donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Present Situation -->> Hindustan
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Dr. Mushtaq Ahmad
Title :
   Aligarh Tanaza : Manzar Pas Manzar


علی گڑھ تنازعہ : منظر پس منظر!
 
٭ڈاکٹر مشتاق احمد
 
موبائل:9431414586
 
ان دنوں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ کی طلبہ یونین کے ہال میں محمد علی جناح کی آویزاں تصویر کو لے کر جو قومی و بین الاقوامی سطح پر بحث چھڑی ہوئی ہے، اس کے منظر و پس منظر کو سمجھنا بہت ضروری ہے کیوںکہ جناح کی تصویر تو محض ایک بہانہ ہے ورنہ نشانہ تو کچھ اور ہے۔ دراصل مسلمانوں کے لئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی صرف ایک تعلیمی ادارہ ہی نہیں ہے، بلکہ ان کی معاشرتی ، تہذیبی اور ثقافتی تاریخ کا ایک روشن باب ہے اور جو ہمارے اسلاف کے افکار ونظریات کا آئینہ بھی ہے۔ اس لئے یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ ہمارے اسلاف کے اس آئینے پر گرد اچھالنے کی مذموم کوشش کی گئی ہے۔ چونکہ ملک کے فرقہ پرست عناصر شروع سے ہی اس آئینے پر دھول ڈال کر ہماری درخشاں تصویر کو دھندلی کرنا چاہتے ہیں۔ اس لئے ہمیشہ اس کوشش میں رہتے ہیں کہ کس طرح اس گہوارہ ٔ علم و دانش کی تاریخ کو مسخ کیا جائے۔ یہ حالیہ تنازعہ بھی اسی سوچی سمجھی سازش کا ایک حصہ ہے۔
 
واضح ہو کہ آزادی کے قبل سے ہی ایک طبقہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی غیر معمولی شہرت اور علمی اہمیت سے حسد کرنے لگے تھے۔ اور اسے مسلمانوں تک محدود کرنے کی فضا تیار کرنے لگے تھے۔ جبکہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا مزاج روز اول سے ہی سیکولر رہا۔ کیوں کہ سرسید احمد خاں نے اس کی بنیاد نہ صرف مسلمانوں کے لئے بلکہ ہندستانیوں کے لئے رکھی تھی۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس کے پہلے گریجویٹ ایک غیر مسلم تھے اور اساتذہ میں بھی انگریزوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلم بھی تھے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے تعلق سے غیر مسلم دانشوروں کی آرا کا مطالعہ کیجئے تو حقیقت عیاںہوتی ہے کہ اس وقت اس دانش گاہ کو وہ لوگ کس نظرئے سے دیکھتے تھے۔ مگر آزادی اور تقسیم ہند کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے خلاف ایک منظم سازش شروع ہوئی کہ اس کی شناخت کو مسخ کی جائے اور اس سازش میں ایک طرف وہ طبقہ شامل تھا جو ظاہری طور پر مسلمانوں کے خلاف تھے تو دوسری طرف ایک وہ طبقہ بھی تھا جو ظاہر ی طور پر اس ادارے کے بہی خواہ نظر آتا تھا لیکن باطنی طور پر ان کا رویہ بھی منصفانہ نہیں تھا۔ ہمارے درمیان سے بھی کچھ ایسے ابن الوقت جو حکمراں جماعت کی خوشنودی سے اپنا ذاتی مفاد کو پورا کرنا چاہتے تھے ، وہ بھی اس ادارے کو نقصان پہنچانے میں کم نہیںرہے۔ مگر قومی سطح پر اس کے حامیوں کی اکثریت نے ان کے منصوبوں پر ہمیشہ پانی پھیرنے کا کارنامہ انجام دیا۔ لیکن نوے کی دہائی کے بعد ملک میں جو سیاسی فضا تبدیل ہوئی تو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے دشمنان کے لئے قدرے سازگار ثابت ہوئی ۔ 
 
