rishta online logo
newsletter
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Tareekhi Paare
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Ghaus Siwani
Title :
   Taraj Dehli Ki Kuchh Nishaniyan Ab Bhi Baqi Hain


تاراج دلی کی کچھ نشانیاں ، اب بھی باقی ہیں


تحریر:غوث سیوانی،نئی دہلی


    تاراج ہوتی دلی میں کچھ ماضی کے نقوش اب بھی باقی بچے ہوئے ہیں جن میں مساجد، مقابر اور قلعوں کے کھنڈرات شامل ہیں۔ایسی عمارتوں میں سلطان غاری کا مقبرہ ، مہرولی کی اولیاء مسجد اور خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کی درگاہ اور اس سے منسلک مسجد ہے۔ان میں سلطان غاری کے مقبرے کے سوا باقی عمارتیں اپنی پرانی شکل پر موجود نہیں ہیں مگر یہ بھی کم نہیں کہ ان کا وجود باقی ہے ورنہ یہاں نہ جانے کتنی مسجدیں زمین بوس ہوگئیں، کچھ باقی بچی ہیں تو جانوروں کی پناہ گاہ میں تبدیل ہوچکی ہیں۔ سلطان غاری کے مقبرہ کی تعمیر سلطان شمس الدین التتمش نے کرائی تھی۔اصل میں یہ اس کے بیٹے ناصرالدین محمود کا مقبرہ ہے جو ا س کی زندگی میں ہی فوت ہوگیا تھا۔ وہ بنگال کا گورنر تھا اور انتہائی لائق وفائق شہزادہ تھا۔ التتمش کی خواہش تھی کہ اس کے بعد ناصر الدین محمود ہی تخت نشیں ہو مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا اور بادشاہ کی زندگی میں ہی شہزادہ کی موت ہوگئی۔بادشاہ کو اس کا بہت رنج ہوا کیونکہ اس کے دوسرے شہزادے اس لائق نہیں تھے کہ تخت پر بیٹھیں یہی سبب ہے کہ اس نے اپنی قابل بیٹی رضیہ کو اپنا جانشیں نامزد کیا۔ یہ مقبرہ ناصر الدین محمود کے لئے بنایا گیا تھا مگر بعد میں اسی مقبرے میں سلطان کے دیگر دو بیٹے رکن الدین فیروز شاہ اور معزالدین بہرام شاہ بھی بھی دفن ہوئے۔ اسے سلطان غاری کا مقبرہ اس لئے کہتے ہیں کہ یہ پہاڑی کے ایک غار میں بنایا گیا تھا۔ اصل قبر غار کے اندر ہے اور عمارت اوپر بنی ہوئی ہے۔بسنت کنج کے قریب ملک پور گائوں میں واقع سلطان غاری کا یہ مقبرہ دلی میں تعمیر ابتدائی دور کے مقبروں میں سے ایک ہے۔مقبرے کی حالت خستہ ہے مگر یہاں اکا دکا سیاح آجاتے ہیں۔حالانکہ سیاحوں سے زیادہ مقامی لوگوں کا ہجوم رہتا ہے۔ اس کے بارے میں سرسید احمد خاں نے آثارالصنادید میں لکھا ہے:

    ’’قطب صاحب سے دو کوس پرے جانب غرب یہ مقبرہ ہے سلطان ناصر الدین محمود پسرکلان سلطان شمس الدین کا جو لکھنوتی کا حاکم تھا ۔۔۔۔ اپنے باپ کے جیتے جی مرگیا اور اس کی لاش کو دلی میں لاکر یہاںدفن کیا اور 629 ہجری مطابق 1231 عیسوی کے سلطان شمس الدین التمش نے یہ مقبرہ بنایا یہ مقبرہ بہت نفیس ہے اسکے اندر چاروں طرف مکان ہیں اور جانب غرب نری سنگ مرمر کی ایک چھوٹی سی مسجد ہے اور بیچوں بیچ میں ایک غار ہے کہ پندرہ سیڑھیاں اوترکراوسمیں جاتے ہیں اور اسمیں یہ قبر ہے اور اوس غارمیں ستون کھڑے کر کر چھت پاٹ دی ہے اور چھت پر مثمن چبوترہ چارفٹ ساڑھے سات انچھ کا اونچا بنایا ہے دروازہ بھی اس مقبرے کا سنگ مرمر کا ہے اور اوسپر آیات قرآنی بخط نسخ و کوفی اور کتبہ کھدا ہوا ہے اور چارو دیواری سنگ خارا سے بہت مستحکم بنائی ہے چاروں کونوں پر چاربرج ہیں دروازہ اتنا کرسی دیکر بنایا ہے کہ بائیس سیڑھیاں چڑھ کر اوسمیں جاتے ہیں۔‘‘

