donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Present Situation -->> Bihar
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Dr. Mushtaq Ahmad
Title :
   Bihar : Niti Ayog Ke Tabsare Par Seyasi Jung


بہار:نیتی آیوگ کے تبصرے پر سیاسی جنگ!
 
٭ڈاکٹر مشتاق احمد
 
موبائل:9431414586
 
حال ہی میں نتی آیوگ کے سی ای او امیتابھ کانت نے ملک کی جن ریاستوں کو ترقیاتی رفتار کو سست قرار دیا ہے اور بیمار ریاست کی فہرست میںبہار کو بھی شامل کیا ہے۔ ظاہر ہے اس وقت مرکز میں قومی جمہوری اتحادکی حکومت ہے اور بہار میں بھی نتیش کمار کی قیادت والی این ڈی اے حکومت ہے۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور نائب وزیر اعلیٰ سوشیل کمار مودی اکثر عوامی جلسوں میں اس بات کو فخریہ کہتے رہے ہیں کہ چونکہ مرکز اور ریاست دونوں جگہوں پر ایک ہی سیاسی اتحاد کی حکومت ہے ، اس لئے اب بہار میں ترقیاتی اسکیموں کے لئے مالی امداد حاصل کرنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آرہی ہے۔ ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی بھی یہ بلند بانگ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ جن ریاستوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور ان کی اتحادی حکومت ہے ،وہاں ترقیاتی کاموں کی رفتار تیز ہے اور اب ہم ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑے ہیں۔ لیکن  نتی آیوگ کے چیف اکزکیوٹیو آفیسر امیتابھ کانت نے اپنے ایک بیان سے ہی ایک طرف وزیر اعظم کے دعوے کی پول کھول دی ہے تو دوسری طرف بہار میں حزب اختلاف کے لیڈران کو یہ کہنے کا موقع فراہم کر دیا ہے کہ مرکز ی حکومت بہار کے ساتھ سوتیلا رویہ اپنا رہی ہے۔
 
واضح ہو کہ گذشتہ ہفتہ  نتی آیوگ کے سی ای او امیتابھ کانت نے جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی کے ایک سمینار میں یہ تبصرہ کیا تھا کہ جن ریاستوں کی ترقیاتی سست روی کی وجہ سے ہمارا ملک ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں بلندیوں کو نہیں چھو پارہا ہے ، ان میں چھتیس گڑھ ، بہار، اتر پردیش ، مدھیہ پردیش وغیرہ شامل ہیں۔ ظاہر ہے کہ مسٹر کانت کا یہ بیان مرکزی حکومت اور بہار حکومت دونوں کے لئے سیاسی لحاظ سے خسارے کا سودا ثابت ہوا ہے، کیوں کہ چھتیس گڑھ اور بہار دونوں جگہوں پر پندرہ برسوں سے بی جے پی کی حمایتی سرکار ہے۔چھتیس گڑھ میں تو مکمل طور پر بھاجپا کی قیادت والی حکومت ہے تو بہار میںنتیش کمار کی قیادت والی شروع کے دس برسوں اور پھر حالیہ ایک برس سے این ڈی اے کی حمایت والی حکومت ہے۔ ایسے میں نیتی آیوگ کا یہ تبصرہ ان دونوں ریاستوں کے حکمراں کو آئینہ دکھاتا ہے۔ جہاں تک بہار کا سوال ہے تو اس کے ترقیاتی رفتار کو لے کر پہلے بھی تبصرے ہوتے رہے ہیں ۔ ایک طرف ریاستی حکومت کا یہ دعویٰ رہا ہے کہ قومی جی ڈی پی سے ریاست بہار کا جی ڈی پی زیادہ ہے ۔ غرض کہ ملک کا جی ڈی پی چھ سے سات فیصد ہے تو ریاست بہار کا جی ڈی پی دس اور گیارہ کے درمیان ہے۔ باوجود اس کے بہار کو اگر بیمار ریاست کی صف میں کھڑا کیا جاتا ہے تو حزب اختلاف کا نشانہ غیر واجب نہیں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آزادی کے بعد جس رفتار سے بہار کو ترقی کرنی چاہئے ، اس رفتار سے نہیں ہوئی۔ خواہ اس کی وجوہات جو بھی ہوں۔ آزادی کے بعد بڑے کارخانے اور چھوٹی چھوٹی صنعتوں کے لئے جنوبی بہا رکو منتخب کیا گیا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جب بہار کی تقسیم ہوئی تو تمام تر بڑے کل کارخانے جھارکھنڈ میں رہ گئے۔ بہار میں صرف پانی اور ریت رہ گئی۔ ہر سال سیلاب کی تباہی نے بہار کی کمر ہی توڑ دی۔ روزگار کے مواقع نہیں ہونے کی وجہ سے یہاں کے بے روزگار نوجوانوں کی مقدر ہجرت بن گئی۔ یہاں کے محنت کش مزدوروں اور بے روز گار نوجوانوں کو دوسری ریاستوں میں کس قدر ذلت آمیز زندگی کا سامنا ہے ، وہ جگ ظاہر ہے۔ ا س پر یہاں تبصرہ ضروری نہیں۔ مگر ہمارے سیاست داں اب بھی زمینی سچائی سے آنکھیں چرا رہے ہیں اور لوگ باگ کو گمراہ کر رہے ہیں۔ ورنہ بہار میں اگر صنعت کاری بالخصوص زراعت پر مبنی صنعت کو فروغ دیا جاتا تو شاید آج امیتابھ کانت اپنے بیان پر جس طرح قائم ہیں ، نہیں رہ پاتے ہیں۔ 
 
