donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
afsane
Share on Facebook
 
Krishan Chander
  Brahamputra
برہم پُترا  
Share to Aalmi Urdu Ghar
Page No. :- 1 / 3
برہم پُترا
 
کرشن چندر
 
 
تو مار جو لے باتی، تو مار گھورے شاتھی  تمھارے گھر میں چراغ جلتا ہے اور گھر میں ساتھی بھی ہ
 
امار تور ے راتی، امار تورے تارا              
میرے لیے رات ہے اور تارے               
 
 تو مار اچھے ڈانگا، امار اچھے جُول           
تمھارے لیے زمین ہے اور میرے لیے پانی
 
  تو مار بُوشے تھاکا، امار چولا چول            
تمھارے لیے آرام ہے میرے لیے ہمیشہ کا چلنا
         (ٹیگور کا ایک گیت) 
                     
اپنے جوڑے میں سفید گلاب کا پھول ٹکائے اور ایک گہرے بسنتی رنگ کی ساڑی پہنے جس کا لہریہ گہرا سُرخ تھا، لوتیکا سین اپنے منّے کی طرف مسکراتی چلی آرہی تھی، منّا لکڑی کے گھوڑے پر سوار تھا، اور وہ اسے چابک مار مار کے اپنی دانست میں سرپٹ دوڑا رہا تھا۔ جب منّے نے اپنی ماں کو اپنی طرف آتے دیکھا تو اس نے لکڑی کے گھوڑے کی باگ زور سے کھینچی اور گھوڑا اُلٹ گیا اور منّا نیچے اور گھوڑا اس کے اوپر جا گرا۔
 
منّا رونے لگا۔ لوتیکا نے ہنستے ہنستے اسے اپنی گود میں اٹھالیا۔
منّا روتے روتے بولا’’گھوڑا بڑا شیطان ہے۔ اس نے مجھے نیچے گرا دیا۔‘‘
لوتیکا بولی’’تو نے بچارے کی باگ جو زور سے کھینچ دی تھی۔‘‘
منّا بولا ’’میں نے ماں کو دیکھا تھا نا۔‘‘
لوتیکا نے اسے چُوم کر اپنی چھاتی سے لگا لیا۔ بولی’’اچھا دیکھ میں بازار جا رہی ہوں۔ منّے کے لیے کیا لائوں؟‘‘
منا بولا’’ میں تو باجہ لوں گا۔ گھوڑے پر چڑھ کر باجہ بجائوں گا اور اپنی فوج کے آگے آگے چلوں گا۔‘‘
یہ کہتے کہتے منّے کا چہرا اس وقت بڑا سنجیدہ ہوگیا، بالوں کی لٹیں اس کے ماتھے پر بکھر گئی تھیں۔ وہ رونا بھول گیا تھا۔ آنسو ابھی تک اس کے گالوں پر چمک رہے تھے۔ لوتیکا نے رومال سے اس کے آنسو پونچھ دیئے اور اس کی لٹوں میں انگلیاں پھیر کر انہیں پیچھے چھٹکا دیا۔
’لوتیکا تو کدھر جا رہی ہے؟‘
 
