donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Perwez Shahidi
Poet
--: Biography of Perwez Shahidi :--

Perwez shahidi real name is syed Md. Ekram Hussain, born at lodi Katra, Patna City in year 1910, passed matric in year 1925 from Calcutta University as a private candidate, done I.A., B.A., M.A.( in Urdu &Persian) & low from Patna University. Parwez leave Patna In year 1935 and go to Calcutta. There he worked as a teacher in different institutions take B.T degree in 1938 from Calcutta (now kolkata), frum 1941 to 1946 he was lecturer in madna pur (West Bengal) and from 1947 he joined as a lecturer in Surendra Nath College, Kolkata. In 1949 Perwez was jailed for 18 months in communiststruggle. When he was free from jail his service form College lecturer ship was terminated and then he joined as a head master in a high school, he worked in differant school upto year 1957, from 1958 he joined as a lecturer in Kolkata University in department of Urdu in the year 1958. Perwez first poetic collections published from delhi in his life time is ' Raqse Hayat', second is 'Tasleese Hayat and third is ' Matae Faqeer' Perwez Shahidi died in year 1968 in kolkata.

 

 پرویز شاہدی 

ممتاز شاعر پرویزؔ شاہدی اگرچہ ایک عرصہ سے کلکتہ میں مقیم تھے اور وہاں کی ادبی و تہذیبی زندگی میں انہیں ایک نمایاں حیثیت حاصل تھی مگر اصل میں وہ صوبہ بہار کے رہنے والے تھے۔ دبستانِ عظیم آباد نے دورِ حاضر میں تین ایسے با کمال شاعر پیدا کئے جن کی سخنوری کا اعتراف پوری دنیا میں کیا گیا ہے۔ یہ شاعر ہیں جمیل مظہری، اجتبیٰ رضوی اور پرویز شاہدی۔ یہ تینوں شعرا اقبالؔ اور جوشؔ کے طرزِ گفتار سے بے انتہا متاثر ہونے کے باوجود اپنی انفرادیت رکھتے ہیں۔یہ عجیب اتفاق ہے کہ یہ تینوں شاعر شادؔ عظیم آبادی کی ادبی روایتوں کے سائے میں ہوش سنبھالتے ہیں۔ لیکن ان کے جوہر پر جِلا ہوئی ٹیگور اور نذر الاسلام کی سرزمین پر۔ بنگال کی رومانیت غنائیت اور انقلابیت کو آمیز کرکے ان شعراء نے اردو کی نظم اور غزل کو ایک نیا لہجہ دینے کی کوشش کی ہے۔ جس کا بھر پور اعتراف ابھی نہیں کیا گیا ہے۔
 
پرویز شاہدی کی عمر انتقال کے وقت لگ بھگ ۵۸ سال کی تھی ان کی شاعری کا آغاز ۱۹۳۰ء کے قریب ہوا۔ ان کی نظمیں اور غزلیں ابتداء میں بہار اور بنگال کے اخبارات و رسائل میں شائع ہوئیں۔ میرے دوست ڈاکٹر مختار الدین آرزو بتاتے ہیں کہ انہوں نے اپنے زمانہ طالب علمی میں پٹنہ اور گرد و نواح کے مشاعروں میں پرویز شاہدی کی غیر معمولی مقبولیت دیکھی ہے۔ ان کی شخصیت میں بھی ایک عجیب رومانی سرمستی اور بانکپن تھا۔ وہ ایک مخلص انسان تھے۔اور ان کے دل میں قو م و ملک اور انسانیت کے لئے قربانی اور سرفروشی کا جذبہ تھا۔ یہی وجہ ہیک ہ وہ اپنے شاعرانہ لا ابالی پن کے باوجود بنگال کی سیاسی سرگرمیوں میں عملی حصہ لینے پر مجبور ہوئے اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔
 
