rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Teeshae Fikr
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Ghaus Siwani
Title :
   RSS Ke Headquarter Me Kiyon Nahi Phahraya Jata Tiranga


آر ایس ایس کے ہیڈکوارٹر میں کیوں نہیں پھہرایا جاتا ترنگا؟


تحریر:غوث سیوانی،نئی دہلی


    آرایس ایس مدرسوں کے تئیں شکوک وشبہات کیوں پھیلا رہا ہے؟ وہ ملک کے عوام کو یہ جتانے کی کوشش کیوں کر رہا ہے کہ دینی مدرسوں میں قومی پرچم نہیں لہرایا جاتا؟ وہ یہ غلط فہمی کیوں پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ مدارس میں قومی ترانی نہیں گایا جاتا؟ کیا آرایس ایس کے ہیڈ کوارٹر میں ترنگا لہرایا جاتا ہے؟ کیا دوسروں کو دیش بھکتی کا پاٹھ پڑھانے والاسنگھ پریوار خود بھگوا جھنڈے کے علاوہ کسی پرچم کو سلامی دیتا ہے؟ ان سوالوں کے پیچھے کی اصل وجہ ہے آر ایس ایس کی ایک ذیلی تنظیم کی طرف سے دینی مدرسوں کے خلاف بھرم کا ماحو ل بنانے کی کوشش۔ یوم جمہوریہ میں اب کچھ ہی دن باقی ہیں اور آر ایس ایس کی مسلم ونگ مسلم راشٹریہ منچ نے ایک مہم شروع کرتے ہوئے تمام مدرسوں کو ترنگا لہرانے کے لئے کہا ہے۔ تاہم، دارالعلوم دیوبند نے آر ایس ایس کی اس مہم کو نشانہ بناتے ہوئے سوال کیا ہے کہ کیا آر ایس ایس خود اپنے ہیڈکوارٹر پر ترنگا لہراتی ہے؟ آرایس ایس کی مہم کے خلاف مسلمانوں کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے اور انھوں نے صاف طور پر کہا ہے کہ ملک کی آزادی میں اہم رول نبھانے والے علماء اور مدرسوں کو دیش بھکتی کا سبق نہ پڑھائے آرایس ایس جس نے خود آزادی کی جدوجہد میں کوئی کردار نہیں نبھایا تھا۔

مدرسوں کے خلاف بھگوا مہم

    خبروںکے مطابق مسلم راشٹریہ منچ نے ملک کے تمام مدرسوں کو ایک خط جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آنے والے یوم جمہوریہ  کے موقع پر تمام مدرسے قومی پرچم لہرائیں۔اتر پردیش میں ایم آرایم کے کوآرڈنیٹر میراجی دھوج سنگھ نے بتایا کہ اس مہم کا نام ’’جھنڈا پھلانی‘‘ رکھا گیا ہے۔ معلوم ہو کہ ایم آرایم کے نیشنل کوآرڈنیٹر آر ایس ایس کے مرکزی عہدیدار اندریش کمار ہیں جن کا نام کئی دہشت گردانہ حملوں میں آچکا ہے۔ اس بارے میںدھوج سنگھ نے مزید بتایا کہ اس مہم کو پورے ملک میں چلایا جائے گا اور ایم آرایم تمام مدارس کے علاوہ دارالعلوم دیوبند اور ندوہ کو بھی خط لکھے گا جس میں ان مدرسوں کو کہا جائے گا کہ طلبہ کو بتائیں کہ قومی تہواروں کی اہمیت کیا ہے اور یوم جمہوریہ کس لئے منایا جاتا ہے؟ سنگھ نے کہا کہ قرآن شریف بھی یہی تعلیم دیتا ہے کہ وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہی نہیں بلکہ نصف ایمان ہے۔ اسی لئے مدرسوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے یہاں 26 جنوری اور 15 اگست کو قومی پرچم پھہرائیں اور قومی ترانہ گائیں۔ اس کا مطلب یہ قطعی نہیں ہے کہ منچ کو مدارس کی حب الوطنی پر کوئی شک ہے۔ملک بھر کے مدرسوں میں قومی پرچم لہرانے کی مہم کے تحت مسلم راشٹریہ منچ 20 اور 21 جنوری کو وارانسی میں اجلاس کرے گا۔