یہ چاچی کی آواز تھی۔ چاچی ہاتھ پونچھتی ہوئی رسوئی سے باہر نکل رہی تھیں۔ چاچی کی عمر بہت بڑی تھی، ان کے سر کے بال سفید تھے، چہرے پر جُھرّیاں تھیں، جسم سوکھا سوکھا اور پتلا تھا۔ ان کا چہرہ بہت سے غموں اور دُکھوں کی کہانی کہتا تھا، لیکن اس پر بھی چاچی کے چہرے پر ایک عجیب موہنی معصومیت تھی جو جانے اس بڑھاپے میں بھی جب آدمی سب کچھ کھو بیٹھتا ہے کیسے باقی رہ گئی تھی۔ آج کل تو بچوں کے چہرے پر بھی ایسی معصومیت نہیں ملتی۔ چاچی نے کیسے اور کس جتن سے اس معصومیت کی حفاظت کی ہوگی، اس کا راز نہیں کھلتا۔ چاچی کی عمر ساٹھ اور آٹھ سال کی تھی۔اس عمر میں چاچی نے اپنے گائوں کو جو برہم پترا کے کنارے آباد تھا دو دفعہ بہتے دیکھا۔ دو دفعہ پھر بستے دیکھا۔ سات دفعہ چھوٹے چھوٹے اکال آئے اور تین بڑے بڑے اکال اور آخری اکال میں تو چاچی کا ساری پریوار ختم ہوگیا اور چاچی اپنا گائوں چھوڑ کر لوتیکا کے ہاں کلکتہ چلی آئیں۔ رائے بہادرمو جمدار لین میں لوتیکا کا گھر تھا۔ چاچی جب پہلی بار کلکتے آئیں تو انہیں یہ گھر بھی بڑی مشکل کے بعد ملا۔ اور جب وہ گھر کے اندر داخل ہوئیں تو اس وقت سامنے کے مندر میں آرتی اتاری جارہی تھی، لیکن لوتیکا کے گھر میں آرتی کے وقت بھی اندھیرا تھا اور لوتیکا کا پتی سیڑھیوں پر سے دبے پائوں اُتر کر باہر جارہا تھا۔ وہ چاچی کے لیے صرف ایک منٹ کے لیے رُکا اور پھر یہ کہہ کر فوراً چلا گیا ’’چاچی میں پھر آئوں گا۔ اس وقت میں رک نہیں سکتا۔ ایک ضروری کام ہے۔ لوتیکا میری غیر حاضری میں تمہارا سب خیال رکھے گی۔‘‘ اور پھر چاچی نے دیکھا کہ لوتیکا کے پتی نے ایک لمحے کے لیے لوتیکا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور پھر اسے چھوڑ دیا اور تاریک سیڑھیوں سے نیچے اتر کر عقب کے دروازے سے باہر جانے لگا۔ پچھواڑے کی گلی میں چاچی نے دیکھا کہ لوتیکا نے بڑی احتیاط سے اس کے لیے دروازہ کھولا۔ روشنی کی ایک پتلی سے لکیر تڑپتی ہوئی اندر آئی اورپھر دروازہ اندر سے بند ہوگیا۔ لیکن اس ایک لمحے میں چاچی نے دیکھا کہ لوتیکا ایک لانبے قد کی، سانولی صورت والی، دلکش لڑکی ہے۔ اس نے سفید ساڑھی پہن رکھی ہے اور اس کی آنکھوں میں آنسو جھلملا رہے ہیں۔ ان آنسوئوں کو دیکھ کر چاچی ایک لمحے کے لیے لرز گئی تھی۔ لوگ دھان، کپاس اورگندم بوتے ہیں۔ چاچی نے تو اپنی زندگی میں صرف آنسو بوئے تھے۔ انہوں نے سوچا کہ شاید یہاں کلکتے میں یہ آنسوں نہیں ہوں گے۔ یہ آنسو تو صرف برہم پُترا ندی کے کنارے ہوتے ہیں۔ جہاں کسان چاول کے موتیوں کی فصل بوتے ہیں اور آنسو کاٹتے ہیں۔ کیا یہ سنسار ہی ایسا دُکھ بھرا ہے؟ ایک لمحے کے لیے چاچی جس آرام اور سکھ کی تلاش میں کلکتے آئی تھیں،اسے بھول گئیں۔ انہوں نے دھیرے سے لوتیکا کا ہاتھ پکڑ کے 
بڑے نرم لہجے میں پوچھا تھا ’’کیا بات ہے بہو؟‘‘
 
لوتیکا مسکرا کر اپنے آنسوئوں کو پی گئی اس نے چاچی کا ہاتھ زور سے دبا کر بڑی مدھم آواز میں کہا تھا۔’’کچھ نہیں چاچی، آئو، اوپر آجائو۔‘‘
 
