donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Tareekhi Paare
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Ghaus Siwani
Title :
   Supreme Court Aur Aayin Par Bhari Bheerh Ki Dahshat


جمہوریت بمقابلہ’’ پدماوت‘‘
 
سپریم کورٹ اور آئین پر بھاری بھیڑ کی دہشت
 
تحریر: غوث سیوانی، نئی دہلی
 
ghaussiwani@gmail.com
Ghaus Siwani/Facebook
 
راجپوتی آن ،بان، شان کی کہانیاں ہم نے بہت سنی ہیں اور تاریخ کی کتابوں میں بھی بیان کی گئی ہیں۔ ان کہانیوں میں یقینا بہت سی سچی بھی ہونگی کیونکہ گزشتہ پانچ ہزار سال سے ہندوستان کے دفاع کی ذمہ داری راجپوتوں کے کندھوں پر ہی رہی ہے۔ شاستروں میں جنگ وجدال کرنا، حکومت کرنا چھتریوں کا کام بتایا گیا ہے جو برہما کے بازووں سے پیدا ہوئے ہیں۔ شاید اسی لئے آج بھی بھارت کی فوج میں ’’راجپوت رجمنٹ‘‘ ہے۔ راجپوتوں کی بہادری کی کہانیاں سن کر اور کتابوں میں ان کے جنگ وجدال کا حال پڑھ کرابھی حال تک ہمارا نظریہ تھا کہ راجپوت واقعی بہت دلیر وبہادر ہوتے ہیں، اسی لئے صرف بہادروں سے لڑتے ہیں۔ یہی بات سنجے لیلا بھنسالی کی فلم ‘‘پدماوت‘‘میں بھی بیان کی گئی ہے مگر حالیہ دنوں میں فلم پر راجپوتوں کے احتجاج کی کچھ تصویریں دیکھ کر ہمارا نظریہ بدل گیا ہے۔جس قوم نے تاریخ میں بڑے بڑے بہادروں کے دانٹ کھٹے کردیئے تھے اور عظیم الشان فوج رکھنے والے مغلوں کی راہ میں سدسکندری بن گئی تھی، وہ عام لوگوں کو خوفزدہ کرنے کا کام کیسے کر سکتی ہے؟ سڑکوں پر اتر کر مسافروں اور راہ گیروں کو تنگ کرنا، سنیماہالوں کے پوسٹر پھاڑنا، سنجے لیلا بھنسالی کی ماںکو گالی دینا،ایک فلمی اداکارہ کو ناک کاٹنے کی دھمکی دینا، بسوں میں توڑ پھوڑ کرنا اور اسکول بس پر پتھرائو کرکے معصوم بچوں کودہشت زدہ کرنا کسی بہادر قوم کا شیوہ نہیں ہوسکتا۔ راجپوتی شان کے تحفظ کے نام پر کرنی سینا کی حرکتوں کو دیکھ کر ہمیں فلم ’’شعلے‘‘ کا ایک ڈائیلاگ یاد آتا ہے’’گبر کا نام پورا مٹی میں ملادیا۔‘‘
 
