donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Ahmed Yusuf
Writer
--: Biography of Ahmed Yusuf :--

 Ahmed Yusuf 

Dr Ahmed Yusuf(1930-2008) was born Syed Usman Ahmad Yusuf at Patna,The first collection of Dr Yusuf’s short stories ‘Roshnai Ki Kishtiyan’ (1977) was followed by ‘Aag Kay Hamsaiy’ (1980), ’23 Ghamtay Ka Shehar’ (1990) and ‘Razm Ho Ya Bazm Ho’ (2004). ‘Mehfil Mehfil’ and ‘Dil Kay Qareen Rehtay Hain’ (2007). 

Starting his literary career in the late 1940s during the heyday of the Progressive Writers Movement and the golden age of the Urdu short story some of its glory of that period rubbed off on Ahmad Yusuf. 

Dr Ahmed also translated voluminous books from English and Hindi into Urdu. To name a few ‘Eight Lives’ by Raj Mohan Gandhi, ‘Jinnah of early Days’ by Sarojni Naidu and Study of one Sikh guru. 


Furthermore, Dr Ahmed recompiled ‘Hasrat-e-Tameer’ by Akhtar Orainwi. The first edition of the novel was worn out and illegible. 

Working in association with Patna’s Khuda Baksh Library Dr Ahmed published ‘Bihar Urdu Lughat’, in 1993, a collection vocabulary of more than 3,500 words and idioms, with references. 

His doctoral dissertation was completed in 1996 that traces the social background of characters in six major Urdu novels, beginning with the classical Islah Un Nissa, and also including the now forgotten. 

 

 احمد یوسف 

 

سید عثمان یوسف ( قلمی نام : احمد یوسف) ولدسید محمد یوسف ( وکیل) صدر گلی پٹنہ سیٹی کے آبائی مکان میں تعلیمی سند کے مطابق 10 ؍ جنوری 1931 کو پیدا ہوئے ۔ ان کے دادا حاجی سید عبد اللطیف زمیندار تھے مگر والدنے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود تجارت کاپیشہ اختیار کر لیا۔ ایک عرصے تک ان کی سائیکل کی دکانپٹنہ کی اہم دکانوں میں ایک مانی جاتی رہی۔ مگر رفتہ رفتہ کاروبار سمٹتا گیا اور احمد یوسف کے بعد کی نسل نے عام طور سے ملازمت کی طرف رخ کر لیا۔ ان کے والد شاعر تھے مگر ان کا کلام محفوظ نہیں رہ سکا۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ’’ شکوہ‘‘ کا منظوم انگریزی ترجمہ بھی کیا تھا جو شائع نہ ہو سکا۔ ممکن ہے خاندان کے پرانے کاغذات میں کہیں محفوظ ہو۔

 احمد یوسف کی ابتدائی تعلیم اپنے دادا اور والد کی نگرانی میں ہوئی۔ کچھ دنوں کے لئے مدرسہ عالیہ کلکتہ میں داخلہ لیا۔ اور ۱۹۳۷ء میں والدہ کی وفات کے بعد مستقل طور پر پٹنہ کے آگئے۔۱۹۴۴ء میں محمڈن اینگلو عربک ہائی اسکول پٹنہ سیٹی سے ہائی اسکول کا امتحان پاس کر نے کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔ ایک عرصہ تک تعلیمی سلسلہ منقطع رہا۔ پھر ۱۹۸۶ء میں مگدھ یونیورسٹی سے ایم اے اردو اور ۱۹۹۵ء میں پٹنہ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کیا۔ ( چوں کہ احمد یوسف کی تاریخ پیدائش اور تعلیم کے سلسلے میں مختلف کتابوں میں الگ الگ تفصیلات درج ہیں۔ اس لئے ڈاکٹر شکیب ایاز نے مرحوم کی اہلیہ سے ان تمام امور کی تصدیق تعلیمی اسناد کے مطابق کی ہے)