لوتیکا نے چاچی کا بقچہ سنبھال لیا تھا اور اسے اوپر لے گئی تھی۔
اس دن سے آج تک چاچی نے لوتیکا کے پتی کو پھر کبھی نہیں دیکھا تھا۔ چاچی اپنا گائوں چھوڑ کر اس لیے یہاں آئی تھیں کہ یہاں بر ہم پُترا نہیں ہے۔ اب انہیں احساس ہوا جیسے برہم پُترا یہاں بھی ہے؛ اور جب تک لوتیکا کا پتی یہ دریا پار نہ کرلے وہ واپس گھر نہیں آسکتا۔ بس اتنا ہی انہیں اندازہ ہوسکا۔ وہ اکثر بالکونی میں کھڑے کھڑے گیلے کپڑے ٹانگتے ہوئے سوچا کرتیں اور ان کی آنکھوں کی کانپتی ہوئی حیران پُتلیاں نیچے گلی میں بھاگتی ہوئی مخلوق کو دیکھ کر آزردہ ہوجاتیں۔ یہ سب لوگ کس طوفان کی پیشوائی کو بھاگے جارہے ہیں، ابھی پانی کہاں چڑھا ہے؟ کہاں یہ آگ لگی ہے؟
 
لیکن چاچی ان سوالوں کا جواب ٹھیک سے نہ دے سکتیں اور اپنی کانپتی ہوئی پُتلیوں سے نیچے گلی میں گذرنے والی مخلوق کو حیرانی سے دیکھتی رہتیں۔
 
اس وقت چاچی کی نگاہوں میں وہی موہوم سا ڈر تھا جب انھوں نے لوتیکا کے قریب آکر پوچھا ’’توکہاں جا رہی ہے لوتیکا؟‘‘
 
اور پھر لوتیکا کو چپ دیکھ کر چاچی نے خود ہی لرزتی ہوئی آواز میں پھر پوچھ لیا’’کیا جلسے میں جارہی ہے؟‘‘
 
لوتیکا کی مسکراہٹ بڑی اچھی تھی۔ چاچی کی مسکراہٹ بھی بڑی اچھی تھی لیکن چاچی کی مسکراہٹ ایسی تھی جیسے کوئی مرنے سے چند لمحے قبل زندگی کے سارے دکھ اور درد کو سمجھ لے اور سمجھ کر نیلے آسمان کی طرف دیکھ کر مسکرادے۔ چاچی کی مسکراہٹ میں شفق کی موہنی تھی۔ لیکن لوتیکا کی مسکراہٹ صبح کا پہلا اجالا تھی جو بہت دور سے اور شاید کہیں بہت نزدیک سے آئی تھی اور ستاروں کی چلمن اٹھا کر آہستہ آہستہ تاریکی کا نقاب اُلٹ رہی تھی۔ بڑی میٹھی میٹھی، مدھم مسکراہٹ جیسے کوئی ریشم کے اوپر ریشم رکھ دے۔ لیکن یہ مسکراہٹ ایک عجیب رفاقت اور مضبوطی کا احساس بھی لیے ہوئے تھے۔ جیسے برہم پُترا بھی ہے اور طوفان بھی ہے، لیکن ایک کشتی بھی ہے جو پار لے جاسکتی ہے۔
 
چاچی کے ہونٹ کانپے، ایک سفید لٹ گھبرا کے مرجھائے ہوئے رخسار پر گر پڑی۔ انہوں نے ایک عجیب ملتجیانہ انداز میں لوتیکا سے کہا ’’تم جلسے میں ضرور جائو گی؟‘‘
 
لوتیکا ہنسی اس نے وہ سفید لٹ بڑی محبت سے اٹھا کر چاچی کے کان کے پیچھے گھما دی اور بڑے پیار سے بولی ’’ میں تو آٹھ بجے سے پہلے گھر پہنچ جائوں گی چاچی۔ آتے ہی مجھے کھانا دے دینا، سچ مچ مجھے بہت بھوک لگ رہی ہوگی۔‘‘
 