پرویز شاہدیؔ کے نام سے میں پہلے پہل اس زمانے میں واقف ہوا جب میں اسکول کی جماعتوں کا طالب علم تھا، اس زمانے میں پرویز  کلکتہ سے ’’ جدید اردو‘‘ کے نام سے ایک ماہوار ادبی رسالہ نکالتے تھے۔ میرے ایک عزیز عبد الرحمن ناصر جو اس زمانہ میں ادبی رہنما تھے، اس رسالہ کے مستقل قلمی معاون تھے اور ان کے مضامین، افسانے اور ترجمے’’ جدید اردو ‘‘ میں پابندی سے چھپا کرتے تھے۔ غالباً اسی
 
زمانے میں پرویز کی بعض نظمیں جوشؔ ملیح آبادی کے رسالہ ’’ کلیم‘‘ میں بھی پڑھی تھیں جو دہلی سے نکلا کرتا تھا۔
۱۹۵۰ء میں جب علی گڑھ یونیورسٹی کا طالب علم اور یہاں کی انجمن ترقی پسند مصنفین کا سکریٹری تھا، ایک امن کانفرنس میں شریک ہونے کے لئے کلکتہ گیا۔ اس کانفرنس سے متعلق جہاں اور بہت سے تاثرات ابھی تک ذہن میں محفوظ رہ گئے ہیں ، وہاں ایک تاثر یہ بھی ہے کہ پرویزؔ شاہدی اس زمانے میں جیل میں تھے لیکن ان کی مقبولیت اور ہر دلعزیزی کا یہ عالم تھا کہ وہاں ہر ادیب و شاعر اور سیاسی کارکن ان کا ہی ذکر کرتا تھا اور کانفرنس کے ہر اجلاس کے شروع میں پرویز شاہدی کی کوئی نہ کوئی نظم یا غزل پڑھ کر سنائی جاتی اور پورے مجمع میں جوش و خروش کی ایک لہر دوڑ جاتی۔
 
پرویز شاہدی سر تا پا شاعر تھے۔ ترقی پسند تحریک سے وابستگی کسی فیشن کے ماتحت یا حصولِ شہرت کی خاطر نہ تھی۔ انہوں نے اشتراکی عقائد کو بہت سوچ سمجھ کراپنایا تھا اور آخر عمر تک یہ عقیدہ ان کی رگ و پے میں سرایت رہا۔ لیکن انتہا پسندی اور کٹّر پن ان کے مسلک میں شامل نہ تھا۔ خاص طور پر شعر و ادب کے معاملے میں ان کے یہاں ایک لچک اور روادیر بھی تھی۔ اس کا اندازہ مجھے اس وقت ہوا جب ذاتی طور پر مجھے ان سے ملنے کے بعض مواقع حاصل ہوئے۔
 