جمہوریت بڑی یابھیڑ؟
 
کرنی سینا کے طوفان بدتمیزی اور کچھ راجپوت جانبازوں کی گیدڑ بھبکیوںکے باوجود فلم ’’پدماوت‘‘ ریلیز ہوگئی اور ہٹ بھی ہوگئی۔ فلم نے اب تک رکارڈ توڑ کمائی کی ہے مگر اسی کے ساتھ فلم دیکھنے آنے والے جوانوں، بوڑھوں، بچوں اور عورتوں پران ’’جانبازراجپوتوں‘‘ کا خوف بھی سوار ہے جو سنیماہالوں میں توڑ پھوڑ کر اپنی راجپوتی آن، بان، شان کا اظہار کرنے سے نہیں چوکتے۔ جب ان سے ہریانہ کے گڑ گائوں میں ایک اسکول کی بس نہیں بچی جس پرحملہ اور خوفزدہ حالت میں ننھے ننھے معصوم بچوں کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوچکا ہے، تو سینما کے ناظرین کیسے بچ سکتے ہیں؟ احتجاج کے نام پر دہشت پھیلانے کے پیچھے ملک کی کچھ بھگوا سرکاروں کا ہاتھ بھی کم نہیں ہے جو سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود آئین وقانون کی دھجیاں اڑتے دیکھ رہی ہیں۔اگر حکومت کی طرف سے امن وقانون کو بچانے کی کوشش کی جاتی تو ایسی صورت حال کبھی پیدا نہ ہوتی جیسی کہ ملک کی کئی ریاستوں میں دیکھنے کو ملیں۔ حکومت کی شہہ پر ہی ہنگامہ آرائی ہوئی ہے اور فلم کوگجرات،ہریانہ،  راجستھان، مدھیہ پردیش میں ریلیز ہونے سے روکا گیا ہے۔ یہاںسوال محض ایک فلم کا نہیں بلکہ جمہوریت اور آئین کے احترام کا ہے، ملک کی سب سے اونچی عدالت کے حکم کے نفاذکا ہے۔ملک دیکھ رہا ہے اور دنیا کی نظر بھارت پر ہے، جہاں احتجاجی بھیڑ کے سامنے آئین کو جھکانے کی کوشش ہورہی ہے۔ جب ایک فلم کو سنسر بورڈ اور سپریم کورٹ ریلیز کرنے کی اجازت دیتے ہیں تو بھیڑ کو کیسے حق مل جاتا ہے کہ وہ اسے روکے؟اور حکومت نے اسے ایسا کرنے کیسے دیا؟ حکومت کو پہلے ہی کرنی سینا کے دبائو میں نہیں آنا چاہئے تھا جس کے احتجاج کے بعد فلم میں کئی تبدیلیاں کی گئیں۔ یہاں تک کہ اس کا نام ’’پدماوتی‘‘ سے بدل کر ’’پدماوت‘‘ کردیا گیا۔ فلم کی ریلیز سے قبل ہی اس کا ایک گانا ’’گھومر‘‘ہٹ ہوچکا تھا مگراس میں بھی ترمیم کیا گیا۔ظاہر ہے کہ فلم کو دیکھنے اور اس میں ترمیم کا حق صرف سنسربورڈ کے پاس ہے مگر کرنی سینا کے احتجاج بعد حکومت کو جھکنا پڑا اور فلم میں کئی غیر ضروری کٹ لگانے پڑے۔ یہ بھیڑکے سامنے حکومت کے جھکنے کی ایک مثال ہے۔حالانکہ فلم ’’پدماوت ‘‘پر اعتراض کا کچھ سبب نہیں کیونکہ یہ محض ایک فکشن ہے۔
 
 ’’پدماوت ‘‘کیا ہے؟
 
فلم ’’پدماوتی‘‘ کی کہانی جس طویل اودھی نظم ’’پدماوت ‘‘ پر مشتمل ہے وہ اودھی ادب کی شاہکار ہے جسے مشہور صوفی شاعر ملک محمد جائسی نے لکھا تھا۔ اس رزمیہ داستان کو دوہا اور چوپائی کے فارم میں لکھا گیا ہے۔ مانا جاتا ہے کہ ’’پدماوت‘‘ 1597میں لکھی گئی تھی، جب شیر شاہ سوری بادشاہ کا زمانہ تھا۔یہی سبب ہے کہ ابتدامیں سوری کے لئے تعریفی کلمات ہیں۔سلطان خلجی کی موت 1316ء میں ہوچکی تھی یعنی یہ داستان تب لکھی گئی جب سلطان علاء الدین خلجی کی موت کولگ بھگ 281 سال گزر چکے تھے۔ حالانکہ اس کے بعد بھی اس کی اثر انگیزی قائم رہی اور مختلف لوگوں نے الگ الگ زبانوں میں اس کا بیان کیا۔ علاوہ ازیں اسے لوک کہانی کی حیثیت سے بھی شہرت حاصل رہی۔ بعض محققین کا خیال ہے کہ جائسی کے لکھنے سے قبل بھی یہ کہانی عام لوگوں کے بیچ مشہور تھی۔   
 