لوتیکا جلدی سے یہ کہہ کر تاریک سیڑھیوں سے اُترنے لگی۔ چاچی سیڑھیوں کے اوپر منّے کا ہاتھ پکڑے دیر تک کھڑی رہیں۔ پھر دروازہ کھلا، روشنی کی ایک پتلی سی لکیر تڑپی، پھر اندھیرا چھا گیا۔ منّے نے کہا’’چاچی چلو۔ مجھے مہا کوی کے ننھے چاند کے گیت سنائو۔‘‘
 
چاچی اب سب کچھ بھول گئیں۔ انہیں مہا کوی ٹیگور کے ننھے چاند کے گیت بہت پسند تھے۔ آج انہوں نے منّے کو وہ گیت سنایا جب بچہ کھوجاتا ہے اور ماں اسے ڈھونڈتی ہے، اور اس کا نام لے کر پکارتی ہے، اور بچہ ایک جوٗہی کا پھول بن کر اس کی آغوش میں آگرتا ہے۔
 
گیت گاتے گاتے چاچی کو یاد آیا، کتنے خوبصورت جوہی کے پھول تھے۔ ایک ایک کرکے وہ سب برہم پُترا کی لہروں میں کھو گئے اور آخر میں چاچی کی گود خالی رہ گئی۔ سب کچھ مٹ گیا- موتیوں ایسے بیٹے اور موتیوں ایسے دھان کی فصلیں۔ آخر میں صرف برہم پُترا ندی رہی اور زمیندار کی گڑھی... چاچی گیت گاتے چپ ہوگئیں اور انہوں نے منّے کو اٹھا کر زور سے اپنی بانہوں میں بھینچ لیا۔
 
منّے نے مچلتے ہوئے کہا ’’اوں ہوں!چاچی ایک گیت اور سُنائو۔‘‘
اور اب کے چاچی نے وہ گیت سنایا جس میں چاند کی کشتی آسمان کی ندی میں ہولے ہولے بہتی ہے اور بچہ اس میں بیٹھا ہوا اُسے ہولے ہولے کھیتا جاتا ہے۔
اور منّا یہ کشتی کھیتے کھیتے سوگیا۔
………
رائے بہادرموجمدار لین سے گذر کر لوتیکا اب گھنشام داس بازار میں چل رہی تھی۔ چلتے چلتے لوتیکا کو دو ایک بار ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی اس کے پیچھے پیچے چل رہا ہے اس نے گھوم کر دیکھا۔ کوئی نہیں تھا۔ شاید یہ اس کے دل کا واہمہ تھا۔ کوئی اس کا پیچھا نہیں کر رہا تھا پھر بھی احتیاط ضروری ہے۔ لوتیکا نے سوچا شہر میں دفعہ 144 لگ چکی ہے۔ سنبھل کے چلنا چاہیے لوتیکا نے چاروں طرف دیکھا۔ بازار میں لوگ آجارہے تھے۔ دوکانیں سجی ہوئی تھیں۔ لوگ سودا سلف بھی خرید رہے تھے۔ بسیں اور ٹرامیں بھی گذر رہی تھیں۔ پھر بھی لوتیکا کو ایسامحسوس ہوا جیسے یہ سارا امن و سکون سطحی ہے، جیسے یہ فضا اک پتلے باریک فولادی بلیڈ کی سطح کی طرح تنی ہوئی ہے۔ یوں کہ ذرا ہاتھ لگانے سے خون بہہ نکلے گا۔ لوگ باگ چل رہے تھے، کام کررہے تھے، بوجھ اُٹھا رہے تھے اور کہیں کہیں ہنسی کی آواز بھی سُنائی دیتی تھی۔ پھر بھی لوتیکا کو ایسے جان پڑتا کہ جیسے اس کے سارے پس منظر میں غصّہ کی اک گونج ہے، جیسے کہیں دور اُفق پر لال لال روشنی نظر آکے گم ہوجاتی ہے۔ جیسے ریت کے کنارے دھیرے دھیرے لہریں آگے بڑھ رہی ہوں اور لوتیکا چوکنّی ہو کر آگے پیچھے دیکھنے لگتی۔
 
