donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Mojeer Ahmad Azad
Writer
--: Biography of Mojeer Ahmad Azad :--

Mojeer Ahmad Azad

تعارف
 
نام : مجیر احمد آزاد
قلمی نام: مجیر احمد آزاد
والد کا نام: عبد الجلیل
والدہ : کلثم النساء
تاریخ پیدائش: بمطابق اسناد۔ ۷؍ نومبر ۱۹۶۹ئ؁ ۔ اصل تاریخ پیدائش:۷؍ نومبر ۱۹۷۱ئ؁ ۔
جائے پیدائش: محلہ بھگوان پور، ڈاکخانہ نرہیا بازار، ضلع مدھوبنی ، بہار (ہندوستان)
سکونت: محلہ فیض اللہ خان، خان صاحب کی ڈیوڑھی، دربھنگہ۔۸۴۶۰۰۴، بہار (ہندوستان)
تعلیمی استعداد: ایم۔اے،بی۔ ایڈ، پی ایچ۔ڈی ملازمت: اسسٹنٹ ٹیچر، ایل۔ایم۔ہائی اسکول، آنندپور، دربھنگہ
ادبی زندگی کا آغاز: سن ۱۹۸۸ئ؁، پہلے افسانے کی اشاعت۔ ۱۹۹۸ئ؁
مطبوعہ افسانوی مجموعے: (۱) ڈوم ۔ اشاعت ۲۰۰۴ئ؁ (مشمولہ افسانوں کی تعداد ۲۳)
(۲) اندھیرے کا کرب۔ اشاعت ۲۰۰۹ئ؁ (مشمولہ افسانوں کی تعداد ۱۹)
غیر مطبوعہ افسانوی مجموعے: (۱) کلاس ٹاپر۔ فخر الدین علی احمد میموریل کمیٹی لکھنئو میں اشاعتی امداد کے لئے جمع ۔
(۲) دور دیش میں۔ بہار اُردو اکیڈمی پٹنہ میں اشاعتی امداد کے لئے جمع۔
ملک اور بیرون ملک کے رسائل و جرائد   سب رس (حیدر آباد)، کاغذی پیرہن (پاکستان)، باد بان (پاکستان)، نیا سفر(دہلی)
ذہن جدید (دہلی)، انشاء (کلکتہ)، گلبن (لکھنئو)، ایوان اُردو(دہلی)، انتساب (سرونج)، تعمیر ہریانہ (چنڈی گڑھ)
جدید فکر و فن(شملہ)، شاخیں (اندو)، توازن (مالی گائوں)، بے باک (مالی گائوں) وغیرہ میں میرے افسانے شائع ہوئے ہیں۔
 
میں جب کسی حادثہ، تجربہ، خبر یا منظر سے متاثر ہوتا ہوں تو اس کے تعلق سے بہت سی باتیں میری ذہن میں آنے لگتی ہیں۔ یہ باتیں ایک خاص نکتہ پر پہنچ کر میرے لئے محرک بن جاتی ہیں اور اظہار کی مبہم سی خواہش ہلچل مچانے لگتی ہے۔ میرے تصور میں افسانے کا تانا بانا تیار ہونے لگتا ہے۔ اس درمیان میں اس وقت تک اضطرابی کیفیت سے دوچار رہتا ہوں جب تک  اپنے مشاہدے اور مطالعے کی مدد سے افسانے کا جامہ عطا نہ کر دوں۔ میرا یہ تخلیقی عمل کبھی تیز گام ہوتا ہے اور بسا اوقات اس کی پرورش میں مہینوں لگ جاتے ہیں۔ بعض دفعہ ایسا بھی ہوا ہے کہ وہ میری تخلیقی گرفت سے آزاد ہو گئے اور افسانے کا رُوپ دھارن نہ کر سکے ہیں۔
 
میں افسانے گرد و پیش کے حالات و واقعات سے حاصل شدہ موضوعات پر اپنے لاشعور میں پنہاں خود سے مکاشفہ کرتے ہوئے تحریر کرتا ہوں۔ میں افسانہ کو زندگی کا ترجمان سمجھتا ہوں۔ جو پھیلائو زندگی میں  ہے اور جو فطری پن زندگی کا خاصہ ہے وہی کچھ افسانے کے ساتھ بھی ہے۔ میرے افسانے کتنے کامیاب ہیں، اس کا فیصلہ باذوق قارئین  کریں گے۔
 
مجیر احمد آزاد
*********************
 
You are Visitor Number : 2072