donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Islamic Articles -->> Islamiyat
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Abida Rahmani
Title :
   Hamare Ooper Quran Ke Huqooq


ہمارے اوپر قرآن کے حقوق

از عابدہ رحمانی


(1 حضرت آدمؑ سے رسالت کا آغاز  انسان کی ہدایت کے لیے انبیاء کرام پر کتابیں اور صحیفے نازل ہوتے رہے۔

(2 انسان کو اللہ نے تاریکی میں نہیں چھوڑا اس کی ہدایت کے لیے نبی اور کتابیں بھیجیں۔
(3 قرآن آخری کتاب جو حضرت محمدﷺ پر نازل ہوئی۔
(4 قرآن کی پہلی وحی اقراء۔
(5 قرآن مصدر ہے قرآء یقراء سے معنی میں پڑھنا۔
(6 سب سے بڑی نعمت، ماننے والوں کے لیے شفاء اور رحمت۔
(7 اس کی دعوت پہنچ جانے کے بعد آدمی پرخدا کی حجت پوری ہو جاتی ہے۔
(8 صحیح الدماغ آدمی اس کی دعوت قبول کیے بغیر نہیں رہ سکتا اس کی دعوت وہی ہے جو پچھلی کتابوں کی تھی۔

قرآن اللہ کی وہ عظیم کتاب ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان عموماً اور اہل ایمان خصوصاً کی رہنمائی و ہدایت کے لیے بھیجا۔ چنانچہ اہل دنیاکو یاایھاالناس اور اہل ایمان کو یاایھاالذین امنو کہ کر مخاطب کیا گیا ہے۔

گائیڈ بک۔

اس کے ہدایات پر عمل کر کے ہم دنیا میں اور آخرت میں سرخرو قرار پائیں گے۔
اللہ کی یہ آخری کتاب امتِ محمدیہ کی دینی و دنیاوی فلاح و بہبود، رشد و ہدایت اور نجات کی ضامن ہے۔پڑھنا باعث ثواب،سمجھنا باعث ہدایت اور عمل کرنا باعث نجات ہے۔


قرآن کا سٹائل و انداز۔

اس پائے کی اور کوئی کتاب نہیں ہے۔ عربی زبان کے ادب کا بلند ترین نمونہ، موزوں ترین الفاظ، بہترین پرایہ، زبان، بیحد موثر کلام، 1400 سال گزرنے کے بعد بھی وہی تاثیر، زبان میں نہ کوئی تبدیلی نہ کوئی لفظ متروک ہوا۔

دنیا کی واحد کتاب جس نے بنی نوع انسان کے افکار، تہذیب و تمدن پر گہرا اثر ڈالا۔
قرآن نے قوم کو اور پھر قوم نے دنیا کو بدل ڈالا۔ اثرات کا یہ سلسلہ جاری ہے۔

اس کتاب کے موضوعات کا سلسلہ ازل سے ابد تک پوری کائنات پر حاوی ہے۔ کائنات کا آغاز و انجام، تنظیم و تزئین، کائنات کا خالق و ناظم اور اس کی صفات اور اختیارات اور پورے نظام عالم کا علم، صحیح اور غلط راستے کی تقسیم، نظام زندگی کا نقشہ، عقائد، اخلاق، تزکیہ نفس، عبادات، معاشرت، تہذیب، تمدن، معیشت، سیاست، عدالت، قانون، حیات انسانی کے ہر پہلو، صحیح اور غلط راہ اختیار کرنے کے نتائج، بڑی وضاحت کے ساتھ دوسری زندگی کے متعلق دلائل، محاسبہ اعمال، جزا و سزا، زبردست شہادتیں۔ فلسفہ، سائنس و عمرانیات کے اصولوں کا جواب اور مسائل۔ کتاب پوری کی پوری دنیا کے سامنے نہیں آئی بلکہ رفتہ رفتہ عرصہ تئیس برس تک اس کا نزول ہوا۔
یہ قرآن سب کو ہدایت دیتا ہے۔ ذَالِکَ الکتابُ لاَریب فیہ کتاب اَنزلنَہ اَلَیکَ مُبَارَکً لِیَدَّبّرواَیٰتِہِ ولِیَتذَکَّرَ اُولوالبابْ

قرآن پاک کے اتنے فیضوں اور برکات سے مستفید ہوتے ہیں تو قرآن کے ہم پر چند حقوق بھی ہیں اور ان حقوق کا پورا کرنے کی ہر مسلمان کو کوشش کرنی چاہیے۔

قرآن کو پڑھنا، تلاوت کرنا، غور و فکر، سمجھنا، عمل کرنا، ہدایت حاصل کرنا، دوسروں تک پہنچانا۔

قرآن مجید کی تلاوت انتہائی شوق اور دلچسپی سے کرنی چاہیے۔ سب سے پہلے تو ناظرہ قرآن صحیح تلفظ کی ادائیگی کے ساتھ سیکھنا چاہیے۔ حضورؐ کا ارشاد ہے کہ میری امت کے لیے بہترین عبادت تلاوت قرآن پاک ہے۔ تلاوت کے ہر حرف پر دس نیکیوں کا ثواب ’الم‘ پر تیس ہے۔ سورۃ الانفال میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔

 حضرت عبداللہ بن مسعود نے حضوؐر کو جب سورہ نساء کی یہ آیت سنائی۔ فکیف اذاجئنا من کل امتہِ بشھید و جئنا بک علی ھوا لاء شہیداًْ اِنَّا نَحنَ نزلنا الذکر و اَنَّالَہُ لَحٰفِظُون۔

قرآن کریم کے الفاظ میں اتنی کشش ہے کہ آدمی کا دل اس کی طرف کھنچنے لگتا ہے۔ حضرت عمرؓ کے ایمان لانے کا واقعہ، نجاشی کا واقعہ۔

(1 خیرُکم مَن تعلم القرآن و علمہ۔
(2 قرآن پڑھو قیامت کے دن وہ اپنے پڑھنے والوں کے لیے شفاعت بن کر آئے گا۔
(3 اس طرح جو تہجد ی نماز میں اور رمضان کی راتوں میں تلاوت کرتے ہیں۔ قرآن کہے گا یا اللہ میں نے رات کو اس کو سونے سے روکا اس ے حق میں میری شفاعت قبول کیجیے۔
(4 جس شخص کے قلب میں قرآن کا کوئی حصہ محفوظ نہیں وہ ویران گھر کی طرح ہے۔


حافظ قرآن کا مرتبہ۔

(5 حضورؐ فرماتے ہیں کہ ہر چیز کے لیے کوئی شرافت اور فخر کی بات ہوتی ہے اور میری امت کی رونق اور افتخار قرآن شریف ہے۔

(6 جس شخص نے قرآن پڑھا اور اس کو حفظ کیا اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا اور جس قلب میں قرآن ہو اس کو دوزخ کی آگ نہیں چھوئے گی۔

(7 صاحب قرآن سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ قرآن پڑھتا جا اور جنت کے درجوں پر چڑھتا جا اور ٹھہر ٹھہر کہ پڑھ جیسے کہ دنیا میں پڑھتا تھا پس تیرا مقام وہی ہے جہاں تو آخری آیت تک پڑھتے پڑھتے پہنچے۔

(8 رسولؐ نے ارشاد فرمایا کہ پروردگار کا یہ فرمان ہے کہ جس شخص کو قرآن کی مشغولی سے میرا ذکر کرنے اور دعا مانگنے کی فرصت نہیں ملتی ان کو میں دعا مانگنے والوں سے زیادہ عطا کروں گا اور اللہ کے کلام کو سارے کلاموں پر ایسی فضیلت ہے جیسی کہ خود باری تعالیٰ کو تمام مخلوق پر۔

نماز میں تلاوت کرنے پر ایک حرف پر سو نیکیاں، بیٹھ کر پچاس، اس عزم کے ساتھ تلاوت کہ ان احکامات کی روشنی سے ہدایت حاصل کر کے اپنی زندگی بدلنا ہے۔ قرآن کی آیات سے اثر لینے کی کوشش، وعید اور ڈراوے سے کانپ جائیں اور بشارت پر سرشار ہو جائیں۔ مومین کی کامیابی پر خوشی اور قوموں کی تباہی پر افسردہ۔

(1 جس نے تین دن سے کم میں قرآن ختم کیا اس نے سمجھا ہی نہیں۔
(2 قرآن کریم پڑھو اور اگر رونا آئے تو بے تکلف رونے کی کوشش کرو، گریہ زاری سے رحمت الٰہی کو اپنی طرف متوجہ کیا جا سکتا ہے۔

(3 جو آیت پڑھے اس کا حق ادا کرے یعنی آیت تسبیح و تکبیر پڑھے تو خود بھی سبحان اللہ ، اللہ اکبر کہے۔ اگر دعا و استغفار کی آیت تلاوت کرے تو اپنے لیے دعا مانگے اور مغفرت طلب کرے اگر کسی آیت میں انعامات الہٰیہ کا ذکر ہے تو اپنے لیے دست سوال دراز کرے۔ اگر عذاب و مصیبت کا تذکرہ آئے تو اپنے لیے پناہ مانگے۔ اگر آیت سجدہ پڑھے یا سنے تو سجدہ کرے۔

رشک کا موقع جس کو اللہ نے قرآن کا علم دیا ہے وہ اس پر دن رات عمل کرتا ہے۔ ایک کے پاس دولت کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرے۔

جو لوگ قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہیں اور اس کا درس دیتے ہیں، معنی بیان کرتے ہیں تو ان پر سکینت نازل ہوتی ہے، رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں اور ان کا ذکر اللہ تعالیٰ اپنی مجلس میں کرتا ہے۔

اگر ہم قرآن سے اپنا تعلق استوار نہ کریں اور اس کے حقوق ادا نہ کریں تو وہ اللہ کے حضور ہمارے خلاف گواہی دینے والا بن جائے گا اور یہ آیت وَقال الرسول یربِّ اِنَّ قومی اتَّخَذُو ھٰذالقرآن مَھجُوراًْ

اور رسول کہیں گے اے اب میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔ قیامت کے روز رسات مآبؐ اللہ تعالیٰ سے شکایت کریں گے کہ میری قوم نے قرآن چھوڑ دیا تھا۔ اس میں غوروفکر نہ کرنا، سوچ سمجھ کر نہ پڑھنا بھی چھوڑ دینا ہے۔ اس پر عمل نہ کرنا بھی چھوڑ دینا ہے۔


*************************

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 482