کھلونوں کی ایک دوکان پر کھڑے ہوکر اس نے منّے کے لیے ایک باجہ خریدا اور اسے اپنے ہونٹوں سے لگا کر بجایا۔ دوکاندار نے مسکرا کر کہا’’آپ تو یہ بہت اچھا بجا لیتی ہیں۔‘‘لوتیکا نے ہنس کر باجہ اپنے بٹوے میں رکھ لیا اور دوکاندار کو دام دینے لگی۔ عین اسی وقت اس نے پھر محسوس کیا جیسے کوئی اس کے بہت قریب سے گذر کر نکل گیا ہو۔ اس نے گھوم کر دیکھا کوئی نہیں تھا۔ سامنے دو آدمی گاندھی ٹوپی پہنے مزے میں باتیں کرتے ہوئے چلے جارہے تھے۔ پھر بھی لوتیکا محتاط ہوگئی۔ جلسے میں جانے سے پہلے وہ آج اپنے پتی سے ملنا چاہتی تھی جو یہیںکلکتے میں چھپا ہوا تھا۔ مگر اب اس نے ایک دم فیصلہ کیا کہ آج وہ اس سے نہیں ملے گی۔ شاید پولیس پیچھا کر رہی ہو اور کہیں وہ اپنی بے وقوفی سے اپنی پتی کی رہائش کا پتہ پولیس کو دے دے؛ لوتیکا کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ اس نے دوکان سے اتر کر چورنگاہ سے ادھر دیکھا جدھر اس کا پتی چھپا ہوا تھا۔ پھر اس نے منہ موڑ لیا اور بوئو بازار کی بس پکڑ لی۔ فاصلہ یہاں سے زیادہ نہیں تھا۔ اور وہ پیدل ہی جانا چاہتی تھی۔ مگر اس نے سوچا کہ راستے میں کہیں اس کا دل ڈانوا ڈول نہ ہوجائے۔ اس نے بس پکڑنے میں ہی خیریت سمجھی۔
 
بس میں اسے نیلما اور پرتبھا مل گئیں۔ نیلما بڑی نازک مزاج، نفاست پسند لڑکی تھی۔ وہ بہت امیر نہیں تھی، بہت خوبصورت نہیں تھی، بہت پڑھی لکھی نہیں تھی پھر بھی اسے دیکھ کر لوگ ہمیشہ اندازہ لگاتے کہ نیلما بہت خوبصورت ہے، بہت امیر ہے، بہت پڑھی لکھی ہے۔ دراصل اس کے مزاج میں سلیقے اور سگھڑاپے کو اتنا دخل تھا کہ وہ اپنے چھوٹے سے گھر میں، اپنی چھوٹی سی تنخواہ میں، اپنے چھوٹے سے علم میں اس طرح زندگی بسر کرتی تھی کہ زندگی اپریل کے ابر کی طرح صاف شفاف اور چمکتی ہوئی نظر آتی۔ نیلما کو اچھی خوشبوئوں کا بڑا شوق تھا کیونکہ ہسپتال میں اسے اکثر گندی سڑی بدبوئوںسے واسطہ رہتا تھا، اور نرس کا کام کرتے کرتے اسے ان بدبوئوں سے چڑ سی بھی ہوگئی تھی۔ اسے لیے وہ اکثر شام کو چھٹی کے بعد بڑی تیز خوشبو استعمال کرتی تھی۔ لیکن جب سے اس کا اشتراکی خاوند اپنی انقلابی سرگرمیوں کی وجہ سے جیل میں چلا گیا تھا، نیلما کو خوشبوئوں سے نفرت سی ہوگئی تھی۔ وہ اب بھی اسی طرح صاف ستھری، نفاست پسند لڑکی نظر آتی تھی۔ اب بھی اس کا گھر آئینے کی طرح چمکتا تھا، لیکن اب اس کے بالوں میں خوشبو نہیں تھی۔ اسی لیے تو آج لوتیکا اس کے بالوں کی خوشبو سونگھ کر بہت حیران ہوئی۔
لوتیکا نے پوچھا ’’کیوں کیا ماجرا ہے؟ پتی مہاشے سے ملنے جارہی ہو؟‘‘
 
