donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Islamic Articles -->> Islamiyat
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Md. Umar Gautam
Title :
   Md. Umar Gautam Ki Aap Beeti

 

جناب محمد عمر گوتم کی آپ بیتی
 
میری پیدائش ۱۹۶۴ء میں صوبۂ یوپی کے فتح پور ضلع کے راج پوت خاندان میں ہوئی یہ خاندان گوتم کے نام سے جانا جاتا ہے ' والد صاحب کا نام جناب دھن راج سنگھ گوتم صاحب ہے جو ایک ریٹائرڈ گورنمنٹ آفیسر ہیں ۔ کئی سو بیگھے کی کھیتی کے مالک ہیں اللہ نے دنیاوی اعتبار سے بہت نوازا ہے میری ابتدائی تعلیم ہائی اسکول تک گاؤں ہی میں ہوئی اور پندرہ سال کی عمر میں الٰہ آباد میں اعلے تعلیم کا دور شروع ہوا بارہویں جماعت کے بعد نینی تال ضلع پنت نگر ایگری کلچریونیورسٹی میں بی ایس سی ایگری کلچر کی ڈگری کے لئے ۱۹۸۰ء میں داخلہ لیا اور اسی یونیورسٹی میں ۱۹۸۴ء میں اللہ تبار ک وتعالی نے ہدایت کا معاملہ کیا اور میں نے اسلام قبول کیا اور اپنا نام شیام پرتاپ سنگھ گوتم سے بدل کر محمد عمر گوتم رکھا۔
 
پندرہ سال کی عمر میں میرے دل اور دماغ میں یہ سوال پیدا ہوا کہ ہمارے گھر اور خاندان میں جو پوجا پاٹ کا طریقہ رہا ہے اور بتوں کی پوجا ہورہی ہے وہ کہاں تک صحیح ہے ؟  ہمیں پندرہ سال کی عمر میں یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ ہم ہندو ہیں تو کیوں ہیں ؟ اور ہمارا  ایمان و یقین کیا ہے ؟ میں نے  جب ان تمام سماجی حالات پر نظر ڈالی اور غور و فکر کیا تو بہت  سارے سوالات ذہن میں پیدا ہوگئے۔ مثال کے طور پر ہمارا خالق ومالک کون ہے ؟  ہمارا رازق کون ہے ؟ ہماری زندگی کا مقصد کیا ہے ؟  مرنے کے بعد کہاں پہنچیں گے ؟ کس کی پوجا کی جائے اور کس کی نہ کی جائے ؟ ۔ تینتیس کروڑ دیوی  دیوتاؤں کی پوجا باٹ کیسے کی جائے ؟  ۸۶ لاکھ یونیوں میں آوا کون ؟ ۔ کیسے ممکن ہے ؟ کہیں ماں باپ ہی تو خالق ومالک نہیں ہیں ؟ سماج میں اپنے ہی جیسے انسانوں کو اچھوت کیوں بنادیا گیا ہے ؟ وغیرہ وغیرہ۔
 
ان سوالات کا جواب حاصل کرنے کے لئے میں سب سے پہلے اپنے گھر والوں سے ہی انکوائری شروع کی ان کے پاس بھی صحیح جواب نہ تھا نہ انہوں نے دیا کیوں کہ انہیں اپنے دھرم (مذہب) کے بارے میں معلومات ہی نہیں تھیں بے چارے جواب کہاں سے دیتے انہو ں نے مجھے سمجھانے کی کوشش کی کہ بیٹا! جو تمہارے باپ دادا کا دھرم ہے وہی تمہارا دھرم (مذہب) ہے اسی پر تمہیں چلنا ہے اور جو خاندانی رسم ورواج دھرم (مذہب) کے نام پر چلے آرہے ہیں انہیں ہی اپنانا ہے اور تمہاری زندگی کا مقصد ایک کامیاب انسان بننا ہے ماں باپ کی سیوا (خدمت) کرنی ہے اور غلط کاموں سے بچنا ہے وغیرہ وغیرہ ۔ لیکن کبھی بھی یہ بات سامنے نہیں آئی کہ ہندو دھرم (مذہب) کی جو سب سے پرانی مذہبی کتابیں جنہیں ویدوں کے نام سے جانا جاتا ہے ان کی بنیادی تعلیم یہ ہے کہ:
 