۱۲؍ اکتوبر ۱۹۹۵ء سے ۱۱؍ اکتوبر ۱۹۹۸ء تک وہ بہار اردو اکادمی کے نائب صدر رہے انہیں اردو زبان و ادب کی خدمات کے لئے بہار اور بنگال کی اردو اکادمویں سے ادبی انعامات و اعزازات دئیے گئے۔ ان کی افسانہ نگاری پر ایک تحقیقی مقالہ لکھ کر آصف سلیم نے پٹنہ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔ وہ ایک عرصہ تک خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری کے مشاورتی بورڈ اور بہار اردو اکادمی کی مختلف سب کمیٹیوں کے رکن رہے۔ ہند و پاک کے مختلف  رسالوں میں ان کی افسانہ نگاری سے متعلق مضامین اور خصوصی گوشے شائع ہوئے۔ جون ۲۰۰۸ء کے اوائل میں بیمار ہو کر کچھ دنوں اسپتال میں داخل ہوئے۔ صحت یاب ہو کر واپس گھر آنے والے تھے کہ دل کا جان لیوا دورہ پڑا۱۷؍ جون ۲۰۰۸ء کو وفات پائی۔ اور دوسرے دن شام اپنے آبائی قبرستان واقع خواجہ کلاں پٹنہ سیٹی میں مدفون ہوئے۔

 احمد یوسف کی ادبی زندگی کا آغاز ۱۹۴۸ء سے ہوا اور وفات سے چند ہفتہ قبل تک ان کا قلم فعال رہا۔ ابتداء میں وہ ترقی پسند تحریک سے متاثر تھے اور انہوں نے بعض دوستوں کے ساتھ مل کر پٹنہ میں انجمن ترقی پسند مصفنین کی ایک شاخ بھی قائم کی تھی۔ ان دنوں کم و بیش تین سال تک وہ ع ۔ یوسف کے نام سے لکھتے رہے مگر بعد میں سہیل عظیم آبادی کے مشورے پر احمد یوسف کا قلمی نام اختیار کر لیا۔ اور اسی نام سے سہیل صاحب کی ادارت میں نکلنے والے رسالے’’ تہذیب‘‘ پٹنہ میں چھپنے لگے۔ اس اعتبار سے انہوں نے کم و بیش ساٹھ سال تک افسانے لکھے۔ افسانہ نگاری کے علاوہ انہوں نے ان کے بعض مضامین بھی ہند و پاک کے اہم رسالوں میں شائع ہوئے مگر بنیادی طور پر ان کی شناخت ایک فکشن رائٹر کے طور پر رہی۔ ان کی تصنیفات و تالیفات کی ایک مختصر سی فہرست درج ذیل ہے۔

۱۔روشنائی کی کشتیاں ( افسانوی مجموعہ )۱۹۷۶ئ۔ناشر دی کلچرل اکادمی گیا۔

۲۔آگ کے ہمسائے ( افسانوی مجموعہ)۱۹۸۰ء 

۳۔ اسلحہ اور انسان۔۱۹۸۰ء

۴۔ ۲۳گھنٹے کا شہر ( افسانوی مجموعہ)(۱۹۸۴ء )

۵۔ رزم ہو یا بزم ( افسانوی مجموعہ ) ۲۰۰۴ء ایجو کیشن پبلشنگ ہائوس دہلی

۶۔ محفل محفل رپورتاژ ۱۹۸۹ء ۔ خود ہی شائع کیا۔

 ۷۔بہار اردو لغت( مخصوص محاورات اور الفاظ پر مشتمل خدا بخش لائبریری سے شائع شدہ ) ۱۹۹۵ء

۸۔جلتا ہوا جنگل( تین ناولٹ کا مجموعہ) ۲۰۰۸ء ایجو کیشنل پبلشنگ ہائوس دہلی

۹۔دل کے قریں رہتے ہیں۔ ( خاکے) ۲۰۰۷ء

۱۰۔ اردو ناول کے کرداروں کا سماجی پس منظر ( سات ناولوں کا مطالعہ ) زیر اشعات

 ۱۱۔ پٹنہ یونیورسٹی کے ۵۴تحقیقی مقالات کا تجزیہ (زیر ترتیب ) حال ہی میں رسالہ ’’ زبان و ادب‘‘نے ایک خصوصی شمارہ شائع کیا ہے۔