آدھی حقیقت، آدھا فسانہ
 
جائسی کی ’’پدماوت ‘‘کو نصف حقیقت کہہ سکتے ہیں کیونکہ اس کے بعض کردار حقیقی ہیں مگر اصل کہانی محض ایک افسانہ ہے۔ اس داستان کا ہیرو راجہ رتن سین ہے اور مرکزی کردار میں اس کی رانی پدمنی ہے۔ ر تن سین تاریخی شخص ہے، وہ چتوڑ (راجستھان)کا راجہ تھا ،پدماوتی یا پدمنی اس کی رانی تھی۔ بعض لوگوں کے مطابق یہ بھی ایک حقیقی کردار ہے۔ کہانی کا ولن سلطان علاء الدین خلجی ہے، جس نے ’’پدماوت‘‘ کے مطابق رانی کی خوبصورتی کی تعریف سن کر اسے حاصل کرنے کے لئے چتوڑ پر حملہ کردیا تھا۔چتوڑ پرحملہ کی بات بھی درست ہے مگر یہ سچ نہیں کہ رانی کو حاصل کرنے کے لئے یہ حملہ کیا گیا تھا۔ ’’پدماوت‘‘ کی کہانی یوں ہے کہ سنہال جزیرہ (سری لنکا) کے راجہ گاندھروسین، نے ایک طوطا پال رکھا تھا جس کا نام ہیرامن تھا۔ ایک دن، بلی کے حملہ سے بچنے کے لئے طوطا وہاں سے بھاگ نکلا اور اسے ایک بہیلیا نے پکڑ لیا۔بہیلیا سے ایک برہمن نے خریدا اور اس نے چتوڑ کے راجا رتن سنگھ راجپوت کو فروخت کردیا۔راجہ کو طوطے نے راجکماری پدمنی کے کمال خوبصورتی کے بارے میں بتایا جو کہ راجہ گھندھروسین کی بیٹی تھی۔راجہ رتن سین طوطے سے راجکماری کے حسن کا بیان سن کر اس پر غائبانہ طور پر عاشق ہوگیا اور اس کی تلاش میں سنہال کی طرف نکل پڑا۔ آخر کارجنگلوں اور سمندروں کی خاک چھانتے ہوئے وہ سنہال پہنچ گیا، جہاں ایک مندر میں اس کی پدمنی سے ملاقات ہوئی اور وہ اس کے عشق میں مدہوش ہوگیا مگر راجکماری نے اس کے دل پر چندن سے لکھ دیا کہ اسے رتن سین تب پا سکے گا جب وہ ’’سات آسمانوں‘‘ پر سوارہوکر آئے گا۔پدمنی کے باپ کو جب رتن سین کی آمد کی اطلاع ملی تو اس نے اسے گرفتار کرلیا اور سولی پرچڑھانے کا حکم دے دیا۔حالانکہ جب اسے پتہ چلا کہ رتن سین خود راجہ ہے تو اس نے بیٹی کی شادی اس کے ساتھ کردی اور وہ دونوں سنہال میں ہی رہنے لگے۔ اس بیچ راجہ رتن سین کی پہلی بیوی ناگ وتی نے اس کے فراق میں پریشان ہوکر ایک پرندہ کے ذریعے اپنے شوہر کو پیغام بھیجا اور رتن سین اپنی نئی بیوی پدمنی کے ساتھ چتوڑ واپس آگیا۔ ادھرراجہ رتن سین کے دربار میں راگھو نام کا ایک پنڈت تھا جو اس وقت کے سلطان، علاء الدین خلجی کی خدمت میں جا پہنچا اور پدماوتی کی خوبصورتی کی ایسی تعریف کی کہ سلطان اس پر غائبانہ عاشق ہوگیااور اسے پانے کے لئے چتوڑ کی طرف چل پڑا۔ سلطان نے دھوکے سے رتن سین کو گرفتار کر دہلی کی جانب روانہ کر دیا۔ رتن سین کی گرفتاری نے پدمنی کو بہت اداس کیا اور اپنے شوہر کو آزاد کرانے کے لئے، اس نے ایک ترکیب سوچی ۔اس نے بہت سی ڈولیاں تیار کرائیں جنھیں کہاروں کے بجائے کہاروں کا بھیس پکڑے فوجیوں نے اٹھا رکھی تھیں۔یہ تمام لوگ دہلی پہنچے اور سلطان کے پاس پیغام بھیجا کہ رانی، سلطان کی خدمت میں خود کو پیش کرنے آئی ہے اور آخری بار رتن سین سے ملنا چاہتی ہے۔ یہ سن کر سلطان خوش ہوااور ملنے کی اجازت دیدی اور اس طرح پدمنی نے اپنے شوہر کو زنجیروں سے آزاد کرایا اور چتوڑ لے بھاگی۔اس کے بعد غصے سے آگ بگولہ سلطان نے چتوڑ پر حملہ کردیا جہاں راجہ رتن سین اور دوسرے راجپوت انتہائی بے جگری سے لڑ کر مرگئے مگر جب سلطان محل کے اندر، رانی کو حاصل کرنے کے لئے پہنچا تو اسے رانی کی چتا کی راکھ ہی مل پائی جس نے سینکڑوں خواتین کے ساتھ خود کو زندہ جلا لیا تھا۔حالانکہ اس پوری کہانی کا کسی تاریخی کتاب میں ذکر نہیں ملتا۔
 
