donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Syed Mohammad Mohsin
Writer
--: Biography of Syed Mohammad Mohsin :--

 

 سید محمد محسن 
 
 
 سید محمد محسن ابن سید محمد رشید تعلیمی سند کے مطابق ۳۰ جولائی ۱۹۱۰ء کو کاکو ( موجودہ ضلع جہان آباد) میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد پٹنہ کے ایک ذی علم اور با وقار خانوادے سے تعلق رکھتے تھے۔ انہیں کی نگرانی میں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ ۱۹۴۴ میں پٹنہ یونیورسٹی سے نفسیات میں ایم اے ( گولڈ میڈل) کرنے کے بعد کچھ دنوں پٹنہ کالج میں لکچرر کی حیثیت سے کام کیا پھر پی ایچ ڈی کے لئے اسکاٹ لینڈ چلے گئے اور ۱۹۴۸ء میں اڈنبرا یونیورسٹی سے علم نفسیات میں پی ایچ ڈی کرنیکے بعد واپس ہندستان آکر ۱۹۵۶ء میں ’’ کیشنل گائڈنس بیورو کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔ ۱۹۶۰ء سے پٹنہ یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات میں لکچرر ہو گئے جہاں سے بحیثیت پروفیسر اور صدر شعبہ نفسیات ریٹائر ہونے کے بعد ایک عرصے تک پٹنہ کے محلہ بھنور پوھر میں مقیم رہے۔ البتہ اپنے عزیزوں سے ملنے کے لئے دہلی اور دوسرے شہروں کا سفر کرتے رہے۔ ۲ مارچ ۱۹۹۹ء کو دہلی میں انتقال ہوا اور قدیم قبرستان بستی حضرت نظام الدین میں مدفون ہوئے۔
 
 سید محمد محسن ایک بہترین معلم، ماہر نفسیات ، دانشور اور افسانہ نگارکی حیثیت سے طویل عرصے تک بہار کی ادبی و علمی دنیا کا ناگزیر حصہ رہے۔ افسانہ نگار ی کے ساتھ ساتھ مصوری، شاعری اور مضمون نگاری سے بھی انہیں خاصی دلچسپی تھی۔ اردو کے علاوہ انگریزی میں بھی ان کی متعدد تصانیف شائع ہوئیں جنہیں نفسیات کے علماء اور طلباء کے حلقوں میں قدر و منزلت حاصل ہوئی۔ ان میں سے بعض کتابیں اب بھی درسیات کا حصہ ہیں۔ ان کے مرتب کردہ بعض نفسیاتی پیمانے بھی نفسیات کے نصاب کا حصہ ہیں۔ اور ان کے بعض شاگرد اس میدان میں اپنی انفرادی شخصیت قائم کرچکے ہیں۔ گویا سید محمد محسن بنیادی طور پر ایک ماہر نفسیات ہیں مگر اردو ادب سے ان کا رشتہ فکشن ، شاعری اور مضمون نگاری کے وسیلے سے قائم ہے۔ انکا ایک افسانہ ’’ انوکھی مسکراہٹ‘‘ نہ صرف یہ کہ اردو میں اپنی نوعیت کا پہلا افسانہ تھا بلکہ آج بھی اس کی سحر انگیزی دلوں سے محو نہیں ہوتی۔اس میں ایک ایسی لڑکی کا کردار ابھارا گیا ہے جو کسی کی بھی موت پر (یہاں تک کہ اپنے عزیزوں کی موت پر بھی غم زدہ ہونے کی جگہ مسرور ہوتی ہے۔ مگر بظاہر اب نارمل لگنے والی اس لڑکی کو نفستیاتی تجزیے کی روشنی میں اب نارمل کہنا بھی دشوار محسوس ہوتا ہے۔ دراصل یہی وہ نفسیات ژرف بینی ہے جو پروفیسر محسن کے افسانوں کی روح ہے۔ شاید اسی کے پیش نظر آل احمد سرور نے ان کی افسانوی مجموعے کے فلیپ پر یہ رائے دی ہے۔
 
