donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Akhtar Orainvi
Poet/Writer
--: Biography of Akhtar Orainvi :--

 Akhtar Orainvi 

 

 
 اختر اورینوی 
 
سید اختر احمد (آبائی وطن کی نسبت سے قلمی نام اختر اورینوی) ابن سید وزارت حسین ۱۹؍ اگست ۱۹۱۰ء بروز جمعہ کاکو ( ضلع گیا) میں پیدا ہوئے۔ چوں کہ ان کی والدہ خدیجہ ( بنت سید عبد العزیز رئیس کاکو) ان دنوں اپنے میکے میں تھیں ۔ اختر کے والد اورین (ضلع مونگیر) میں بہت دنوں سے آباد جاجنیری سادات سے تعلق رکھتے تھے۔ بقول مالک رام جاجنیری سادات عرب سے کب آئے اور کن راستوں سے گذر کر آئے  یہ بتانا مشکل ہے مگر اتنا معلوم ہے کہ وہ ہندستان پہنچنے کے بعد سب سے پہلے پٹیالیہ ( پنجاب) میں رکے۔ جہاں انہوں نے بارہ گائوں آباد کئے۔ ان میں مرکزی حیثیت جاجنیر کو حاصل تھی جس کے سبب جاجنیری کی نسبت ان کے نام کا جزو بن گئی۔ ان ہی میں سے ایک سید احمد جاجنیری ، اختیار الدین بن بختیار خلجی کے لشکر میں شامل ہو کر مونگیر پہنچے۔ یہی اس خاندان کے مورث اعلیٰ ہیں۔
 
اخترؔ کے والد نے دو شادیاں کیں ۔ پہلی بیوی سے اختر احمد کے علاوہ سید فضل احمد (انسپکٹر جنرل پولیس، بہار) اور دو لڑکیوں زینب اور رقیہ کی ولادت ہوئی۔ پہلی بیوی کے انتقال (۱۹۲۵ئ) کے بعد انہوں نے صابرہ بیگم سے عقد کیا جو مولوی سید عبد الماجد مبلغ احمد یہ و مدرس فارسی کی نواسی تھیں۔ان سے بھی چار بچے پیدا ہوئے۔ بہار میں قادیانی مسلک کے پر جوش اور مستعدمبلغ مولوی ابو الحسن کی تبلیغ سے متاثر ہو کر اختر کے والد اور چچا نے احمدیت قبول کر لی تھی۔ آٹھ سال کی عمر میں جب اختر سخت بیمار ہوئے تو ان کے والد نے یہ عہد کیا کہ اگر وہ زندہ بچ گئے تو انہیں دینی خدمت کے لئے وقف کردیں۔ اختر بھی عمر بھر اس عقیدے سے وابستہ رہے اورانہوں نے بعض امور میں قادیانی اماموں کے مشورے بھی قبول کئے۔ مگر محمدؐ سے ان کی عقیدت اور محبت بے مثال تھی  جس کا اظہار مختلف مواقع پر ہوتا رہا ہے۔
 
اخترؔ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد، والدہ اور چچا کی نگرانی میں گھر پہ حاصل کی۔ پھر ضلع اسکول مونگیر سے ۱۹۲۶ء میں درجہ اول کے ساتھ میٹرک پاس کیا۔ اعلیٰ تعلیم کے لئے پہلے سائنس کالج پٹنہ اور پھر ۱۹۲۸ء میں پرنس آف ویلس میڈیکل کالج( اب پٹنہ میڈیکل کالج اسپتال) میں داخلہ لیا۔ مگر ۱۹۳۱ء میں وہ ٹی بی کے مرض میں مبتلا ہو کر شدید بیمار ہو گئے۔ اور ڈاکٹروں کے مشورے سے پڑھائی ترک کرنی پڑی۔ دو برس بعد انگریزی آنرز کے ساتھ بی اے کی پڑھائی شروع کی مگر عین امتحان کے زمانے میں سل کا دوسرا حملہ ہوا۔ کسی طرح امتحان دینے کے بعد ڈیڑھ سال رانچی کے ایک سینی ٹوریم میں گذارے۔ واپس آکر پٹنہ یونیورسٹی سے ایم اے ( اردو) کا امتحان دیا اور پوری یونیورسٹی میں اول رہ کر گولڈ میڈل حاصل کیا۔
 
