rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Tareekhi Paare
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Ghaus Siwani
Title :
   Netaji Subhash Chander Bose Ke Nazariyat Ko Qatal Hone Se Bachaiye


نیتاجی سبھا ش چندر بوس کے نظریات کو قتل ہونے سے بچائیے


تحریر: غوث سیوانی ،نئی دہلی


    سنگھ پریوار اچانک نیتاجی سبھاش چند بوس کا ہمدرد کیوں بن گیا ہے؟ آج کل ہندتوادیوں نے ان کی تصویروں پر پھول چڑھانا کیوں شروع کردیا ہے؟ کیا وزیر اعظم نریندر مودی کو واقعی ان سے عقیدت ہے؟ کیا وہ نیتاجی کے نظریات کو مانتے ہیں،اسی لئے نیتاجی کے اہل خاندان بی جے پی میں شامل ہورہے ہیں؟ سچ پوچھا جائے تو نیتاجی سبھاش چند بوس کی روح تڑپ رہی ہوگی جب اسے یہ احساس ہوتا ہوگا کہ ان کے اہل خاندان ہی ان کے نظریات کا قتل کر رہے ہیں۔ وہ ایک ایسی پارٹی میں شامل ہورہے ہیں جس کے خیالات سبھاش چندر بوس سے مختلف تھے۔ بوس جس ہندتو کے سب سے بڑے مخالف تھے، آج اسی ہندوادی پارٹی کے ممبر بن گئے ہیں ان کے پڑپوتے چند کمار بوس اور اس خاندان کے دیگر لوگ بھی وزیراعظم سے قربت کا بہانہ ڈھونڈ رہے ہیں۔ میڈیا میں خبر آئی کہ چندر کمار بوس پچھلے دنوں بی جے پی میں شامل ہو گئے۔ وہ بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ کی موجودگی میں ہوڑہ (مغربی بنگال)کی ایک پارٹی ریلی کے دوران بی جے پی میں شامل ہوئے۔چندر کمار بوس، نیتا جی سبھاش چندر بوس کے بڑے بھائی شرت چندر بوس کے پوتے ہیں۔شاہ نے یہاں ایک جلسہ عام میں ’’بھارت ماتا کی جے‘‘ کے نعروں کے بیچ بوس کو بی جے پی کا پرچم تھمایا۔ پچپن سالہ چندر بوس ’’دی اوپن پلیٹ فارم فار نیتا جی‘‘ نامی تنظیم کے کنوینر ہیں۔اس پلیٹ فارم سے نیتا جی کے لواحقین جڑے ہوئے ہیں۔یہ فورم نیتا جی سے منسلک فائلوں کو عام کرنے کو لے کر دہائیوں سے مہم چلا رہا ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے جب نیتاجی کے تعلق سے فائلیں جاری کی تھیں اس وقت بھی وہ موجود تھے اور مودی حکومت کے اس قدم کا خیر مقدم کیا تھا۔ فائلوں کو عام کرنے کو لے کر چندر کمار کئی بار وزیر اعظم سے ملے تھے۔ وہ نیتا جی کے معاملے میں خاندان کے ترجمان بھی ہیں۔ خبروں کے مطابق، انہیں مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں پارٹی کا امیدوار بنایا جا سکتا ہے۔ اس بارے میں چندر کمار نے کہا کہ انتخاب لڑنے کا فیصلہ پارٹی کو لینا ہے۔ بوس نے کانگریس دور حکومت میں کچھ فائلوں کو خارج کئے جانے کا بھی الزام لگایا تھا۔ اسی بنیاد پر انہوں نے مودی حکومت سے روس، جرمنی، برطانیہ اور امریکہ سے نیتا جی سے منسلک فائلوں کوعام کرانے کی درخواست کی تھی۔