’’ پروفیسر محسن کے افسانوں میں فطرت انسانی کے سربرستہ رازوں سے جس چابک دستی سے پردہ اٹھایا گیا ہے اس سے ان کی گہری نظر اور فنی صلاحیت دونوں کا اندازہ ہو جاتا ہے۔
 
ِسیدمحمد محسن کی دیگر کتابوں کا مطالعہ بھی نفسیات سے ان کے مسلسل شغف کا احساس دلاتا ہے۔’’ نفسیاتی زاویے‘‘ کا پہلا مضمون ’’ خود آزاری ‘‘ ہے۔ جو ۴۶۔۱۹۴۵ء میں شائع ہوا تھا۔ جب کہ آخری مضمون ’’ میں اور میری تخلیق‘‘ جنوری ۱۹۸۰ء میں آل انڈیا ریڈیو سے نشر شدہ ہے ۔ گویا کم و بیش پینتیس برس تک وہ مختلف موضوعات کا نفسیاتی مطالعہ کرتے رہے ہیں۔ یہ سلسلہ بعد میں بھی جاری رہا۔ منٹو سے متعلق ان کی کتاب اردو میں اپنی نوعیت کی واحد تصنیف ہے۔ ہندستان کی دوسری زبانوں میں اس وقت تک اس قسم کے مطالعات کم یاب ہی تھے۔ یہی بات ان کی کتاب نفسیاتی زاویے کے بعض مضامین سے متعلق کہی جا سکتی ہے۔ مگر قابل افسوس بات یہ ہوئی کہ وہ اپنی خود نوشت میں یہ اسلوب قائم نہ رکھ سکے۔ اور عیب جوئی کا جو انداز مقبولیت یا انفرادیت حاصل نہیں ہوئی۔ البتہ ادبی موضوعات، مسائل اور شخصیات پر نفسیاتی نقطہ نظر سے لکھے ہوئے ان کے بعض اہم مضامین جو بعد میں شائع ہوئے اب بھی رسائل و جرائد کی فائلوں میں دبے ہوئے ہیں۔ ان کی اشاعت پروفیسر سید محمد محسن کو ادبی دنیا میں ایک نئی پہچان عطا کر سکتی ہے۔ اب تک مختلف ذرائع سے ان کی جن تصنیفات کا علم ہو سکا ہے وہ درج ذیل ہیں۔
 
 ۱۔ انوکھی مسکراہٹ اور دوسرے افسانے مطبوعہ ۱۹۷۳ء 
۲۔ نفسیاتی زاویے( مجموعہ مضامین ) مطبوعہ مارچ ۱۹۸۰ء 
۳۔ سعادت حسن منٹو: اپنی تخلیقات کی روشنی میں ( ایک نفسیاتی تجزیہ ) مطبوعہ ۱۹۸۲ء
۴۔ زخم دل ( شعری مجموعہ) 
۵۔ یادوں کا کارواں ( خود نوشت)
 ڈاکٹر عبد المغنی نے اپنی کتاب ’’ معیار و اقدار ‘‘ میں ان کو ایک اہم نفسیاتی تنقید نگار قرار دیتے ہوئے لکھا تھا۔
 
’’ نفسیاتی زاویے نفسیات اور نفسیاتی تنقید دونوں میں ایک وقیع اور رفیع اضافہ ہے۔ لیکن یہ صرف دو سو چالیس صفحات کی ایک کتاب ہے جس میں ریڈیائی مضامین کو چھوڑ کر فقط چودہ مقالات ہیں اور ان میں کئی مختصر ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس چھوٹے سے مجموعے مضامین کو کتاب تجدید کی صرف تمہید کہا جائے گا۔ یہ تمہید نہایت شان دار ہے اور ہمیں کتاب کا انتظار ہے۔ پر امید انتظار۔
(معیار و اقدار۔ص۔۲۱۰)
 
(بشکریہ: بہار کی بہار عظیم آباد بیسویں صدی میں ،تحریر :اعجاز علی ارشد،ناشر: خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ)
 
**************************
 
 
You are Visitor Number : 3866