سلطان ناصرالدین محمود شاہ کے مقبرے میں ہی اس کے دو بھائیوں کے مقبرے ہیں ۔ رکن الدین

 

فیروز شاہ کے مقبرے کے بارے میں آثارالصنادید میں یوں تفصیل ہے:

    ’’زیر دیوار مقبرہ سلطان غاری سواد موضع ملک پور یہ مقبرہ ہے صرف آٹھ ستون کھڑے کرکر اس پر برج بنا دیا ہے جبکہ 635 ہجری مطابق 1037 عیسوی کے یہ بادشاہ رضیہ سلطان بیگم سے لڑ کر پکڑا گیا اور قید میں مراتب اس مقام پر دفن ہوا فیرزہ شاہ نے اپنی سلطنت میں اس برج کی ازسر نو مرمت کی۔‘‘

    مقبرہ معز الدین بہرام شاہ کے بارے میں سرسید لکھتے ہیں:

    ’’مقبرہ سلطان غاری کے زیر دیوار سواد موضع ملک پور میں یہ مقبرہ ہے صرف آٹھ ستون کھڑے کرکر اس پر برج بنایا ہے جبکہ 639 ہجری مطابق 1241 عیسوی کے امرا نے اس بادشاہ کو مار ڈالا اور علاؤ الدین کو تخت پر بٹھایا تب اس مظلوم بادشاہ کی قبر پر یہ گنبد بنا فیروز شاہ کے وقت میں اس مقبرے کی مرمت ہوئی تھی۔‘‘

     مقبرہ سلطان غاری اور اس سے متصل مسجد کی عمارت فی الحال محفوظ ہے مگر ان مذہبی اہمیت کی عمارتوں کی بے حرمتی عام بات ہے۔ یہ عمارتیں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے زیر انتظام ہیں مگر یہ بھی دھیان دینے کی بات ہے کہ اس ادارے کے ماتحت ہی تاریخی عمارتیں تباہ وبرباد ہورہی ہیں اور یہ مقبرہ کب تک محفوظ رہے گا؟ یہ سوال بے جا نہیں ہے۔

درگاہ حضرت قطب الدین بختیار کاکی

    مہرولی کے جن مقبروں کو ابتدائی دور کا کہا جاسکتا ہے انھیں میں حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کی درگاہ بھی ہے۔ گو موجودہ عمارت زیادہ پرانی نہیں ہے مگر یہ درگاہ بہرحال قدیم ہے اور تاریخی اہمیت کی حامل ہے۔یہاں دیگر بہت سی قبریں ہیں جن میں بعض اولیاء اللہ وصوفیہ ہیں اور دیگر ان کے عقیدت مند ہیں۔درگاہ پر زائرین کا ہجوم رہتا ہے اور عرس کے ایام میں یہ بھیڑ مزید بڑھ جاتی ہے۔جانکاروں کا کہنا ہے کہ درگاہ کے آس پاس بہت سی وقف کی زمین تھی مگر اب اس پر ناجائز قبضہ ہوچکا ہے اور لوگوں نے گھر یا دکان بنا لئے ہیں۔درگاہ پر ہرزمانے میں بادشاہوں او ر امیروں کی حاضری ہوتی رہی ہے اوروہ اس کے لئے زمیننیں دیتے رہے ہیں نیز انھوں نے درگاہ کی چہاردیواری بھی کرائی ہے۔۱۵۵۱ء میں یہاں شیرشاہ سوری کے شہزادے سلیم شاہ نے حاضری دی تھی اور ایک چہاردیواری بھی بنوائی تھی۔۱۷۱۷ء میں مغل بادشاہ فرخ سیر نے درگاہ کے گرد سنگ مرمر کا محجر بنوایا تھا اور دروازہ تعمیر کرایا تھا۔

    قطب الاقطاب حضرت خواجہ سیّد محمد قطب الدین بختیار کاکی بّرصغیر کے عظیم صوفی ہیں اور سْلطان الہند خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کے خلیفہ ہیں۔ وہ حضرت بابا فرید الدین گنج شکر کے پیر و مرشد ہیں۔بعض روایتوں کے مطابق آپ کی پیدائش 1187ء میں ہوئی اور 1236ء میں انتقال ہوگیا۔حضرت قطب کا اسمِ گرامی بختیاراور لقب قطب الدین ہے۔ آپ ترکستان کے قصبہ اوش میں پیدا ہوئے۔اسی لئے اوشی بھی کہا جاتا ہے۔ حسینی سادات میں سے تھے۔ خواجہ معین الدین چشتی سے بیعت کی اور آپ کے ساتھ ایک مدت تک سفر میں رہے۔ اپنے پیرو مرشد کے ساتھ ہندوستان تشریف لائے اور ان کے حکم کے مطابق دہلی میں قیام فرمایا۔ سماع سے بہت رغبت تھی۔اکثر آپ کی محفل میں سماع کا اہتمام ہوتا تھا اور سماع کے دوران ہی آپ کا انتقال ہوا تھا۔ دہلی میں ایک محفل سماع کے دوران حضرت احمد جام کا ایک شعر

