donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Shamim Sadqa
Writer
--: Biography of Shamim Sadqa :--

Shamim Sadqa

 

شمیم صادقہ 
 
شمیم صادقہ بیس برسوں سے ادب کی خدمت کر رہی ہیں انہوں نے پہلی کہانی اس وقت لکھی تھی جب وہ آٹھویں جماعت میں پڑھتی تھیں ان کے لکھنے کا سلسلہ رکتا اور چلتا رہا انہوں نے خود ہی فرمایاہے۔ میں رک رک کر لکھتی رہی زندگی کی الجھنوں نے جب مجھے ذہنی طور پر نڈھال کیا وہیں چند عزیزوں اور اپنوں نے ،دوستوں اور مہربانوں نے میری ہمت افزائی کر کے پھر سے اظہار کی بھٹی میں جھونک دیا۔ یوں میں اس کرب کو سمیٹنے کی کوشش میں بار بار بکھرتی رہی یہاں تک کہ اب میں خود کو بھی پہچان نہیں پاتی میں کیا ہوں؟ایک سوالیہ نشان میرے اندر صلیب کی طرح آویزاں ہے۔ان کے ان جملوں سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں در اصل یہ بات سچ ہے کہ شمیم صادقہ نے اپنے افسانوں میں اپنی ذات کے کرب اور اپنے ہی بحران کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے لیکن آج کا ہر انسان اس المیہ کا شکار ہے ہر شخص اپنے کو ادھورا ہی محسوس کرتا ہے اور آج کے زیادہ تر انسان کو میں کی تلاش ہے، اس لحاظ سے صادقہ کی ہر کہانی زندگی کے قریب تر ہے اور ان میں شعوراور لاشعورکی کشمکش ہر جگہ موجود ہے ان کی کچھ کہانیاں تحلیل نفسی کی بہترین مثالی ہیں۔
ان کی ابتدائی کہانیوں میں کہانی پن کو ہر جگہ روادار رکھا گیا ہے بعد میں ان کی کچھ کہانیاں علامتی ہوگئی ہیں جوشاید وقت اور حالات کے زیر اثر ہوئی ہیں لیکن ان کہانیوں میں بھی وہ سب کچھ ہے جس کی تلاش قارئین کو ہوا کرتی ہے تجرید اور ابہام سے وہ کوسوں دور ہیں ، انہوں نے اپنی بعض کہانیوں میں پیار ومحبت اور حسن وعشق کے جذبے کو موثر انداز میں دکھانے کی کوشش کی ہے۔ ہما!زندگی کے ناسور سے یہ جو لمحہ لمحہ دردرِ س رہا ہے، یہ اس کا اعتراف ہے کہ ٹمٹماتے ستاروں اور بیلا کے پھولوں پر مرنے والی لڑکی کو کبھی نہ بھول سکا جس کی حمایت سے نجات کیلئے میں اتنی دور نکل گیا ہوں کہ بادصبا بھی کوئی نشانی نہیں دے سکتی کاش کبھی ۔ادھوری کہانی۔
شمیم صادقہ نے افسانہ نگاری کے ساتھ ناانصافی نہیں کی ہے موضوع میں نیاپن نہ ہوتے ہوئے بھی تکنیک اور طرز ادا کے سہارے وہ اپنے افسانوں میں دلچسپی قائم رکھتی ہیں، ان کی تحریر میں جو کشش ہے اظہار بیان میں جو آنچ ہے وہ قارئین کو پگھلا کر رکھ دیتی ہے اور یہی آنچ ادب وفن کی جان ہوتی ہے۔ واقعات کے نہا خانے میں احساسات وکیفیات کی شدت اور دھیمی دھیمی رفتار شمیم کے افسانوں کو پڑھنے کیلئے آمادہ کرتی رہتی ہے ساتھ ہی یہ واقعات عورت ومرد کے تصادم سے بھی پیدا ہوتے رہتے ہیں جو جدائی طلاق وصل، نکاح، انتظار، بیقراری، ایذارسانی، بے وفائی اور جنم جنم کے ساتھ اور فریب عمل اور رد عمل سے ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔شمیم صادقہ کی پیدائش ۳؍جولائی ۱۹۴۸ء کو پٹنہ میں ہوئی، ان کے والد جناب محمد ایوب صدیقی ،مرحوم کا تعلق شیخ خاندان سے تھا، ایم اے کرنے کے بعد پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر چکی ہیں، اورفی الحال گو رنمنٹ ویمنس کالج گردنی باغ پٹنہ میں لیکچرار ہیں، انہوںنے اپنی ادبی زندگی کا آغاز ۱۹۶۹ء میں کیا، اب تک ان کے تین افسانوی مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں، کرچیاں، ۱۹۸۰ءمیں ادھورے چہرے ۱۹۸۲ء میں اور طرح دیگر ۱۹۸۲ء میں پہلے اور دوسرے افسانوی مجموعے کی کہانیاں افسانہ نگار کی ادھوری زندگی کا پتہ دیتی ہیں دوسرے اور تیسرے فسانوی مجموعے کے کچھ افسانے علامت کے سہارے بنے گئے ہیں لیکن قارئین کے لئے دلچسپی اور کشش برقرار رکھتے ہیں، البتہ پہلے افسانوی مجموعے کے افسانے میں زبان کی صحت پر کہیں کہیں آنچ آگئی ہے، اور جابجا انگریزی الفاظ اور انگریزی جملوں کی صحت پر کہیں کہیں آنچ آگئی ہے، اور جا بجا انگریزی الفاظ اور انگریزی جملوں کی آمیزش نے جہاں زبان وبیان میں چاشنی پیدا کردی کم پڑھے لکھے لوگوں کیلئے ایک الجھن بھی پیداکردی ہے۔ مختصر یہ کہ شمیم صادقہ ایک کامیاب افسانہ نگار ہیںوہ اپنے گردوپیش کو اپنی ذات کے آئینے میں دیکھنے کی کوشش کرتی ہیں، ازدل خیز دبردل ریز د ردل پر گزری ہوئی بات دل پر اثر کرتی ہے، والی بات ان پر صادق آتی ہے۔ 
’’بشکریہ بہار میں اردو افسانہ نگاری ابتدا تاحال مضمون نگار ڈاکٹر قیام نیردربھنگہ‘‘’’مطبع دوئم ۱۹۹۶ء‘‘
++++
 
 
You are Visitor Number : 1943