donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Ilyas Ahmad Gaddi
Writer
--: Biography of Ilyas Ahmad Gaddi :--

Ilyas Ahmad Gaddi                    الیاس احمد گدی

 

 

نام : الیاس احمد گدی’’مرحوم‘‘
والد کانام: احمد گدی ’’مرحوم‘‘
تاریخ ولادت: ۱۹۳۴ء
مستقل پتہ:گدی محلہ، جھریا ،ضلع دھنباد
تعلیم: آئی ۔اے۔
اعزازات وانعامات: بنگال اردو اکادمی اور ترقی پسند مصنفین کی طرف سے انعامات ملے۔
ملازمت :آبائی پیشہ جانور پالنا، دودھ بیچنا، ذاتی پیشہ انجینئرنگ ورکشاپ چلانا۔
پہلا افسانہ:’’سرخ نوٹ‘‘ماہنامہ ، افکار بھوپال ۱۹۴۸ء
رسائل میں چھپنے والے افسانے:’’نیادور‘‘ لکھنؤ‘‘ شاعر‘‘ ممبئی ‘‘ شمع‘‘ دہلی ‘‘ شب خون‘‘الہ آباد وغیرہ میں بہت سی کہانیاں شائع ہوچکی ہیں۔
افسانوی مجموعہ:ایک
دیگر تصنیفات:ایک سفر نامہ زیر طبع،ایک ناول ،کچھ کہانیوں کے ترجمے ہندی، انگریزی اور تامل وغیرہ میں ہوچکی ہیں۔
الیاس احمد گدی کا تعلق گدی خاندان سے ہے وہ غیاث احمد گدی کے بھائی ہیں، ان کی طرح ہی انہوں نے افسانے میں ترقی پسند خیال کو فنی شناخت کے ساتھ پیش کیا ہے۔ دوسرے افسانہ نگاروں کی طرح وہ زود نویس کے شکار نہیں ہیں، وہ بہت کم لکھتے ہیں اور جو کچھ لکھتے ہیں بہت سوچ سمجھ کر لکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانوں میں فنی رچائو کے ساتھ ساتھ نئے موضوعات جگہ پاتے رہے ہیں زندگی کے مختلف موضوعات پر انہوں نے کہانیاں لکھی ہیں لیکن کہانی لکھنے سے پہلے اس موضوع کو ہر طرف سے دیکھا ہے پر کھا ہے، مشاہدہ کیا ہے تب قلم اٹھایا ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانوں میں کہیں سے کوئی جھول نہیں ہوتا ہے۔ ترقی پسند خیالات کی ترجمانی کرتے وقت بھی انہوں نے اس با ت کا لحاظ رکھا ہے کہ کہیں ان کے افسانے فنی شناخت کھو کر پروپگنڈے کا شکار نہ ہوجائیں انہوں نے اپنے افسانے کے بارے میں خود ہی لکھا ہے۔ 
’’میں نے زندگی کے مختلف موضوعات پر کہانیاں لکھی ہیں میں ترقی پسند ہوں مگر اس التزام کے ساتھ کہ افسانہ اپنی فنی شناخت کھو کر پروپگنڈے کا شکار نہ ہوجائیں انہوں نے اپنے افسانے کے بارے میں خود ہی لکھا ہے۔ میں نے زندگی  کے مختلف موضوعات پر کہانیاںلکھی ہیں میں ترقی پسند ہوں مگر اس التزام کے ساتھ کہ افسانہ اپنی فنی شناخت کھو کر محض پروپگنڈہ نہ ہو جائے۔جدید افسانے کا جب دور آیا اس وقت بھی وہ پورے صبرو سکون کے ساتھ اپنی جگہ پر قائم رہے، جدید لہر وں میں تنکوں کے مانند نہیں بہے بلکہ انہوں نے اپنے لئے ایک ایسا راستہ نکالنے کی کوشش کی جو سب کیلئے قابل قبول ہو ڈاکٹر ارتضیٰ کریم نے اس سلسلے میں فرمایا ہے۔ ان کے افسانوں پر نہ تو کلی طور پر جدیدیت کالیبل لگایا جاسکتا ہے نہ انہیں پر انے افسانوں کے زمرے میں رکھنا دیانتداری ہے۔ اس طرح الیاس احمد گدی صاحب کم لکھنے کے باوجود اردو افسانہ نگاری میں اپنی گہری شناخت قائم کرچکے ہیں زبان وبیان کے لحاظ سے ان کی حیثیت منفرد ہے ۔
انسپکٹر نے کمرے کے اندر آکر چاروں طرف ایک طائرانہ نظر ڈالی ساری چیزیں بے حد سلیقے سے رکھی تھیں، جیسے کوئی انہیں چھیڑ نے والا نہ ہو انسپکٹر نے یہ بات بھی محسوس کی کہ کمرے میں کوئی ایسی چیز نہیں تھی جو مردوں کے استعمال کی ہو، ایک اکیلی دیر ان زندگی کا سہارا سوناپن کمرے میں بکھرا پڑاتھا۔’’شناخت‘‘
امید ہے مستقبل میں الیاس احمد گدی افسانوی ادب کو ایک گراں قدر سرمایہ عطا کریں گے۔
 
’’بشکریہ بہار میں اردو افسانہ نگاری ابتدا تاحال مضمون نگار ڈاکٹر قیام نیردربھنگہ‘‘’’مطبع دوئم ۱۹۹۶ء‘‘
 
 
You are Visitor Number : 4106