشرف عالم ذوقی کا ہے۔ ’عقاب کی آنکھیں، نیلام گھر، لمحہ آئندہ، شہر چپ ہے، ذبح، مسلمان، بیان، پوکے مان کی دنیا، پروفیسر ایس کی عجب داستان، وایا سنامی، لے سانس بھی آہستہ‘۔ آگے بڑھیں تو ’آتش رفتہ کا سراغ‘ اور ایک اور نیا ناول ’اردو ‘ بزم سہارا میں قسط وار شائع ہوا۔

عام طور سے اردو فنکاروں کے موضوعات صرف اردو معاشرہ، تہذیبوں کا زوال اور ہندوستان میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کی حد تک محدود ہیں۔ خود ذوقی نے بھی ان موضوعات پر لکھا ہے۔ اس کے علاوہ ذوقی ایسے قلم کار ہیں جن کی نگاہ دور تک جاتی ہے۔ ان کے یہاں موضوعات کا تنوع، فکر کی گہرائی اور اسلوب کی روانی انہیں اپنے ہم عصروں سے الگ کرتی ہے۔ ’’لے سانس بھی آہستہ‘‘ صرف ہندوستان کی کہانی نہیں بلکہ اس میں گلوبل فکر بھی موجود ہے جہاں تہذیبیں اپنا رنگ بدل رہی ہیں اور ان تہذیبوں کے درمیان ایک طرف قدرت کا جبر ہے تو دوسری طرف انسان کی سیاست۔ ’’پوکے مان کی دنیا‘‘ میں نئی دنیا کے کمپوٹر ذہن کے ننھے منے بچوں کی عجیب وغریب حرکات وسکنات جن دیکھ کر انسان دنگ رہ جائے اور خوف ستانے لگے کہ آخر یہ کائنات آئندہ کہاں ٹھہرے گی۔’’پروفیسر ایس کی عجب داستان‘‘ میں انسانی جدوجہد کی کہانی ملتی ہے جو قدرت کے آگے بے بس ومجبور ہے۔ ناول ’’عقاب کی آنکھیں‘‘ جو مصنف نے اپنی سترہ سال کی عمر میں لکھا لیکن شائع کافی عرصہ کے بعد ہوا۔ اس ناول سے ہی فن کے تئیں ان کی دلچسپی کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ ’’نیلام گھر‘‘ ان بنیاد پرست مسلمانوں کی کہانی ہے جو اپنے خول سے باہر نکلنا نہیں چاہتے جبکہ باہر کی دنیا بہت حد تک بدل چکی ہے۔ زبان وبیان کی غلطیوں کے باوجود ایک بیس سالہ مصنف کے اس ناول کو بڑے ناول میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ 

موصوف کو ’شہر چپ ہے‘ پڑھتے ہوئے قرۃ العین حیدر کے ناولٹ ’’سیتا ہرن‘‘ کی یاد تازہ ہوتی ہے جو ایک اہم ناول ہونے کی دلیل ہے۔ ’ذبح‘ کی کہانی عبدل سقہ کے اردگرد گھومتی ہے جو مختلف سوالات پیش کرتی ہے جس میں اقلیتوں کے مسائل پر غور وخوض کیا گیا ہے۔ ناول ’مسلمان‘ تقسیم کے المیے کی کہانی بیان کرتا ہے۔ تقسیم کے اثرات، فسادات، مسلمانوں میں خوف وانتشارکے ماحول کو موضوع بنایا گیا ہے۔ ’پوکے مان کی دنیا‘ نئی دنیا اور نئی تہذیب کی کہانی ہے جو ادب عالیہ کا شاہکار ہونے پر ناقدین اور مشاہیر ادب بھی متفق الرائے ہیں۔ ’لے سانس بھی آہستہ‘ تہذیبوں کے عروج وزوال کی کہانی ہے جہاں اخلاقیات کی فرسودگی کو بحث کا موضوع بنایا گیا ہے۔ مشرف عالم ذوقی کا ناول ’آتش رفتہ کا سراغ‘ آزادی کے بعد کے مسلمانوں کی درد انگیز داستان ہے۔ ڈاکٹر مشتاق احمد کے نزدیک ’لے سانس بھی آہستہ‘ اور’ آتش رفتہ کا سراغ‘ اردو کے بڑے ناولوں کی فہرست میں شمار کیے جانے کے قابل ہیں جن کا موازنہ عالمی ادب کے ناولوں سے کیا جاسکتا ہے، بلکہ یہ ناول مغرب میں لکھے جانے والے ناولوں سے بھی آگے ہیں ۔

