donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Quasim Khursheed
Writer
--: Biography of Quasim Khursheed :--

Quasim Khursheed

 

قاسم خورشید
 
قاسم خورشید ایجوکیشنل ٹیلی دیژن سنٹر بہار کے وڈیوسر ہیں مصروف زندگی گزار نے کے باوجود ادب کی خدمت کرتے رہے ہیں بہت کم دنوں میں انہوں نے اپنی پہچان بنالی ہے۔ ان کی پیدائش یکم جولائی ۱۹۵۷ء کو کاکو ضلع گیا میں ہوئی، ایم اے کرنے کے بعد ملازمت سے لگ گئے ان کا پہلا افسانہ مئی ۱۹۷۷ء میں بہ عنوان، روک دو، شائع ہوا ، اور اب تک ان کے تقریبا پچاس افسانے ملک کے معیاری پر چوں میں شائع ہوچکے ہیں، تھکے ہوئے لوگ کے عنوان سے ایک افسانوی مجموعہ زیر طبع ہے بہت سی نظمیں، ڈرامے ریڈیا ئی فیچر اور مضامین وغیرہ بھی لکھ چکے ہیں اردو کے علاوہ ہندی میں بھی کہانیاں لکھتے ہیں اور ہندی کہانیوں کے ترجمے اردو میں بھی کرتے ہیں۔قاسم خورشید صاحب کا خیال ہے کہ زندگی مسلسل ایک کرب ہے خوشی بھی ایک اداسی ہے اس عہد میں لیکن پھر ہمارے اندر جینے کا بے پناہ احساس ہے اور ہماری یہی ترقی پسندی کچھ لکھنے پر مجبور کردیتی ہے وہ کہتے ہیں کہ روح کی گہرائی میں اترنے والا افسانہ شاید اب نہیں لکھا جارہا ہے شاید کوئی خوبصورت افسانہ آنے والی دہائیوں میں لکھا جائے ان کے اس جملے سے ان کے نقطہ نظر کو سمجھا جاسکتا ہے ان کے افسانوں کو دیکھتے ہوئے یہ امید کی جاتی ہے کہ جلد ہی وہ بہار کے افسانہ نگاروں میں ایک نمایاں مقام حاصل کرلیں گے۔ حربہ، پوسٹر، پتھر، اور، ٹوٹے ہوئے چہرے، ان کی نمائندہ کہانیاں قراردی جاسکتی ہیں۔ ان کہانیوں میں انہوں نے سماج کی جڑوں میں پوشیدہ برائیوں کو اجا گر کرنے کی کوشش کی ہے اسلوب بیان اور فنی نقطہ نظر سے بھی یہ کہانیاں اچھی ہیں۔
 
***************

قاسم خورشید

نام           ۔        قاسم خورشید

والد           ۔        سید غلام ربانی

جائے پیدائش   ۔        کاکو، ضلع جہان آباد (بہار)

تعلیم           ۔     آئی۔ اے(اورینٹل کالج)، بی۔ اے آنرز (پٹنہ کالج)،

         ایم۔ اے (پٹنہ یونی ورسٹی)، پی ایچ ڈی (پٹنہ یونی ورسٹی)

تکنیکی تعلیم    ۔    ٹیلی ویژن پروگرام پروڈکشن تکنیکی آپریشن

        اے آئی بی ڈی (ملیشیا، سی آئی ای ٹی)
        ISRO  احمد آباد

        اسکرپٹنگ کورس (سی آئی ای ٹی، نئی دہلی) وغیرہ

عہدہ    ۔    ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ، ایس سی ای آر ٹی، بہار

