donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Tajziyati Mutalya
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Shamim Qasmi
Title :
   Syed Aashoor Kazmi : Fun Aur Fankar


سید عاشور کاظمی: فن اورفن کار


شمیم قاسمی


اس میں شک نہیں کہ عصری اردو تنقید میں گاہے بہ گاہے ڈاکٹر اعجاز علی ارشد اپنی تازہ کار فکر کے بلند آہنگ اظہار کی بناپراپنے ہم عصروں کے درمیان اپنی انفرادی پہچان بنانے میںنمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ارشدکا طریقہ نقد بڑاسائنٹفک ہوتا ہے اور کسی بھی طرح کی مصلحت پسندی اورگروہ بندی وتعصبات سے پاک بھی۔ ہاں، ان کی تنقید میں ایک خاص قسم کی اپنائیت اورلہجے میں بے تکلفانہ پن ضرور ہوتا ہے۔یہی سبب ہے کہ ان کی بیشتر تحریریں readableہوجاتی ہیں۔ اس کی ایک بنیادی وجہ تویہ بھی ہے کہ انہوںنے میدان تنقید کوکبھی خطٔ عراق نہیںسمجھا کہ رائے عامہ لئے بغیر اپنی بے جاصلاحیت اورSuper powerہونے کے زعم میں اپنا تنقیدی اسکڈ میزائل داغتے پھریں ۔ یوں ادب و شعرکے انسانیت پسند منظرنامہ کو لہولہان کردیں اوربزرگوں کے کارو افکار پرتھوکیں۔ ان کی پگڑیاں اچھالیں اورنازیبا الفاظ سے نوازیں - دراصل میںیہ کہنا چاہ رہاتھا کہ جب کسی فن کار کی شخصیت اوراس کا فن کوئی اکھاڑہ کامیدان نہیں توپھر کیوںہمارے چند مخصوص تنقیدی بابا لوگ، خود کوباکسر راک اورداراسنگھ پہلوان ثابت کرنے کے زعم میں اپنے ذاتی مفاد، سستی شہرت کی خاطر سطحی جذباتیت اورکبھی کبھی ناآسودہ ذہن کولمحاتی تسکین کیلئے عملی تنقید پراترآتے ہیں۔ (دیکھئے احمد ہمیش کا تشکیل نمبر۔ ۴۹) ادب نواز جانتے ہیں کہ کسی فن پارہ یا فن کار کی شخصیت پر ایک تنقیدی نظر تو حد درجہ توازن، نیک نیتی اورسنجیدگی چاہتی ہے۔ گالی گلوج اورذاتیات پراترآنے کانام ادب یا تنقید نہیں۔

زیر مطالعہ کتاب’’ سید عاشور کاظمی : فن اورفنکار(ڈاکٹر اعجاز علی ارشد) بلاشبہ قارئین سے سنجیدہ مطالعہ کی طلب گارہے۔ یوں بھی ڈاکٹر ارشد کے خوش فکر اورشعور آشنا تنقیدی رویے نے اس کتاب کو قابل مطالعہ بنادیا ہے۔ اس میں جو موضوعی تنوع اوراسلوب کی تازگی ہے وہ پرتاثر اوردیرپا ہے۔ صاحب کتاب اپنے پیش رو تنقیدی نظریات سے بآسانی اثرات قبول نہیں کرتے بلکہ جو کچھ پڑھا، دیکھااور محسوس کیا ان سب کااپنے طور پراور ادب کے دائرہ میں رہتے ہوئے اوربغیر کسی لاگ لپیٹ کے اظہار کرنے کے عادی ہیں۔ کسی فن کار کی شخصیت اور اسکے ادبی سرمایوں کی قدر وقیمت کاتعین کرنے کاہنر ڈاکٹرارشد کوخوب آتا ہے۔ سب سے پہلے تو وہ فن کار کے اندرون میں جھانک کر اس کی شخصیت کوترتیب دینے والے مختلف عناصر کا باریک بینی سے مطالعہ کرتے ہیں اور تب جاکر کسی فن کارکے ادبی قدو قامت کے تشکیلی پہلوئوں پربے تکلفی سے روشنی ڈالتے ہیں کچھ اس طرح کہ تمام مثبت ومنفی پیکر ازخود اجاگر ہوجائیں۔ یوں وہ اپنے تنقیدی نصب العین کی وضاحت میں خاصے کامیاب نظر آتے ہیں۔


