donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Shahid Jameel
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
* لاکھ خالی رہے منظر کوئی *
غزل

لاکھ خالی رہے منظر کوئی
مجھ میں بس جاتا ہے آکر کوئی
نیند کے طاق سے خوابوں کے چراغ
لئے جاتا ہے اٹھا کر کوئی
ایک پہچان تھی خود سے اپنی
لے گیا وہ بھی بہار کر کوئی
بھولتے رہئے کسی پَل کچھ بھی
یاد آجاتا ہے اکثر کوئی
ہر کے قصے میں دکھوں کی کشتی
ہر ہتھیلی میں سمندر کوئی
ایک منزل ہے رکاوٹ جیسی
راستے میں نہیں پتھر کوئی
ہاتھ بھی سرد ہوئے دل کی طرح
کیا کرے ہاتھ ملا کر کوئی
٭٭٭
 
Comments


Login

You are Visitor Number : 406