rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Present Situation -->> World
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Abida Rahmani
Title :
   Ahla wa Sahla Marhaba Aye Mahe Sayyam


اہلا و سہلا مرحبااے ماہ صیام  


از

عابدہ رحمانی

 

ماہ صیام کا پہلا روز یا روزہ ابھی چند لمحے پیشتر شروع ہوا ہے ۔ سحری ، تہجد اور فجر کی نمازیں ادا کیں ۔یہ با برکت مہینہ ہماری زندگی میں الحمد للّٰہ ایک مرتبہ پھر آگیا۔-اہل ایمان کے لئے یہ مبارک مہینہ اور اسکی ساعتیں اللہ تبارک و تعالٰی کی جانب سے ایک بیش بہا تحفہ ہیں اللہ تعالٰی ہمیں اس سے پورے طور پرمستفید ہونیکی توفیق عطا کرے-آمین

نزول قرآن کی سالگرہ

اگر ہم تاریخ کو غور سے دیکھیں تو رمضان ، حرمت کا مہینہ عرب معاشرے میں پہلے سے موجود تھا -یہ  ان چار مہینوں میں ہے جن میں جنگ و جدل منع کیا گیا تھا-اس مہینے کو اللہ نے نزول قرآن اور وحی پاک کے ذریعے برکت عطا کی ، شب قدر کو قرآن پاک کا نزول ہوا "انا انزلنٰہ فی لیلۃالقدر " اور ہم نے اس قرآن کو لیلۃ القدر میں اتارااور محمدﷺ پر پہلی وحی اتاری گئ اقراء باسم ربک الذی خلق--پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا --اس لحاظ سے یہ جشن نزول قرآن کا مہینہ ہے- یہ وہ مبارک رات ہے جسکی فضیلت ایک ہزار ایک مہینوں سے بھی بہتر ہے اسی رات کو فرشتے اور جبرئیل امین کارخانہ دنیا کا سالانہ حساب کتاب گویا آئندہ سال کا  پورا بجٹ اور تخمینہ تیار کرتے ہیں ۔ اسی جشن کو مناتے ہوئے دو ہجری میں اللہ تعالی نے روزے فرض کئے- 

شمالی امریکہ میں ہم کیلنڈر کی پیروی کرتے ہوئے بروز ہفتہ 27 مئی سے انشاءاللہ امسال رمضان المبارک کا آغاز کر رہے ہیں-،کیلنڈر کی پیروی نے ہمیں چاند ڈھونڈھنےسے بے نیاز کر دیا ہے-- یوروپ اور دیگر ممالک میں بھی مسلمان اپنے طور پر ماہ رمضان کا آغاز کرتے ہیں - کوئی سعودی عرب کی پیروی کرتا ہے ، کوئی مصر کی، کہیں انحصار کیلنڈر پر ہے اور کہیں اسپر بضد کہ بچشم خود چاند دیکھا جائے- 
پاکستان میں رویئت ہلال کمیٹی 29 شعبان کو بعد مغرب، ہلال رمضان ڈھونڈھنے کی کوشش کرتی ہے ۔مفتی منیب صاحب نے اعلان کر دیا ہے کہ چاند نظر نہیں آیا اسلئے پہلا روزہ اتوار کو ہوگا۔ جبکہ خیبر پختون خواہ میں حسب معمول ایک روز پہلے سے پہلا روزہ ہوگا، اسمیں طالبان کا کوئی عمل دخل نہیں ہے -یہ یہاں کی ایک روایت ہے - یہاں پر بقیہ پاکستان سے ہمیشہ ایک روز پہلے روزہ اور عید منائی جاتی ہے - ہم بچپن میں سنتے تھے کہ فلاں فلاں جاکر تحصیل میں ، اپنی بیوی کو تین مرتبہ طلاق دینے کی قسم کھا کر آیا ہے کہ اسنے اپنی آنکھوں سے چاند دیکھا ہے جبکہ حقیقتا ابھی اسکی شادی بھی نہیں ہوئی ہے --اسکو کھیل تماشہ بنانے والے صادق اور راسخ مسلمان اب بھی کم نہ ہونگے اور یہ سلسلہ یعنی بقیہ پاکستان سےایک روز پہلے عید منانا اور روزہ رکھنا ابھی بھی جاری ہے- وہاں پر ایک عام اصطلاح یہ استعمال ہوتی ہے " اچھا بڑا چاند ہے دیکھو ایک روزہ انہوں نے کھا لیا" بقر عید عموما ایک ساتھ منائی جاتی ہے 