پرویز شاہدی سے میری ملاقات ۱۹۵۹ء میں ہوئی جب وہ علی گڑھ کے ایک مشاعرے میں شریک ہونے کے لئے یہاں تشریف لائے تھے۔ غالباً ڈیڑھ سال بعد ممبئی میں’’ جشن شاعر‘‘ منایا گیا ۔ اس جشن میں شرکت کے لئے میں بھی گیا تھا۔ کلکتے سے پرویزؔ آئے تھے ۔ ’’ جھانسی پیلس‘‘ میں میرے علاوہ جو اور شعراء ٹھہرائے گئے تھے ان میں مخدوم محی لدین ، شاہد صدیقی، کنول پرساد کنول اور سلام مچھری شہری تھے۔ میں اور پرویزؔ جلسے سے ایک روز قبل پہنچ گئے تھے۔ اس موقع پر مرحوم سے بہت کھل کر ملاقاتیں رہیں اور بہت سے ادبی مسائل پر تبادلہ خیال کا موقع ملا وہ اس زمانے میں کمیونسٹ پارٹی کی اندرونی سیاست سے کچھ بیزار تھے۔ اسی لئے عملی سیاست سے تقریباً کنارہ کشی اختیار کر لی تھی اور کلکتہ یونیورسٹی میں اردو کے استاد کی حیثیت سے کام کر رہے تھے، مگر ادب کے ترقی پسند نظریے کے سلسلہ میں ان کے خیالات میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی تھی۔ ’’ جشن شاعر‘‘ کے مشاعرہ کے بعد ہم سب نے رت جگے کا پروگرام بنایا۔ مخدوم شاہد صدیقی اور کنول پرساد کے علاوہ عزیز قیسی اور ممبئی کے بعض نوجوان شعرا بھی اس صحبت میں شریک تھے۔ خوب ہنسی مذاق، لطیفہ گوئی، ادبی بحثیں اور شعر خوانی کے دور چلتے رہے۔ پرویزؔ نے پے بہ پہ اپنی کئی نظمیں سنائیں۔ اس دوران میں میں نے اپنی ایک پسندیدہ غزل کی فرمائش کردی۔ اس غزل کا ذکر آتے ہی پرویز پر ایک عجیب کیفیت طاری ہو گئی۔ جس موڈ میں انہوں نے ترنم کے ساتھ وہ غزل سنائی وہ سماں اب تک آنکھوں میں پھر رہا ہے۔ وہ غزل یہ ہے:
 
موقع یاس کبھی تیری نظر نے نہ دیا
شرط جینے کی لگادی مجھے مرنے نہ دیا
اس رفاقت پہ فدا میری پریشاں حالی
اپنی زلفوں کو کبھی تونے سنورنے نہ دیا
تیری غمخوار نگاہوں کے تصدق کہ مجھے
 غمِ ہستی کی بلندی سے اترنے نہ دیا
میں نے دیکھا ہے ترے حسنِ خود آگاہ کا رعب
اجنبی نظروں کو چہرے پہ بکھرنے نہ دیا
حسن ہمدرد ترا ہم سفرِ شوق رہا
 مجھ کو تنہا کسی منزل سے گزر نے نہ دیا
کتنی خوش ذوق ہے تیری نگہِ بادہ فروش
خالی رہنے نہ دیا جام کو بھرنے نہ دیا
 
میں نے اس غزل پر رائے دیتے ہوئے کہا کہ پرویز صاحب! میرے نزدیک آپ کی شاعری کا اصل مزاج اس غزل میں ظاہر ہوا ہے۔ آپ اگر یانگ سی کو سلام جیسی خالص سیاسی اور قتی نظموں کی بجائپے اس انداز کی بیس پچیس غزلیں لکھ دیں تو اردو غزل کے سرمائے میں آپ کے ہاتھوں ایک قیمتی اضافہ ہو سکتا ہے۔ فرطِ محبت سے لپٹ گئے اور کہاک ہ اپنی شاعری کے بارے میں اس طرح کی رائے پہلی بار سن رہا ہوں۔ کہنے لگے کلکتے کی سیاسی زندگی نے میری حیثیت کچھ ایسی بنا دی ہے کہ مجھے تعریف و تحسین سننے کو بہت ملتی ہے لیکن دوستانہ تنقید سے میں اب تک محروم رہا ہوں۔ میں تمہاری رائے کی بہت قدر کرتا ہوں۔
 