نفیس کاغذ اورمضبوط جلد بندی والی زیر مطالعہ کتاب ۱۳۶ صفحات پر مشتمل ہے  جس کے باب اول میں عاشورکاظمی کی شخصیت (پیدائش ۱۰؍ فروری ۱۹۳۳ء بستی فریدپور ضلع پانی پت ، ہندستان میں ہوئی ۔ صد افسوس کہ ۶؍جون۲۰۱۰ء کو برطانیہ میں اپنے مالک حقیقی سے جاملے ۔ یوں علم وادب کا آفتاب وماہتاب ہم سے رخصت ہوگیا) دوم میں ان کی شاعری اور باب سوم میں ان کی اردونثر نگاری کاایک بھرپور اورپرتاثر تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ عاشور اردوکی نئی بستی کے ایک اہم شاعر اور صاحب طرز نثرنگارہی نہیں بلکہ ادب و شعرکے حوالے سے عصر حاضرکے یزیدی لشکر سے ہر لمحہ نبر دآزما بھی ہیں۔ عاشور کی ذاتی اور ادبی شخصیت کامطالعہ کرنے کے بعد اس کاشدت سے احساس ہوتا ہے کہ موصوف نے اپنے تخلیقی سفرمیں دل اور دماغ بیک وقت دونوں سے کام لیا ہے یہی وجہ ہے کہ انکایہ ادبی سفر اعتدال پسند ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ دل اور دماغ کے درمیان آج بھی ایک جنگ جاری ہے اوریہی جنگ ان کے اپنے وجود کی ضامن بھی ہے۔ انہوںنے مختلف اصناف اد پر طبع آزمائی کی ہے اورتازہ دم ہوتے رہے ہیں۔ بہرحال انہوںنے ادب و شعر میں اپنی ایک ممتاز آواز نکال لی ہے۔ جس کی بازگشت زیر مطالعہ کتاب کے قیمتی اوراق پر جابہ جا محسوس کی جاسکتی ہے ۔ ان کی اس آوازمیں محبت بھی ہے عقیدت بھی، درد کے نغمے بھی ہیں، جھرنوں کاترنم بھی۔ انہیں سماجی زندگی کا شعور اور عالمی مسائل کاگہرا ادراک بھی ہے۔ وہ کبھی خالص مذہبی نظر آتے ہیں تو کبھی مارکسی۔ دراصل زندگی کے نشیب و فراز سے گزرتے اورموج حوادث کے تھپیڑے کھاکھا کر عاشور کاظمی نے اپنی نجی اورشعری شخصیت کو نکھارنے اورسنوارنے کاہنر سیکھ لیا ہے۔ ان کا ادبی سفرکبھی بے سروسامانی کاشکارنہیں رہا۔ منزل مقصود تک پہنچناانہیں خوب آتا ہے۔ ان کے پابرہنہ تلوئوں نے سنگریزوں کی چبھن کوبھی سہا ہے اور مخملی گھاس کا گدگدی بھرا لمس بھی محسوس کیا ہے۔ ان کی ابتدائی شاعری میں جوش اور فیض کے بھی اثرات ملتے ہیں۔ جوش کی مشہور نظم’’ حسین اورانقلاب‘‘ کومدنظر رکھتے ہوئے عاشورکاظمی کے عقیدت مندانہ کلام پر نظر ڈالئے تومحسوس ہوگاکہ انہوں نے سانحہ کربلا کوایک نئی جہت اورایک اچھوتی معنویت دی ہے اوربقول ڈاکٹراعجاز علی ارشد ان کے عقیدت مندانہ کلام کا یہ وصف قابل توجہ ہے کہ انہوںنے سانحہ کربلا کو احتجاج عمل اور ترقی پسندی کااستعارہ بنادیا ہے۔ بظاہر یہ بات حیرت انگیز معلوم ہوتی ہے کہ مارکسی طرز فکر رکھنے والا کوئی شاعر حسین کوانقلاب کی بہترین علامت تصور کرے مگر غورکیجئے توحسینیت اور ترقی پسندی میںکوئی بیر نہیں۔‘‘ خود عاشور کاماننا ہے کہ ہمارامذہب سے کوئی ٹکرائو نہیں۔ ہم مذہب کے ماننے والوں کو اس سے باز رہنے کی تلقین بھی نہیں کرتے اور کسی مذہب کی تبلیغ بھی نہیںکرتے‘‘۔ اس میں شبہ نہیں کہ عاشور کے شعری افکار صحت مندانہ شعور کے حامل ہیں کہ فکری آزادی انہیںمحبوب ہے۔ ان کانظرحیات ترقی پسند تو ضرورہے لیکن شدت پسند یا One way trafficنہیں۔ عاشور کاظمی کی شاعری میں اسلامی فکر و تلمیحات کی زریں لہروں کو محسوس کیاجاسکتاہے۔ مذہبی قدروں سے حد درجہ ذہنی وابستگی ، احترام اور خوف خدا سے ان کا دل لبریز ہے ساتھ ہی عصری مسائل سے بھرپور آشناان کی بے چینی اور اضطراب ذہنی کو سمجھنے کے لئے عاشور کے متعدد شعری مجموعوں سے براہ راست رجوع کیا جاسکتاہے۔ جدید مرثیہ گوئی میں بھی ان کا مخصوص مقام ومرتبہ ہے۔ بقول پروفیسر وہاب اشرفی’’ یوں تو عاشورکاظمی ایک ترقی پسند ہیں لیکن ان کی نگارشات کا مطالعہ کیجئے تو اندازہ ہوگا کہ مذہبی قدریں ان کی فکر کی اساس ہیں۔ ‘‘