واضح ہو کہ امیتابھ کانت کے بیان پر بہا رمیں خوب چہ می گوئیاں ہورہی ہیں ۔ حزب اختلاف نتیش کمار کو نشانہ بنا رہے ہیں اور ذرائع ابلاغ میں بھی حکمراں جماعت کے حامیوں کے تبصرے شائع ہو رہے ہیں۔ لیکن امیتابھ کانت اپنے بیان پر قائم ہیں۔ جس سے حزب اختلاف کو ایک طرح سے سنہری موقع مل گیا ہے کہ وہ مرکز کے ساتھ ساتھ بہار کی حکومت کو بھی عوام کے کٹہرے میں کھڑا کرے۔ حزب اختلاف کا موقف ہے کہ نتیش کمار گذشتہ پندرہ برسوں سے بہار کو خصوصی پیکج دلانے کی سیاست کر رہے ہیں۔ کبھی بی جے پی کے ساتھ رہ کر بھی اپنے مطالبے کو لے کر ریاستی سطح سے قومی سطح تک تحریک چلاتے ہیں توکبھی بی جے پی سے الگ ہونے کے بعد دہلی میں بھی خصوصی پیکج کے مطالبے کو لے کر عوامی اجلاس منعقد کرتے رہے ہیں ۔ اب جبکہ وزیر اعظم اور نتیش کمار دونوں بہار کی ترقی کے لئے فکرمندی کا اظہار کرتے ہیں تو پھر خصوصی پیکج پر سیاست کی شطرنجی چال کیوں؟
 
گذشتہ پارلیمانی انتخاب کے وقت نتیش کمار اور نریندر مودی ایک دوسرے کے خلاف کماں کش تھے تو نریندر مودی اپنے انتخابی جلسوں میں بہار کو خصوصی پیکج دینے کی وکالت کر رہے تھے اور نتیش کمار بھی بہار کی ترقی کے لئے خصوصی پیکج کو ہی رام وان قرار دے رہے تھے۔اب جبکہ پھر نتیش کمار اور نریندر مودی دونوں کی راہیں ایک ہیں ، اس کے باوجود اگر بہار کو خصوصی پیکج نہیں مل رہا ہے تو اس کے لئے قصور وار کون ہے؟ یوں تو یوپی اے حکومت کے وقت بھی خصوصی پیکج پر خوب سیاست ہوتی رہی ۔ اس وقت رگھورام راجن کمیٹی نے بھی بہار کے دیرینہ مطالبے کو مسترد کر کے بہار کے ساتھ انصاف نہیں کیا  اور موجودہ مرکزی حکومت بھی کچھ اسی طرح کا سیاسی کھیل ، کھیل رہی ہے۔ حقیقت تو یہ کہ بہا رکی ترقی کے معاملے میں حزب اختلاف کا رویہ بھی محض ظاہری ہے ۔ ورنہ ریاست کے مفاد میں تو ضروری یہ ہے کہ وہ حکمراں جماعت کے ساتھ مل کر مرکز کے خلاف صف بند ہوں اور خصوصی پیکج کے لئے کوئی ٹھوس لائحہ عمل تیار کریں۔جس طرح شمال مشرقی ریاستوں میں تمام سیاسی جماعتیں اپنی اپنی ریاستوں کے مفادمیں اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہیں کیوں کہ محض سیاسی بیان بازی اور اپنی ڈفلی اپنا راگ الاپنے سے ریاست کا بھلا نہیں ہو سکتا ہے۔ اگر واقعی حکمراں جماعت اور حزب اختلاف ریاست کی ترقی چاہتے ہیں تو انہیں تمام تر سیاسی مفاد سے اوپر اٹھ کر بہار کی ترقی کے لئے خصوصی پیکج کی جنگ لڑنی ہوگی ۔ اور اس کے لئے یہ ایک سنہری موقع ہے کہ خود نیتی آیوگ اس بات کو تسلیم کر رہا ہے کہ بہار کی ترقی کی رفتار کو تیز کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہ اور بات ہے کہ امیتابھ کانت کے موقف سے صد فی صد اتفا ق نہیں کیا جاسکتا ہے کیوں کہ بہت سارے ایسے شعبے ہیں جن میں بہار کی حیثیت دیگر ریاستوں سے نمایاں تر ہے اور یہاں کے کسان مزدور کے ساتھ ساتھ متوسط طبقے کے پڑھے لکھے لوگوں کی زندگی میں قدرے بہتری آئی ہے۔ یو پی ایس سی کے امتحانات کے نتائج یہ شواہد پیش کرتے ہیں کہ یہاں کا تعلیمی معیار کیا ہے۔ یا پھر دیگر ریاستوں میں یہاں کے لوگوں نے مختلف شعبے میں جو اپنی شناخت قائم کی ہے ، اس سے بھی یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بہار کے لوگوں کی زندگی میں کس قدر انقلاب آیا ہے۔ جبکہ انہیں جنوبی و مغربی ریاستوں کی طرح چھوٹی بڑی صنعتوں کا جال نصیب نہیںہے۔ یہاں کے لوگ اپنی محنت و ذہانت کی بدولت اپنے جینے کی راہیں ہموار کر رہے ہیں۔ افسوس ناک بات تویہ ہے کہ مرکز کی سیاست میں خواہ کانگریس کا زمانہ ہو کہ غیر کانگریسی دور حکومت ،بہار کے سیاست دانوں کو غیر معمولی اہمیت حاصل رہی ہے ۔ باوجود اس کے اگر بہار آج دیگر ریاستوں کے مقابلے پسماندہ ہے ، تو کہیں نہ کہیں ان سیاست دانوں کی نیت پر بھی سوالیہ نشان فطری ہے۔
 
٭٭٭
Comments


Login

You are Visitor Number : 135