donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
afsane
Share on Facebook
 
Masroor Tamanna
  Mere Aangan Ki Chandni
میرے آنگن کی چاندنی  
Share to Aalmi Urdu Ghar
Page No. :- 1 / 4
 
 
میرے آنگن کی چاندنی
 
(مسرور تمنا (احمد نگر، مہاراشٹر
 
ہارون کی گاڑی ایک بریک کے ساتھ رکی ۔اوہ یہ میں کدھر آگیا ۔ آگے تو جنگل شروع ہوتا ہے مگر مجھے توپونہ جانا ہے ،جنگلی جانوروں کا ناشتہ بننا نہیں۔ اس نے گاڑی موڑتے ہوئے دور کی سڑک کی طرف دیکھا ۔ شکر ہے خدا کا ، زیادہ اندر نہیں گیا ، تبھی اس کی نگاہ پیڑکے نیچے پڑی۔ ارے باپ رے، ایک عورت عجیب سی حالت میں پڑی تھی مرگئی شاید؟ … نہیں مجھے دیکھنا چاہئے ،وہ گاڑی سے اترا ، قریب گیا تو اسے بے ہوش پایا۔ اس کے پھولے ابھرے پیٹ کو دیکھ کر ہارون کوترس آگیا ۔ بیچاری ماں بننے والی ہے۔ چل بیٹا ہارون !نیکی کمانے کا وقت آگیا ، اسے کسی اسپتال میں لے چل اور پھر وہ اسے لے کر نزدیکی اسپتال میں رہا تو ڈاکٹروں نے اس سے طرح طرح کے سوال شروع کئے۔ اوہو کیا مطلب؟ وہ حیران ہوا، یہ انجان عورت مجھے جنگل کے قریب ملی ،بے ہوش میں ۔اسے یہاں لاکر بس انسانیت کا فرض ادا کر رہا ہوں، میری تو یہ کچھ بھی نہیں لگتی مگر ڈاکٹر آپ لوگ بے فکر رہیں ، اس کے علاج پر جو بھی خرچ آئے گا وہ میں دوں گا۔ ڈاکٹر نے اعتراض نہ کیا بلکہ کہنے لگا میں تو کہوں گا کہ دیس کو آپ جیسے نوجوانوں کی ضرورت ہے ۔ اور آپ جیسے ڈاکٹر زکی بھی ۔ہارون مسکرایا۔
 
گاڑی میں بیٹھتے ہی اسے یاد آیا کہ شام ہونے کو ہے ،اگر جلدی گھر پہنچا تو رانی آپا مجھے مار ہی ڈالیں گی کیونکہ وہ دس سال کے بعد آئی تھی۔
 
بیڈنمبر ۱۳ کی مریضہ کو کافی دیر بعد ہوش آیا تھا اور اچانک خود کو اسپتال میں پاکر وہ چیخ پڑی اور بستر سے اٹھنے کی کوشش کرنے لگی مگر نقاہت نے اسے بے بس کردیا ۔ نرس نے فوراً ڈاکٹر ابھارے کو اطلاع دی۔
 
اس کی حالت کافی نازک تھی۔ ڈاکٹرز اس کی جانچ کر رہے تھے۔ چوبیس گھنٹے بعد وہ خطرے سے باہر تھی۔ ڈاکٹر ابھارے اپنے ساتھی ڈاکٹر سے مخاطب تھے۔ اچھا ہوا اس جوان نے اسے یہاں وقت رہتے پہنچا دیا۔ اب ماں بچہ دونوں ٹھیک ہیں۔ اسپتال کے ہر اسٹاف کو اس مریضہ سے ہمدردی تھی۔ آدھی رات کو اچانک اس کی آنکھ کھلی ۔ اس نے دھیرے سے اپنا ہاتھ ابھرے ہوئے پیٹ پر رکھ کر اپنے کوکھ کے بچے کو محسوس کرنا چاہا۔ نرس نے اسے جاگتے دیکھا تو فوراًاس کے پاس آئی۔ آپ کو کچھ چاہئے؟ اس نے پانی کی طرف اشارہ کیا ۔ نرس نے اسے پانی پلایا ۔ آپ کا نام؟ نرس کے پوچھنے پر وہ دھیرے سے بولی :سو ہی۔ آپ آرام کیجئے ،رات بہت گہری ہوگئی ہے۔ سوہی نے آنکھیں بند کرلیں۔ مگر وہ بند آنکھوں سے بھی سب کچھ دیکھ رہی تھی۔
 
اوہو اتنا اچھا لڑکا ملا ہے تجھے ، پھر کیوں اتنی اداس ہے تو؟ اس کی سہیلی راگنی نے اس کے دمکتے رخساروں کو چھو لیا۔ راگنی ،بابا کہہ رہے تھے شادی انہی کے شہر میں جاکر ہوگی۔ سب کچھ چھوٹ جائے گا یہ گھر یہ آنگن ۔تو اداس مت ہو سوہی ،تیرا رشتہ اونچے گھرانے میں طے ہوا ہے تو بہت خوش رہے گی ،رانی بن کر راج کرے گی، میں تو روئوں گی نہ۔ تو بالکل پریشان مت ہو۔ اونچے لوگوں کی اونچی باتیں ۔بڑی ہوٹل میں شادی کی تقریب ہوگی نہ پھر اس گاؤں میں بارات کیسے آئے گی بھلا؟ … سوہی نے راگنی کو دیکھا اب ذرا سکون ملا تھا اسے…
 