نیلما مسکرائی۔ ’’نہیں پگلی، میں تو تیرے ساتھ جلسے میں جارہی ہوں۔‘‘
اور پرتبھا نے اپنے گول گول گال خود ہی تھپتھپاتے ہوئے کہا۔’’رام رام! آج توجیسے خوشبوئوں کا طوفان اُٹھ رہا ہے، چاروں طرف چنبیلی ہی چنبیلی ہے۔ اور لوتیکا نے بھی تو آج غضب ڈھا رکھا ہے۔ بسنت گھٹائیں باندھ کے آئی ہے اور لال لال گلال چاروں طرف بکھر رہا ہے۔ سکھیو! کیا یہ سب جلسے میں جانے کی تیاری ہے؟ وہاں یہ سندرتا کسے دکھائو گی؟‘‘
 
اتنا کہہ کر پرتبھا زور سے ہنس پڑی۔ یہ پرتبھا کی خاص عادت تھی کہ خود ہی بات کرکے خود ہی ہنس پڑتی تھی۔ پرتبھا موٹی موٹی گلگلی سی لڑکی تھی۔ لیکن پتی مہاشے بڑے تنک مزاج اور گمبھیر تھے۔ پرتبھا اور اس کے پتی کی صفات ان کے لڑکے میں جمع ہوگئی تھیں۔ یعنی لڑکا ماں کی طرح موٹا تازہ تھا اور باپ کی طرح گمبھیر! ذرا سی انگلی دکھانے پر زور زور سے چلانے لگتا۔ پرتبھا آج اپنے پتی اور اپنے بیٹے دونوں کو گھر میں چھوڑ کر آئی تھی۔ وہ اب اپنی سہیلیوں سے ہنس ہنس کر کہہ رہی تھی’’آج گھر میں خوب لطف رہے گا۔ یہ دونوں حضرت باری باری سے روئیں گے، اور ایک دوسرے کے اوپر برتن پھینک کر اپنا جی بہلائیں گے۔‘‘
 
لوتیکا نے فہمائش کرتے ہوئے اس سے کہا’’اس طرح اپنے گھر کو رکھو گی تو کیسے کام چلے گا؟‘‘
پرتبھا بولی’’تو کیا کروں سکھی، مجھ سے تو ایک ہی بار دو دو کام نہیں ہوتے۔ آج صبح جلسے کی لیے تقریر تیار کررہی تھی کہ پتی مہاشے چائے مانگنے لگے۔ چائے دی تو کھانا مانگنے لگے،کھانا کھلایا تو ٹائی مانگنے لگے۔ کھوئی ہوئی ٹائی ڈھونڈکے دی تو اتنے میں لڑکے نے کتّے کے منہ میں انگلی دے کر ملہار راگ شروع کردیا۔ میں نے کتے کو دھر کے پیٹا تو پتی مہاشے نے شام کلیان شروع کردیا۔ اب جب وہاں سے چلی تو دونوں بھیرویں گا رہے تھے۔ اب تم ہی بتائو کیا کروں؟‘‘
نیلما نے کہا۔’’بچے کو تو کسی اچھے سے ڈاکٹر کو دکھائو۔‘‘
 
