donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Adbi Gosha
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Dr. Adil Hayat
Title :
   Ghazal Ka Niswani Rabab


ڈاکٹرعادل حیات
 
شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی
 
Mobile: 9313055400
 
غزل کا نسوانی رباب
 
اردو کی شعری روایت میں غزل کا مقام اور دوسری اصناف کے مقابلے میں اعلی و ارفع ہے۔غزل نے اپنی ابتدائی دور سے انٹرنیت کے موجودہ زماے تک توانائی و تابناکی کے ساتھ دلوں کو مسحور کرنے اور ضمیروں کو جھنجھور نے کا کام کیا ہے۔ اس درمیان غزل پر مختلف الزامات عائد کرکے اسے تنقید کا نشانہ بھی بنا یا گیا۔ ایک الزام یہ بھی تھا کہ غزل مرد شعرا کے ہاتھوں کٹھ پتلی کی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔ وہ جس طرح چاہتے ہیں، اس صنفِ سخن کا استعمال کرتے ہیں۔ اردو شاعرات کا غزل کے میدان میں قدم رکھنا اور دن بدن ان کی تعداد میں اضافے کاہونا دوسرے تمام الزاموں کی طرح اس الزام کو بھی رد کرتا ہے۔ غزل کی سخت جانی نے مشکل دور کا سامنا صبر آزما حوصلوں کے ساتھ کیا بلکہ اس کی مقبولیت نے نکتہ چینوں کو دانتوں تلے انگلی دبانے پر مجبور کردیا۔ اردو غزل کی پہلی شاعرہ کون تھی، اس سلسلے میں تاریخ خاموش ہے لیکن بعض علمائے ادب کے نزدیک دکن کی چندا ساکن اردو غزل کی پہلی شاعرہ ہیں۔ انہوں نے اورنگ زیب کی بیٹی زیب النسا اور خدائے سخن میر تقی میر کی دخترنیک جن کا نام بیگم تھا، کی طرف بھی کچھ اشعار منسوب کیے ہیں۔ اردو شاعرات کا ذکر مصحفی اور شیخ کریم الدین نے بھی اپنے تذکروں میں کیا ہے۔ اس کے بعد غزل کی زنجیر میں شاعرات کڑیوں کی طرح منسلک ہوتی  چلی گئیں۔ جس کا سلسلہ دراز ہوتے ہوئے دورِ حاضر تک آتا ہے اور اس میں ایک نام فوزیہ رباب کا بھی ہے۔
فوزیہ رباب احمد آباد، گجرات کی رہنے والی ہیں لیکن شادی کے بعد انہوں نے گوا کو اپنا وطنِ ثانی بنا لیا ہے۔ وہ شعر و ادب کی جانب کیسے مائل ہوئیں ، اس کی طرف کوئی اشارہ نہیں ملتا۔ اپنی کتاب ’’آنکھوں کے اس پار میں لکھتی ہیں:
 
’’میں شاعرہ کب سے ہوں اور میں شاعرہ کیوں ہوں اس کا کوئی ٹھوس جواب شاید میرے پاس بھی نہیں، مجھے کائنات کی خوبصورتی اپنی طرف کھینچتی ہے اور اس میں جو بھی مجھے محسوس ہوتا ہے، اسے میں الفاظ میں انڈیل دیتی ہوں۔
 
اس اقتباس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ فوزیہ رباب فطرتاً شاعرہ ہیں۔ چنانچہ دوسرے بعض شاعروں کی طرح انہیں بھی معلوم نہیں ہوا کہ انہوں نے کب غزل کے رباب کی صورت اختیار کر لیں، لیکن اس میدان میں انہوں نے نہ صرف شوق و شغف کا ثبوت دیا بلکہ اپنی آواز کو نمایاں کرنے میں کامیاب بھی ہوئیں۔ ان کے اعزاز میں ہندوستان ہی کیا پاکستان میں بھی محفلیں سجتی رہی ہیں۔انہیں بہت سے ایوارڈوں سے نوازا گیا اور وہ کئی ادبی تنظیموں اور معیاری جرائد و رسائل سے وابستہ ہیں۔ فوزیہ نے غزلیں کہی ہیں اور اسی تناسب میں ان کے یہاں نظمیں بھی ملتی ہیں۔ ہر دو سطح پر ان کا فن جادو جگاتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ ان کی غزلوں کے موضوعات میں وسعت نہ سہی لیکن حسن و عشق اور زندگی کے تجربات کو جس خوش اسلوبی کے ساتھ اپنے اشعار میں پیش کیاہے، وہ ان کی فنی پختگی کا بین ثبوت ہے۔ ان کی غزلوں میں ایسا مثلث بنتا ہوا دکھائی دیتا ہے، جس میں خودسپردگی کا والہانہ رنگ، ہجر کی کیفیات اور زندگی کے دوسرے تجربات بھی شامل ہیں۔ ان کے دل میں محبوب کی تصویر سجی ہوئی ہے، جس کی چاہت سے ان کی جبیں منور ہے۔ محبوب کی یادیں ان کی روح میں اس طرح سرایت کر گئی ہیںکہ وہ اپنی زندگی کا قیمتی حصہ نچھاور کرکے بقیہ عمر اس پر ہی لٹانے کی تمنا رکھتی ہیں۔ اتنا ہی نہیں وہ اپنے محبوب کو ایک پاکیزہ دعا تصور کرتی ہیں۔ ان کے اشعار محبوب کی چاہت سے مملو ہی نہیں ہیں بلکہ عشق کی شدید کیفیات کا  مرکز بن گئے ہیں۔ کچھ اشعار دیکھیں:
 