اپنی پہلی علالت کے دنوں میں وہ آبائی گائوں اورین کے علاوہ کچھ دنوں اپنے چچا زاد بہنوئی شاہ محمد توحید، رئیس ارول کی کوٹھی میں مقیم رہے۔ اس قیام کے دوران وہ شاہ محمد توحید کے خاندان سے بہت قریب ہو گئے اور بالآخر ۲۴؍ مئی ۱۹۳۳ء کو ان کی بڑی صاحبزادی شکیلہ سے اختر کاعقد ہو گیا۔ جو خود بھی ایک با ذوق ادیبہ تھیں۔ اور شکیلہ اختر کے نام سے معروف ہوئیں۔ مگر ان دونوں کی ازدواجی زندگی بے ثمر رہی۔ اختر نے ’’ پام ولا‘ کے قیام اور دریائے سوہن ( اب سون ندی) کے حسن کو بار بار یاد کیا ہے۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں
 
وہ سون کے ساحل کے دل افروز نظارے
 دامن میں لئے جلوہ رنگیں کے شرارے
وہ ریت کے ذرے تھے کہ فردوس کے تارے
 کیا حسن تھا جاگا ہوا ندی کے کنارے
وہ سون کے ساحل کے دل افروز نظارے 
ہیں اختر بے تاب کو سوجان سے پیارے
 
 اختر کچھ دنوں تک ترقی پسند تحریک میں فعال رہے۔ پھر کچھ تو اپنے مذہبی رہنمائوں کی ہدایت پر اور کچھ دسمبر ۱۹۳۸ء سے پٹنہ کالج میں اپنی ملازمت کے سبب اس تحریک سے دور ہوتے گئے۔ ۱۹۵۶ء میں انہوں نے اپنا تحقیقی مقالہ بہار میں اردو زبان و ادب کا ارتقا۱۸۵۷ء تک مکمل کیا جس پر انہیں پٹنہ یونیورسٹی سے ڈی لٹ کی سند حاصل ہوئی۔۱۹۵۷ء میں یہ مقالہ پہلی بار شائع ہوا تھا۔ اب قومی کونسل برائے فروغ اردو دہلی سے اس کا نیا ایڈیشن منظر عام پر آچکا ہے۔ ۱۹۶۰ء سے وہ پٹنہ یونیورسٹی کے شعبہ ارودو میں پروفیسر اور صدر شعبہ مقرر ہوئے جہاں سے اگست ۱۹۷۲ء میں ریٹائر ہو گئے۔ بعض اہم تذکرہ نگاروں نے جن میں مشہور محقق مالک رام بھی ہیں، ان کی علالت کو قبل از وقت ریٹائر منٹ کا سبب بتایا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اپنی بیماری کے باوجود انہوں نے ملازمت کی مدت پوری کی۔ یہاں تک کہ ریٹائر منٹ کے بعد بھی یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کی خصوصی اسکیم کے تحت شعبہ اردو سے وابستہ رہے۔ البتہ اس جان لیوا بیماری کے سبب جس میں ان کا جبڑا مسلسل حرکت میں رہتا تھا وہ ایک عرصے تک اذیت ناک زندگی جینے پر مجبور رہے۔ علاج کے لئے کناڈا بھی گئے۔ مگر افاقہ نہ ہو اور بالآخر ۳۰۔۳۱ مارچ ۱۹۷۷ء کی درمیانی شب میں کرجی اسپتال  پٹنہ میں ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔ ۳۱ مارچ کی شب میں لاش قادیان گئی اور وہیں سپرد خاک ہو گئے۔ عطا کاکوی اور علامہ جمیل مظہری نے قطعات تاریخ کہے جن سے عیسوی اور ہجری تاریخیں برآمد ہوتی ہیں۔ جمیل مظہری کے قطعہ تاریخ کے آخری دو اشعار درج ذیل ہیں۔
 
چپ ہے جمیل خستہ حرماں، راہ عدم میں سست خراماں
کہہ اے نطق پشیماں آہ آہ چھپ گئے اختر خاک میں اب
(  ۱۹۷۷)
پوچھا مقام اختر ذیشان ازلب ہاتف بولا رضواں
دیکھو ہے وہ مکرم مہماں قصر شہہ لولاک میں اب
 (۱۳۹۷ھ =۵+۱۳۹۲)
 
