donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Zaki Anwar
Writer
--: Biography of Zaki Anwar :--

Zaki Anwar

 

ذ کی انور 
نام: محمد ذ کی
قلمی نام: ذ کی انور ،مرحوم،
والد کا نام: مولانا محمد احسن،مرحوم
تاریخ پیدائش :۲۹؍نومبر۱۹۲۹ء بمقام محلہ نبولیا ،نالندہ
تعلیم: ایم اے ،اردو،
پہلا افسانہ: ’’کندن‘‘ماہنامہ‘‘ جدید اردو ‘‘کلکتہ ۱۹۴۴ء
رسائل وغیرہ میں چھپنے والے افسانے رسائل کے نام جن میں افسانے چھپے:’’نقوش‘‘ لاہور‘‘سویرا‘‘ لاہور ‘‘ چاند‘‘ جموں‘‘ نغمہ ونور‘‘ دہلی‘‘ نظام‘‘ ممبئی ‘‘ افکار‘‘ بھوپال ‘‘سہیل‘‘ گیا وغیرہ۔
دیگر تصانیف:ناول کی تعداد۔۲۷۔ڈرامے کی تعداد،۱۰۰۔بچوں کیلئے ناول۔۶۔
ملازمت:لکچرر،کریمیہ سیٹی کالج ،جمشید پور۔
وفات:۱۹۷۹ء
گوشہ زکی انور: ’’زبان وادب‘‘ پٹنہ اپریل ۱۹۷۹ء پندار ،پٹنہ ۱۵،ستمبر ۱۹۷۹ء۔
زکی انور نے ۱۹۴۴ء میں قلم پکڑا اور اس تیزی کے ساتھ لکھنے لگے کہ کہانیوں اور ناولوں کا ایک انبار سالگا دیا انہوںنے ہر طرح کے رسائل میں کہا نیاں لکھیں۔ بعض لوگوں نے ان پر زود نویسی کا الزام بھی لگایا۔ ابتدا میں انہوں نے رومانی کہانیاں لکھیں لیکن بعد میں انہوں نے اپنی قوت مشاہدہ کا ثبوت دیتے ہوئے زندگی کے گونا گوں مسائل کو اپنے افسانے کا موضوع بنایا عام طور پر انہوں نے سماجی، معاشرتی اور مقصدی کہانیاں لکھی ہیں سیدا حمد قادری نے صحیح فرمایا ہے۔ زکی انور نے جہاں عشق ومحبت کی کہانیاں لکھی ہیں، وہاں بھی زندگی کو قریب سے دیکھنے کی کوشش کی ہے آزادی سے قبل کے حالات، آزادی ملنے کے بعد کے حالات ملک کے دوٹکڑے ہوجانے سے جو دلوں کا بکھرائو ہوا، اس کی کہانی ،مزدور اور غریب کے سسکتے دنوں کی داستان اور ان کے ساتھ ساتھ جنسیات (Sex)بھی زکی انور کے افسانوں کے موضوع رہے ہیں۔
اپنی کہانیوں کے سلسلے میں انہوں نے ایک جگہ خود ہی فرمایا ہے۔
’’میں نے مختلف موضوعات پر کہانیاں لکھیں انقلاب کے موضوع پر بھی اور جنس کے موضوع پر بھی لیکن موضوع چاہے کچھ بھی کیوں نہ ہو ایک بات کی میں نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ میری کہانی انسان کی کہانی ہو، اس انسان کی جو میرے قریب رہتا ہنستا ہے ، اس انسان کی جو اس زمین پر موجودہے اس انسان کی نہیں جو محض سو چا جاسکتا ہے۔ ‘‘
زکی انور نے اردو افسانے میں نئے اسٹائل بھی پیش کئے ہیں ، ان کی کہانیوں کے کردار ہر جگہ جیتے جاگتے نظر آتے ہیں کردار کی زبان بھی وہی ہوتی ہے جس طرح کے کردار ہوتے ہیں، کردار کی زبان بالکل فطری انداز سے پیش کیا ہے۔ زکی انور کے افسانوں میں اسلوب کی ندرت ،انداز ِبیان کی جدت تحریر کی سلاست اور تاثیر کی چاشنی موجود ہے ان کے یہاں الفاظ کا خوبصورت استعمال نظر آتا ہے وہ اپنے چٹخ دار اور برمحل جملوں کے ذریع قاری کو متاثر کرتے ہیں۔
یہ سچ ہے کہ زکی انور بہت آسان زبان استعمال کرتے ہیں ،عام فہم جملے اور محاورے کے ذریعہ اپنی تحریر میں دل کشی اور جاذبیت پیدا کردیتے ہیں انہوں نے نچلے اور متوسط طبقے کے متعلق بہت کچھ لکھا ہے جس کے پاس کچھ نہیں ہوتا لیکن ایک درد مندول ضرور ہوتا ہے۔ 
میں دیوی نہیں ہوں، میں تو ایک بہت ہی معمولی عورت ہوں، لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہیں مرد تو خیر مجھ سے مل لیتے ہیں لیکن عورتیں تو میری شکل تک دیکھنا نہیں چاہتی ہیں تمہاری ممی البتہ بہت بری عورت ہیں کہ انہوں نے مجھے اپنے گھر بلا یا ہے لیکن وہ شاید یہ بات نہیں پسند کرتی ہیں کہ تم لوگ مجھے آنٹی کہو اور مجھ جیسی عورت ان کی بہن بن جائیں۔’’ایک بری عورت‘‘
اور بھی دکھ’’دوزخی‘‘ تین سال تین دن‘‘ ایک بری عورت‘‘ نروان ‘‘ وغیرہ ان کی اچھی کہانیاں ہیں ان کی روشنی میں ان کے فن اور فکر کا بخوبی اندازہ گا یا جاسکتا ہے ۔ مستقبل میں وہ اردو ادب کی اور بھی بہتر خدمت کرتے لیکن فرقہ وارانہ سے بے رحم ہاتھوں نے ہم سے ایک اچھا ادیب چھین لیا۔
 
’’بشکریہ بہار میں اردو افسانہ نگاری ابتدا تاحال مضمون نگار ڈاکٹر قیام نیردربھنگہ‘‘’’مطبع دوئم ۱۹۹۶ء‘‘
 
 
You are Visitor Number : 2421