میری روح میں تیری یاد اترتی ہے
ہولے ہولے مدھم مدھم شہزادے
جتنی عمر ہے باقی وہ بھی تیرے نام
جتنی تھی وہ تجھ پہ لٹا دی شہزادے
مجھے وہ چین کے لمحے نوازنے والا
اسی کو بن کے مرے سر کا درد رہنا ہے
 
محبوب کی چاہت اور شوخی و شرارت کا یہ انداز بہت دور تک ان کا ساتھ نہیں دیتا ۔ جلد ہی ان کے لہجے میں سوزوگداز کی مدھم آنچ سلگنے لگتی ہے۔ہجر کی بے کرانی میں وصل کا تصور ایک نئی کیفیت کو جنم دیتاہے۔ہمارے محسوسات عشق کی دنیا میں ایک نئے منظر سے لطف اٹھانے لگتے ہیں۔ صوفی شاعر میر درد کے متعلق کہا گیا کہ وہ اپنے بھائی میر اثر کی طرح ایامِ جوانی میں کسی مادی محبوب کی زلف کے اسیر تھے۔ فوزیہ رباب کے حوالے سے ایسی باتیں کرنا کسی انجانے خطرے کو دعوت دینا ہے لیکن جس ذوق و شوق کے ساتھ انہوں نے ہجر کی کیفیات و واردات کا بیان اپنی غزلوں میں کیا ہے، وہ قاری کے تجسس کو ضرور بڑھاتا ہے۔ محبوب کی جدائی میں اپنی شخصیت کو فراموش کردینا، درد چھپا کر دل کا رونا، اپنے خوابوں میں گئے زمانوں کی خوشبو کو محسوس کرنا، بینائی کے اس پارمیت کے ساتھ ماتم داری کا ہونا، کسی کی یاد میں روح اور دل کے ساتھ گہنوں کا پاگل پن اور محبوب کی یادوں کے ساتھ اپنے سراپے کو پتھر تصور کرنا نیزہجر کے افق رنگ میں خود کو ڈوبتا ہوا محسوس کرناہجر کی کسک کو دوبالا کردیتا ہے۔ چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
 
میں بھی خود سے روٹھی روٹھی رہتی ہوں
جب سے تو نے مکھ کو موڑا کوزہ گر
کس کو سنائے خاموشی کے بین رباب
دل روتا ہے درد چھپا کر شہزادے
گئے زمانوں سے رشتہ میرا نہیں ٹوٹا
ادھورے خوابوں کی رکھی ہے باس شہزادے
بس اک خواب کی میت ہے اور ماتم داری ہے
ہم نے جاکر دیکھ لیا ہے آنکھوں کے اس پار
میں، مری روح، مرا دل تو رہا کرتا تھا
اب تو رہتا ہے تری یاد میں گہنا پاگل
جب سے تری یاد پتھر ہوگئی
ہوگئی برباد پتھر ہوگئی
ہجر ایسا کہ افق رنگ مری آنکھوں میں
میں کہ اک ڈوبتا منظر ہوں سہارا تو ہے
 
محبوب اور اس کی یادوں کے ساتھ فوزیہ رباب کی غزلوں میں عصری حسیت کاتخلیقی اظہار بھی ہوا ہے۔ غزل کے فنی تقاضوں کے مطابق انہوں نے اپنے تجربوں کا اظہار علامتی پیرا ئے میں کیا لیکن جدید شعرا کی طرح ان کے اشعار پر علامتوں کی دبیز پرتیں نہیں ہیں۔ اس لیے ان کے اشعار میں اثر انگیزی کی کیفیت دوبالا ہوگئی ہے۔چند اشعار پیشِ خدمت ہیں:
 
اس پار تھا غریب کا لاشہ پڑا ہوا
بجنے لگی تھیں جھیل کے اس پار تالیاں
ہوائے شہر سے جس کو بھی خوف آتا ہے
وہ کیسے گاؤں کا کچا مکان چھوڑے گا
 
