donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Dr Javed Jamil
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
* مستقل دوستوں میں رہتا ہوں *
غزل
ڈاکٹر جاوید جمیل 

(پہلے مجموعہ "رہگزر" ١٩٩٨ سے)
 
مستقل دوستوں میں رہتا ہوں
اس لئے الجھنوں میں رہتا ہوں
 
جب سے شہہ سرخیوں میں رہتا ہوں
بغض کے خنجروں میں رہتا ہوں
 
سیر و تفریح کب مقدر میں
رات دن مسئلوں میں رہتا ہوں
 
کیا بگاڑے گی میرا تنہائی
یاد کی محفلوں میں رہتا ہوں
 
بھول بیٹھا ہوں میں کہ کیا ہوںمیں
آجکل شاعروں میں رہتا ہوں
 
کون ٹوکے گا مجھ کو لغزش پر
اپنے شیدائیوں میں رہتا ہوں
 
پھوٹے ہر اک چٹان سے چشمہ
بس انھیں کوششوں میں رہتا ہوں
 
پر سکوں نیند کیا میسر ہو
وقت کی شورشوں میں رہتا ہوں
 
آئوں جاوید کیوں ترے گھر میں
پھول ہوں گلشنوں میں رہتا ہوں
******
 
Comments


Login

You are Visitor Number : 498