donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Zafar Uganwi
Writer
--: Biography of Zafar Uganwi :--

Zafar Uganwi                  ظفر اوگانوی

 

 

 

نام: محی الدین
قلمی نام:ظفر اوگانوی
والد کانام:مولانا محمدنصیح احمد
تاریخ ولادت: یکم جنوری ۱۹۳۹ء۔
مستقل پتہ: ۵/۲۵ شمس الہدیٰ روڈ کلکتہ ۷۰۰۰۱۷
تعلیم: ایم اے، پی ،ایچ، ڈی
ادبی زندگی کا آغاز: ۱۹۵۵ء۔
افسانوی مجموعہ :ایک،۱۔سچ کا ورق ،۱۹۷۷ء۔
اعزازات وانعامات : مجموعی ادبی خدمات پر ۱۹۰۵ء کا ، عبدالرزاق ملیح آبادی ایوارڈ ،بہار اردو اکادمی نے کئی کتابوں پر انعامات سے نوازا ۔ 
دیگر تصانیف اور مضامین وغیرہ:بہت سے تنقیدی مضامین منظر عام پر آچکے ہیں۔کچھ تحقیقی مضامین بھی شائع ہوئے ہیں، مختلف موضوعات پر کئی کتابیں چھپ چکی ہیں۔ 
ملازمت: درس وتدریس
ظفر اوگانوی بہار کے ایک نمائندہ افسانہ نگار ہیں، ۱۹۵۵ء سے ہی ادب کی خدمت کررہے ہیں مجموعی ادبی خدمات کے سلسلے میں انہیں مغربی بنگال اردو اکادمی کی طرف سے ۱۹۸۵ء کا عبدالرزاق ملیح آبادی ایوارڈ ،دس ہزار روپئے بھی مل چکا ہے، اس کے علاوہ بہار اردو اکادمی نے ان کی کئی کتابوں کو انعامات سے نوازاہے۔ اس سے ان کی ادبی خدمات کا اندازہ لگا یا جاسکتا ہے۔ جہاں تک ان کی افسانہ نگاری کا سوال ہے تو ان کے بہت سے افسانے ملک کے معتبر رسائل میں چھپ چکے ہیں، اور انہیں مقبولیت حاصل ہوچکی ہے لیکن اب تک صرف ایک افسانوی مجموعہ منظر عام پر آسکا ہے ا س مجموعہ میں کل گیارہ کہانیاں ہیں اس کے شروع میں نئی کہانی کے عنوان سے مصنف نے ایک صفحہ وقف کیا ہے شاید اس لئے کہ قاری اس کی مدد سے کچھ سمجھ سکے۔ اس ذہن کی کہانی جو آج کے اقتصادی سیاسی اور سماجی تقاضوں کارد عمل ہے اس شخص کیلئے ناقابل فہم ہے جس کا ذہن آج کا ہوتے ہوئے بھی عصری نظر یات کی پیچیدگیوں کے تجربہ سے قاصر ہے، وہ بیچارہ کیا جانے کہ آج کے انٹر نشلزم کے چکر میں کوے بھی اپنی چال بھول گئے وہ معصوم اس سے بھی واقف نہیں کہ اقتصادی بحران کے نتائج کتنے خطرناک ہوسکتے ہیں اور یہ کہ موجودہ ہندوستان کیاہے۔ ایسے میں قلم کے کیا تقاضے ہیں اور اس سے قلم کار کس طرح عہدہ برآہوا ہے علامتیں کلی وجزوی کہاں میں کہنے کا انداز کب کیسا ہوگا، کھردر اپن کب آرٹ کی لطاف کا امین ہو جاتا ہے اور یہ سارا کچھ ایسا کیوں ہے،میری کہانیاں یہی کچھ ہیں مجھے نہیں معلوم ان پر کس طرح کے لوگ کس نوعیت کے تجربے فرمائیں گے لیکن میرے لئے اردو کے وہیں ناقداہم ہیں جوبین الاقوامی ادبی سائنسی اور سماجی نظریات واقدار کی خامیوں سے آگاہ ہیں اور جنہوں نے خلوص ودل کے ساتھ اس پس منظر میں نئی کہانی کے آرٹ کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ اس طرح ۱۹۲۰ء کے افسانوں میں جو ایک نئی تبدیلی آئی اس سے وہ زیادہ متاثر نظر آتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کااسلوب دوسروں سے مختلف ہے انہوں نے اپنی ایک الگ راہ نکالی ہے لیکن اس راہ پر چلتے ہوئے وہ کہاں تک کامیاب ہوئے ہیں اس کا اندازہ اس اقتباس سے لگایا جاسکتا ہے۔ علامتی نظام کے دروبست میں افسانہ نگار نے کہیں کہیں سخت ابہام نگاری سے کام لیا ہے جس کی وجہ سے افسانہ کا مدعا قاری کی فہم کے لئے ایک معمہ بن جاتا ہے محال نظر، وقت پسندی اور ہئیت پرستی کی بے جا کھیر کی شیرینی کامزہ ظفر اوگانوی کے فن میں نمایاں ہے۔ داخلی تحت الشعور اور حواس خمسہ پر زیادہ اعتماد ،کبھی کبھی فنکار کو تہہ داری کے بجائے لامعنویت کی جدید قابل فہم تحریک ، سے ہمکنار کردیتا ہے۔ اس طرح ظفر اوگانوی صاحب کے بارے میں اب زیادہ کچھ کہنے کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔ نیاآئینہ، نئی سڑک ’’اپنا رنگ‘‘ اور بیچ کا ورق ، نئے انداز میں لکھی ہوئی اچھی کہانیاں ہیں ان کہانیوں کی روشنی میں کہاجاسکتا ہے کہ مستقبل میں وہ افسانہ نگاری کے دامن کو اور بھی وسیع کریں گے۔
 
’’بشکریہ بہار میں اردو افسانہ نگاری ابتدا تاحال مضمون نگار ڈاکٹر قیام نیردربھنگہ‘‘’’مطبع دوئم ۱۹۹۶ء‘‘
 
 
You are Visitor Number : 3703