واضح ہو کہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد ملک میں مسلمانوں کی تاریخی ، تہذیبی، ثقافتی، معاشرتی اور مذہبی شناخت کو مسخ کرنے کے لئے ایک منظم سازش کے تحت ذہن سازی شروع ہوئی۔ آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیموں کے ذریعہ نئی نسل کے ذہن میں مسلمانوں کی خوفناک شبیہہ ثبت کرنے کی تحریک شروع ہوئی۔ ان تنظیموں کے زیر اہتمام چلنے والے کم و بیش ۲۵ ہزار تعلیمی اداروں میں کچھ اس طرح کا نصاب پڑھایا جانے لگا جس میں مسلمانوں کو غیر ملکی ، لٹیرا ، بد چلن ،دہشت گرد ، ملک دشمن  وغیر وغیرہ ثابت کیا جانے لگا۔ لیکن اس وقت اس سازش کے خلاف کوئی آواز بلند نہیں ہوئی۔ اگر کبھی ہوئی بھی تو بس وقتی ہنگامے تک محدود رہی ۔ لیکن آر ایس ایس اور ان کی ذیلی تنظیمیں اپنے مقاصد کے تحت اس طرح کے منافرت آمیز نصاب کے چلن کو جاری رکھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ حالیہ تین دہائیوں کے عرصے میں جونئی نسل تیار ہوئی ہے ، اس کے ذہن میں مسلمانان ہند اور اس کے تعلیمی اداروں ، خواہ مدارس ہوں کہ اسکول اور یونیورسٹی سب کے خلاف ایک زہر آلود نظریہ گھر کر گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج جب آر ایس ایس کی حکومت نہ صرف مرکز بلکہ ملک کی بیشتر ریاستوں میں پھیل گئی ہے ، تو وہ ان ہی نوجوانوں کو کبھی ہندو واہنی تو کبھی بجرنگ دل اور کبھی وشو ہندو پریشد کے بینروں کے سہارے استعمال کر تی ہے اور روز بروز نیا تنازعہ کھڑا کرتی ہے تاکہ مسلمانان ہند ان تنازعوں کے نفسیاتی الجھنوں کا شکار رہیں ۔ اور ان کے جو دیرینہ مسائل مثلاً تعلیمی، اقتصادی و سیاسی پسماندگی کا ہے ، اس کی طرف متوجہ نہ ہوں۔
 
جب ہم تاریخ کے اوراق کو پلٹتے ہیں ، بالخصوص آزادی کے بعد کی تاریخ کی ورق گردانی کرتے ہیں تو یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ نہ صرف تقسیم وطن کے وقت خونریزیاں ہوئیں بلکہ اس کے بعد بھی مسلسل فرقہ وارانہ فسادات ہوتے رہے اور ملک کے مسلمانوں کی اقتصادی حالت دن بدن کمزور ہوتی چلی گئی۔ مسلمانوں کو زندگی جینے کے مسائل سے فرصت نہیں ملی کہ وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گرھ مسلم یونیورسٹی کے علاوہ بھی کوئی بڑی یونیورسٹی قائم کر سکتے اور فرقہ پرست طاقتوں کو بھی یہ معلوم ہے کہ چونکہ ان دونوں تعلیمی اداروںسے مسلمانوں کا جذباتی رشتہ ہے کہ یہ ان کے اسلاف کی دین ہیں۔ اس لئے کبھی جامعہ کے اقلیتی کردار کو چیلنج کیا جاتا ہے تو کبھی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار پر سوالیہ نشان لگایا جاتا ہے۔ کبھی یہاں کے طلبہ کو دہشت گرد ثابت کرنے کی مذموم کوشش کی جاتی ہے تو کبھی ان پر حامیان ِ پاکستان کا مبینہ لیبل لگایا جاتا ہے ۔ بالخصوص حالیہ دہائی میں ان دونوں تعلیمی اداروں کو جس طرح نشانہ بنایا گیا ہے ، اس سے تو یہ ثابت ہو گیا ہے کہ ایک خاص لائحہ عمل کے تحت ان اداروں کے خلاف مہم چل رہی ہے ۔ اگر ہم اس پس منظر میں حالیہ محمد علی جناح کی تصویر کو لے کر جو تنازعہ چل رہا ہے ، اس کو دیکھیں تو کوئی حیرت کی بات نہیں ۔یہ سب کو معلوم ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی طلبہ یونین کے ذریعہ جن شخصیات کو تا عمر ی رکنیت دی جاتی ہے ، ان کی تصویریں ہال میں آویزاں کی جاتی ہے۔ اس ہال میں تحریک آزادی کے کئی علمبرداروں کی تصوریریں آویزاں ہیں ۔ جہاں تک جناح کی تصویر کا سوال ہے تو وہ بھی وہ بھی غیر منقسم یعنی آزادی سے قبل ۱۹۳۸ء سے آویزاں ہے۔ جناح کی تصویر صرف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی طلبہ یونین ہال میں ہی نہیں لگی ہوئی ہے بلکہ تحریک آزادی پر لکھی گئی ہزاروں تاریخ کی کتابوں میں نہ صرف جناح کا ذکر ہے بلکہ بابائے قوم مہاتما گاندھی ، پنڈت جواہر لعل نہرو ، مولانا ابولکلام آزاد اور اس سے پہلے بال گنگا دھر تلک اور گوکھلے کے ساتھ تصوریریںچھپی ہوئی ہیں۔ تو کیا اب ہم اپنی تاریخ سے جنگ آزادی کے باب کو حذف کر دیں گے؟کیا ہم اپنی نئی نسل کو تحریک آزادی کی تاریخ سے نا آشنا رکھنا چاہتے ہیں ؟ انگریزوں کی غلامی سے نجات کی تاریخ کو بھلا دینا چاہتے ہیں؟ اگر نہیں تو پھر اس طرح کے تنازعوں کی ضرورت کیوں ؟
 
