donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Present Situation -->> Hindustan
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Ghaus Siwani
Title :
   Ihtejaj Ki Raah Par Kisan, Naujawan Aur Musalman


احتجاج کی راہ پرکسان،نوجوان،مسلمان 
 
اور اب دلتوں نے کیا سرکار کے خلاف، جنگ کا اعلان
 
تحریر: غوث سیوانی، نئی دہلی
 
گزشتہ دواپریل مودی سرکار کے لئے دلتوں کی طرف سے جھٹکے کا دن تھا۔اس دن ملک کے بیشتر حصوں میں دلتوں نے جو کچھ کیا، اسے دیکھ کر سرکار حیرت زدہ رہ گئی۔ اس سے پہلے دلی سے لے کر مہاراشٹر تک کے کسانوں نے حکومت سے مورچہ لیا تھا اور اپنی قوت کا اظہار کر مہاراشٹر کی سرکار کو تھوڑا سا جھکنے پر مجبور کردیا تھا۔ ادھرمسلمان ، تین طلاق بل کے خلاف احتجاج کے راستے پر ہیں اور اب حکومت سے لڑنے کے لئے مسلم خواتین سڑکوں پر اتر آئی ہیں اور پورے ملک میں وہ خاموش ریلیاں کر رہی ہیں۔یہ بھی یاد رکھنے کی بات ہے کہ مودی سرکار ، جب سے اقتدار میں آئی ہے، تب سے وہ یونیورسٹیوں اور کالجوں کے طلبہ کے ساتھ برسرپیکار رہی ہے۔ دلی کی جواہرلعل نہرو یونیورسٹی سے لے کر حیدرآباد کی سنٹرل یونیورسٹی اور عثمانیہ یونیورسٹی تک طلبہ، احتجاج کی راہ پر رہے ہیں اور اب تو سی بی ایس ای پیپر لیک معاملے کی بعد خود بھاجپائی حکومت کے خلاف بی جے پی کی طلبہ تنظیم ،ریلیاں نکالنے پر مجبور ہوئی۔ اسی طرح آرایس ایس کی مزدور اور کسان اکائیاں بھی سرکار کے خلاف سڑکوں پر اترچکی ہیں اور حکومت کی پالیسیوں کو عوام مخالف بتاچکی ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ جب سماج کا ہرطبقہ سڑک پر ہے اورحکومت کے خلاف آواز اٹھارہا ہے تو سرکار کے ساتھ اس کے چند زرخرید ٹی وی چینلوں کے علاوہ کون ہے؟
 
دلتوں کی بغاوت
 
دلت اب اس ظلم کو مزید برداشت کرنے کو تیار نہیں ہیں جو گزشتہ پانچ ہزار سال سے جاری ہے اور موجودہ حکومت میں اس میں اضافہ ہوا ہے۔وہ گھوڑے پر نہیں بیٹھ سکتے۔وہ اونچی ذات والوں کے علاقے سے جوتا پہن کو نہیں گزرسکتے۔کچھ گائووں میں آج بھی انھیں نئے کپڑے پہننے کی اجازت نہیں ہے۔مندروں میں آج بھی ان کے داخلے پرپابندی ہے اور آج بھی ملک چھوت چھات کے مرض سے آزاد نہیں ہوا ہے،ایسے میں دلتوں کے سامنے اپنے حق کے حصول کے لئے سڑکوں پر اترنے کے علاوہ کیا چارہ ہے؟اس کی ایک جھلک دو اپریل کو ملک نے دیکھا مگر آنے والے دنوں میں اگر انھیں برابری کے حقوق نہیں دیئے گئے تو ملک میں قیامت برپا ہوسکتی ہے۔ مودی سرکار کے لوگوں نے دلتوں کے پُرتشدد ہنگامے کے لئے کانگریس اور بی ایس پی کو ذمہ دار ٹھہرایا مگر اصل بات یہ ہے کہ خود کانگریس کو بھی نہیں معلوم تھا کہ دلت ایسا کچھ کرنے والے ہیں۔ یہ مایاوتی کے لئے بھی خطرے کی گھنٹی ہے جو دلتوں کے ووٹ سے اقتدار میں آئیں مگر ان کے لئے خاطرخواہ کچھ نہیں کیا۔ اترپردیش میں چندرشیکھر راون اور گجرات میں جگنیش میوانی جو نیتا کی حیثیت سے ابھرے ہیں، اس کے پیچھے بھی یہی دلت غصے کا طوفان کارفرما تھا مگر اب یہ لاوہ پھٹنے والا ہے اور آنے والے ایام میں اس سے بھی بڑا ہنگامہ دیکھا جاسکتا ہے۔یہ ایک بڑا ایشو ہے جس سے عوامی توجہ ہٹانے کے لئے سلمان خان کیس کو میڈیا کے ذریعے ہائی لائٹ کرایا گیا اور اس میں بکائومیڈیا کامیاب بھی ہوگیا مگردلتوں کے مطالبات کو زیادہ دن تک نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ وہ ایک بار پھر اٹھینگے اور برابری کا حق وعزت کی زندگی مانگیںگے جو آزادی کے سترسالوں میں انھیں نہیں ملی۔  
 