جو بھی طریقہ اختیار کیا جائے تمام عالم اسلام اور مسلمانوں میں اس ماہ مبارک کی اہمیئت اور فضیلت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا- ہمت ہر کس بقدر او است 

اس سے پہلے اخبارات اور مجالس کے ذریعے عوام الناس کو اس مہینے کی آمد کیلئے تیار کیا جاتا تھا اب اللہ بھلا کرے ڈیجیٹل اور آنلائن ٹیکنالوجی کا سماجی رابطے کی ویب سایٹ خصوصا فیس بک اور اس سے بڑھ کر واٹس ایپ کا ایک سے ایک دیدہ زیب کارڈ، احکامات ، قرآن ، ،احادیث اور اقوال ذریں پر مبنی احکامات ایک طرف ہماری اصلاح اور درستگی کرتے ہیں، دوسری جانب ہمارے اندرونی جذبوں کو اجاگر کرتے ہیں- استقبال رمضان کو نجی محفلوں ، مساجد کی محفلوں میں بھی خصوصئیت حاصل ہے- الحمدللہ آنلائن سہولتوں کی بدولت ہمارے آنلاین دورہ قرآن کے کئی پروگرام شروع ہو چکے ہیں اس سے پہلے استقبال رمضان بھی ہوچکے ہیں--مجھے نہیں یاد کہ ہمارے بچپن میں اسطرح کے کوئی سلسلے ہوتے تھے - بس رمضان آیا چاند کا اعلان ہوا اور لوگوں نے روزے رکھنے شروع کر دئے - مجھے وہ وقت یاد ہے کہ جب ہم گاؤں میں ہوتے تھے تو سخت گرمی میں میری والدہ تولیہ بھگو بھگو کر سر پر رکھتی جاتی تھیں اور پھر ہمارے گاؤں کے سب سے ٹھنڈے کنویں سے میں اپنی ملازمہ کے ہمراہ پانی لینے جاتی تھی اسوقت ہمارے گاؤن میں بجلی نہیں تھی اور جب چھت سے بندھے ہوے موٹے کٹ کا پنکھا جھلانے والا بچہ ڈوری کھینچتے ہوئے خود ہی بے خبر سو جایا کرتا تھا -کیا دن تھے خربوزے اور تربوز ٹھنڈا کرنیکے لئے کاٹ کر رکھ دئے جاتے تھے -- 

روزے ہر طرح رکھے جاتے ہیں ہر موسم میں رکھے جاتے ہیں اور کیوں نہ رکھے جائیں یہ دین اسلام کا دوسرا اہم ستون اور فرض ہے-- آپ سب روزوں کی فرضیت، اداب، ممنوعات اور احکامات سے واقف ہیں - اسلئے میں اس موضوع پر یاد دہانی کرانا اسوقت ضروری نہیں سمجھتی ، میں محض رمضان کے متعلق غیر معروضی بات کرونگیٓ- اسلامی مہینوں کا حسن یہ ہے کہ یہ بدلتے رہتے ہیں - شمسی کیلنڈر سے دس دن کے فرق سے رمضان اور حج کے مہینوں کا موسم بدل جاتا ہے اور ہمارے یہ دو دینی فرائض بشمول عیدین ایسے ہیں جنکا انحصار خصوصی مہینوں پر ہے- یہ جب سردیوں میں آتے ہیں تو موسم کی مناسبت سے کافی سہل ہوجاتے ہیں جبکہ گرمی کے روزے رکھنا ایک جہاد سے کم نہیں ہیں اور اللہ تبارک و تعالی سے اسکی مزید اجر و ثواب کی توقع رکھنی چاہئے-

