donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Shah Hussain
Writer
--: Biography of Shah Hussain :--

 

Shah Hussain was an outstanding Sufi saint of Punjab . He is said to be the contemporary of Emperor Akbar and therefore his date of birth around 1538. 
In his childhood he received education in Muslim theology and Quran. He came to know that one must do something better than to limit oneself to the age old dogmas of religion. This knowledge futher acted as a stimulus to study spiritualism and he spent most of his time in the ill-reputed houses of professional simgers and dancers. By his deeds he tried to create a hatred feeling for himself in the minds of others, so that he could meditate or concentrate uninterrupted in the praise of the creator and the creation. 
His thoughts and preachings were an amalgamation of Hindu philosophy and Muslim tradition. For him, God and universe were synonymous withy each other. Shah Hussain died in 1599.
 
Mela Chiraghan is one of the most popular festival of Lahore. It is actualy "Urs" of a famous mystic Shah Hussain, who is also known as Madhu Lal Hussian. To some, he was a Sufi mystic, and to others he was a Mustaswif(one who pretends like a Sufi for the lust of worldly gains). Here is an Urdu translation of an essay of Yoginder Sikand "Madho Lal Hussain of Lahore: Beyond Hindu and Muslim". One can himself judge whether he was a sufi or a mutasawif after reading it. 
 
