donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Rasheed Arif
Poet
--: Biography of Rasheed Arif :--

 

 رشید عارف 
 
  
عبد الرشید ( قلمی نام رشید عارف) ابن عبد الحمید کی تاریخ پیدائش میٹرک سرٹی فیکٹ کے مطابق 8 دسمبر ۱۹۴۲ء ہے۔ وہ محلہ لودی کٹرہ، پٹنہ سیٹی میں پیدا ہوئے تھے۔ کمسنی میں ہی والد کا انتقال ہو گیا۔ اور مالی دشواریوں کا سامنا رہا۔ اس کے باوجود 1958 ء میں سائنس کے ساتھ میٹرک پاس کرنے کے بعد پٹنہ سیٹی کے ایک انجینئرنگ اسکول میں اور سیر کی تربیت کے لئے داخلہ لیا۔ مگر یہ تعلیم نا مکمل رہی اور بالآخر۱۹۶۸ء میں اورینٹل کالج پٹنہ سیٹی میں داخلہ لے کر بی۔ اے کی ڈگری حاصل کی۔ اسی دوران ۱۹۶۲ء میں حکومت بہار کے محکمہ مالیات میں کلرک کی ملازمت مل گئی جہاں سے ۳۱ دسمبر کو سبکدوش ہونے کے بعد آبائی محلے میں قیام پذیر ہو گئے۔
 
رشید عاف کا ادبی ذوق عظیم آباد کی یاد گار شعری نشستوں کی دین ہے۔ جس مکان میں ( حاجی خورشید صاحب کی حویلی) ان کا قیام تھا وہاں پابندی سے طرحی وغیر طرحی مشاعرے منعقد ہوتے تھے۔ گلشن شاد اجڑنے کے باوجود آباد تھا۔ شاہ جھبّو صاحب بسمل عظیم آبادی، ثاقبؔ ، راز محمود ، علی خاں، صبا ، عطا کاکوی، دانش، ہوش، رمز اور دیگر شعراء ان مشاعروں میں شریک ہوتے اور نوجوانوں کی حوصلہ افزائی فرماتے تھے۔ کبھی کبھی جمیل مظہری ، حمید عظیم آبادی اور اختر اورینوی بھی رونق محفل بن جاتے تھے۔ اسی ماحول میں ۱۹۶۰ء کے آس پاس رشید نے بھی غزل گوئی سے ناطہ جوڑ کر مشق سخن شروع کی اور طبیعت کی مناسبت سے اپنا تخلص عارف رکھ لیا۔ ایک بار شعر و ادب کا ذوق پیدا ہوا تو اس میں اضافہ ہوتا گیا۔ کئی ادبی انجمنوں کی بنیاد ڈالی گئی جن کے تحت ماہانہ شعری نشستیں بھی ہوئیں۔ اور سالانہ جلسے بھی ۔ انجمن رضائے مصطفی کے زیر اہتمام ہر سال نعتیہ مشاعرے بھی منعقد ہوئے۔ اور عظیم آباد کی شعری محفلوں میں رشید عارف کی فعال شرکت ایک مثال بن گئی۔
 
خوبصورت کلا سیکی طرز سخن اور ویسا ہی انداز بیان یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ ان کی غزلوں میں کبھی کبھی عصری موضوعات بھی جگہ پاجاتے ہیں مگر عام طور سے وہ روایت کی سرحدوں سے باہر نہیں نکلتے۔ گرچہ ملازمت سے سبکدوشی کے بعد وہ غزل سے زیادہ نعت گوئی کی طرف متوجہ ہوگئے ہیں۔ مزاج کی مناسبت سے شاعری میں بھی نفاست اور وضع داری کا رنگ نمایاں ہو گیا ہے۔
 
 نمونہ کلام درج ذیل ہے۔
 
 قدر وہ خون کے رشتے کی گھٹا دیتا ہے
 بیچ آنگن کے جو دیوار اٹھا دیتا ہے
 وقت ہی روز ہمیں زخم نیادیتا ہے
 اور یہی زخم پہ مرحم بھی لگا دیتا ہے
 ایک چنگاری کوئی رکھ گیا دروازے پر
 اور پڑوسی مرا شعلوں کو ہوا دیتا ہے
وہ حقیقت کہ جو گزری مرے اوپر عارف
سننے والا اسے افسانہ بنا دیتا ہے
٭٭
 
ایک مجھ پر ہی جہاں بھر میں یہ احساس کیوں ہے
 مجھ سے مانوس تو اتنا غم دوراں کیوں ہے
 لالہ و گل پہ تو کچھ میرا بھی حق ہے لیکن
 میرے حصے میں فقط خار بیاباں کیوں ہے
 
رشید عارف کا ایک اور رنگ سخن طنزیہ و مزاحیہ قطعات کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ جن دنوں مگدھ پنچ ، پٹنہ پابندی سے شائع ہورہا تھا۔ ۱۹۷۷ء تا ۱۹۸۴ء انہوں نے بھی پابندی سے مزاحیہ نظمیں لکھیں اور بعض مشہور لطیفوں کو منظوم کیا۔ اب بھی مقامی روز ناموں میں اس طرح کے قطعات ان کے نام سے
 
شائع ہوتے ہیں۔ ایک مثال ملاحظہ ہو۔
 
 ہر ہیوی نس گر پڑیں بستر سے جب
ہنس کر ان سے ان کے شوہر نے کہا
زلزلے سے گر پڑی ہیں آپ، یا
آپ کے گرنے سے آیا زلزلہ
 
(بشکریہ: بہار کی بہار عظیم آباد بیسویں صدی میں ،تحریر :اعجاز علی ارشد،ناشر: خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ)
 
****************************
 
You are Visitor Number : 1603