"ایکم برہم دوتیوناستی" یعنی برہم صرف ایک ہے دوسرا نہیں ہوسکتا۔ اس کا مطلب صرف اورصرف ایک ہی ایشور کی پوجا پاٹ یا عبادت ہونی چاہیے کسی دوسرے کی نہیں ۔ ویدوں میں بت پرستی کے خلاف آواز اٹھائی گئی ہے اور لوگوں کو بتایا گیا ہے کہ انسان اگر کامیابی چاہتا ہے تو صرف اور صرف ایک ایشور (خدا) کی اُپاسنا (عبادت) کرے ۔ مجھے اپنے گھر والوں سے اپنے بڑوں سے اور ان تمام پنڈتوں سے جو ہمارے یہاں پوجا پاٹ کرانے آتے تھے صحیح جواب نہیں ملا تو میں نے  دھارمک (مذہبی) کتابوں کا مطالعہ شروع کیا۔
 
سب سے پہلے ہندو دھرم کی کتابیں پڑھنے کو ملیں اور خاص طور پر گیتا پریس گورکھپور کی کافی کتابیں مطالعہ میں آئیں۔ گیتا ' رام چرت مانس ' مہابھارت ' وید ' پران اور منوسمرتی سے متعلق کافی کتابیں پڑھنے اور سمجھنےکی کوشش کی ۔ پنت نگر یونیورسٹی (اتراکھنڈ) میں دوران تعلیم تقریباً تین سال یونیورسٹی لائبریری میں کافی کتابیں مطالعہ میں آئیں خاص طور پر گوتم بدھ ' وویکانند ' پرم ہنس ' رام کرشن ' گاندھی ' نہرو اور مختلف سوشیل ریفارمرس کی سوانح عمریاں پڑھنے کا شوق پیدا ہوا ' میں اس کوشش میں تھا کہ ان لوگوں کی کامیابی کا راز کا پتہ چلے '  بہت زیادہ مطالعے کی وجہ سے ہزاروں سوالات ذہن میں پیدا ہوتے چلے گئے اور میں کافی کنفیوز ہونے لگا کہ آخر سچائی کا پتہ کیوں نہیں چل رہا ہے ؟۔ میں نے یہاں تک ذہن بنالیا کہ اپنی ڈگری مکمل کرنے کے بعد اپنے والد صاحب کو خط لکھوں گا اور ان کا شکریہ ادا کروں گا کہ انہوں نے تمام اخراجات برداشت کئے لیکن میری زندگی کا مقصد حق کے تلاش ہونے کی وجہ سے ان کا ارمانوں کو اور ان کی چاہت کو پورا نہ کرسکا' جس کی میں معافی بھی مانگوں گا اور پہاڑ میں جاکر سنیاسی والی زندگی گزاروں گا ۔ میڈیٹینشن یعنی چنتن (دھیان) اور منن (غوروفکر) کے ذریعہ اپنے ایشور (خدا) کو پہچانوں گا کہ وہ کہاں ہے؟  کیسا ہے ؟ اور ہم سے کیا چاہتا ہے ؟.
 
یہ وقت آتا کہ اس سے پہلے ہی اللہ نے دل میں یہ بات ڈال دی کہ تم اپنے پیدا کرنے والے سے براہ راست خود کیوں نہیں مانگتے ؟کہ وہ تمہیں سیدھا راستہ دکھائے اور حق کو پہچانے اور اس پر چلنے میں مدد کرے۔ اسی بنیاد پر میں راتوں کو مانگنا شروع کیا اور اللہ تعالی نے میرے لئے اپنا راستہ آسا ن کردیا۔
 