در اصل اس طرح کے تنازعوں کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ ملک کے مسلمانوں کو نت نئے مسائل میں الجھائے رکھنا ہے ۔ ذہنی پریشانیوں میں مبتلا رکھنا ہے ۔ خوف و ہراس کے نفسیاتی دبائو میں رکھنا ہے اور ملک کی رفتار کے ساتھ چلتے رہنے سے روکنا ہے ۔ اور ان کو یہ بھی معلوم ہے کہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد ملک میں ہزاروں مسلم نوجوانوں کی گرفتاری ، فرقہ وارانہ فسادات ، لو جہاد، گئوکشی ، طلاق ثلاثہ جیسے مسائل میں الجھے رہنے کے باوجود ملک کا مسلمان قومی دھارا میں شامل ہونے کی جد جہد میں ہے اور اسے کامیابی بھی مل رہی ہے۔ اس لئے ان دونوں اداروں یعنی  علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کردار کے بہانے ملک میں مسلمانوں کے خلاف فضا بندی کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ بس انہیں کوئی بہانہ چاہئے۔ چونکہ اس وقت ان فرقہ پرست طاقتو ں کو حکومت کی سر پرستی حاصل ہے اور ہماری قومی میڈیا چند کو چھوڑ کر زعفرانی ذہن کے علم بردار بن گئے ہیں ۔ لہٰذا ، ذرائع ابلاغ میں بھی ان فرقہ پرستوں کے کارناموں کو بڑھا چڑھا کر مشتہر کرنے کی روش چل رہی ہے۔ اس لئے چند مٹھی بھی منافرت پھیلانے والے عناصر کے سامنے سینکڑوں پولس عملے مجبور نظر آتے ہیں۔ اور اگر وہ فعال ہوتے بھی ہیں تو بے قصور مسلم نوجوانوں کو لہو لہان کرتے نظر آتے ہیں۔ اس لئے ملک کے مسلم دانشوروں کی یہ ذمہ داری ہے کہ برادار وطن میں جو سیکولر ذہن ہیں اور ان کی اکثریت بھی ہے ، ان کے ساتھ مل کر قومی سطح پر ان فرقہ پرستوں کے خلاف تحریک چلائیں اور صرف وقتی نہیں بلکہ مسلسل مہم چلتی رہے۔ تاکہ ان فرقہ پرست عناصروں کی حوصلہ شکنی ہو سکے اور ان کے حامیان بھی بے نقاب ہو سکیں۔ یہ وقت کا تقاضا ہے اور اس پر غور و فکر ضروری ہے۔ 
 
٭٭٭
Comments


Login

You are Visitor Number : 73