اختر اورینوی ایک ہشت پہل شخصیت کے حامل تھے۔ مگر ان کی شہرت عام کا سبب افسانہ نگار ی اور تنقید ہے۔ بقول ڈاکٹر عبد المغنی ان کا پہلا افسانہ’’ بد گمانی‘‘ اور آخری ایک درخت کا قتل ہے۔ سن اشاعت کے اعتبار سے ان کے افسانوی مجموعوں کی ترتیب یہ ہے۔
 
 (۱) منظر و پس منظر(۲) کلیاں اور کانٹے(۳) انا رکلی اور بھول بھلیاں(۴)سیمنٹ اور ڈائنا مائیٹ(۵)کچلیاں اور بال جبریل(۶)سپنوں کے دیس میں۔
 
 ان کی تنقیدی کتابوں کے نام بہ اعتبار اشاعت درج ذیل ہیں۔
 
(۱) مطالعہ نظیر(۲) مطالعہ اقبال(۳) کسوٹی(۴) تنقید جدید (۵)تحقیق و تنقید(۶) قدر و نظر(۷) سراج و منہاج(۸) مطالعہ و محاسبہ
 
چھوٹا ناگپور کے قبائلی علاقوں کے پس منظر میں لکھا گیا ان کا ناول ’’ حسرت تعمیر‘‘ خاصا مشہور رہا ہے۔ ان کے ایک اور ناول’’ کارواں‘‘ کی خبر ایس منا نی نے دی ہے مگر اب اس کا پتہ نہیں چلتا۔ انہوں نے دو ڈرامے شہنشاہ حبشہ اور زوال کینٹن لکھے ہیں جن میں سے اول الذکر بہت مشہور ہے۔ شاعر کی حیثیت سے انہیں زیادہ شہرت شاید اس لئے نہیں ملی کہ ان کی خطابت ہمیشہ شاعری کے لئے حجاب بنتی رہی۔ بہر حال ان کا شعری مجموعہ ’انجمن آرزو‘ کے نام سے منظر عام پر آچکا ہے۔ ان تخلیقات کے علاوہ ان کے تحقیقی و تنقیدی اور سماجی نوعیت کے مضامین اردو کے علاوہ انگریزی رسالوں اور اخباروں میں ۱۹۷۰
ء سے قبل برابر شائع ہوتے رہے ہیں۔
 
 اختر اورینوی کی مختلف ادبی جہات پر مہر نیم روز ، کراچی اور ساغر نو پٹنہ کے خاص نمبر شائع ہو چکے ہیں۔ موخر الذکر اختر شناسی کے نام سے۲۰۰۸ء میں کتابی شکل میں منظر عام پر آیا ہے۔ ان کی شخصیت اور فن کی تفہیم میں پروفیسر عبد القادر سروری، پروفیسر سید احتشام حسین، آل احمد سرور، معین الدین دردائی، مالک رام خلیل الرحمن اعظمی، طیب عثمانی ندوی، وقار عظیم، عبد المغنی، وہاب اشرفی، ابو ذر عثمانی، سید محمد عقیل، سید محمد حسنین، کلیم عاجز، اشرف الدین شرف عظیم آبادی، محمد ظفیر الحسن ، ڈاکٹر سید مجتبیٰ رضوی، اور قمر اعظم ہاشمی وغیرہ کے مضامین خاصے معاون ہو سکتے ہیں۔ ہند و پاک سے شائع شدہ کم و بیش ایک درجن کتابوں میں اختر اورینوی سے متعلق قابل ذکر مواود موجود ہے۔ جن میں سے چند درج ذیل ہیں۔
 
(۱) تذکرہ معاصرین جلد۔۴ از مالک رام، (۲) اختر اورینوی کے افسانے (مع مقدمہ) پروفیسر عبد المغنی(۳) تاریخ ادب اردو ( جلد دوم) پروفیسر وہاب اشرفی( ۴) اختر اورینوی فنکار و ناقد مرتبین مظفر مہدی اور منصور عمر(۵) بہار میں اردو تنقید۔ ڈاکٹر اعجاز علی ارشد( ۶) اردو ڈرامہ آزادی کے بعد۔ ڈاکٹر محمد منصور انصاری۔
 
(بشکریہ: بہار کی بہار عظیم آباد بیسویں صدی میں ،تحریر :اعجاز علی ارشد،ناشر: خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ)
 