پرتبھا نے چمک کر کہا ’’کیسے دکھائوں؟ کلکتہ میں اچھا ڈاکٹر جتنی فیس لیتا اس سے تو ہمارے گھر بھر کے مہینے کا راشن چلتا ہے۔ تو کیا بی، سی رائے کو بلا کے دکھلائوں؟ تم بھی کیا بورژا سماج کے لوگوں کی سی باتیں کرتی ہو کبھی کبھی۔ اور پھر یہ تو دیکھو کہ میں کھلاتی کیا ہوں اپنے بیٹے اور اپنے ان کو۔‘‘
اتنا کہہ کر پرتبھا زور سے ہنسی، اور پھر بولی’’آج ایک حکیم نے بتایا ہے کہ انہیں مچھلی میں شلجم پکا کے کھلائو تو موٹے ہوجائیں گے۔ آج ہی بازار سے شلجم خرید کے لائی ہوں۔ یہ دیکھو۔‘‘
 
پرتبھا نے اپنے پلّو میں بندھے ہوئے شلجم دکھائے اور نیلما اور لوتیکا بے اختیار مسکرا دیں۔ سچ مچ پرتبھا بڑی بھولی لڑکی تھی۔ اس پر غصّہ آنا بڑا مشکل تھا۔ نیلما نے بڑی محبت سے پرتبھا کے کندھے پر اپنا نازک ہاتھ رکھ دیا اور لوتیکا نے بھی بڑے پیار سے پرتبھا کی کمر میں ہاتھ ڈال دیا۔ لوتیکا بھی پرتبھا کوبہت چاہتی تھی کیونکہ پرتبھا مہلا سنکھ میں بہت اچھا کام کررہی تھی؛ اور تقریر کرنے میں تو کوئی لڑکی اس سے بازی نہیں لے جاسکتی تھی اور پھر وہ کتنی خوش مزاج لڑکی تھی، کتنی انتھک کام کرنیوالی، کہو تو صبح سے شام تک ایک جگہ کھڑی رہے، کہو تو صبح سے شام تک چلتی رہے۔ دُھن کی پکّی۔ اور غرور تو اسے چھو تک نہیں گیا تھا۔ نہ ہی وہ اپنے ساتھی لڑکیوں سے کسی بات میں جلتی تھی۔ کیسے ہی مشکل سے مشکل کام اسے دیئے گئے اس نے ہنس کر پورے کردیئے۔ پرتبھا کی یہ ہنسی اس کے دل سے پھوٹتی تھی اور فوّارے کے پانی کی طرح چاروں طرف فضا میں پھیل جاتی تھی۔ لوتیکا یوں مسکراتی تھی جیسے چاند بدلی میں جھلملائے۔ پرتبھا یوں جیسے سمندر کی بہتی ہوئی لہر سارے ساحل پر پھیل جائے۔
لوتیکا نے آہستہ سے پوچھا۔’’آج تو جلسے کیا کہے گی؟‘‘
 
پرتبھا نے بڑی خود اعتمادی سے اپنی گول گول آنکھیں گھماتے ہوئے کہا ۔’’دیدی دیکھتی جائو۔ آج تمھارے سڑے گلے سماج کے بھس میں وہ چنگاری لگائوں گی کہ سارا کلکتہ جل جائے گا۔ بس تم اپنی یہ خوبصورت ساڑی بچا لینا۔‘‘
 