۱۹۸۴ء میں ہمارے ایک دوست ناصر خاں صاحب جو ضلع بجنور کے رہنے والے ہیں وہ میرے ہم جماعت تھے انہیں اللہ نے میری ہدایت کا ذریعہ بنایا ۔ اسکوٹر سے مرا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا اور پیر میں کافی چوٹ آگئی تھی جس کی بنا پر ہاسپٹل جانے کی نوبت آگئی سائیکل چلانا چھوٹ گیا اور کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران ناصر خاں صاحب نے میری مدد کی وہ مجھے اپنے ساتھ ہاسپٹل لے جاتے تھے کالج لے جاتے تھے اور مجھے میس سے کھانا لاکر روم میں میرے ساتھ بیٹھ کر کھاتے تھے ۔ تقریباً ایک مہینہ تک یہ سلسلہ چلتا رہا اورمیں ان سے کافی متاثر ہوا ۔ ایک دن میں انہیں بٹھاکر سوال کیا کہ آپ میرے ساتھ اتنی ہمدردی کا معاملہ کیوں کرتے ہیں؟  اور یہ اخلاق آپ نے 
کہاں سے سیکھا ؟انہوں نے جواب دیا کہ : گوتم صاحب ! میں یہ کام کسی لالچ میں یا کسی دباؤ میں نہیں کررہا ہوں بلکہ میں ایک مسلمان ہوں اور میرا مذہب اسلام ہے ۔ اسلام کی تعلیم ہے کہ پڑوسی پڑوسی ہے چاہے وہ کوئی بھی ہو پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک کرنا , اس کی مدد کرنا  اور مصیبت میں اس کے کام آنا یہ ایک مسلماں کی بنیادی ذمہ داری ہے اور مجھے اس بات کا خوف ہے کہ اگر میں آپ کی مدد نہیں کی اور آپ کے کام نہیں آیا تو محشر کے میدان میں اللہ کو کیا منہ دکھاؤں گا۔ مجھ سے تو اس کے بارے میں بھی سوال کیا جائےگا کہ میں آپ کے ساتھ کیسا سلوک کیا میں ان کے اس جواب سے بہت زیادہ متاثر ہوا اور مجھے اسلام کے سب سے پہلا سبق پڑوسی کے حقوق کے بارے میں ملا اور حساب کتاب کے دن حشر کے میدان کی اطلاع ملی کہ ایسا بھی ہونے والا ہے ۔ اب ناصر خاں صاحب کے ذریعہ اسلامی کتابوں کا مطالعہ شروع ہوا یہ سلسلہ تقریباً چھ مہینے تک چلتا رہا اس دوران میں چالیس پچاس کتابیں مختلف عنوانات پر مطالعہ کیں اور اسلام کی پوری تصویر میرے سامنے آگئی ۔ قرآن کریم بھی میں ن مطالعہ کیا خاص طور پر قرآن کی روشنی میں انہوں نے مجھے قرآن حکیم کے مطالعے سے پہلے یہ احساس دلایا تھا کہ قرآن ایک اللہ کا نازل کردہ ہدایت نامہ ہے اسی بنیاد پر پوری اخلاص نیت کے ساتھ جب قرآن کریم کا ترجمہ پڑھا تو تمام سوالوں کے جواب خوبخود ملتے چلے گئے اور اللہ نے اپنا وعدہ سچ کردیا کہ جو لوگ ہدایت کے طلب گار ہوں گے انہیں ضرور ہدایت ملے گی ۔ اللہ کا بڑا احسان ہے کہ اس نے اتنی بڑی دولت بغیر کسی محنت ' مشقت اور قربانی کے عنایت فرمادی۔
 
اسلام قبول کرنے کے بعد سب سے پہلے یونیورسٹی میں پڑھنے والے دوست احباب نے مخالفت کی اور زیادہ تر لوگ یہ سوال کرتے تھے کہ آخر ایس کون سی مجبوری آگئی تھی جس کی وجہ سے اسلام دھرم (مذہب) کو ہی اپنانا پڑا کیا؟ اور کوئی دھرم نہیں تھا ان بے چاروں کو معلوم ہی نہیں تھا کہ اسلام کی تعلیمات کیا ہیں ؟ اور اسلام کی بنیاد کن چیزوں پر ہے ؟ کچھ  عرصہ کے بعد کالج کی وال میگزین میں میرا انٹرویو قبول اسلام کے تعلق سے چسپاں کردیا گیا جسے کئی ہزار اسٹوڈنٹس نے پڑھا اور یونیورسٹی کے لوگ چہ مہ گوئیاں کرنے لگے۔ یہاں تک کہ بریلی سے نکلنے والے ایک ہندی اخبار 'امر اجالا' میں "گوتم عمر ہوئے" ہیڈنگ بناکر نیوز چھاپ دی گئی ۔ پورے علاقہ میں ہوا کی طرح خبر پھیل گئی اور بہت سارے لوگ یہاں تک کہ پولیس اور سی آئی ڈی والے بھی انکوائری میں لگ گئے۔ اس سلسلہ میں تفصیلی معلومات کے لئے جو بھی آتا تھا میں انہیں اپنے حساب سے جواب دیتا رہتا تھا۔ آر یس یس اور وشوہندوپریشد کے لوگوں کو یہ باٹ پسند نہیں آئی اور انہوں نے ہاسٹل سے اغوا کرکے جنگل میں لے جاکر مار پیٹ کی اور دھمکی دی کہ اگر تین دن کے اندر واپس ہند دھرم نہیں اپنایا تو ہم تمہاری بوٹی بوٹی کر دیں گے۔ حالات یہاں تک خراب ہوگئے کہ مجھے اپنی  ایم ایس سی اگریکلچر ڈگری چھوڑ کر یونیورسٹی سے باہر جانا پڑا اور میں نے دہلی کا سفر کیا دو تین  سال یوں ہی گزر گئے۔
 