ڈاکٹر مشتاق احمد کا ایک مختصر مضمون ’ہندوستانی جمالیات کے رمزشناس: شکیل الرحمن‘ بہت اہم اور جامعیت کے اعتبار سے قابل مطالعہ ہے۔ پروفیسر شکیل الرحمن کو فلسفہ جمالیات کے حوالے سے ہمیشہ یاد کیا جائے گا۔ اردو میں جمالیاتی تنقید کی روایت ابتدا ہی سے موجود رہی ہے اور اس سچائی سے کوئی صاحب علم وادب انکار نہیں کرسکتا لیکن شکیل الرحمن نے جمالیاتی تنقید کو ایک نئی جہت سے آشنا کیا۔ اسے باضابطہ ایک نظریہ فکر کا درجہ دیا اور ادب کے شعبہ تنقید میں مطالعہ جمالیات کے واضح نقوش ثبت کیئے ہیں۔ وہ کثیر المطالعہ اور کثیر التصانیف شخصیت کے حامل تھے۔ ضروری نہیں ہے کہ ہرکثیر المطالعہ شخص کثیر التصانیف بھی ہو۔ اردو زبان وادب کی ہر صنف میں انہوںنے کارنامے انجام دیئے ہیں۔ آپ تخلیقی فنکار بھی تھے اور نقاد بھی۔ شروع میں ناول نویسی کی طرف رجحان ہوا اور افسانہ نگاری سے بھی ان کو لگائو تھا لیکن اصل میدان تنقید نگاری تھا، خصوصی طور سے جمالیات ان کا مرغوب موضوع تھا۔بقول ڈاکٹر مشتاق احمد :

’’اگر پروفیسر شکیل الرحمن ہمیں ہندوستانی جمالیات سے آشنا نہیں کراتے تو ہم اپنی دراوڑی تہذیب وتمدن کے ان گوشوں تک رسائی حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے، جہاں تک انہوںنے پہنچایا ہے‘‘۔

 ہندوستانی فنون لطیفہ کی جمالیاتی جہتوں کو جس انداز میں وہ سمجھ رہے تھے ان کے ہم عصروں میں کوئی ان کے مقابل نہیں تھا۔ وہ ادب برائے زندگی کے قائل تھے جس کا اندازہ ان کی تنقیدی تصنیفات کے مطالعے سے ہوتا ہے۔ ’ادب اور نفسیات، جدید شاعری کے نئے چراغ، ادبی قدریں اور نفسیات، اقبال روشنی کی جمالیات، اقبال اور فنون لطیفہ اور دست فکر (تنقیدی مضامین کا مجموعہ) ‘ میں بھی انہوںنے اپنے نظریہ زیست اور نظریہ ادب کی وضاحت کی ہے۔ ان کی تصانیف کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ ان کا تنقیدی وژن اور تصور ہندوستانی صنمیات کا ہے اور افکار ونظریات کا محور ومرکز جمالیات رہا ہے، بالخصوص اساطیر کی جمالیات ان کے لئے خاص مطالعہ کی چیز رہی ہے۔ پروفیسر شکیل الرحمن ہندوستانی تہذیب وتمدن کے دلدادہ ہیں ۔ بقول ڈاکٹر مشتاق احمد:

’’ان کی نگاہ میں جمالیاتی سروکار کے بغیر کسی مہذب سماج کی تشکیل ممکن نہیں اور سماج کے بغیر فنون لطیفہ کا وجود ناممکن ہے‘‘

پروفیسر شکیل الرحمن نے اردو ادب کے بیشتر فنکاروں کا مطالعہ جمالیات کی قوس وقزح میں کیا ہے۔ وہ چاہے مولانا رومی، حافظ شیرازی، کبیر، نظیر، قلی قطب شاہ، مرزا غالب، فراق، فیض، مجتبیٰ حسین، امیر خسرو، اخترالایمان، اقبال ہوں یا ابوالکلام آزاد، یہاں تک کہ پریم چند، منٹو سب کے سب جمالیاتی نقوش کے شاعر وفنکار ہیں۔ اس کے علاوہ انہوںنے مختلف جمالیات کے منابع کا گہرا مطالعہ کیا جیسے اساطیر کی جمالیات، تصوف کی جمالیات، کلاسیکی مثنوی کی جمالیات، ہند مغل جمالیات، ہندوستانی جمالیات، قرآن حکیم کی جمالیات بلکہ اس کو جمالیات کا سرچشمہ قرار دیا ہے۔ شکیل الرحمن اپنی کتاب ’ہندوستانی جمالیات‘ جلد دوم، صفحہ 45 پر رقم طراز ہیں:

’’انسان ہی کلچر کی تخلیق کرتا ہے، لہٰذا ہر کلچر کا انسانی کردار ہی اہمیت رکھتا ہے۔ کردار کتنا پراسرار، کتنا متحرک اور مختلف قسم کی شعاعوں کو خلق کرنے والا ہے، کلچر متحرک فطرت سے ہی جانا جاسکتا ہے۔ کلچر انسان کی تخلیقی صلاحیتوں کا ہی مظہر ہے، لہٰذا خالق سے علاحدہ اس کا کوئی تصور پیدا نہیں ہوسکتا اور اس کا بنیادی موضوع تو انسان ہی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کلچر عمدہ انسانی قدروں کا گہوارہ ہوتا ہے‘‘۔

ڈاکٹر مشتاق احمد نے مضمون کے اختتام پر تصور تہذیب، صنمیات اور اساطیر کی طرف توجہ دینے کا اصرار کیا ہے تاکہ شکیل الرحمن کی جمالیاتی فکر ونظر کی ازسرنو تحدید ہوسکے۔ چونکہ شکیل الرحمن کی جمالیاتی دنیا مطالعہ تہذیب وتمدن اور مطالعہ صنمیات سے آباد ہے۔ آج بھی قدیم ترین اساطیری قصے کہانیاں عوامی احساس اور انسانی جذبہ کو بیدار کرنے کی پوری قوت رکھتے ہیں اور یہی کہانیاں عقیدوں کے خوبصورت پیکروں میں ڈھل کر فنون لطیفہ کی تاریخ کا حصہ بنی ہیں۔

’طناب نقد‘ کا آخری مضمون ’اردو صحافت اور علاقائی رسائل وجرائد‘ (دربھنگے میں اردو صحافت کے حوالے سے) ایک مختصر لیکن بہت مقتدر مضمون ہے۔ اس حقیقت سے ہر شخص واقف ہے کہ اردو کا پہلا اخبار ’جام جہاں نما‘ اشاعت 1822ء کا مالک بنگالی ہندو ہری ہردت ، ایڈیٹر لالہ سدا سکھ اور پرنٹر ولیم ہوپ کنگ تھے۔ بھلے ہی یہ اخبار ہندوستانیوں کے ذہن ودل کو روشن کرنے کیلئے جاری نہیں کیا گیا تھا بلکہ ایسٹ انڈیا نے اپنے تجارتی مفاد میں اسے جاری کروایا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کے مقاصد پورے نہیں ہوئے اور پھر اس کو بند کردیا گیا لیکن ’جام جہاں نما‘ کی اس قلیل مدتی اشاعت ملک کے دیگر حصوں میں اردو اخبار کے لئے زمین تیار کردی تھی۔ شمالی ہند میں محمد باقر نے 1837ء میں اپنا اخبار ’دہلی اخبار‘ جاری کیا۔ اس کے بعد سید احمد خاں نے ’سید الاخبار‘ نکالا۔ ڈاکٹر طاہر مسعود نے اپنی تحقیقی کتاب ’اردو صحافت- انیسویں صدی میں‘ میں لکھا ہے کہ 1857ء کی جنگ آزادی کی آگ نہ بھڑکتی تو یہ دور اور طویل ہوسکتا تھا۔ اس دوران کم سے کم 121 اخبارات منظر عام پر آگئے تھے۔
اردو صحافت کے تعلق سے مختصر جائزہ ہے جہاں تک بہار میں اردو صحافت کا تعلق ہے تو پہلا اردو اخبار ’نورالانوار‘ 1853ء میں آرہ میں شروع ہوا۔ اس کے بعد ’ہرکارہ پٹنہ‘ کی اشاعت 1855ء سے ہوئی۔ بہار کا اردو روزنامہ بھی ’ دینی بہار‘ آرہ سے ہی 1876ء میں شائع ہوا۔ ڈاکٹر سید احمد قادری نے جناب این کمار کی کتاب ’جرنلزم ان بہار‘ کے حوالے سے ثابت کیا ہے کہ بہار میں صحافت کی داغ بیل اردو اخبار سے ہوئی۔