                تــجــربــہ

    ادب

        طالب علمی کے زمانے سے ہی شاعری کا رجحان۔ سب سے پہلے ہندی کے مشہور رسالہ ’پرگتی شیل سماج‘ میں دو غزلیں شائع ہوئیں۔ پھر دیگر تخلیقی اصناف میں طبع آزمائی کی۔ پہلی کہانی ’روک دو‘ 1982ء میں ’’زبان و ادب‘‘ میں شائع ہوئی۔ پھر ملک کے مختلف رسائل میں لگاتار کہانیاں شائع ہوئیں۔ ساتھ ہی ڈرامے بھی اسٹیج کئے۔ پہلی بار بہار میں اردو اسٹیج کو پریم چند کی کہانی’جیل‘ کے توسط سے متعارف کرایا۔ پھر یہ سلسلہ بھی طویل ہوا۔ اِپٹا (IPTA ) اور دیگر تنظیموں کے ذریعے بہار اور ملک کے دوسرے گوشے میں بھی کئی ڈرامے اسٹیج کئے۔ ایک اور ہندوستان، چوہے، بچوں کی عدالت، عید گاہ، جیل، مشین، انگولا کی آواز، کہرا جیسے ڈرامے بہت مقبول ہوئے۔


        70سے زائد افسانے لکھے۔ محمد حسن،انتظا حسین، احمد فراز، وہاب اشرفی،رتن سنگھ، قمر

رئیس، شہر یار ، ندا فاضلی، انور سدید،زاہدہ حنا، فاطمہ حسن، جابرحسین، احمد یوسف اور دوسرے مشاہیرِ ادب نے خصوصی طور پر اہم ترین افسانہ نگار تصور کیا۔ محمد حسن نے اپنے رسالہ ’عصری ادب‘ میں میرے افسانے پر ایڈیٹوریل تک قلمبند کیا ہے۔ وہاب اشرفی نے کئی بار میری تخلیقیت کا ذکر کیا ہے۔ خصوصی طور پر ’تاریخ ادب اردو‘ اور ’قصہ بے سمت زندگی کا‘ میں انہوں نے بہت شدّت کے ساتھ اظہار خیال کیا ہے۔ وہاب اشرفی لکھتے ہیں کہ ’…قاسم خورشید اور مجھ میں ایک قدرِمشترک ہے۔ وہ میری نانیہال کاکو کے ہی ہیں۔ اسی طرح وہ کاکوی ہوئے۔ یوں بھی کاکو ایک ادبی اسکول کی حیثیت رکھتا ہے ۔ کتنے ہی نامور شعرا اور ادبا اسی خاک سے اٹھے اور اب تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ قاسم خورشید اسی مٹی کے وارث ہیں، اس لئے ان کے خمیر میں شعروادب رچا بسا ہے۔ میڈیا سے وابستہ رہے ہیں۔ بچوں کے لئے فیچر فلمیں بناتے رہے ہیں لیکن حالات کا شکار رہے ہیں۔ اب تک انہیں اور بہت آگے ہونا چاہئے تھا لیکن اس معاملے میں پٹنہ کی فضا کچھ ان کے لئے خوشگوار نہیں۔ افسانوں کا مجموعہ ’پوسٹر‘ شائع ہوکر مقبول ہوا ہے۔ ان کے افسانوں پر جس طرح توجہ ہونی چاہئے تھی نہیں ہوئی ہے۔ ‘اسی طرح بزرگ افسانہ نگار احمد یوسف نے تو بار بار یہ کہا ہے کہ ’پوسٹر جیسا افسانہ کبھی کبھی سرزد ہوا کرتا ہے۔‘ انور سدید نے میرے افسانہ ’کنی کا راجکمار‘ کے حوالے سے ہمیں عہدِ نو کا منفرد افسانہ نگار تصور کیا ہے۔بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر احمد فراز نے کہا تھا کہ ’تمہاری (قاسم خورشید) شاعری میں ایک واضح تصور ہے۔ بھرپور تخلیقیت ہے اور شاید تمہارے افسانوں کا نقطۂ عروج بھی تمہارے اشعار میں جابجا موجود ہے۔ انگریزی میں شائع شدہ میرے افسانوی مجموعہ Waves سے متعلق مشہور انگریزی رسالہ 'Lingua Bulletin Delhi'نے تفصیلی اظہار خیال کے دوران اس بات پر زور دیا ہے کہ

"Quasim Khursheed has the ability to capture events that seem unimportant and ordinary, but his sensitivity leads him to observe and write about situation that would escape other poeple's attention."

