donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Jaleel Manikpuri
Poet
--: Biography of Jaleel Manikpuri :--

 

 جلیل مانک پوری 
 
جلیل تخلص ، جلیل حسن نام ، خلف مولوی حافظ عبد الکریم مرحوم ۔۱۲۸۳ھ بمقام مانک پور (اودھ) ولادت ہوئی۔ دس گیارہ سال کی عمر میں حفظ قرآن سے فراغت پائی ۔ طالب علمی کا زمانہ اکثر لکھنو میں گذارا جہاں عربی اور فارسی میں استعداد بہم پہنچائی۔ ابتداء ہی سے سخن گوئی کا شوق تھا۔ بیس سال کی عمر میں حضرت امیر مینائی کے سلسلہ تلمذ میں وابستہ ہوئے اور تادم واپسیں شفیق استاد کے قدموں سے جدا نہ ہوئے۔ عروض و قوافی کے ساتھ جملہ نکات و محاسن شاعری حضرت امیر ؔ ہی کے فیضان صحبت سے حاصل کئے۔ رام پور میں جب امیر اللغات کی تدوین کے لئے ایک وسیع دفتر کھولا گیا تو اس کی ادارت انہیں کے سپرد ہوئی۔ پھر سفر بنارس اور بھوپال وغیرہ میں حضرت امیر کے ہمراہ رکاب رہے۔
 
۱۰؍ جمادی الاول ۱۳۱۸ھ کو حضرت امیر مینائی کے ہمراہ حیدر آباد پہنچے اور اس زمانے میں مہاراجہ بہادر سریمین السلطنت کی اعانت اور مہمان نوازی ان کے شاملِ حال رہی اور دو رسالے محبو ب الکلام اور دبدبہ آصفی کی ترتیب و اشاعت کا کام بھی سپرد کیا کردیا گیا۔۱۳۳۶ھ میں چند احباب کے اصرار سے تذکیرو تانیث پر ایک مبسوط کتاب لکھی جس میں سات ہزار الفاظ کی تذکیر و تانیث نہایت واضح طور پر بتائی گئی ہے۔ اس کا مقدمہ مولانا عبد الحلیم شرر لکھنوی نے لکھا ہے۔ پھر اختر مینانائی کی شرکت سے دکن ایک ضخیم تاریخ سرکار نظام کے حکم سے مرتب اور مطبوع ہوئی۔
 
حضرت داغ ؔ مرحوم کی وفات کے بعد ۱۳۲۷ھ میں حضرت غفران مکان نواب  میر محبوب علی خاں بہادر سابق تاجدار دکن نے اپنی استادی کا شرف بخشا اور داغ مرحوم کی جگہ پر مامور فرمایا اور ’’ جلیل القدر‘‘ کے معزز خطاب سے سرفراز کیا۔ پہلا دیوان تاج سخن اسی زمانے کی یاد گار ہے۔ حضور پر نور نواب میر عثمان خاں بہادر آصف سابع خلد اللہ ملکہ، جب سرپر آئے سلطنت ہوئے تو انہوں نے بھی اپنی استادی کے شرف سے مشرف فرمایا اور جلیل ہی مشورہ سخن فرما تے رہے۔ پہلے آپ نے نواب فصاحت جنگ بہادر کے خطاب سے سرفراز فرمایا پھر امام الفن کے لقب سے مزید عزت افزائی فرمائی۔ شہزادگان اور صاحبزادگان بھی حسبِ حکم سرکار انہیں کو اپنا کلام دکھاتے تھے ۔ تصنیفات کی فہرست یہ ہے۔ تاج سخن، پہلا دیوان جو مرتبہ ۱۹۱۰ء میں طبع ہوا۔جان سخن دوسرا دیوان پہلی مرتبہ ۱۹۱۶ء میں شائع ہا۔ سرتاج سخن: ( در مدح حضور نظام) قصائد، قطعات اور تاریخوں کا مجموعہ ۔ معراج سخن، نعتیہ کلام اور سلام وغیرہ کا مجموعہ۔ تعلیم الصلوۃ : دینیات کا رسالہ۔ تذکیر و تانیث ، اردو کا عروض: اردو میں کا مجموعہ گل صد برگ رباعیات کا مجموعہ۔ سوانح حضرت امیر مینائی۔ اس میں حضرت امیر کے حالات و واقعات زندگی اور کلام کے انتخاب کے ساتھ محاسن شاعری کو واضح کیا گیا ہے۔ ۱۹۲۷ء میں شائع ہوئی۔ معیار اردو۔ محاورات کا مجموعہ ۔ روحِ سخن تیسرا دیوان ۔جلیل مانک پوری کی وفات6 جنوری 1946 ء کو ہوئی۔
 
***************************************
 
You are Visitor Number : 1906