فوزیہ رباب کی غزلوں میں جابجا مکالماتی انداز بھی پایا جاتا ہے۔ اس طرح کے اشعار کو پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے دو کردار آپس میں محوِ گفتگو ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ ایسے اشعار قاری کے ذہن پر ڈرامائی کیفیات اجاگر کرتے ہیں لیکن اس ڈرامے کے کرداروں کے چہرے پر کسی بھی طرح کا نقاب پڑا نہیں ہوتا۔ فوزیہ رباب کے تجربے اور ان کے پیشکش کا انداز قاری کے ذہن پر حقیقت نگاری کا گہرا نقش ثبت کرتا ہے:
 
میں بھی ہر روز ہی کرتی ہوں بھروسا تم پر
تم بھی ہر روز جاتے ہو، حد کرتے ہو
اس نے ایک بار کہا کوئی نہیں تم جیسا
تب میں لگنے لگی خود کو بھی پیاری پاگل
میں نے پوچھا کہ کوئی مجھ سے زیادہ ہے حسیں
آئینہ ہنس کے یہ بولا اری جاری پاگل
اس نے پوچھا کہ مری ہو ناں؟ تو پھر میں نے کہا
ہاں تمہاری، میں تمہاری، میں تمہاری پاگل
خاموشی نے سب کچھ ہی تو کہہ ڈالا ہے
بولیں ناں! اب کیا بتلائیں؟ آپ بتائیں
 
فوزیہ کی اکثر غزلوں میں ان کا نسوانی رنگ چھلک گیا ہے۔ یہ وہی رنگ ہے جسے مردانہ سماج نے چہاردیواری میں قید رکھا اور ایک زمانے تک گھر کی زیب و زینت کا کام لیالیکن جیسے ہی مردسماج کی گرفت میں گنجائش پیدا ہوئی ان رنگوں نے بھی اپنا جلوہ دکھانا شروع کیا۔ پروین شاکر، کشورناہید اور دوسری شاعرات نے اپنی آواز نہ صرف غزل اور دوسری اصنافِ نثر و نظم میں بلند کی بلکہ مردانہ سماج پر ضربیں بھی لگائیں۔دوسری شاعرات کی طرح فوزیہ کی غزلوں میں بھی ان کی نسوانیت کا کھل کر اظہار ہوا ہے۔ ان کے اس رنگ میں روزمرہ کے تجربہ و احساس اور زندگی کے نشیب و فراز کا اظہار تذکیر و تانیث کے خطِ فاصل کے ساتھ ہوا ہے۔ ان کی ایک غزل سے تین اشعار پیش ہیں، جس میں ایک عورت اپنے جذبات کا اظہار کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے:
 
عشق بھی کرنا ہے گھر کے کام بھی
یہ مصیبت بھی نئی ہے ان دنوں
اک سہیلی سے لڑائی ہوگئی
تم کو ہی بس پوچھتی ہے ان دنوں
تیرے آنے کی خبر کا ہے کمال
آئینے سے بن رہی ہے ان دنوں
 
اس کے باوجود کہ خواتین اپنی آوازیں بلند کرنے لگی ہیںلیکن اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ آج بھی گاہے بہ گاہے انہیں اگنی پرکشا سے گزرنا پڑتا ہے۔ فوزیہ رباب آگ کی لپٹوں سے تو بچ جاتی ہیں مگر انہیں اپنی پاک دامانی کا ثبوت کچھ اس انداز میں دینا پڑتا ہے:
 
اب محبت کی اور کیا حد ہو
میری بیٹی میں تو جھلکتا ہے
 
فوزیہ رباب کا اسلوب کلاسیکی بھی ہے اور جدید بھی۔ کبھی کبھی ان کی آواز گیتوں سے قریب ہوجاتی ہے۔ ان کی غزلوں میں تلازموں اور علامتوں کی موٹی پرتیں تو نہیں لیکن الفاظ کو شعری قالب میں ڈھالنے کا سلیقہ ضرور ہے۔چند مخصوص الفاظ جیسے کہ شہزادہ، سانولا، پاگل، گوزہ گر، پیا، سنگھار اور مکھ وغیرہ ان کے اسلوب کی انفرادیت کا اشاریہ ہیں۔ انہوں نے اکثر غزلیں لمبی اور مسلسل کہی ہیں، لیکن لفظ و معنی کا ایسا جادو جگایا ہے کہ اس کی سحر انگیزی سے قاری کا بچ نکلنا مشکل ہے۔
 
غزل سے ان کی والہانہ محبت اور آنکھوں کے اس پار کی غزلوں کو پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اگر وہ اسی تند خوئی اور ذوق و شوق کے ساتھ غزل کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے رہیں تو ایک دن ادب کے آسمان پر درخشندہ ستاروں میں سے ایک کا نام فوزیہ رباب بھی 
ہوگا۔   ں
 

*********************

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 201