        اسی طرح اوربھی دوسرے نامور ہندی، اردو اور انگریزی کے نقادوں، ادیبوں نے میرے فن پارے سے متعلق اپنی بیش قیمت آرا سے نوازا ہے۔

        ہندو پاک کے تقریباً سبھی اہم ترین رسائل اور انتخاب میں میری تخلیقات بہت اہتمام سے شائع ہوتی رہی ہیں۔ اپنے ہم عصروں میں مجھے اس لئے سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے کہ بہار میں رہ کر سب سے پہلے بیرون بہار اور بیرون ممالک کے اردو، ہندی اور انگریزی رسائل میں ایک ساتھ شائع ہونے کا شرف حاصل ہوا ہے۔

        ’تھکن بولتی ہے‘ عنوان کے تحت ہندی میں ایک شعری مجموعہ بھی منظرعام پر آیا ، جو کافی مقبول ہوا ہے۔

        قومی یا بین الاقوامی مشاعرے ہوں، میںنے اپنی شاعری اور مخصوص انداز بیان سے بڑی ادبی برادری کو اپنا گرویدہ بنانے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔

    میڈیا

        جدوجہد کا دور تھا۔ ڈرامے کے توسط سے میڈیا کو سمجھنے کا موقع ملا۔ آل انڈیا ریڈیو میں انائونسر بننے کے لئے آڈیشن دیا۔ اوّل آئے۔ بہترین آواز اور پیش کش نے بہت مقبولیت عطا کی۔ ریڈیو میں عارضی طور پر رہنے کے باوجود، ڈبنگ، ایڈیٹنگ اور ریکارڈنگ بھی لگاتار کی۔ کئی فیچر لکھے۔ ’یہ محنت کش‘ جیسے مقبول پروگرام کی شروعات کی۔ ’داستان ایک شہر پٹنہ کی‘ شوق نیموی کی مثنوی ’زہر عشق ‘ پر غنائیہ فیچر لکھا۔ مشہور موسیقار ذاکر حسین نے موسیقی ترتیب دی۔ آل انڈیا ریڈیو پٹنہ کی بہترین پیش کش میں اسے شامل بھی کیا گیا۔ اسی دوران ریڈیو کے لئے متعدد ڈرامے لکھے۔ ’موت بلاتی ہے‘، ’درد گزرا ہے دبے پائوں‘ وغیرہ کو کافی سراہا گیا۔ پریم چند کی کہانیوں پر مبنی کئی ڈرامے کئے۔ ’پنچایت‘ آج بھی مقبول ہے۔ اختر اورینوی ، کیف عظیم آبادی پر بھی خوبصورت  فیچر لکھے۔ ریڈیو کے لئے کہانیاں، مقالے اور شعری تخلیقات بھی قلمبند کرنے کا موقع ملتا رہا۔

        اُن دنوں پٹنہ دوردرشن کی شروعات نہیں ہوئی تھی۔ مظفرپور اور رانچی میں دور درشن کیندر قائم تھا۔ ایس سی ای آر ٹی کے پبلیکیشن ڈیپارٹمنٹ میں خدمات انجام دینے کے دوران پٹنہ میں ایجوکیشنل ٹیلی ویژن کی شروعات ایس سی ای آر ٹی کیمپس میں ہوئی۔ تجربے کے پیش نظر یہ کام سونپا گیا۔ پہلی فلم ’پیڑ ہمارے ساتھی‘ بنائی جو دلّی دوردرشن سے ٹیلی کاسٹ ہوئی۔ اس کے بعد برسوں یہ سلسلہ جاری رہا۔ ڈیڑھ ہزار فلمیں بنوانے کا شرف حاصل ہوا۔ پانچ سو سے زائد فلمیں خود ہی تیار کیں اور جس کی شناخت قومی اور بین الاقوامی سطح پر ہوئی۔ جاپان فیسٹول تک میں فلم ’’آشا‘‘دکھائی گئی۔دوردرشن کے قومی اور بین الاقوامی چینلوں کے لئے بھی سینکڑوں پروگرام پیش کیے جن میں ’’آئینہ‘‘ اور’’بات نکلے گی تو‘‘خاصے مشہور ہیں۔ساتھ ہی متعدد اعزاز واکرام سے نوازا گیا۔مشہور فلموں میں نیا سویرا، آشا، مندار پربت ، راجگیر، وقت، ہمار اجھنڈا، بول انمول، بہار وبھوتی خصوصی طور پر قابلِ ذکر ہیں۔

