rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Teeshae Fikr
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Reyaz Azimabadi
Title :
   Sahafat Me Kamzarfi Aur Inteqami Jazbe Ki Gunjayish Nahi


 صحافت میں کم ظرفی اور انتقامی جذبے کی گنجائش نہیں


ریاض عظیم آبادی


    میں نے اپنی صحافتی زندگی کے ۵۰ سال مکمل ہونے ایک مضمون لکھا تھا جس پر اچھے خاصے رد عمل  کا سامنا کرنا پڑا ہے۔چند سوالوں کا جواب مجھے دینا ہے۔اول یہ کہ میں اپنی تحریر کا استعمال کسی سے انتقام لینے کے لیے کب کب کیا دوئم یہ کہ میں  نیلکھتے وقت غیر جانبداری برتی ہے؟ اور سوئم کہ میں نے لوگوں کو دشمن بھی بنایا ہے؟  ان سوالوں کا جواب دینے سے قبل اس حقیقت کا اعتراف کر لینا ضروری ہے کہ ایک صحافی اسی معاشرے کا حصہ ہوتا ہے اور تمام منفی خیالات سے بچنے کے لیے جدو جہد کرتا ہے۔ایک صحافی کے یہاں I am sorryکی کوئی جگہ نہیں  رہتی ہے اور اسکے لیے اعلیٰ ظرف  ہونااورا نتقامی جذبہ سے دور رہنا لازمی ہے۔ایک صحافی خود ہی مدعالا ہوتا ہے اور وہی اسکا وکیل بھی ہوتا ہے اور جج بن کر اسکا فیصلہ بھی کرتا ہے۔ایک صحافی معاشرے کا سب سے حساس فرد ہوتا ہے جسے ایمانداری اور نیک نیتی کیساتھ سماج کو اسکا آئنہ دکھانا پڑتا ہے۔خدا کا شکر ہے کہ اس نے میرے اندر نفرت،حسد،جلن،خنث اور انتقامی جذبے کو کبھی ابھرنے نہیں دیا۔چونکہ میں نے قانون کی ڈگری بھی حاصل کر رکھی ہے اس لیے بغیر حتمی ثبوت کہ قلم نہیں اٹھایا۔میری صحافتی زندگی میں ایسے اپنوں نے بھی ساتھ دیا ہے جنکو فراموش کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔سید محمدعرف ثمر ٹالوی اور طالب جہان آبادی جو آج وصی احمد کے نام  سے اشتراکی رہنما بن چکے ہیں ۔۱۹۶۸ میں یہ طالب علم تھے،مسائل کی اشاعت کے لیے جہان آباد میںایک  جلسہ کیا جس میں میں مشہدی کے ساتھ شریک ہوا تھا۔یہ میں بتا چکا ہوں کہ مشہدی کے تعاون کے بغیر میں اردو کا صحافی نہیں بن سکتا تھا،دوسری مٹنگ 2نمبر نواب بدرالدین اسٹریٹ کلکتہ میں آج کے معروف سماجی کارکن محمد عمر خان اور امان اللہ ،جو آج زکاۃ فاؤنڈیشن علی گڑھ  کے سربراہ ہیں نے منعقد کی تھی۔ارریہ میں اشفاق اور میرا عزیز تریں مرحوم دوست نعیم فاروقی نے منعقد کی تھی۔راور کیلا میںعبدلرزاق قریشیی نے نوجوانوں کا جلسہ کیاتھا۔لیکن کہیں بھی مالی تعاون نہیں ملا۔صرف تعریف کے پل باندھے گئے۔جہاں آباد کے معروف ڈاکٹراظہر نے  ۱۰۰ روپیے کا چندہ دیا تھا۔میں نے کبھی چندہ خوری نہیں کی۔

    میرے لیے صحافت صرف پیشہ نہیں بلکہ عبادت کی حیثیت رکھتا ہے۔میں نے کبھی اپنے رسالے یا ہفتہ وار کو اپنی پبلی سیٹی کا ذریعہ نہیں بنایا اور نہ ہی خود کو شیر بہار یا عظیم صحافی ثابت کرنے کی کوشش کی۔پٹنہ کے ایک قدیم روزنامہ کے اڈیٹر میرے  دوست ہوا کرتے تھے اور انکی اہلیہ میرے لیے ماں جیسی تھیں۔میری حماقتوں یہ رشتہ ختم ہو گیا اور انکے بچوں نے نفرت اور عداوت کا رشتہ قائم کر لیا۔میرے بزرگ مرحوم دوست نے بلٹز کے ایڈیٹر کو  لکھ دیا کہ میں لوگوں کو بلیک میل کرتا ہوں اور ؔ میں وائن الکوہل بھانگ گانجا چرس مدک افیم کھاتا پیتا ہوں۔میں نے ان پر ڈیفیمیشن کا مقدمہ دائر کردیا۔انکے بچوں نے میرے خلاف کچھ ثابت کرنے کی بجائے اپنے ہی  والد کو پاگل ثابت کردیا۔آج حالت یہ ہے کہ اس روزنامہ میں میرا نام یا میری تصویر شائع نہیں کی جاتی۔قاری کی حق تلفی  کی جاتی ہے۔ قاری کا حق ہے کہ اسے اہم خبروں کی جانکاری دی جائے۔اس حق  سے محروم کرنے کا حق ایڈیٹرط یا مالک کو نہیں ہے۔کم ظرفی اور اپنے اخبار کا استعمال انتقام کے لیے کرنا صحافتی اصول کے خلاف ہے۔لوگ مجھ سے سچ جاننا چاہتے ہیں۔میرے دل میں کوئی ملال ہو یا غصہ ہو تب تو کچھ بولوں۔اس تکلیف دہ واقعہ کو ۳۷ سال گذر چکے ہیں ۔خدا کے رسول ﷺکا حکم ہے کہ کوئی مسلمان دوسرے مسلمان سے۳ روز سے زیادہ ناراض نہیں رہ سکتا۔میں نے تعلقات استوار کرنے کے لیے کئی بار فون کیا لیکن وہی نفرت بھری باتیں۔میں تو سگریٹ تک نہیں پیتا۔چائے پیتا ہوں وہ بھی  بغیر دودھ والی(کالی چائے)۔پورے ملک ایک شخص بھی دعویٰ نہیں کر سکتا کہ میں نے رپورٹ لکھنے کے لیے یا روکنے کے لیے رقم لی ہو۔میں اپنی اہلیہ سے کہتا ہوں ’بکا ہوا آدمی صحافی نہیں ہو سکتا ہے‘۔ خدا کا احسان ہے کہ میرا دامن صاف  ہے ا ور میرے ضمیر پر کسی طرح کا بوجھ نہیں ہے۔میرے بارے میں میں یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ میں پریس کانفرنس میں گفٹ بھی نہیں لیا کرتا تھا۔