اہل مدارس کا سنگھ پریوار کو کراراجواب

    دینی مدرسوں کے تعلق سے آرایس ایس کی ایک ذیلی تنظیم کی طرف سے مہم کا کیا مطلب ہوتا ہے جب کہ مدارس پورے تزک واحتشام کے ساتھ قومی تیوہار مناتے ہیں؟ کیا اس کے پیچھے کا مقصد ہے بھرم پیدا کرنا؟ ان پہلووں پرمیڈیا میں گرما گرم بحث جاری ہے۔مدارس اسلامیہ کے منتظمین نے منچ کی اپیل پر کہا کہ سبھی مدرسوں میں قومی تہوار یعنی 15 اگست یا 26 جنوری ہمیشہ ہی منائے جاتے رہے ہیں۔ مدرسوں کو سنگھ سے حب الوطنی کا سبق پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔معروف اسلامی ادارے دارالعلوم دیوبند نے کہا ہے کہ سنگھ کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ کسی کو ترنگا لہرانے کی ہدایت دے۔ مدرسوں کو یہ طے کرنے کا حق ہے کہ وہ کسی قومی تہوار پر ترنگا لہرانا چاہتے ہیں یا نہیں۔ یہی نہیں، دارالعلوم نے کہا ہے کہ جنگ آزادی میں مدرسوں کا اہم تعاون رہا ہے، جبکہ آر ایس ایس کا آزادی کی جنگ میں کوئی حصہ نہیں رہا ہے۔دارالعلوم دیوبند کے پریس سیکرٹری مولانا اشرف عثمانی نے سوال کیا کہ کیا سنگھ  اپنے ناگپور کے ہیڈکوارٹر پر ترنگا لہراتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں سنگھ کی طرف سے دباؤ بنایا جانا غلط ہے۔ عثمانی نے کہا کہ اہل دیوبند کی سماجی تنظیم جمعیت علمائے ہند سے جڑے کئی مدرسے ترنگا پھہراتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سنگھ خود صرف ایک رنگ کے پرچم کو مانتا ہے اور اسی کی وندنا کرتا ہے۔ سنگھ کے رضاکار اپنے تمام پروگراموں میں صرف اپنے پرچم کے سامنے سر جھکاتے ہیں۔ سنگھ کو چاہیے کہ نصیحت دینے سے پہلے وہ اپنے ناگپور ہیڈ کوارٹر میں ترنگا پھہرائے۔مولانا اشرف عثمانی نے کہا کہ آر ایس ایس مدرسوں کا ٹھیکیدار نہیں۔ وہ مدرسوں کی فکر چھوڑ دے ۔ وہ اپنے دفاتر پرترنگا کیوں نہیں پھہراتا ، اس کا جواب دے۔ جب کہ لکھنو کے مذہبی رہنما خالد رشید فرنگی محلی نے کہاہے کہ’’ مدارس کا ملک کی آزادی میں اہم کردار رہا ہے۔ وہاں تمام قومی تہوار منائے جاتے ہیں اور قومی ترانہ بھی پیش کیاجاتا ہے۔‘‘ اسی کے ساتھ زیادہ تر مدرسہ منتظمین کا خیال ہے کہ آرایس ایس کی طرف سے ایسی اپیل کرتب بازی ہے اور ملک کے عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش ہے کہ مدرسوں میں قومی جھنڈا نہیں پھہریا جاتا۔مدرسوں کے منتظمین کا کہنا ہے کہ مدارس میں 15 اگست اور 26 جنوری منایا جاتا ہے، ترنگا بھی لہرایا جاتا ہے اور قومی ترانہ بھی پیش کیا جاتا ہے۔

