donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Abul Lais Jawaid
Writer
--: Biography of Abul Lais Jawaid :--

Abul Lais Jawaid

 

ابواللیث جاوید
 
ابواللیث جاوید تقریباً تیس برسوں سے کہانیاں لکھ رہے ہیں ہندوستان کے مختلف رسائل میں ان کی ایک سوسے زیادہ کہانیاں شائع ہوچکی ہیں انہوں نے اپنے عہد کی زندگی کی بے معنویت اور کھوکھلے پن کو شدت سے محسوس کیا ہے اخلاقی اور روحانی قدردوں کی کمی کے نتائج کو دیکھا ہے اور انہیں اپنے افسانوں میں فنی سلیقے کے ساتھ پیش کیا ہے کانچ کا درخت روشنی کا اندھا سفر کے مطالعہ سے ان کے افسانوی بصیرت کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ اجتماعی اور انفرادی سطحی پر زندگی وآہنگ اس کے تلخ وترش ا س کی بے بضاعتی، بے سروسامانی، اس کی پیچیدگی وپرکاری نقشہ جس انداز سے ابواللیث جاوید پیش کر نے کی کوشش میں مصروف ہیں اگر وہ اسی طرح لکھتے رہے تو اردو افسانہ نگاری کی تاریخ میں ایک مستند ومعتبر نام کی شمولیت ناگزیر ہے۔ ابواللیث کے ابتدائی افسانے سیدھے سادھے اور روایتی انداز کے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ ان کے یہاں تبدیلی پیدا ہوتی گئی پچھلے دس پندرہ سالوں میں ان کے جو افسانے منظر عام پر آئے ہیں ان میں روایت وجدت کا حسین سنگم ہے علامتوں کا استعمال جہاں کہیں بھی کیا گیا ہے وہ شاعرانہ انداز میں کیا گیا ہے۔ ان کے افسانوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے ذات وکائنات کا گہرا مطالعہ کیا ہے اور زندگی کے تلخ شیریں تجربات کو بڑے حسین انداز میں پیش کیا ہے۔ ان کی ایک کہانی سانپ اور شہر کو بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی ہے، اس کہانی میں مصنف نے ہڑتال رشوت شوری اور بدانتظامی وغیرہ کو زبان دینے کی کوشش کی ہے ابوللیث جاوید یکم جنوری ۱۹۳۹ء میں اکبر پور رہتاس میں پیدا ہوئے بی کام کرنے کے بعد سرکاری ملازمت ،اے ایس او کرنے لگے ۱۹۸۲ء میں ان کا ایک افسانوی مجموعہ کانچ کا درخت، منظر عام پر آیا ہے اس میں چودہ افسانے ہیں، اس کی کچھ کہانیاں علامتی ہیں جو عام قاری کی گرفت سے باہر ہیں۔
 
’’بشکریہ بہار میں اردو افسانہ نگاری ابتدا تاحال مضمون نگار ڈاکٹر قیام نیردربھنگہ‘‘’’مطبع دوئم ۱۹۹۶ء‘‘
++++
 
 
You are Visitor Number : 1787