بہار میں ارو تحریک کے حوالے سے بھی احمد یوسفؔ کی خدمات قابل ذکر ہیں۔ انہوں نے ایک عرصے تک الحاج غلام سرور اور اس کے بعد ڈاکٹر عبد المغنی کے ساتھ ملر کر پوری تندہی اور Devotion کے ساتھ اردو تحریک کو آگے بڑھایا ہے۔ وہ ادبی گروہ بندیوں سے دور رہ کر بے حد خلوص کے ساتھ کام کرنے میں یقین رکھتے تھے۔ اور کسی بھی حال میں متانت ، شائستگی اور اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے تھے۔ اپنے جونیرز کے ساتھ ان کی شفقت بے مثال تھی۔ قدیم عظیم آباد کی تہذیب میں وضع داری اور مہمان نوازی کے جو عناصر موجود ہیں ان کا ایک عمدہ نمونہ احمد یوسف کی شخصیت تھی۔ انہوں نے ہندستان کے علاوہ پاکستان کے متعدد ادبی جلسوں میں شرکت کی تھی۔

احمد یوسف کی افسانہ نگاری کے حوالے سے اردو کے اہم نقادوں نے جو کچھ لکھا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ابتداء میں انہوں نے اپنے عہد اور معاشرے میں ابھرنے والی ظالم اور مظلوم کی کشمکش او رغریبوں کی زبوں حالی کو بیانیہ انداز میں پیش کیا۔ یہ رویہ ترقی پسندی سے قریب تھا۔ مگر بعد میں جب جدید یت کے رجحان کو فروغ حاصل ہوا تو وہ بھی علامت نگاری اور استعارہ سازی کی طرف مائل ہو گئے۔ اس طرح عصری حسیت تو ان کے افسانوں میں موجود رہی مگر اپنے قارئین سے ان کا رشتہ کچھ کمزور ہو گیا۔ اپنے ادبی سفر کے آخری دور میں وہ ایک بار پھر بیانیہ کی واپس آئے مگر مقبولیت کی اس منزل تک نہ پہنچ سکے جو ان کا حصہ تھی۔ میں ان آراء سے اتفاق کرتے ہوئے بس یہ کہنا چاہتاہوں کہ اپنی افسانہ نگاری کے ہر دور میں وہ اخلاقی گراوٹ اور تہذیبی انحطاط سے افسردہ رہے ہیں۔ ایسے میں چند مخصوص تہذیبی قدروں سے وابستگی اور ان کی بربادی پہ احتجاج کا اظہار ایک لازمی امر ہے۔ اس سلسلے میں پروفیسر وہاب اشرفی کی یہ رائے خاصی وقیع ہے:

’’ احمد یوسف اپنی فنی کاوشوںمیں کسی ایک طریقہ کار میں محدود نہیں ہیں۔ اپنے تخلیقی جہات میں وہ مارکسی تصور کو راہ دیتے ہیں تو کہیں کہیں وہ صورتیں بھی اپناتے ہیں جنہیں تمثیلی اور استعاراتی ان معنوں میں کہا جا سکتا ہے جن معنوں میں جدیدیت کا طرز اظہار سامنے آتا ہے۔ لیکن ایک بین فرق کے ساتھ اور وہ فرق یہ ہے کہ احمد یوسف ہر حال میں رجائی ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ احمد یوسف پروٹسٹ کی فضا قائم کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ انسانی قدروں کے قتیل نہیں بلکہ ان کے علمبردار ہیں۔ یہی چیز انہیں دوسرے افسانہ نگاروں سے الگ کرتی ہیں۔‘‘

(بشکریہ: بہار کی بہار عظیم آباد بیسویں صدی میں ،تحریر :اعجاز علی ارشد،ناشر: خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ)

 

 

 
You are Visitor Number : 2259