مذکورہ مضمون کا تعلق دربھنگہ کی اردو صحافت سے ہے۔ سولہویں اور سترہویں صدی میں ’ہندوستانی‘ یعنی اردو کا چلن اتنا عام ہوگیا تھا کہ یہاں کی علاقائی زبان ’میتھلی‘ کو اثر انداز کرنے لگی۔ اٹھارہویں صدی کے آس پاس دربھنگہ فارسی اور اردو کا ایک اہم مرکز بن گیا۔ یہاں سے اردو ہفتہ وار ’مسیحا‘ 1902ء میں حکیم ابوالحسنات نے شروع کیا۔ دو سال کی اشاعت کے بعد وہ بند ہوگیا، اس میں علاقائی خبروں کے ساتھ ساتھ دہلی کی سرگرمیاں اور طبی مضامین جگہ پاتے تھے۔ مضمون کے آخر میں موصوف فرماتے ہیں کہ اردو صحافت کی تاریخ کو جامع اور وقیع بنانے کے لئے یہ لازمی ہے کہ علاقائی صحافت کی تاریخی صحافت کو تسلیم کیا جائے۔ کیوںکہ علاقائی رسائل وجرائد میں نہ صرف زبان وادب کے خزانے دستیاب ہیں بلکہ سماجی، سیاسی، مذہبی، تہذیبی اور ثقافتی مطالعہ کے لئے نئے سراغ کا پتہ دیتے ہیں۔

جیسا کہ میں گزشتہ اوراق میں عرض کرچکا ہوں کہ ڈاکٹر مشتاق احمد کسی گروہ سے وابستہ ہیں نہ ہی کسی رجحان یا تنقیدی فکر ونظر کے حامی ہیں اور نہ ہی کسی مکتبہ نگاہ کی عینک چڑھا کر فن پارہ کی ناپ تول کے حامی ہیں۔ بلکہ براہ راست تخلیق کی قرأت کرکے اپنی رائے قائم کرتے ہیں۔ وہ تخلیق کے حق میں فیصلہ صادر کرنے کے بھی عادی نہیں جس طرح تخلیق آزادی کا استعارہ ہے اسی طرح تنقیدی رویہ بھی آزادانہ رائے دینے کا عمل ہے۔ ویسے بھی یہ قاری اساس زمانہ ہے، ہر قاری اپنے شعور وادراک کی روشنی میں فن پارہ کو پڑھتا ہے اور اس کے معنی و مفاہیم کھوجتا ہے۔ بھلے ہی ایسی رایوں کو آپ تاثراتی تنقید کے زمرہ میں شامل کریں یا اسے عملی تنقید کی فہرست میں درج کریں۔ تنقید کے سلسلے میں ان کا واضح نظریہ ہے جو انہوںنے ’طناب نقد‘ کے فلیپ پر بیان کیا ہے:

’’تنقید کے متعلق میرا واضح نظریہ ہے کہ تخلیق کے متعلق کوئی نقاد حتمی فیصلہ نہیں دے سکتا کیوںکہ ایک تخلیق کار کا تصور حیات اور ایک نقاد کا تصور زیست کبھی یکساں نہیں ہوسکتا۔ پھر تخلیق کار یا فنکار کے احساسات وجذبات اور مشاہدات وتجربات کی گہرائی وگیرائی تک رسائی حاصل کرنے میں مختلف ناقدین ادب کے میزان نقد بھی الگ الگ ہوسکتے ہیں‘‘۔

 تنقید اور تخلیق کا فرق بیان کرتے ہوئے موصوف فرماتے ہیں:
’’مرحلہ تحقیق میں یہ گنجائش نہیں رہتی کہ محقق قیاس آرائی سے کام لے، جبکہ نقاد کو یہ آزادی حاصل ہوتی ہے کہ وہ کسی تخلیق کا احتسابی جائزہ لیتے وقت اپنی علمی وادبی بصیرت وبصارت کی بنیاد پر فیصلہ کرے اور اپنے تنقیدی شعور کا اظہار کرے‘‘۔


*************************


 

Comments


Login

You are Visitor Number : 54