وہ ممالک جہاں پر ان دنوں گرمیاں معراج پر ہیں کم از کم بجلی اور ایر کنڈیشننگ کی نعمت سے سرفراز اور مالامال ہیں اور دوسرے ممالک جہاں پر روزہ 18،19 گھنٹے طویل ہو سکتا ہے  ۔ہمارا روزہ آج سترہ گھنٹے کا ہوگاجو تقریباً آدھ گھنٹہ طویل ہوگا -لیکن اللہ تعالی ایسی قوت ایمانی دے دیتا ہے کہ رمضان جیسے آتا ہے اتنی ہی تیزی سے رخصت بھی ہونے لگتا ہے اسکینڈے نیویا کے ممالک ناروے اور سویڈن میں جہاں دن ختم ہونے کا نام نہیں لیتا وہاں پر قریبی مسلم ملک کے حساب سے سحر و افطار کا تعین کر دیا جاتا ہے- ان غیر مسلم ممالک میں چاہے وہ یوروپ ہو ،شمالی یا جنوبی امریکہ ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ، یہاں پر ملازمت پیشہ افراد کیلئے روزے رکھنا ایک کڑی آزمائش ہے بسا اوقات تو بیشتر لوگ جانتے بھی نہیں کہ روزہ کیا ہے اور اسکا مقصد کیا ہے؟ - پورے دفتر میں ہوسکتا ہے آپ تنہا راسخ العقیدہ مسلمان ہوں - لنچ بریک ہے ، کافی یا ٹی بریک ہے ہر طرف لوگ کھا پی رہے ہیں وہ آپکو حیرت سے دیکھتے ہیں اگر انکو سمجھانے کی کوشش کریں تو الٹا آپ پر ترس کھانے لگتے ہیں- "اوہ یہ کتنا مشکل کام ہے یہ تو ظلم کی انتہا ہے کم از کم پانی تو پینا چاہئے " اور آپ اپنا سا منہ لے کر بیٹھ جاتے ہیں پھر منہ سے جو روزہ دار کی بو آتی ہے جو اللہ کو مشک سے زیادہ محبوب ہے - یہ تو غنیمت ہے کہ ہمارے علماء نے ٹوتھ پیسٹ کے استعمال کی اجازت دیدی ہے بشرط یہ کہ حلق میں نہ جائے -- ہاں پھر مساجد میں دل کھول کر ماحول بن جاتا ہے اور مسلمان کمیونٹی مساجد میں خوب تقریبات کا اہتمام کرتی ہے اجتماعی افطار ،بہترین حفاظ کی  تراویح جس کے دل میں ایمان کی روشنی ہے پورا خاندان مسجد دوڑا جاتا ہے اور مسجد سے جڑ جاتا ہے-مجھے تو مساجد میں جو لطف آتا ہے اور جو چہل پہل نظر اتی ہے اس سے تو ہم پاکستان میں بھی محروم ہوتے ہیں-- آجکل دنیا کے بیشتر ممالک میں اسکولوں کی گرمیوں کی چھٹیاں ہیں- زمین کا شمالی کرہ گرمیوں کی لپیٹ میں اور جنوبی کرہ سردی کی لپیٹ میں ہے انکے روزے تو خوب مزے میں گزرینگے --کینیڈا میں تو خوبی کی بات یہ ہے کہ کئی گروسری سٹور رمضان کی اشیاء کی سیل لگا لیتے ہیں--مسلمان آبادی اس سے کافی خوش اور مطمئن ہوجاتی ہے-

پاکستان میں استقبال رمضان کا خاصہ ہوا کرتا تھاکہ وہ تمام پھل اور اشیاء جو رمضان میں لازم و ملزوم تھے ہمیشہ مہنگے کر دئے جاتے تھے کاروباری حلقےکو منافع بٹورنے کیلئے اس سے بہترین موقع کہاں میسر - کراچی میں ایک مرتبہ گرمیوں کے روزوں میں تربوز کے دام تگنے ہوگئے- آخر میں بارش ہوئی موسم بہتر ہوا تو ٹرک کے ٹرک اپنا سڑا ہوا مال سبزی منڈی کے باہر پھینک گئے وہ بدبو اور تعفن خدا کی پناہ--

-حکومت پاکستان نے روزہ داروں کے لئے اپنی طرف سے سحر و افطار پر لوڈ شیڈنگ نہ کرنیکا تحفہ دیا ہے دیکھئے کہ اس پر عمل کہاں تک ہوتا ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا -ورنہ شاید ہم پھراسی پرانے دور میں چلے جائیں کہ تولئے بھگو کر سر پر رکھے جائیں-