 
شاہ حسین، شہادت پائیں
جو مرن متراں دے اگے
برصغیر کی تصوف کی تاریخ بہت بھر پور اور طویل ہے۔ برصغیر کے دوسرے علاقوں کی نسبت غالبا ً پنجاب میں اس کی جڑیں سب سےزیادہ گہری ہیں، جنہوں نے یہاں تصوف کے عظیم علم بردار پیدا کیے، اور جنہوں نے عوام کے ذہنوں میں تصوف کا گہرا تاثر قائم کیا۔ آج تک اس علاقے کے ان گنت صوفیاکی اس صوبے اور دیگر علاقوں کے کروڑوں مسلمان، سکھ، دلت اور ہندوبے حد عزت کرتے ہیں ۔
شاہ حسین بھی ایسے ہی صوفی بزرگ ہیں جنہیں ان کی وفات کے چار سو سال بعد بھی کروڑوں پنجابی یاد رکھتے ہیں۔ وہ لاہور میں 1539 میں ڈھاٹا راجپوت گھرانےمیں پیدا ہوئے۔ ان کے خاندان نے کچھ عرصہ قبل ہی اسلام قبول کیا تھا، اس لیے ان کے نام کے ساتھ "شاہ" کا لاحقہ استعمال کیا جاتا تھا۔ بچپن ہی سے انہیں لال رنگ کے کپڑے پہننے کا بہت شوق تھا، اس لیے انہیں لال حسین کہا جانے لگا۔ اوائل عمرہی سے ان کا تصوف کی جانب رجحان عیاں تھا۔ اپنے استاد شیخ ابو بکر کی نگرانی میں انہوں نے بچپن میں قرآن پاک حفظ کر لیا تھا۔ دس سال کی عمر میں وہ چنیوٹ کےمعروف بزرگ بہلول کے ہاتھ پر سلسلہ قادریہ میں بیعت ہو گئے۔ اگلے پچیس سال انہوں نے اپنے پیر کی کڑی نگرانی میں گزارے اور روایتی اسلام کےاحکامات اور رسوم پر سختی سے عمل پیرا رہے اور سادہ زندگی بسر کرتے رہے۔
چھتیس سال کی عمر میں ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے ان کی زندگی کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا۔ ایک دن لاہور کے شیخ سعد اللہ سے تفسیر پڑھتے ہوئے جب وہ قرآن کی اس آیت پر پہنچے [جس کا ترجمہ ہے]: "اس دنیا کی زندگی تو بس کھیل تماشا ہے"، تو انہوں نے اپنے شیخ سے اس آیت کی تشریح کرنے کےلیے کہا۔ شیخ نے بتایا کہ اس کا مطلب ہے کہ یہ دنیا اہمیت دیے جانے کے قابل نہیں ہے۔ شاہ حسین نے یہ تعبیر قبول کرنے سے انکار کردیا اور اصرارکیا کہ اس آیت کو لازماً معروضی معنوں میں لیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اپنے استاد کو بتایا کہ انہوں نے اس آیت کا جو مطلب لیا ہے اس کے مطابق اب وہ اپنی باقی کی زندگی پر لطف طریقے سے بسر کریں گے۔ اپنی زندگی کے اس حصے میں شاہ حسین کی مادھو سے ملاقات ہوئی۔ مادھو ایک برہمن زادے تھے۔ ان دو افراد کا تعلق اتنا گہرا ہو گیا کہ عوام شاہ حسین کو مادھو لال حسین کے نام سے جاننے لگے، گویا وہ دونوں یک جان ہو گئے۔ قربت کا یہ گہرا تعلق جو ان کے درمیان پیدا ہوا، ان کی زندگی ہی میںبہت سی بدگمانیوں اور اختلافات کا باعث بن گیا۔ ہندوستانی تصوف کے ماہر جان سبحان لکھتے ہیں کہ ایک ہندو لڑکے اور مسلمان فقیر کا یہ انتہائی قریبی تعلق ان کے معاصرین کے نزدیک "قابل شرم" ہونے کی وجہ سے "قابل اعتراض کردار" کا مظہرتھا۔ جبکہ جان سبحان ان دو افراد کی درمیان تعلق کی اس "ناقابل صبرکشش" کو "عشق" قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح پنجابی تاریخ دان شفیع عاقل مادھو اور شاہ حسین کے اس تعلق کو "لا محدود محبت" کہتے ہیں اور اس تعلق کو بیان کرنےکے لیے زبان و بیان کے وہی پیرائے اختیار کرتے ہیں جو عام طور پر مرد اور عورت کے تعلق کو بیان کرنےکے لیے اختیار کیے جاتے ہیں۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ "مادھو سے شاہ حسین کو پیار تھا اور خود مادھو بھی ان کو چاہتے تھے"۔وہ یہاں تک لکھتے ہیں کہ "شاہ حسین مادھو سے کسی صورت جدا ہونے کے لیے آمادہ نہ تھے۔"
"تحقیقات چشتیہ" کے مصنف نور احمد چشتی کہتے ہیں کہ اس جوڑے کے کچھ معاصرین نے اس تعلق کو "نامناسب" جانا۔ وہ لکھتے ہیں کہ مادھو کے رشتہ داروں نے جب دیکھا "کہ وہ شاہ حسین کے ساتھ انہی کے بستر پر سوتے ہیں، تو وہ ان دونوں کو قتل کرنے کے لیے آئے"۔وہ کہتے ہیں کہ خوش قسمتی سے" شاہ حسین کی [روحانی] طاقت نے انہیں اندھا کر دیا، اور وہ اندر داخلے کا دروازہ نہ پا کر واپس لوٹ گئے"۔ پنجاب کے صوفیا پر معروف اتھارٹی ، لاجوانتی رام کرشن کہتے ہیں کہ بہت سے لوگ "غیر فطری تعلق کے وجہ سے [ان کے متعلق] شک و شبہ میں مبتلا تھے"۔ جو بھی بات ہو، ان دو چاہنے والوں کی کہانی دلچسپ بھی ہے اور اور پنجاب کی تصوف کی روایت کے اعتبار سے انوکھی بھی ہے۔
شاہ حسین کی مادھو سے پہلی ملاقات کیسے ہوئی؟ تاریخ کا ریکارڈ اس کے متعلق مختلف کہانیاں سناتا ہے۔ تحقیات چشتیہ کے مصنف لکھتے ہیں کہ شاہ حسین نے پہلی دفعہ مادھو کو لاہور کے ایک بڑے بازار میں "ایک شاندار گھوڑے پر شاندار طریقے سے گزرتے دیکھا"۔ وہ مادھو کے حسن پر ایسے فریفتہ ہوئے کہ "سولہ سال تک اس لڑکے کو حاصل کرنے کی ناکام کوشش کرتے رہے، جس کے بعد کہیں انہیں کامیابی ملی"۔ رضوی جو ہندوستانی تصوف پر اتھارٹی ہیں لکھتے ہیں کہ شاہ حسین نے پہلی مرتبہ مادھو کو ایک بازار سے گھوڑے پر سوار گزرتے دیکھا اور انہیں دیکھتے ہی وہ حالت مستی میں مبتلا ہو گئے۔ وہ کہتے ہیں کہ اسی وجہ سے شاہ حسین شاہدارا منتقل ہوگئے جہاں مادھو رہتے تھےاور ایک غلام کی طرح ان کا پیچھا کرنے لگے۔ رام کرشن کہتے ہیں کہ بعض کے خیال میں شاہ حسین کی مادھو سے پہلی ملاقات شراب کی ایک دکان پر مے نوشی کی ایک محفل میں ہوئی ۔ مگر وہ اس نظریہ کو ترجیح دیتے ہیں کہ مادھو ان کی تصوف کی مجلسوں میں باقاعدگی سے شرکت کیا کرتے تھے اور یہیں شاہ حسین اس "خوبصورت لڑکے" کے حسن سے متاثر ہوئے۔