قومی ہیروز کو ہائی جیک کرنے کی کوشش

    بی جے پی میں جواہرلعل نہرو کے نواسے ورون گاندھی اوراندرا گاندھی کی بہومنیکا گاندھی پہلے سے ہیں اور اب اس نے نیتاجی سبھاش چند بوس کے پڑپوتے کو بھی شامل کرلیا ہے۔وہ ان خاندانوں کے لوگوں کو جوڑنے میں لگی ہے جن کا جنگ آزادی میں نمایاں رول رہاہے۔سنگھ پریوار کے پاس کوئی قومی ہیرو نہیں اور نہ قومی تحریک میں شامل ہونے کی کوئی تاریخ ہے،لہٰذا وہ ان قومی ہیروز پر بھی قبضہ کرنے میں لگا ہوا ہے جن کا ہندتو سے کوئی لینا دینا نہیں رہاہے۔ مہاراناپرتاپ اور شیواجی سے لے کر نیتاجی سبھا ش چند بوس اور سردار ولبھ بھائی پٹیل تک اس کے غیراخلاقی قبضے کا شکار ہوگئے ہیں۔ نہرو بمقابلہ سبھاش کا تنازعہ نہرو اور سبھاش کا نہیں بلکہ آر ایس ایس کا ہے جو کبھی سبھاش یا نہرو کے ساتھ نہیں رہا۔ پہلی بار مرکز میں ایسے لوگوں کو اکثریت ملی ہے جن کاقبیلہ کانگریسی نہیں ہے اور پہلی بار انتخابات ایسے لیڈروں کی قیادت میں ہوا ہے جو آزادی کے بعد پیدا ہوئے ہیں۔ یہ دونوں ہمارے نہیں نریندر مودی کے ہیں۔ انھوں نے لوک سبھا انتخابات کے نتائج کے ٹھیک بعد اسی دن گجرات کے دو مختلف جلسوں میں کہے تھے۔ یہ گویا مودی کی طرف سے آزادی کی تحریک کے اقدار کی وراثت سے انحراف کا اعلان تھا۔ اب حال ہی میں مرکزی حکومت نے نہرو بمقابلہ سبھاش کے تنازعہ کو ہوا دے کر تحریک آزادی کی اس وراثت کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ چونکہ ان کے پاس اپنے قومی ہیرو ہیں نہ قومی تحریک میں شرکت کا کوئی اتہاس لہٰذا وہ اس پرانی وراثت کو تباہ کرنے پر آمادہ ہیں۔ اسی مہم کے تحت نہرو کا فرضی خط سامنے لایا گیا ہے اور مودی حکومت نے ایک تنازعہ کو جنم دیا ہے۔ نہرو بمقابلہ سبھاش کا تنازعہ نہرو اور سبھاش کا نہیں بلکہ آر ایس ایس کا ہے جو کبھی سبھاش یا نہرو کے ساتھ نہیں رہا۔سنگھ پریوار کے لئے نیتا جی کو بھگوان بنا کر پوجنا اتنا ہی آسان ہے جیسے وہ فی الوقت امبیڈکر کو وشنو کا اوتار بنانے پر تلے ہوئے ہیں اور کانشی رام کو بھارت رتن دینے کی سوچ رہے ہیں۔ گزشتہ ۲۳جنوری کو نیتاجی کی جینتی آرایس ایس نے بھی منائی ۔ ان نیتاجی کی تصویروں پر پھول چڑھائے گئے جو ہمیشہ ہندتو کے خلاف رہے اور اسے ملک کے لئے سب سے بڑا خطرہ مانتے تھے۔

نہرو اور نیتاجی ہندتو کے خلاف تھے

    جواہر لال نہرو اور سبھاش چندر بوس دونوں سیکولر ،سوشلسٹ بھارت کاخواب دیکھتے تھے۔ دونوں بھارت کو آزاد کرانے کی جنگ میں اہم کردار میں تھے لیکن ان کے درمیان کچھ نظریاتی اختلافات بھی تھے۔اس اختلاف کے باوجود سیکولرزم اور سماج وادپر ان کے بیچ کوئی اختلاف نہیں تھا۔نیتاجی جہاں ایک طرف سامراجیت کے خلاف تھے، وہیں دووسری طرف ہندومہاسبھا کے نظریات کے بھی مخالف تھے۔ انھوں نے بنگال میں ہندومہاسبھا کو لگام دینے پر زور دیا تھا جو یہاں ہندووں اور مسلمانوں کے بیچ دنگے کرانے کی کوشش میں لگا تھا۔وہ سامراجیت اور سرمایہ دارانہ نظام سے بڑا خطرہ ہندتو کو مانتے تھے۔نیتا جی نے دو ٹوک الفاظ میں کہاتھا’’مسلمان ہمارے دشمن ہیں اور انگریز ہمارے دوست ہیں، یہ ذہنیت ہماری سمجھ سے باہر ہے۔‘‘