    مشتاق احمد نوری،ڈاکٹر اعجاز علی ارشد،اشرف فریدی،امتیاز کریم ،ایم کے احسانی سے ۴۶ سال سے دوستی ہے۔مجھے۔ انکی دوستی پر ناز ہے۔ احمد جاوید،شہباز عالم ،جمشید عادل ، ریحان غنی،راشد احمد،نعمت ،معظم حیدری،ریحان احمد،شعبان،زریں فاطمہ میرے پسندیدہ صحافیوں میں ہیں۔

    میں نے صحافت کے طالب علموں کا کلاس لیتے بتایا ہے کہ صحافت میں آئی ایم ساری کی گنجائش نہیں ہے۔ایک کم ظرف  اور انتقامی جذبہ رکھنے والا شخص اخبار کا مالک تو ہو سکتا ہے لیکن صحافی نہیں ہو سکتا ہے۔آج بہار سے معیاری اور خوبصورت روزنامے شائع ہو رہے ہیں۔میرا مشن ہے کہ اردو آبادی کو بنگالیوں کی طرح ایک اردو کا روزنامہ خرید کر پڑھنے کا آدی بنائیں اور مہینہ میں کم از کم ایک رسالہ ضرور خریدیں۔ یقین کریں ہم  اردو میں ۵۰ ہزار سے زیادہ سر کولیشن والا اخبار شائع کرنے کے اہل ہو جائیں گے۔اپنی مادری زبان اردو کے لیے اپنی ذمہ داری کا احساس ہم اپنے اندر کب پیدا کریں گے؟اردو بہار کی دوسری سرکاری زبان ہے۔کیا ہم اپنی دکانوں کے سائین بورڈوں میں اردو کو شامل کر رہے ہیں؟کیا ہم ایسی تقریبات میں جسکے کارڈ میں اردو شامل نہیں ہے میں شریک نہ ہونے کے عزم پر قایم ہیں؟ آپ صرف بیدار ہو جائیں ہم اردو کو عوام کی مقبول ترئن زبان بنا کر اردو دشمنوں کے منھ پر تالا جڑ دیںگے۔

    آج کی اردو صحافت  لیتھو پر شائع ہونے والی صھافت نہیں رہی۔ہم خبروں کے معاملے میں  ہندی صحافت کے سامنے کھڑے ہیں ۔اردو اخبارات کو ذاتی بغض و عناد سے دور رکھیں۔مجھے یاد ایک اخبار کے مالک کو ایک ادبی ادارے کا صدر بنا دیا گیا تھا تو مہینہ بھر اپنے روزنامہ میں لوگوں کا مبارکبادی بیان شائع کرتے رہے تھے۔اپنے اخبار کو اپنی ہی تشہیر کا استعمال کرنا صحافتی اقدار کے منافی ہے۔

    آج ہمارے دوست ایم ٹی خان جیسے لوگ ہیں جو میری تحریر پر کڑی نظر رکھتے ہیں ۔میں اگر بہکتا ہوں تو لفظوں کی تلوار چلانے سے نہیں چوکتے ہیں۔ آپ سے اپیل ہے کہ جہاں میری تحریر قابل اعتراض لگے مجھے فون پر کھری کھوٹی سنانے سے خود نہیں روکیں۔ سابق ایم ایل اے اور صحافی ڈاکٹر اظہار احمد میری صحافتی زندگی کی گولڈن جبلی تقریب منانا چاہتے ہیں ۔انہوں نے ۲ مارچ کو اردو اکادمی ایک مٹنگ طلب کی جس میں ۳۰ سے زیادہ دوستوں نے شرکت کی۔میں اس بات سے اتفاق رکھتا ہوں کہ زندہ لوگوں کو نظر انداز کر مرحومین کی یادگاری تقریب منا نا منا سب  نہیں ہے۔اگر میرے نام  سے نئی روایت شروع ہو تو  ایک خوش آئند بات ہوگی۔ امتیاز کریم نے صحیح لکھا ہے کہ ہم مردہ پرستی کے خول سے باہر نکلیں۔

( رابطہ9431421821)


************************

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 229