افسانہ کو حقیقت کا جامہ پہنانے کی کوشش
 
’’پدماوت‘‘کی جس کہانی کو حقیقت مان کرتنازعہ پیدا کیاگیااسے سب سے پہلے ملک محمد جائسی نے لکھی اور بے پناہ مقبول ہوئی مگر بعض شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ راجستھان کے راجپوتوں میں یہ کہانی ’’لوک گاتھا‘‘کی طرح پہلے سے چلی آرہی تھی جسے جائسی نے اپنے انداز بیان سے زیادہ پرکشش اور پر اثربنادیا۔کہانی پڑھ کر ایسا محسوس ہی نہیں ہوتا کہ یہ سچ بھی ہوسکتی ہے یہی سبب ہے کہ مورخین نے اس کی تاریخی حیثیت تسلیم نہیں کی ہے۔چتوڑ پر حملہ کے وقت امیرخسرو خود موجود تھے جنھوں نے ’’تاریخ علائی‘‘ رقم کی ہے مگر وہ ایسی کسی داستا ن محبت کا ذکر نہیں کرتے ۔ علاؤ الدین کے معاصر تواریخ نویس ضیاء الدین برنی نے اپنی کتاب ’’تاریخ فیروز شاہی‘‘ میں اس کا کہیں ذکر نہیں کیا ہے۔ ’’تاریخ فیروز شاہی‘‘ عہد علاؤ الدین خلجی کے بعد فیروز شاہ تغلق کے زمانے میں لکھی گئی مگر اس کا مصنف خلجی کے زمانے میں موجود تھا۔ اس کتاب میں عہدعلاؤ الدین خلجی کی تمام خوبیوں اور خامیوں کو بیان کیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ سلطان کی ہم جنس پرستی کا بھی بیان ہے ،ایسے میں اگر پدمنی والا واقعہ سچ ہوتا تو اسے لکھنے میں مصنف کو کوئی تامل نہیںہو سکتا تھا۔اسی طرح ’’تاریخ محمدی‘‘ اور ’’تاریخ مبارک شاہی ‘‘ میں رانی پدمنی کے قصے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ خواجہ نظام الدین احمد نے’’ طبقات اکبری ‘‘ میں اور مولانا عصامی دہلوی نے’’فتوح السلاطین‘‘ میں چتوڑ کی فتح کا ذکر تو کیا ہے لیکن اس قصے کا کوئی بیان نہیں ہے۔اگر جنگ کی تہہ میں واقعی پدمنی کی کشش کارفرما ہوتی تو امیر خسرو جیساحسن پرست شاعر اس کا بیان ضرور کرتا۔ اس واقعے کی تائید صرف ایک کتاب میںملتی ہے اور وہ ہے ’’تاریخ فرشتہ‘‘۔ یہ محمد قاسم فرشتہ کی لکھی ہوئی ہندوستانی تاریخ کی معتبر کتاب ہے۔اس فارسی ،تاریخ میں ملک محمد جائسی کے بتائے ہوئے واقعات کی تائید ہوتی ہے۔البتہ معاملہ اس لئے مشکوک نظر آتا ہے کہ یہ کتاب مغل بادشاہ جہانگیر کے زمانے میں لکھی گئی تھی، تب علاء الدین خلجی کے عہد کو کئی صدیاں گزر چکی تھیں۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ فرشتہ کو یہ باتیں کہاں سے پتہ چلیں جب کہ اس سے پہلے کسی مورخ نے یہ بات نہیں لکھی تھی؟ یہی سبب ہے کہ محققین کو لگتا ہے کہ فرشتہ نے جائسی کی اختراعی داستان یا راجستھان کی لوک گاتھا کو سچ مان لیا تھا۔ بعض مورخین نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ علاء الدین خلجی کے دور میں چتوڑ کا راجہ، رتن سین نہیں تھا بلکہ اس کا نام ’’لکھم سی‘‘ تھا ۔ ایسا لگتا ہے کہ فرشتہ نے جس طرح رامائن اور مہابھارت کی سنی سنائی باتوں کو تاریخ قرار دینے کی کوشش کی تھی، اسی طرح اس نے ’’پدماوت‘‘ کی داستان کو بھی سچ مان لیا تھا۔
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Comments


Login

You are Visitor Number : 193