پرتبھا نے یہ کہہ کر زور سے ہنس کر لوتیکا کی پشت پر ہاتھ مارا۔ اور نازک اندام نیلما اس کی اس حرکت پر اپنی ناز پتلی سی ناک سکیڑ کر اپنی ناخوشی کا اظہار کررہی تھی کہ اتنے میں بس بوئو بازار کے نکّڑ پر آکے رک گئی۔ اور یہاں یہ تینوں سہیلیاں اُتر کر انڈین ایسوسی ایشن ہال کی جانب چل دیں۔ اتنے میں دوسری طرف سے ایک اور بس آکے رُکی، اور اس میں سے ایک بڑی ہی خوبصورت لڑکی نکلی جس کا سجا ہوا جوڑا، ریشمی ساری کا زرتار لہریہ اور جھم جھماتا ہوا بلاوز دیکھ کے پرتبھا چلّا اٹھی۔’’اری اُمیّا۔۔۔اُمیّا۔۔۔او میر ی اُمیّا! آج تو نے کیا غضب ڈھایا ہے۔ دو بچوں کی ماں ہوکے پھر سے نئی نویلی دلہن کی طرح سجی ہے!‘‘
 
اُمیّا گھوش مسکراتے ہوئے آگے بڑھی۔ سامنے سے ایک موٹر آرہی تھی اس لیے رک گئی۔ پھر موٹر گذر جانے کے بعد اس نے بڑی ادا سے اپنی زرتار ساڑھی سنبھالی اور سرسراتی ہوئی گویا ہوا کی لہروں پر اڑتی ہوئی، ٹھمکتی ہوئی، وہ سڑک پار کرکے پرتبھا، لوتیکا اور نیلما سے آن ملی۔ اُمیّا گھوش بھی مہلا سنگھ کی کارکن تھی اور اس کا پتی سول سکریٹریٹ میں نوکر تھا اس لیے وہ ہمیشہ اپنی بیوی کو مہلا سنگھ میں کام کرنے سے، مزدور 
 
عورتوں سے ملنے جلنے اور اشتراکیوں کے جلسے میں جانے سے روکتا تھا۔ اور اُمیّا گھوش ہنس کر اور کبھی لڑ جھگڑ کر ٹال دیتی تھی۔ پھر ایک روز مسٹر گھوش بولے ’’سرکار میرے دونوں بچوں کو نوکری نہیں دے گی۔ اگر تو نہیں مانے تو ایک دن میری نوکری بھی اسی طرح چھن جائے گی۔‘‘ اور جب اس پر بھی اُمیّا گھوش نہیں مانی تو اتنے خفاہوئے اتنے خفا ہوئے۔۔
 
لوتیکا نے جب یہ سنا تو اس کا چہرہ غصہ سے تمتما اُٹھا۔ بولی’’اور تو نے کچھ نہیں کہا! چپکے سے پٹتی رہی؟‘‘
 
اُمیّا گھوش بولی’’میں نے کیا کہا، یہ توجانے دے اس وقت۔ یہ تو روز روز کی بَک بَک، جِھک جِھک ہے، ہوتی رہتی ہے۔ وہ کہتے ہیں، میں سنتی ہوں۔‘‘
 
نیلما نے اُمیّا گھوش کی صراحی دار گردن پر ایک لمبی خراش کا نشان دیکھا، اور غصّے میں بولی   ’ ’ جنگلی! دیکھو تو کتنے زور کا ہاتھ مارا ہے۔‘‘
 
اُمیّا نے مسکرا کر کہا۔’’نہیں، ہاتھ تو اتنے زور کا نہیں پڑا۔ وہ ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی پہنے تھے، اسی سے یہ جگہ چھل گئی۔‘‘
پرتبھا نے پوچھا’’پھر تو آج کیسے آگئی؟‘‘
 
اُمیّا گھوش نے کہا’’دیکھتی نہیں ہو کسی کی شادی میں شریک ہونے کے لیے کپڑے پہن رکھے ہیں۔ دو روز ہوئے میں نے گھر پر ایک فرضی سہیلی کی شادی کا دعوتی رقعہ منگوا لیا تھا اب کیا پتی دیو سہیلی کی شادی میں شامل ہونے سے بھی روکیں گے؟‘‘
 
پرتبھا اور اُمیّا ایک دوسرے کے بازور میں بازوڈال کرزور زور سے ہنسنے لگیں۔
…………
 
Page Number :

Comments


Login

You are Visitor Number : 1195