donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Dr Javed Jamil
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
* کبھی تو خفا کبھی میں خفا، یونہی وق *
 غزل
از ڈاکٹر جاوید جمیل
 
کبھی تو خفا کبھی میں خفا، یونہی وقت وصل چلا گیا
یہ اناؤں کا تھا مقابلہ جو چراغ دل کے بجھا گیا
 
 
تو مرے ہی گھر کے چراغ سے مرے گھر کو آگ لگا گیا
نہ فضول رونے کا ڈھونگ کر، مرا گھر جلا ترا کیا گیا
 
کہیں مجھ سے تو نہ دغا کرے کہ اکیلا راہ پہ چھوڑ دے
نہیں جانتا کہ یہ خوف کیوں مری نفسیات پہ چھا گیا
 
وہ خیال تیرا خیال تھا جو مجھے عزیزتھا جان سے
کبھی لطف بن کے ہنسا گیا، کبھی درد بن کے رلا گیا
 
تو کرے کہ پھر میں کروںا، پہل یہی انتظار تھا جان_ من
جو محبتوں کو سلا گیاا، جو عداوتوں کو جگا گیا
 
Comments


Login

You are Visitor Number : 526