****************************************

 

اختراورینوی
نام :اختر اور ینوی ،مرحوم
والد کانام:سید وزارت حسین
تاریخ پیدائش :۱۹،اگست،۱۹۰۲ء
مقام پیدائش: کا کو جہان آباد
تعلیم: ایم اے ،اردو
مشغلہ: صدر شعبہ اردو پٹنہ یونیورسٹی پٹنہ ،ریٹائر ۱۹۷۳ء
افسانوی مجموعہ: ۱۔منظر وپس منظر،۲۔کلیان اور کانٹے ،۳۔انارکلی اور بھول بھلیاں ،۴۔ سمنٹ اور ڈئنا میٹ ،۵۔ کچلیاں اور بال جبریل،۶۔ سپنوں کے دیش میں ، 
دیگر تصانیف:تنقیدی مضامین کے مجموعے:،۱۔ قدرونظر ،۲۔ مطالعہ اقبال ،۳۔ تحقیق وتنقید جدید ،۴۔ مطالعہ نظیر، ۵۔ کسوٹی ،۶۔ سراج ومنہاج ۔
تحقیق: بہار میں اردو زبان وادب کا ارتقار
ناول: عسرت تعمیر
شعری مجموعہ: انجمن آرزو
ڈرامہ: شہنشاہ جشہ
اس کے علاوہ مصوری کا شوق بھی تھا،
انتقال: ۳۱،مارچ ۱۹۷۷ء
بہار میں جب بھی افسانہ نگاری کا ذکر ہوگا تو اختر اور نیوی کا نام نہایت ادب واحترام سے لیا جائے گا۔ انہوں نے اردو افسانہ نگاری میں جونام کمایا ہے اور افسانوی ادب کا جو سرمایہ چھوڑا ہے وہ بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے وہ بنیادی طور پر افسانہ نگار تھے لیکن افسانہ نگاری کے ساتھ ساتھ انہوں نے ڈرامہ، تنقید اور ناول وغیرہ بھی لکھے ہیں۔ اور نیوی صاحب نے اپنی افسانہ نگاری کا آغاز بہار کی دیہاتی کہانیوں سے کیا اور بہت جلد وہ ادبی طبقہ میں مقبول ہوگئے وہ جنیس افسانہ نگار تھے اس لئے بہار کے دیہاتوںکی کہانیاں اصلی خدوخال کے ساتھ ہمارے سامنے پیش کیں، ’’ بیل گاڑی‘‘ اور‘‘ مائیں‘‘ دیہاتی زندگی پر لکھی گئی ایسی کہانیاں ہیں جن میں بہار کے دیہات اور ان کے مسائل کو بڑےہی حسن واسلوبی سے پیش کیا گیا ہے ، ان میں افسانوں کی مظلومیت ، خود غرضی اور ان کے استحصال کے ساتھ ساتھ ان کی تمنائوں اور آرزوئوں کو بھی پیش کیا گیا ہے۔
گلیوں میں کوڑے کرکٹ کے تاریخی اہمیت رکھنے والے چھوٹے چھوٹے ڈھیر، رکی ہوئی نالیوں کی امڈتی ہوئی کیچڑ ، مبتذل دروازوں پر ٹاٹ کے میلے چیکٹ پردے، گندے بچے ، آوارہ حال بکریاں اور ان کی بکھرتی ہوئی منگنیاں ، دریدہ دہن اور بد زبان عورتوں کی ٹولیاں، ان کا جوئیں دیکھنا یہ سب آپس میں گڈہٹہ ہو کر دلوں اور دماغوں کو روند ھانے والے بد وضع وقماش ڈاکٹر اختراور نیوی نے دیہات کے ساتھ ساتھ شہری زندگی کو بھی اپنے افسانوں میں پیش کیا ہے شہر میں بھی بہت سے لوگ فاقہ کے شکار ہیں اور ان کا بھی استحصال کیا جاتا ہے اختر اور نیوی نے ایسے لوگوں کا نقشہ بڑی چابکدستی سے کھینچا ہے اور بے روز گار لوگوں کی زندگی کو اپنے افسانے کا موضوع بنایا ہے ۔ اس طرح اختر اور نیوی نے اپنا سفر دیہات سے شروع کیا اور دیہات سے گزرتے ہوئے شہر تک پہنچ گئے انہوں نے اپنے کچھ افسانوں میں رومانی جنسی اور نفسیاتی کیفیات کو بھی پیش کیا ہے ۔ نچلے طبقے اور متوسط طبقے کی زندگی کی مصوری بھی انہوں نے بہت ہی اچھے انداز سے کی ہے۔کردار نگاری اور جز ئیات نگاری میں بھی وہ کامیاب نظر آتے ہیں ان کے افسانوں میں جزئیات اور تفصیلیں باقاعدگی سے پیش کی گئی ہیں ان کے یہاں کہیں کہیں فضا بندی بھی ملتی ہے۔ اس طرح اختر اور رینوی کے افسانوں میں فضا بندی، جزئیات نگاری اور زبان وبیان کی چاشنی کی اچھی مثال ملتی ہے ساتھ ہی وہ الفاظ اور جملوں کے ذریعہ قارئین کے دلوں میں اتر جانا چاہتے ہیں ان کے یہاں ایک حساس انسان کا دل دھڑکتا ہوا محسوس ہوتا ہے در اصل اور نیوی صاحب بڑی ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے انہوں نے ایک ساتھ بہت سے اصناف ادب پر قلم اٹھایا ان کے اسلوب میں ایک خاص رنگ پایا جاتاہے ابوذر عثمانی صاحب نے ان کے اسلوب کے سلسلے میں اپنا اظہار خیال لفظوں میں کیا ہے۔
ان کا خاص آرٹ الفاظ اور تشبیہات واستعارات کارواںپر زور ، مسلسل اور پیچیدہ استعمال ہے جس کے ذریعہ وہ کسی خیال کے مختلف اور رنگارنگ نقوش کو بڑی خوبی کے ساتھ پیش کر تے ہیں۔ ان کے اسلوب میں الفاظ کا حسن انتخاب، ان کی خوبصورت ترکیب سجل فقرہ تراشی ،نفیس جملہ سازی اور کامیاب تربیت اور پر اثر ترنم یہ ساری چیزیں موجود ہیں، جہاں تک نظرئے کا سوال ہے تو اختر صاحب کبھی کسی ایک نظریہ اور کسی ایک رجحان کے پابند نہیں رہے۔ انہوں نے خود اپنی افسانہ نگاری کے تین دور قائم کئے ہیں، پہلے دور میں انہوں نے نیاز فتح پوری کا منتبع کیا دوسرے دور میں ترقی پسند رجحان کی عکاسی اور تیسرے دور میں فلسفیانہ میلانات کا اظہار کیا ہے۔ اور یہی آخری دور ان کے لئے سب سے اہم ہے ان کا خیال ہے کہ ادب میں مارکس کی بھی جگہ ہے اور مسلم کی بھی جگہ ہے زندگی بھی متقی کی بھی، ایک ہندو اور گبرو کی بھی ، ایک عیسائی اور یہودی کی بھی اور ایک ایسے شخص کی بھی جو کچھ نہ ہو، افسانہ نگاری کے لئے ان کا خیال ہے کہ اس میں کسی مقررہ تکنیک کا ہونا ضروری نہیں، افسانہ نگاری کے جدیدرجحان کے متعلق انہوں نے لکھا ہے کہ ان کے بعض افسانوں میں اشاریت ضرور پائی جاتی ہے مگر وہ مسریت سے مبرا نہیں، ان کا عقیدہ لااکراہ فی الدین بھی ہے اور لااکراہ فی الفن بھی ۔
’’ٹائپسٹ ‘‘ بیل گاڑی ‘‘دومائیں‘‘ جونیر‘‘ آخری رکن‘‘ پس منظر‘‘ شکوردادا‘‘ کوئلے والا‘‘ شادی کے تحفے‘‘ انار کلی اور بھول بھلیاں‘‘ بیداری‘‘ پندرہ منٹ‘‘ ڈائنامیت‘‘ تاوانِ جنگ ‘‘اور‘‘سرخ ایٹم بم‘‘ وغیرہ ان کی بہت ہی مشہور ومقبول کہانیاں ہیں۔
 
’’بشکریہ بہار میں اردو افسانہ نگاری ابتدا تاحال مضمون نگار ڈاکٹر قیام نیردربھنگہ‘‘’’مطبع دوئم ۱۹۹۶ء‘‘
 
 
You are Visitor Number : 3926