کسانوں کا احتجاج
 
گزشتہ دنوںشہرممبئی کی طرف ،ہاتھوں میں سرخ پرچم لئے کسانوں کا ایک جم غفیر جاتا نظر آیا۔یہ بھیڑ حد خاموشی کے ساتھ گاندھی وادی طریقے سے بڑھ رہی تھی۔ کسانوں کے پائووں میں چھالے تھے مگر انھیں دیکھ کر چارٹرڈ پلین میں چلنے والوں کے چھکے چھوٹ گئے۔ بہ ظاہر مہاراشٹر کے کسان ہنسوا، ہتھوڑا نشان والے سرخ پرچم ہاتھوں میں لئے ممبئی کی طرف خاموشی کے ساتھ بڑھ رہے تھے مگر ان کے قدموں کی دھمک سے دلی بھی کانپ رہی تھی۔ آخر کار سرکار کی نیند میں خلل آیا اورآفا فانا میں مہاراشٹر حکومت نے ان کے تمام چھ مطالبات کو ماننے کا اعلان کردیا۔ حالانکہ ہزاروں کسانوں کی خودکشی کے بعد بھی سرکار کی نیند نہیں ٹوٹی تھی۔مطالبات کے نفاذ کے لئے چھ رکنی وزراء کی کمیٹی بنائی گئی اور چھ مہینے کے اندر مطالبات کو نافذ کرنے کا اعلان بھی کردیا گیا۔ مہاراشٹر میں ہزاروں کسان اور قبائلی، ناسک سے 180 کلو میٹر کا پیدل سفر کر ممبئی کے آزاد گرائونڈ تک پہنچے تھے۔ احتجاج کرنے والوں کا مطالبہ تھا کہ جنگل رائٹس ایکٹ، 2006 ٹھیک طریقے سے لاگو ہو،سوامی ناتھن کمیشن کی سفارشات کو لاگو کیا جائے۔ حکومت، کسانوں سے کئے گئے قرض معافی کے وعدے کو مکمل طور پر نافذ کرے۔ ظاہر ہے کہ یہ کسانوں کا تنہا آندولن نہیں ہے۔ اس سے پہلے جنوبی ہند کے کسان، دہلی کے جنتر منتر پر لگاتار مظاہرہ کر چکے ہیں۔ بہار سے پنجاب تک کے کسان بھی دلی آچکے ہیں۔مدھیہ پردیش اور راجستھان کے کسان اب بھی اپنی اپنی ریاستوں میں تحریک چلا رہے ہیں۔ کیا یہ سب مودی سرکار اور ارباب تخت وتاج کے خلاف خاموش بغاوت نہیں ہے؟ کیا آنے والے دنوں میں سرکار کو اس کا نقصان اٹھانا نہیںپڑسکتا ہے؟
 