شادی کے بعد سوہی بے حد خوش تھی۔ نہال نے اسے بے انتہا پیار دیا۔ اکثر وہ کام کے سلسلے میں ملک سے باہر جاتا اور یہ لمحہ بہت اذیت بھرا گزرتا سوہی پر ۔ وہ ہر لمحہ بس نہال کے خیالوں میں گم رہتی۔
 
نہال کی محبت میں وہ ہر پل کھوئی کھوئی سی رہتی، تبھی تو اپنے اطراف بنتے جال نہیں دیکھ پائی تھی۔ وہ ماں بننے والی تھی۔ اس کی نند راہی نے اس کا پورا چیک اپ کیا تھا کیونکہ وہ ڈاکٹر تھی اور اسے یہ پتہ کرنے میں دشواری بالکل نہیں تھی کہ سوہی کے پیٹ میں لڑکا ہے یا لڑکی ۔جلد ہی ان لوگوں کو پتہ چل گیا کہ اس کی کوکھ میں خاندان کا وارث نہیں بلکہ لڑکی ہے جو  ان کے لئے خاندان پر بدنما داغ تھی۔ بلکہ اس کی پیدائش بھی منحوس تھی۔
 
نہال امریکہ گئے تھے اور انہیں واپس لوٹنے میں کافی وقت تھا۔ سوہی معصوم اس بات سے بے نیاز تھی کہ اسے اس گھر سے نہال کی زندگی اس کے ہونے والے بچے سمیت نکال پھینکا جائے گا اور پھر ایک دن ڈاکٹر راہی نے اسے تیار کیا کہ تمہیں اسپیشل چیک اپ کے لئے پونہ جانا ہوگا اور اپنے خاص آدمی کو ڈرا ئیورکی جگہ بھیج دیا۔ چلتے وقت وٹامن کی دوا کہہ کر اسے نیند کی گولی کھلا دی جو پانی میں بھی شامل تھی۔ سمیر انھیں اسنبھال کر لے جانا، میں اپنی گاڑی میں آتی ہوں۔ دو گھنٹے بعد ۔یہاں ایک مریض کی حالت ٹھیک نہیں، ڈاکٹر راہی نے مسکراکر اپنے خاص آدمی کو اشارہ کیا…
 
جنگل کا علاقہ شروع ہوچکا تھا۔ سمیر نے گاڑی ایک طرف روکی اور اسے اٹھا کر پیڑکے نیچے لٹا دیا، یہاں تو لے کر آگیا مارنے کی کیا ضرورت ہے؟ ویسے بھی اس کے ہوش میں آنے سے قبل ہی جانور اسے ناشتہ بنا لیں گے۔ سوہی کو چھو ڑ کر وہ جاچکا تھا ،جنگلی جانوروں کی خوراک بننے کے لئے…
 
’’نہال‘‘، اچانک درد کی تیز لہر اٹھی اور سوہی چیخ پڑی ۔ نرس نے گھبرا کر ڈاکٹر کو خبر کی ، تھوڑی دیر بعد وہ ایک معصوم بچی کو جنم دے رہی تھی۔ درد سے بے حال ہونے کے باوجود بھی اس کے چہرے سے ممتا کی کرنیں پھوٹی پڑ رہی تھیں…
 
ہارون اسے اسپتال سے سیدھے اپنے گھر لے آیا تھا۔ سوہی کی زندگی بچا کر اس نے ثواب کا کام کیا تھا۔ آج بچی بھی اسی کی وجہ سے دنیا میں آئی تھی۔ ہوسکتا تھا ماں کی کوکھ میں وہ دم توڑ جاتی۔ ہارون کی ماں نے منع بھی کیا تھا کہ ابھی تمہارے رشتے کی بات چل رہی ہے، ایسے میں تم ایک اجنبی لڑکی کو گھر میں پناہ دے رہے ہو؟ امی جان کچھ ہی دنوں کی بات ہے ، اس کا شوہر ملک سے باہر ہے ،میں نے پتہ کرلیا ہے ان کے آتے ہی سوہی کو ان کے حوالے کردوں گا۔ مگر اس کے سسرال اس کے دشمن ہیں وہ اسے زندہ دیکھیں گے تو پھر سے مارنے کی کوشش کریں گے اور ویسے بھی میں ایک آرمی افسر ہوں ،میں بھلا ایسا کیسے ہونے دوں گا؟ … امی تو راضی ہوگئیں مگر ان کی بہن رانی نے غصے سے ہارون کو دیکھا تھا … پھر وہ بھی مسکرا دی۔
 
Page Number :

Comments


Login

You are Visitor Number : 765