donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Shamim Saifi
Writer
--: Biography of Shamim Saifi :--

Shamim Saifi

 

شمیم سیفی
 
شمیم صاحب تقریباً ۳۰ سال سے ادب کی خدمت کررہے ہیں اونچے عہدے پر فائز ہونے کی وجہ سے انہیں لکھنے کا موقع کم ملا پھر بھی موقع نکال کر وہ برابر کچھ نہ کچھ لکھتے رہے ہیں ادھر چند برسوں میں ان کے لکھنے کی رفتار بہت سست رہی ہے وجہ ظاہر ہے کام کی مصروفیات پہلے ڈسٹرکٹ جج پھر وزارت قانون اور وقف میں اسپیشل سکریٹری ہوئے ایسی صورت حال میں ادب کی خدمت کرنا یقیناً ادب سے جذباتی لگائو کا نتیجہ ہے۔ شمیم صاحب کی پیدائش ۱۹۳۴ء میں ملکی چک دربھنگہ میں ہوئی، ایم اے ایل ایل بی تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد ادبی ذوق پیدا ہوا جو آج تک قائم ہے ان کی بہت سی کہانیاں ملک کے مختلف رسائل میں شائع ہو کر مقبول عام ہوچکی ہے ان کی زبان شاعرانہ ہوتی ہے وہ جو کچھ لکھتے ہیں علمیت اور تجربات کی گہرائی اور فن کی گرفت کے ساتھ لکھتے ہیں ان کا تجربہ اور مشاہدہ بہت گہرامعلوم ہوتا ہے انہوں نے جو کچھ لکھا ہے بہت سوچ سمجھ کر لکھا ہے ہر کہانی میں فطری انداز پایا جاتا ہے ان کی ہر کہانی حالات حاضرہ پرمبنی ہوتی ہے۔شمیم سیفی صاحب کا افسانوی مجموعہ ایک ورق ہے اس کی روشنی میں ان کی افسانہ نگاری کا اندازہ آسانی سے لگا یا جاسکتا ہے ،اس مجموعہ میںپندرہ کہانیاں ہیں ہر افسانہ میں علامت نگاری کا کوئی نہ کوئی پہلو موجود ہے لیکن رویا کئے بہار کو ہم آئینوں کا شہر ، آسماں اور راہ گذر وغیرہ میں ماجر ے اور بیان کی کمی ہے ایک ورق، وہ جنتیں کھوگئیں، لب یار کی خوشبو، اور ایک تصویر کے دورخ ، وغیرہ میں بہت حد تک صاف اور سیدھا بیان ماجرا ہے اسلوب بیان اچھا اور خوبصورت ہے، ادب سے اس کا تعلق جزوقتی نہیں بلکہ بھر پور ہے گوکہ مصروفیتوں سے کچھ ایسے لمحات نکال لینا جو تخلیق کی بھٹی میں تپ کر ان کے فن پارے بن سکیں کچھ شمیم کا ہی حصہ ہے شمیم کی شخصیت بڑی Antegrated  ہے اور بوجھوتو جانیں، اس کی شخصیت کا رویہ اس کے فن میں پورے طورسے نمایاں ہے کہ وہ اپنے پانی کو گہرا دکھانے کیلئے کسی کرتب سے اسے گدلا نہیں کرتے بلکہ بزی ضمانت اور انکساری سے وہ اس پر زور دیتا ہے کہ ادب روایات وبغاوت ،پابندی اور تجربہ کا ایک طویل سلسلہ ہے جو پانی کے دھارے کی مانند ہمیشہ رواں ہے اس نے اپنی تحریر کا تعلق ہمیشہ سماج سے براہ راست رکھا ہے، مختصر یہ کہ شمیم صاحب نے حالات حاضرہ پر قلم اٹھا کر افسانہ نگاری کی دنیا میں ایک منفرد مقام بنایا ہے، اگر وہ آئندہ بھی اسی طرح لکھتے رہے تو امید کی جاتی ہے کہ اردو کہانی کو وہ آگے بڑھائیں گے اور فرشتہ، جیسی دوسری بہت سی کہانیاں اردو وادب کودیں گے۔ فرشتہ،ان کی ایسی کہانی ہے جو لوگوں کے ذۃن میں آج تک محفوظ ہے فرقہ وارانہ فسادات پر مبنی یہ ایک اچھی کہانی ہے میں آپ کا شک کیسے رفع کر سکتا ہوں یہ حقیقت ہے کہ میں آپ کا ہم قوم اور ہم مذہب نہیں پھر بھی آپ مجھ پر بھروسہ کر سکتے ہیں تو کیجئے۔ جج صاحب نے کہا ،چلو کوئی دوسری صورت بھی تو نہیں ، جان تو بہر حال جائے گی اور جیسے ہی ٹرک ڈرائیور جج صاحب کے علاوہ عبدل، رحمووغیرہ کو اپنے ٹرک میں بٹھا کر غائب ہوا محلہ کے خالی گھروں میں بوائیوں نے آگ لگا دی ۔’’فرشتہ‘‘ ایک ورق، دھوئیں کاتخت، پیاسی دریا، اور ایک تصویر، کے دورخ، شمیم صاحب کی اچھی کہانیاں ہیں۔
’’بشکریہ بہار میں اردو افسانہ نگاری ابتدا تاحال مضمون نگار ڈاکٹر قیام نیردربھنگہ‘‘’’مطبع دوئم ۱۹۹۶ء‘‘
++++
 
 
You are Visitor Number : 1422