سرکار کے خلاف سیاہ طوفان
 
مرکزی سرکار نے جب سے پارلیمنٹ میں تین طلاق کے خلاف بل پیش کیا ہے، پورے ملک میں سڑکوں پر سیاہ برقعوں کا طوفان سا آگیا ہے۔ گھریلو مسلم خواتین ہاتھوں میں بینر لئے شاہراہوں پر کیوں نکل پڑی ہیں۔ مسلم خواتین کو لگتا ہے کہ تین طلاق پر پابندی کا بل، ان کے تحفظ کے لئے نہیں بلکہ ان سے دین پر عمل کا حق چھیننے کے لئے لایا گیا ہے۔ ماضی میں کبھی بھی احتجاج میں، اس قدر برقع پوش خواتین نظر نہیں آئیں۔ بھارت ہی نہیں دنیا کے کسی بھی ملک میں اس قد ر مسلم خواتین احتجاج کے لئے کبھی باہر نہیں نکلیں۔ گزشتہ دنوںدہلی کے رام لیلا گرائونڈ میں بھی ہزاروں مسلم خواتین جمع ہوئیں اور مودی سرکار کو احساس کرانے کی کوشش کی کہ وہ طلاق سے تحفظ کے نام پر شریعت میں مداخلت کے خلاف ہیں۔ اس قسم کے مظاہرے پورے ملک میں ہوئے۔ممبئی کے آزاد میدان سے لے کر کشن گنج (بہار)جیسے دورافتادہ علاقوں تک خواتین کے مظاہرے دیکھ گئے۔ گزشتہ دنوں جے پور میں تو عجیب وغریب صورت حال دیکھنے کو ملی جب راستہ چلنے والا ہر راہ گیرہکا بکا خواتین کے ہجوم کو دیکھ رہا تھا۔ تاحد نظر سیاہ برقعوں کا سیلاب تھا اورسروں کے اوپر تختیاں بلند ہورہی تھیں جن پر نعرے لکھے ہوئے تھے۔ یہ خاموش جلوس، کچھ نہ کہہ کر بھی مودی سرکار کو بہت کچھ پیغام دے رہا تھا۔ جہاں ایک طرف میڈیا کے لوگ اس کے کوریج کے لئے پہنچے ہوئے تھے وہیں دوسری طرف عام راہ گیر رک رک کر تصویریں لے رہے تھے اور ویڈیو بنا رہے تھے۔ ٹھیک ایساہی منظر بہار کے کشن گنج میں دیکھنے کو ملا جہاں لاکھوں کی تعداد میں مسلم خواتین سڑکوں پر اتریں اور حکومت کوخاموش پیغام دے گئیں۔ بہار کے بھاگل پور، مونگیر،سہرسہ، پورنیہ ،سمری بختیار پور اورپٹنہ میں بھی مسلم خواتین کی ریلیاں نکلیں، جنھیں قومی میڈیانے ٹھیک طریقے سے کوریج نہیں دیا۔  
 
 سرکار کے لئے خطرے کی گھنٹی
 
کسان، مسلمان، طلبہ اورنوجوانوں کے ساتھ ساتھ دلتوں کا حکومت کے خلاف لام بند ہونا،کیا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ اُس سے سماج کا کوئی بھی طبقہ خوش نہیں ہے؟ یہ احتجاج ومظاہرے ایسے وقت میں ہورہے ہیں جب کچھ صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ہونے والے ہیں اور قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ انھیں کے ساتھ پورے ملک میں لوک سبھا انتخابات بھی ہوسکتے ہیں۔سابقہ منموہن سنگھ سرکار کے دس سال پورے ہونے کے باوجودبھی عوام میں اس قدر غصہ نہیں تھا جس قدر  مودی سرکار کے خلاف چار سال میں نظر آرہا ہے۔ایسا لگتا ہے کہ یہ طوفان، سرکار کو تنکے کی طرح بہا لے جائے گا۔اس کے پیچھے عوام کی مایوسی بھی ہے۔ چند سال قبل ، لوگوں کولگتا تھا کہ نریندر مودی اپنے ہاتھ میں جادو کی چھڑی لے کر آئینگے اور تمام مسائل کو حل کردیں گے، خود مودی نے بھی خوشنما وعدے کئے تھے مگر’’ سب کا ساتھ،سب کا وکاس‘‘ کا نعرہ جملے سے آگے نہیں بڑھ پایا۔ اب جب کہ لوک سبھا انتخابات قریب آچکے ہیں اور عوام کی مایوسیاں اپنے انتہا کو پہنچ چکی ہیں تو ایسے میں کسانوں، مسلمانوں، نوجوانوں، طالب علموں اور اب دلتوں کا سڑکوں پر اترنا حکومت کے لئے ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔ گورکھ پور ، پھول پور، اجمیر اور الور لوک سبھا سیٹوں پر ضمنی انتخابات میں برسراقتدار پارٹی کو تب شکست ملی تھی جب دلت، حکومت کے خلاف لام بند نہیں ہوئے تھے مگر اب تو ان کے غصے کا طوفان ابال پر ہے اور عام دلتوں کی بات تو چھوڑیئے ممبران پارلیمنٹ تک غصے کا اظہار کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ مودی سرکار نے اپنے چارسالہ دوراقتدار میں دلتوں کے لئے کچھ بھی نہیں کیا، ایسے میں آنے والے وقت کے بارے میں اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔     
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Comments


Login

You are Visitor Number : 410