 بہتر ہوگاکہ یہاں پر بطور نمونہ دو شعر درج کرتا چلوں   ؎

غیر اللہ سے جو رزق ملے
اہل دل اس کو بھیک کہتے ہیں

تو ہی رازق ہے اور فقط تجھ کو
وحدہٗ لاشریک کہتے ہیں

عاشور کی شعری دنیا عصری زندگی کی دھوپ چھائوں ، روحانی انتشار اور اعلیٰ قدروں کی شکست و ریخت سے مربوط ہے۔ یہاںہمیں نظرانداز نہیں کرنا چاہئے کہ سانحہ کربلا ان کے تخلیقی سفر کا ایک پاورفل استعارہ بن گیا ہے۔ اسی لئے عاشورکی شاعرانہ پرواز کو اسی تناظرمیں پرکھنا زیادہ بامعنی ہوگا۔ بطورنمونہ چند اشعار دیکھئے اورمحسوس کیجئے   ؎

جل رہے ہیں گھر زباںپر نعرۂ اصنام ہے
یاعلی شہر کراچی ہے کہ ارض شام ہے

برچھیوں کی نوک پر اعلان حق شیوہ مرا
فکر کے خیمے جلانا آپ کا منشور ہے

سورج سے ہے خراج کی طالب سپاہ شام
کیاپھر یزید شب کوکہیں سروری ملی

دل کر رہا تھا غیرت انساں کا احتساب
پیش نگاہ شام کا بازار آگیا

صاحب نظر ہیں کون یزیدان عصر کون؟
یکساں ہیں سب جبہ و دستار دیکھنا

عاشور کاظمی بے مقصد زندگی اوراس کی دربدری کو کبھی ہجرت نہیں مانتے ۔ لفظ’’ہجرت‘‘ ان کی نگاہ میں بڑامقدس اورمحبوب ہے۔ مندرجہ ذیل شعرمیںانہوںنے ہجرت کو ایک وسیع مفہوم اور ایک نئی جہت سے روشناس کرایاہے   ؎

تلاش رزق میں ترک وطن ہے دربدری
 اگر اصول ہوں پیش نظرتو ہجرت ہے

عاشور کی شاعری کاتجزیہ کرتے ہوئے بہت آسانی سے یہ کہاجاسکتاہے کہ ان کے شعری لب ولہجہ میں سطحی جذباتیت کی کوئی گنجائش نہیں اورنہ ہی سڑک چھاپ نعروں کی احتجاجی گونج بلکہ دورسے آتی ہوئی کسی پرسوز لے کاگمان ضرورہوتا ہے ایک ایسی لے کا جو کسی مہذب مہمان کی آمد پر دروازہ دل کی پہلی دستک سے پیدا ہوتی ہے۔جس میں ایک ٹھہرائو اور بلاوے کااضطراب بھی پنہاں رہتاہے   ؎

 کتنے سناٹے مری آواز کے دشمن ہوئے
کتنے ہنگامے مری خاموش گویائی میںتھے

یوں توعاشور کاظمی کبھی کسی گروپ بندی کا شکارنہیں رہے اورناہی کسی مخصوص نثری صنف تک محدود۔ انہوںنے خاکے بھی لکھے مضامین بھی، افسانوی دنیا کی بھی سیر کی اورمیدان تحقیقی وتنقید کے ریگزاروں کی بھی خاک چھانی ان سب کااحاطہ کرتے اور باب سوم میں عاشور کاظمی کی پرمغز اور شگفتہ نثر نگاری پر روشنی ڈالتے ہوئے صاحب کتاب نے ان کی مختلف نثری کتابوں کا جائزہ لیا ہے اور یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ ’’عاشور کاظمی کی شخصیت اوران کے عقائد و نظریات کا بھرپور اورمکمل ترین اظہار ان کی نثری تخلیقات میں ہواہے۔ ‘‘ راقم الحروف کاصاحب کتاب کے اس خیال سے پورا اتفاق نہیں کہ پیش نظر جو عاشور کی شعری کائنات لہلہارہی ہے وہ بڑی ثمرور ہے اس میں ان کا منفرد شعری ڈکشن چھپائے نہیں چھپتا اورجو ان کی نثر نگاری پر حاوی ہے۔ کاش کہ ان کاکوئی شعری مجموعہ میرے مطالعہ میں ہوتا۔ بہرحال ان کی غزلوں کے مٹھی بھر اشعارہی میرے اس خیال کوتوانائی بخش رہے ہیں ۔ میرا توایسا بھی مانناہے   ؎

کب نثر سے ہاری غزل
ہے نظم پر بھاری غزل

زیر مطالعہ کتاب کی روشنی میں عاشور کاظمی کے فکر وفن بطورخاص ان کی غزلوں کے حوالے سے ان کے شاعرانہ مرتبہ پرکھل کر گفتگو کی جاسکتی ہے اور جس کا رخ  (آپ چاہیں تو)ایک نئے ادبی ڈسکورس کی طرف موڑ اجاسکتاہے۔


 

ماہنامہ بہار،پٹنہ:۲۰۰۵


******************************

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 408