ایک تاریخ دان لکھتا ہے کہ " شاہ حسین کا مادھو سے پیار بہت انوکھا تھا اور اس لڑکے کو خوش کرنے کے لیے ، جو کچھ ان کے بس میں تھا ، انہوں نے کیا"۔ کہا جاتا ہے کہ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا تھا جب وہ دونوں ملاقات نہ کرتے ہوں۔ شاہ حسین کی مادھو کے لیے فریفتگی اتنی زیادہ تھی کہ اکثر وہ آدھی رات کو اٹھ کر راوی عبور کرکےاور کئی میل پیدل چل کر مادھو کے گھر جا پہنچتے تھے۔ البتہ مادھو کے والدین کو اپنے بیٹے کا شاہ حسین سے یہ تعلق پسند نہ تھا۔ ایک مرتبہ انہوں نے مادھو کو یاترا کے لیے ہندوءوں کے مقدس شہر ہری دوار لے جانے کا منصوبہ بنایا۔ انہیں امید تھی کہ شاید اس دوری سے مادھو شاہ حسین کو بھول جائیں گے۔ شاہ حسین اپنے محبوب سے دوری کے خیال کو بھی برداشت نہ کر سکتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے مادھو کے والدین کو مادھو کو ساتھ لے جانے سے منع کر دیا۔ مگر یہ وعدہ کیا کہ وہ مادھو کو بعد میں ہری دوار بھیج دیں گے۔ داستان کے مطابق، مادھو کے والدین جب ہری دوار پہنچ گئےتو شاہ حسین نے مادھو سے کہا کہ وہ اپنی آنکھیں بند کریں۔ جب انہوں نے آنکھیں بند کر لیں تو شاہ حسین نے اپنا پائوں زمین پر مارا اور مادھو سے آنکھیں کھولنے کے لیے کہا۔ جب مادھو نے آکھیں کھولیں تو خود کو کرشماتی طور پر ہری دوار میںپایا۔ ان کے والدین انہیں وہاں پا کر حیران رہ گئے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے بعد مادھو نے اپنے گھر کو چھوڑ دیا اور شاہ حسین کے ساتھ رہنا شروع کر دیا۔
ممکن ہے، بلکہ قرین قیاس یہی ہےکہ شاہ حسین کے مادھو سے تعلق کا ان کی فکر، ان کی صوفیانہ شاعری اور سب سے بڑھ کر ان کی مذہبی زندگی پر اثر ہوا۔ مادھو کے عشق میں انہوں نے پوری جراءت سے معاشرے کے دستور کی خلاف ورزی کی اور روایتی علما کو شدت سےان کے جرم پر مورد الزام ٹھہرایا، جن کے لیے دین بے روح رسوم ، اٹل ضابطوں اور سخت پابندیوں تک محدود ہو گیا تھا اور جس کا محبت، لطف اندوزی، ہمدردی اور جذبات سے کوئی تعلق نہیں رہ گیا تھا۔
مادھو سے شاہ حسین کے تعلق نے انہیں دوسرے مذاہب کے معاملے میں بہت روادار بنا دیا تھا۔ مادھو کو خوش کرنے کے لیے وہ پنجاب کا موسم بہار کا تہوار بسنت بڑے جوش و خروش سے منایا کرتے تھے۔ اسی طرح ہندو تہوار ہولی بھی مناتے تھے۔ ہولی میں وہ ایک دوسرے پر رنگ بھی پھینکتے تھے۔ قرون وسطی کی فارسی کتاب "حسنات العارفین" کے مطابق شاہ حسین کا اصرار تھا کہ"میں مسلمان ہوں نہ کافر"۔ اس طرح انہوں نے اپنے وسیع المشرب اور وسیع النظر ہونے کا ثبوت دیا ۔ یہ انداز فکر اس دور میں نایاب بھی تھا اور اس کی تحسین بھی نہ کی جاتی تھی۔ رام کرشن نے لکھا ہے کہ شاہ حسین کا ہندو سادھو چھجو بھگت اور سکھوں کے پیشوا گرو ارجن سے بھی روحانی تعلق تھا۔
شاہ حسین کی مادھو کے لیے انمٹ محبت کی گہری جھلک ان کی کافیوں میں بھی ملتی ہے جو آج بھی پنجابی ادب کا سب سے قیمتی اثاثہ شمار ہوتی ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ سچی روحانی معرفت لا محدود محبت کے ذریعے ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔ جیسا کہ انہوں نے اپنی ایک کافی میں کہا ہے [ترجمہ]" یہ جوانی پھر واپس نہیں آئے گی اس لیے ہنسو اور کھیلو، جب تک تمہارا محبوب تمہارے پاس ہے۔"
شاہ حسین کا خیال تھا کہ محبت دو روحوں کو[یا انسان کو خدا کے ساتھ] اس طرح ایک کر سکتی ہےکہ وہ اپنی انفرادیت اور علیحدہ ہونے کی خاصیت کھو دیں اور ایک دوسرے میں مکمل طور پر مدغم ہو کر ایک ہو جائیں۔ چنانچہ مادھو اور شاہ حسین اس طرح ایک ہوئے کہ انہیں ایک نام سے یاد کیا جاتا ہے: مادھو لال حسین۔
غالبا ً اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شاہ حسین نے کہا تھا"رانجھا رانجھا مینوں سب کوئی آکھو، ہیر نہ آکھو کوئی۔"
شاہ حسین نے 1599 میں وفات پائی اور لاہور میں راوی کے کنارے دفن ہوئے۔ مادھو، ان کے بعد اڑتالیس سال بعد تک زندہ رہے، اور انہیں شاہ حسین کے برابر میں ایک مقبرے میں دفنایا گیا۔ یہ مزار آج تک عقیدت مندوں کی بہت بڑی تعداد کا مرجع ہے کہ یہاں جدا نہ ہو سکنے والے دو ایسے عاشقوں کی قبریں ہیں جو مرنے کے بعد بھی اسی طرح ایک ہیں جیسے زندگی میں تھے۔
 

 

 
You are Visitor Number : 1846