        ہندی اردو اخبارات و رسائل کے لئے مختلف موضوعات پر تحریریں شائع ہوتی رہی ہیں۔ ناخواندہ، نو خواندہ اورخواندہ کے لئے سو سے زائد کہانیاں، ڈرامے، مضامین، نظمیں لکھنے کا شرف حاصل کیا۔ہندوستان کی عزت مآب صدر جمہوریہ محترمہ پرتبھا پاٹل کے دست مبارک سے میری کہانی ’ڈر سے آگے‘ کا رسم اجرا و اعزاز واکرام سے نوازے جانے کا شرف۔ ساتھ ہی مختلف ادبی موضوعات پر پرچے پیش کرنے، مباحثہ میں حصہ لینے کا بھی تجربہ رہا ہے۔ اس سلسلے میں بہار اور بہار سے باہر کے اداروں کے خصوصی مدعوئین میں شامل ہوتا رہا ہوں۔

    جدوجہد

        چار سال کی عمر اور اچانک والد کا انتقال۔ دو چھوٹے بھائی بالترتیب ڈھائی سال اور چھ ماہ کے تھے۔ جس عمر میں عموماً بیٹیاں بیاہی نہیں جاتیں اس عمر میں ماں کا بیوہ ہونا ناقابل تلافی المیہ تھا۔ ماں نے صبر و تحمل سے کام لیا۔ بچوں کے مستقبل کے لئے جینے لگیں۔ دادا ابا کی نسل تک زمینداری نے ساتھ نہیں دیا تھا ہاں عزت و شہرت نے سفید پوشی برقرار رکھنے کی بہت کوشش کی تھی۔ نفس نے ساتھ دیا۔ مگر گھر کے آنگن سے کبوتروں کی ہجرت کے بعد کوئی راز اب راز نہ رہ سکا۔ چھوٹے بھائیوں کے ساتھ امی اپنے میکے چلی گئیں۔میںسات سال کی عمر میں اپنے خالہ زاد اموں یعنی مظفر الجاوید صاحب کے یہاں پٹنہ آگیا۔ پھر جدوجہد کا طویل سلسلہ شروع ہوا۔ پڑھائی جاری رکھنے کے لئے اسکول میں رہ کر ہی ٹیوشن شروع کیا۔ جب کبھی ہاف پینٹ ہی پہن کر ٹیو شن پڑھانے چلا جاتا تو پڑھنے والی ہم عمر بچیاں ہنسنے لگتیں۔ رام موہن رائے سمینری اسکول کی تعلیم کے دوران گورنمنٹ اردو لائبریری کے ملازم حسن احمد نے کتابوں سے بڑی مدد کی۔ کبھی کبھی اوقات کے بعد بھی پڑھنے کی سہولت فراہم کرواد یتے ۔ان کا کرم ایم۔ اے کرنے تک قائم رہا۔ اس دوران ’پرل موٹرس‘ میں کام کیا۔ پھر بس کے اسٹیل والے پارٹ پرزے پر پالش وغیرہ کا بھی کام کیا۔ رزلٹ ہمیشہ اچھا کرتا رہا۔ لمبے جدوجہد کے بعد سرکاری نوکری میں آیا۔ جب آل انڈیا ریڈیو میں عارضی انائونسر ہوا تو شاہدہ وارثی سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بہت ہمت افزائی کی۔ جلد ہی باضابطہ نوکری حاصل کرنے کے بعد انہیں شریک سفر بنالیا۔ اس سفر میں جہاں میری ماںکی مثالی قربانیاں ہیں، وہیں مظفر الجاوید کی سرپرستی نے بھی ہمیشہ آگے بڑھنے کا حوصلہ عطا کیا۔