     نیتا جی نے بار بار مطالبہ کیا تھا کہ ملک کے تمام کمیونسٹ، سیکولر اور ڈیموکریٹک طاقتوں کا اتحاد بنا کر کانگریس، آزادی کا ہراول دستہ بنائے اور ہندوتو کی قیامت کے خلاف جم کر لوہا لیں۔نیتا جی کا ماننا تھا کہ مسلمانوں سے نفرت کی وجہ سے ملک تقسیم کرنے پر ہندوادی جماعتیں تلی ہیںاور کانگریس جان بوجھ کر ان قوتوں کی مددگار ہے۔ نیتا جی کاماننا تھا کہ ہندوتو سے ملک کا چپہ چپہ خطرے میں ہے جو آج بھی سب سے بڑی حقیقت ہے۔نیتاجی نے جو آزاد ہند فوج بنائی تھی وہ سیکولر خطوط پر بنائی گئی تھی اور اس میں بڑی تعداد مسلمانوں کی تھی۔ ان کی ایک جانب کرنل ڈھلوں اور کرنل سہگل ہوتے تھے تو دوسری طرف جنرل شہنواز ہوتے تھے۔اس خالص ہندوستانی فوج کا ہندوتو سے دور دور کا واسطہ نہیں تھا۔

نہرو اور نیتاجی کو لڑانے کی سازش

    آزادی کی جنگ میں گردن تو دور ناخن تک نہ کٹوانے والے آج سب سے بڑے محب وطن بن گئے ہیں اور لوگوں کو دیش بھکتی کا درس دے رہے ہیں۔ اس ملک کے لئے اس سے بڑی ستم ظریفی کی بات اور کیا ہو سکتی ہے؟ بات ان کے خود کے تمغے تک محدودہوتی تو کوئی بات نہیں تھی لیکن ان لوگوں نے تواب باقاعدہ حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ بھی باٹنا شروع کر دیا ہے۔ اس کے لئے انہوں نے نیتا جی سبھاش چندر بوس اور جواہر لال نہرو کو آمنے سامنے کیا ہے اور پھر دونوں کے درمیان فرضی طریقے سے درار پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔یہ سوال سنگھ پریوار سے ضرور پوچھا جانا چاہئے کہ جب نیتا جی ملک سے باہر رہ کر انگریزی حکومت کی چولیں ہلا رہے تھے اور نہرو کانگریس کی قیادت میں ہندو مسلم ایکتا کے نعرے لگارہے تھے تب یہ سنگھی کیا کر رہے تھے؟ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ شیاما پرساد مکھرجی اس وقت مسلم لیگ کے ساتھ مل کر انگریزوں کی سر پرستی میں بنگال میں حکومت چلا رہے تھے؟مسلم لیگ کے رہنما فضل حق صوبے کے وزیر اعلی تھے اور مکھرجی صاحب نائب وزیر اعلی۔اسی طرح سے سندھ اور شمال مغربی سرحدی صوبے (صوبہ سرحد) میں بھی اسی اتحاد کی حکومتیں تھیں۔ سندھ میں تو پہلے اللہ بخش کی حکومت تھی۔ اس سیکولر حکومت میں ہندو، مسلم اور سکھ سبھی شامل تھے لیکن انگریزوں کی مدد سے مسلم لیگ کے غنڈوں نے 1943 میں اللہ بخش کو قتل کر دیا پھر اس کے بعد سندھ میں مسلم لیگ اور ہندو مہاسبھا کے اتحاد کی مشترکہ حکومت بنی۔ اس وقت دائیں بازو خیمے کے سب سے بڑے لیڈرویر ساورکر نے اسے عملی سیاست کی ضرورت قرار دیا تھا۔ ساورکر اس وقت ہندو مہاسبھا کے صدر تھے۔ انگریزوں سے ان کی یاری یہیں تک محدود نہیں تھی۔ انگریزی فوج میں فوجیوں کی بھرتی کے لئے ہندو مہاسبھا اور اس کے سربراہ نے باقاعدہ جگہ جگہ بھرتی کیمپ لگوائے تھے پھر انہی جوانوں کو شمال مشرقی محاذ پر سبھاش چندر بوس کی قیادت والے فوجیوں کا سینہ چھلنی کرنے کے لئے بھیجا جاتا تھا۔ ساورکر نے تب کہا تھا کہ جاپان کی دوسری جنگ میں شامل ہونے سے ہم براہ راست برطانیہ کے دشمنوں کی زد میں آ گئے ہیں۔انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ہندو مہاسبھا کو خاص طور پر بنگال اور آسام کے ہندوؤں کو فوجی فورسز میں شامل ہونے کے لئے حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے۔اب غور کا مقام یہ ہے کہ جو ہندو وادی کل تک نیتاجی کی پیٹھ میں خنجر اتار رہے تھے، آج ان کی اولاد انھیں ہندووادیوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ یہ نیتاجی کے روح کے لئے ہی باعث تکلیف نہیں بلکہ ہر نیشنلسٹ ہندوستانی کے لئے باعث عار ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 191