مدرسوں میں قومی تیوہار

    مدرسوں میں قومی تیوہار منا نے کی روایت پرانی ہے۔ گزشتہ سال یوم آزادی سے قبل دارالعلوم دیوبند نے تمام مدارس اور اسلامی اداروں کے لئے اپیل جاری کی تھی کہ وہ یوم آزادی پر اپنی عمارتوں پر ترنگا پھہرائیں اور پورے جوش و خروش سے آزادی کا جشن منائیں۔ اس کے ساتھ ہی مسلمانوں سے اپنے گھروں پر ترنگا لہرانے کی بھی اپیل کی گئی تھی۔ دارالعلوم کا خیال ہے کہ مسلمانوں کو دکھانا چاہئے کہ وہ بھی اس ملک کا حصہ ہیں اور اسی لیے مسلمانوں کو اپنے گھر کی چھت پر بھی ترنگا پھہرانا چاہئے۔ دارالعلوم کی اس اپیل کا اہلسنت والجماعت (بریلوی) مسلمانوں نے بھی سپورٹ کیا تھا۔یادش بخیر دارالعلوم دیوبند کے پریس سیکرٹری مولانا اشرف عثمانی نے ’’دی انڈین ایکسپریس‘‘سے بات چیت میں کہاتھا کہ ’’کیوں کوئی ہمیں الگ رکھنا چاہتا ہے؟ یہ ہمارا ملک ہے، ہماری زمین، ہماری جگہ ہے۔ ہم اپنے وطن سے محبت کرتے ہیں اور اسے لے کر ہر طرح کے بھرم کو دور کر دینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہاتھا کہ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ مدرسے آزادی کے جشن میں شریک نہیں ہوتے۔ہم کہانی کا صحیح پہلو آپ دکھانا چاہتے ہیں۔ بہت سے مدرسے مل جل کر یوم آزادی مناتے ہیں۔ بس ہم ان جشن کا دعوی کرنے کی ضرورت نہیں محسوس کرتے۔ واضح ہوکہ دارالعلوم دیوبند کی طرف سے اکثر ٹائون کے ضیاء الحق چوک پر قومی پرچم لہرایا جاتا ہے۔ دارالعلوم دیوبند کے ساتھ جمعیت علمائے ہند بھی ترنگا لہرانے کے پروگرام میں حصہ لیتی ہے۔علماء دیوبند کے مطابق مسلم علماء اور اہل مدارس نے آزادی کی لڑائی میں اہم رول ادا کیا تھا ۔ کانگریس جزوی آزادی کے لئے راضی تھی، لیکن علماء نے اس کی مخالفت کی تھی۔ ایسے میںحیرت ہوتی ہے جب کچھ لوگ علماء اور اہل مدارس کی حب الوطنی پر سوال کھڑے کرتے ہیں۔مدرسوں کی عمارتوں پر قومی پرچم لہرانے کا جو اعلان گزشتہ ۱۵اگست سے قبل دیوبند کی طرف سے کیا گیا تھا اس کی حمایت بریلی کی درگاہ اعلی حضرت کے مفتی سلیم نوری نے کی تھی اور کہاتھا کہ تمام مسلمانوں کو خوب دھوم دھام سے یوم آزادی منانا چاہئے۔ تمام مدرسوں، اداروں اور عام مسلمانوں کو پرچم پھہرانا چاہئے۔

تب کہاں تھا آر ایس ایس؟

    1857ء کی پہلی جنگ آزادی میں سب سے زیادہ قربانیاں علماء دین اور مدارس اسلامیہ نے دی تھیں۔ مولانا کفایت اللہ کون تھے؟ مولانافضل حق خیرآبادی کہاں سے آئے تھے؟کیا دلی کی جامع مسجد سے فرنگی دشمنوں کے خلاف فتویٰ جہاد نہیں جاری کیا گیا تھا؟ ملک کی پہلی جنگ آزادی میں سب سے زیادہ قربانیاں علماء دین نے ہی دی تھیں اور سب سے زیادہ پھانسی اور کالا پانی کی سزا بھی انھیں کو دی گئی تھی۔ تب آر ایس ایس کا وجود تک نہیں تھا۔ اس کے بعد بھی علماء کی جدوجہد جاری رہی اور انھوں نے تحریکوں اور قید وبند کی صعوبتوں سے منہ نہیں موڑا۔ علماء دیوبند کے ایک بڑے طبقے نے خود کو اسی کام کے لئے وقف کئے رکھا اور ریشمی رومال تحریک اسی کے نتیجے میں چلی۔خاکسار اور جمعیۃ علماء ہندجیسی تنظیموں نے جو قربیانیاں دیں وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے، ایسے میں علماء کرام اور مدارس اسلامیہ کے خلاف ایک ایسی تنظیم کا میدان میں آنا جس کے ذمہ داروں کا ملک کی آزادی میں کوئی رول نہیں تھا اور آزادی کے بعد بھی جس پر ملک میں دنگا بھڑکانے اور دہشت پھیلانے کا الزام لگتا رہاہے، محض شکوک پیدا کرنے کی کوشش ہی کہا جاسکتا ہے۔ آر ایس ایس کے بارے میں عام خیال ہے کہ وہ دوسروں کو حب الوطنی کا درس دیتا ہے مگر خود بھگوا پرچم کو سلامی دیتا ہے۔ اگر اسے وطن سے محبت ہے تو بھگوا پرچم کے بجائے ترنگا کو سلامی کیوں نہیں دیتا؟  

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 221