 پرویز ؔ سے میری تیسری اور آخری ملاقات اس سے ایک سال بعد دہلی میں ہوئی جب ہم دونوں آلا نڈیا ریڈیو کے ایک مشاعرے میں شریک ہونے کے لئے وہاں پہنچے تھے۔ مشاعرے کے دوسرے روز شمس الرحمن فاروقی نے اپنے ایہاں ایک بے تکلف نشست کی تھی جس میں میرے اور پرویزؔ کے علاوہ وحید اختر ، شاذتمکنت، حسن نعیم، زبیر رضوی، اور بعض دوسرے احباب تھے۔ اس محفل میں بھی پرویزؔ کی بہت سی نظمیں اور غزلیں سنی گئیں۔ میں نے پھر ایک بار اپنی اسی پسندیدہ غزل کی فرمائش کی تو مسکرائے اور بڑے موڈ میں آکر غزل سنائی۔ اس پر لطف صحبت کی یاد اب بھی آتی ہے۔ پرویزؔ کے انتقال کی خبر سنی تو دیر تک ان ملاقاتوں کے تاثرات دل کے پردے پر اُبھرتے اور مٹتے رہے۔ اور یہ محسوس ہوتا رہا کہ کتنا اچھا شاعر اور کتنا اچھا انسان ہم سے جدا ہو گیا۔
پرویزؔ شاہدی جتنے اچھے شاعر تھے اور جتنی مقبولیت انہیں حاصل تھی اسی اعتبار سے ان کے کلام ک اشاعت خاطر خواہ نہ ہو سکی۔ بعض وجوہ کی بناء پر وہ لاہور کے ادبی رسائل سے الگ رہے۔ ترقی پسند ادیبوں کے اہم آرگن، ’’ نیا ادب‘‘ نے بھی غالباً  ان کی مناسب پذیرائی نہیں کی۔ اس لئے ادبی جائزے ان کے نام سے خالیہوتے تھے۔ البتہ ۱۹۵۲ء ،۱۹۵۳ء کے لگ بھگ ’’ شاہراہ‘‘ کے ذریعہ ان کا بہت سا کلام منظر عام پر آیا۔’’ شاہراہ‘‘ والوں نے ۱۹۵۷ء میں ان کا مجموعہ کلام’’ رقص حیات‘‘ شائع کیا تھا اس مجموعے میں پرویز نے اپنا رومانی کلام شامل نہیں کیا تھا بلکہ سیاسی اور ترقی پسندانہ نظموں کو زیادہ اہمیت دی تھی۔ یہ وہ زمانہ ہے جب ترقی پسند تحریک انتشار و اختلال کا شکار ہو چکی تھی اور اس کے خلاف نئی نسل میں ایک رد عمل پیدا ہو چکا تھا اس لئے پرویز کے اس مجموعے کو وہ جگہ نہ مل سکی جس کے وہ مستحق تھے۔
 
ادھر پچھلے چند برسوں میں پرویزؔ کی شاعری میں چند خوشگوار تبدیلیاں آئی تھیں۔ خاص طور پر ان کی نظم’’ بے چہرگی‘‘ میں موجود ہ دور کا کرب جس خوبصورت شاعرانہ انداز میں ابھرا ہے ،اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پرویزؔ کو اپنا اصل راستہ مل گیا ہے۔ اس نظم میں جو بالواسطہ طریق کار اور علامتی انداز اختیار کیا گیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پرویزؔ کا ذہن کس قدر متحرک اور زندہ تھا۔ اور انہوں نے شعری مزاج کو کس سلیقے کے ساتھ اپنی انفرادیت کو برقرار رکھتے ہوئے قبول کیا تھا۔ ان کی نئی غزل پر بھی لہجے کی تبدیلی کا یہ اثر دیکھا جا سکتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ان کے لہجے پر ایک نئی دھار آگئی ہے۔ پچھلے دنوں کی ایک غزل کے چند شعر سے اس کا اندازہ ہو سکتا ہے:
 
جلتے رہنا کام ہے دل کا بجھ جانے سے حاصل کیا
اپنی آگ کے ایندھن ہیں ، ایندھن کا مستقبل کیا
ان پڑھ آندھی گھس پڑتی ہے توڑ کے پھاٹک محلوں کے
’’ اندر آنا منع ہے‘‘ لکھ کر لٹکا نے سے حاصل کیا
ٹوٹی دھنک کے ٹکڑے کر لے بادل روتے پھرتے ہیں 
کھینچا تانی میں رنگوں کی سورج بھی ہے شامل کیا
(۱۹۶۸)
 

 

 
You are Visitor Number : 4333