کْشتگانِ خنجرِ تسلیم را
ہر زماں از غیب جانِ دیگر اَست

سن کرآپ پر وجد کی کیفیت طاری ہوگئی۔تین روزاسی حالت میں رہے آخر 27 نومبر 1235ء کو انتقال فرماگئے۔ نماز جنازہ بادشاہ وقت شمس الدین التتمش نے پڑھائی۔ سیرالاقطاب کے حوالے سے ڈٖاکٹر ظہورالحسن شارب نے لکھا ہے کہ جس مقام پر آپ کی قبر ہے اسے آپ نے اپنی حیات میں ہی خریدا تھا۔ایک مرتبہ عیدگاہ سے واپسی کرتے ہوئے ادھر سے گذرے اور اس غیرآباد زمین کو دیکھ کر کہنے لگے کہ مجھے اس زمین سے دلوں کی بو آتی ہے، اس کے مالک کو لایا جائے۔ جب زمین کا مالک آیا تو آپ نے اسے پیسے دے کر زمین خرید لیا ۔ یہاں جیتے جی ایک مسجد کی تعمیر کرائی اور باقی زمین پر انتقال کے بعد آپ کا مدفن بنا۔

    خواجہ صاحب کا موجودہ مقبرہ خوبصورت ہے اور اس عمارت کے اوپر ایک بڑا گنبد ہے جس میں اند ر سے رنگ برنگے کانچ کے ٹکڑے لگے ہوئے ہیں۔ یہ عمارت زیادہ پرانی نہیں لگتی مگر اس کے اردگرد پرانی اور تاریخی دیوار ضرور ہے۔

 مسجد درگاہ قطب صاحب

    خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کے درگاہ کی مسجد جس کی تعمیر خود خواجہ قطب صاحب نے کرائی تھی، آج بھی موجود ہے اور آباد ہے۔ البتہ اس کی عمارت نئی ہے۔ ابتدا میں یہ کیسی تھی کوئی نہیں جانتا مگر ہر زمانے میں اس کی تعمیر،ترمیم اور مرمت وغیرہ کا کام ہوتا رہا ہے۔ تاریخ کی کتابوں میں اس مسجد کا ذکر ملتا ہے ۔سلیم شاہ نے جب اپنی شہزادگی کے زمانے میں یہاں حاضری دی تھی اور درگاہ کے گردچہار دیواری کرائی تھی تب مسجد کی تعمیر کا کام بھی کرایاتھا۔ اس کے بعد فرخ سیر نے بھی مسجد کی عمارت میں کچھ ترمیم واضافہ کرایا تھا۔

مسجد اولیاء

    مہرولی میں مسجد اولیاء ہے جسے حضر ت خواجہ معین الدین چشتی نے تعمیر کرایا تھا۔ اس کی تعمیر میں آپ کے مریدین وغیرہ بھی ساتھ تھے۔یہ بہت چھوٹی مسجد ہے اور اس کا ذکر ابن بطوطہ نے بھی اپنے سفرنامے میں کیا ہے۔ یہ التتمش کے دور حکومت میں تعمیر کی گئی تھی اور حوض شمسی کے قریب تھی مگر اب جغرافیہ بدل چکا ہے اور یہ آبادی کے اندر چلی گئی ہے۔ مسجد کی عمارت نئی ہے مگر اس کی تاریخی اہمیت مسلم ہے۔مسجد میں خود خواجہ صاحب نے اپنے مرید وخلیفہ بختیار کاکی کے ساتھ چلہ کشی کی تھی۔

     مہرولی کی یہ یادگار عمارتیں آج بھی گزشتہ دلی کی داستان سنانے کے لئے کافی ہیں۔ ہندوستان کی تاریخ دلی سے وابستہ ہے اور دلی کی پہچان مہرولی ہے جہاں ایک ایسی سلطنت قائم ہوئی تھی جس نے اس ملک کے تہذیب وتمدن پر ایک انقلابی اثر ڈالا۔ان عمارتوں کے مٹنے کا مطلب ہے تاریخ پر ستم۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 269