اسلامی ممالک میں تو رمضان کا سماں ہی کچھ اور ہوتا ہے - 

سعودی عرب میں ہر رمضان اسکولوں کی چھٹیاں کر دی جاتی ہیں سعودی عرب میں رمضان کا پورا مہینہ ایک جشن کی صورت میں منایا جاتاہے - اور غالبا یہی طریقہ دیگر عرب ممالک میں ہے تراویح کے بعد سے سارے بازار کھل جاتے ہیں ہر طرف ایک چہل پہل ایک رونق ، عربی خواتین کی خریداری دیکھنے کے قابل ہوتی ہے انکی ریڑھی اوپر تک لبا لب بھری ہوئی کہتے ہیں رمضان کی خریداری پر اللہ کے ہاں حساب نہیں ہوگا اس وجہ سے وہ رمضان میں خوب خریداری کرتی ہیں- اب یہ بات محض سنی سنائی ہے یا اسکی کچھ حقیقت ہے تو عالم فاضل حضرات اس کی وضاحت فر ما دیں- اکثر دفاتر بھی رات کو کھلے ہوتے ہیں - فجر کے بعد عام طور سے لوگ سو جاتے ہیں اور پھر ظہر پر اٹھتے ہیں- پاکستان میں دفاتر کے اوقات کار کو کم کردیا جاتا ہے - حالانکہ شیطان یا شیا طین کو پابند سلاسل کر دیا جاتا ہے -لیکن اسکی عملی شکل دیکھنے میں نہیں آتی کہ جرائم کی شرح میں کوئی کمی نظر نہیں آتی ٓکیونکہ چور چوری سے جاتا ہے لیکن ہیرا پھیری سے نہیں جاتا- 

مسلمان ممالک آپس میں بری طرح بر سر پیکار ہیں عراق اور شام   تنظیم دولت اسلامی عراق و شام (داعش)کی پیش قدمی اور کامیابی ایک نئے انقلاب ، جنگ اور خانہ جنگی کی آئینہ دار ہے -سعودی عرب کایمن کے حوصی قبائیل کی سر کوبی کرنا ایک اور ظلم و بر بریت کی داستان ہے۔کشمیر کے مظالم بھی ختم ہونیکا نام نہیں لیتے۔پر اب تو یہود و ہنود کو بھول چکے ہیں مسلمانوں میں جو فقہ دارانہ کشیدگی اور قتل و غارتگری جاری ہے کہ الامان و حفیظ ،شام کے حالات پہلے ہی حد درجہ دگر گوں ہیں - 

اسلام سے پہلے رمضان کا مہینہ حرمت کا مہینہ تھا جسمیں جنگ و جدل روکدیا جاتا تھا - کیا تمام مسلمان کم از کم اس مہینے کی حرمت کا لحاظ کر سکتے ہیں کیا مسلمان کے ہاتھوں ایک مسلمان جان و مال کی امان پا سکتا ہے- صوم کی ڈھال تھامے ہوئے سب سے پہلے تو قتل و غارتگری بند ہونی چاہئےروزے کا دارومدار تقوٰی پر ہے تمام عبادات کا لب لباب یہ ہے شائد کہ تم تقوٰی اختیار کرو

اللہ تعالٰی ہمیں متقون میں شامل کرے -اسوقت ہمیں ان مسلمانوں کی بھرپور مدد کرنی چاہئے جو نامساعد حالات کا شکار ہیں چاہے وہ پاکستان ہے ، شام ، عراق یا دیگر ممالک  ایسا نہ ہو کہ یہ روزے محض سحریوں ، افطاریوں اور افطار پارٹیوں کے لوازمات تک ہی محدود رہ جائیں

و ما علینا الا البلاغ
میرے قارئین اور ناقدین کو ماہ صیام کی بابرکت ساعات کی پیشگی دلی مبارکباد 
اللھم تقبل منا و تقبل منکم 

اللہ تعالٰی آپکو نیکیوں کی اس فصل بہار اور جشن نزول قرآن کے اس مبارک مہینے سےفوائد اور نیک اعمال حاصل کرنیوالا بنائے--اللہ تبارک و تعالٰی ہمارے روزوں اور تمام عبادات قبول فرمائے  آمین

******************

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 103