تصانیف    ۔    ۰    پوسٹر (اردو کہانیاں)
        ۰    تھکن بولتی ہے (ہندی شاعری)
        ۰    دل تو ہے بنجارا (شعری مجموعہ)
        ۰    قانون ساز کائونسل میں اقلیت (سیاسی تجزیہ)
        ۰    متن سے مکالمہ (تخلیقی تنقید)
        ۰    ریت پر ٹھہری ہوئی شام (کہانیاں)
        ۰    کینوس پر چہرے (کہانیاں)
        ۰    ڈر سے آگے (ہندی کہانی)    -  صدر جمہوریہ ہند سے اجراء شدہ و انعام یافتہ
        ۰    تھار پر زندگی (ہندی کہانی)
        ۰    کوئی ہاتھ (ہندی کہانی)  
        ۰    گُنجا کی نینی (ہندی کہانی)  
        ۰    کشن پور کی مسجد(ہندی کہانی)
        ۰    Waves(انگریزی میں کہانیاں)  وغیرہ۔
تالیف    ۔    ۰    سنولائی دھوپ (کیف کی غزلیں)
        ۰    ٹوٹے ہوئے چہرے (طنز و مزاح)
زیر اشاعت    ۔    ۰    درد گزرا ہے دبے پائوں (ٹیلی ڈرامے)
        ۰    چوہے (اسٹیج ڈرامے)
        ۰    گئودان کی تنقید (پی ایچ ڈی مقالہ)


پتہ    ۔    ڈاکٹر قاسم خورشید 

        نوگھروا، سلطان گنج،
        مہندرو، پٹنہ800006 (بہار) انڈیا
        Mob. 09334079876
        E-mail ID: quasimkhursheed@gmail.com

 

BIO-DATA

 

Name :  DR. QUASIM KHURSHEED

Father’s Name     : (Late) Gholam Rabbani

Place of birth        :  KAKO Jahanabad        

Nationality           :  Indian..

Address                : Naugharwa, Sultanganj,

                                  Patna-800006

                                  Bihar (India)

E- mail   quasimkhursheed@gmail.com  

Mobile No . :               09334079876

Designation  :  (a)     Head Incharge (Languages) SCERT, Bihar         

                           (b)     Grade : Class I (Commissioned officer)

Recommendation :  BIHAR PUBLIC SERVICE COMMISSION (B.P.S.C.)

Experience           :  Twenty five years as Government Servant

 

Qualification-Experience-Training course etc.

ACADEMIC:

1.       B.A. (Hon.) Ist Class       Patna University

 2.       M.A.           Ist Class       Patna University

3.       Ph.D.                             Patna University

 

QUALIFICATION :

PROGRAMME PRODUCTION / TECHNICAL - OPERATION TRAINING/ COURSE

  1. AIBD (MALISIA, CIET, UNICEF COL.) Course for ETV Programme Production & Technical Operation.
  2. SPACE APPLICATION CENTRE/ISRO (Ahmedabad) Course in Television Programme Production.
  3. Trained as Script Writer from CIET., New Delhi.
  4. Trained as T.V. script writer from Bhopal Organised by Population Education Cell.
  5. Radio Programme Producer and Technical Operation course from CIET, 1990
  6. Refresher course for Educational Television (ETV) production from CIET.
  7. ETV Scripting course from CIET.

 

EXPERIENCE :

  1. I am FOUNDER Programme-Producer of SIET (Educational Television Centre) Bihar.

PRODUCED, DIRECTED ACTED  and WRITEN, Ist Production of SIET, Bihar, PED HAMARE SATHI in 1985.

  1. Above 50% films of SIET Bihar is Produced, Directed, Acted, Written, Edited and Co-oprated by me.
  2. 20 years working Experience as Programme PRODUCER, WRITER, EDITOR, PROGRAMME DESIGNER, EVALUATOR.

WORKED AS DIRECTOR (INCHARGE) SIET, BIHAR :

  • Worked as Administrative officer of SIET, Bihar.
  • Working as Head of Deptt. Of Languages in SCERT, Bihar.
  • SCERT, Bihar developed more then fifty books of Primary, Secondry & Higher Secondry level under my supervision.
  • SIET, Produced Thousand Educational Programmes Under my Production inchargeship.
  • Organised a number of Script Writing. Topic selection MLL and Low Cost Teaching aid Workshop.
  • Organised many Programme Committee meeting as Member Secretary.
  • Worked as Programme Co-ordinator SIET, Bihar.
  • Experience of Administration of staff under me.
  • Prepared paned of artist, musician Script Writer Casual Production assistant etc.
  • Experience of Training, Research and Evaluation.

 

PUBLICATION, JOURNALISM, LITERARY PROGRAMME ORGANISOR:

  1. I am noted writer of Urdu and Hindi literature My article has been published in top Urdu and Hindi Journals.
  2. Twenty five years experience in literary field as writer and journalist.
  3. Organised a number of literary and cultural programmes.
  4. Five books are under publication namely “ANDAR AAG HAI” (Hindi Stories), “DIL TO HAI AWARA” (Poem), “PATKATHA” (Tele Scripts), “CHOOHE (Drama).

Books has been published namely “SANWLAI DHOOP”, “TOOTE HUE CHERE”, “THAKAN BOLTI HAI” (Poem), “POSTER” (Stories), “MINORITY IN BIHAR LEGISLATIVE COUNCIL” (Journalism), “THAR KI ZINDAGI”, “KISHANPUR KI MASJID”, “KOI HATH”, “VIRICKH” (NATIONAL BOOK TRUST & DEEPAYATAN) etc.

 

NATIONAL/INTERNATIONAL EDUCATIONAL VIDEO FESTIVAL:

  • NAYA SAVERA : Selected for ISRO/SAC/DECU First

Ahmedabad Video Festival.

  • AAI HAI EID

BABU SAHAB

HAMARA JHANDA     : Selected for Lucknow Video Festival

  • KARNAL SAHAB

RAJGIR                        Selected for Lucknow Video Festival

ASHA                            :  Selected for Lucknow Video Festival

Selected for 18th NHK JAPAN )(Tokyo) Video Festival

Note :  A Hindi Tele-film “SHAK” which is Directed and Edited by me. Mr. L.Mishra President, National Literacy Mission has very much appreciated this film.

OTHER EXPERIENCES:   

  1. At least six years worked for Patna IPTA, Patna University Cultural Scociety and Vivekanand  Natya Sansthan as Drama Director, Actor, Writer and Announcer.
  2. Representation of Bihar Stage in Different States as Drama Director, Team Leader, Actor etc.
  3. Some of the Popular Stage players are JAIL IIDGAD, BACHCHON KI ADALAT, BHOPAL, NAYA ITIHAS, MACHINE, ISTIFA, MURDER CASE, APKI ADALAT MEIN and EK AUR HINDUSTAN.
  4. Staged for children also.

 

AWARD AND OTHER EXPERIENCES:

  1. BIHAR URDU ACADEMY has given three thousand rupees for the script “MAUT BULATI HAI” (Short stories).
  2. For “EK AUR HINDUSTAN” (stage play) Former Governor Bihar Shri Jagannath Kaushal has given award as Actor and Director.
  3. Two years worked as secretary “Halqua-e-Adab” Bihar (Honorary).
  4. Three years worked as secretary (Honorary) Patna IPTA.
  5. Worked as literary Magazine Editor (Honorary) also Member Executive Sangit Natak Academy.
  6. Convener Multi lingual writers forum.
  7. Bihar Kala Parishad has given an award of KALA SHRI 1996-97 for the contribution of ETV Programme Production in Bihar.
  8. Written a number of Tele-scripts.
  9. About 25 years working Experience in “Government organization” still I am working as HOD Incharge, languages SCERT, Bihar.
  10. Represented in NATIONAL/INTERNATIONAL MUSHAIRA/KAVI SAMMELAN, SEMINAR etc.
  11. Awarded by National literary mission as writer, Book released by Honorable President of India.

DR. QUASIM KHURSHEED

HOD Incharge (Languages)

SCERT, Bihar,

Patna

 
You are Visitor Number : 2004