۱۹۸۸ء میں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ایم اے اسلامک اسٹڈیز میں داخلہ لیا اور اگریکلچر کی لائن چھوڑدی گھر والوں کی طرف سے بھی مخالفت ہوئی اور انہوں نے بھی فیملی بائئ کاٹ کردیا جس کی بنا پر تمام رشتے دار خاندان  والوں سے کئی سال تک کٹ کر رہنا پڑا یہاں تک کہ دس 
بارہ سال اسی حال میں گزرگئے اس کے بعد حالات نارمل ہوئے اور آنا جانا شروع ہوا۔
 
جہاں تک دعوتی نوعیت کا تعلق ہے اللہ کا کرم ہے سب سے پہلے گھر والوں میں میری اہلیہ نے پھر میری والدہ محترمہ نے اسلام قبول کیا اور آج کی تاریخ میں تمام رشتے دار خاندان کے لوگ دعوتی نسبت سے برابر رابطے میں ہیں اور اکثریت ایسی ہے جو اسلام کے بارے میں صحیح معلومات حاصل کرنا چاہتی ہے افسوس تب ہوتا ہے جب ان کے سامنے ایک طرف اسلام کی حقانیت اور اس کی عمدہ تعلیمات آتی ہیں تو دوسری طرف مسلمانوں کے معاشرتی اور اخلاقی حالات ' بہرحال تقریباً سو افراد کو اسلام کے دائرے میں داخل کرنے میں کامیاب ہو چکا ہوں۔  فالحمد للہ علی ذلک۔
 
ایسے ہزاروں غیر مسلم بھائیوں سے رابطہ ہونے کے بعد یہ محسوس ہوتا ہے کہ دین کی دعوت صحیح معنوں میں ان تک نہیں پہونچا ئی گئی جس کی وجہ سے وہ غلط فہمی کا شکار ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام تمام انسانوں کے لئے ہے بنیادی طور پر اسلام نے انسانیت کی تعلیم دی ہے اگر کوئی باقاعدہ اسلام میں داخل نہ ہو تب بھی وہ اسلامی تعلیمات سے فائدہ اٹھاسکتا ہے اور آج دنیا کی بہت ساری قومیں اور ممالک انہیں تعلیمات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور مسلمان دور کھڑے ہو کر انہیں دیکھ رہے ہیں اور ان کی تعریف کر رہے ہیں اللہ سے دعا ہے کہ ہمارا معاشرہ اسلامی بنے جس سے ہمیں دوسروں کی نقل کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔
 
دوسری طرف ایسے بہت سارے لوگ ہیں جنہیں کسی نہ کسی بہانے سے اسلام میں داخل ہونے کا موقعہ ملا لیکن اچھی تعلیم وتربیت  نہ ملنے کی وجہ سے وہ سماج میں اپنی پہچان نہ بناسکے اور کمزوری کی وجہ سے مسلمان تو غلط فہمی کا شکار ہوتے ہی ہیں نئے آنے والے لوگوں کے لئے بھی وہ نمونہ نہیں بن پاتے ہیں۔
 
میں سمجھتا ہوں کہ اس بارے میں تمام ذمہ داران قوم  جو دین کی بات پہونچانا  چاہتے ہیں اور دعوت کا کام کر رہے ہیں خاص طور پر غیر مسلم بھائیوں میں دین کی بات  پہونچانا  چاہتے ہیں انہیں چاہئے کہ ہر نئے آنے والے کے لئے اسلامی تعلیم اور تربیت کا مکمل بندوبست کریں اور انہیں ثابت قدم رہنے میں مدد کریں اس ملک میں جہاں اکثریت غیر مسلم بھائیوں کی ہے دعوت دین کی سخت ضرورت ہے ۔ آج بھی اگر تمام مسلمان دین پر چلیں اور اپنے اخلاق و کردار کو سنواریں اور انسانیت کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنائیں تو ہزاروں لاکھوں لوگ اسلام کو سمجھنے اور اپنانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔
 
یہ بات بھی دنیا کے سامنے آنی چاہئے کہ اسلام کسی کو بھی زبردستی اپنی آغوش میں نہیں لیتا اور کوئی مسلمان کسی کو زبردستی مسلمان نہیں بنا سکتا 
ہے بلکہ یہ فیصلہ بندے اور اللہ کے بیچ میں ہوتا ہے ۔ جب تک کوئی شخص دل کی گہرائیوں سے اسلام کو نہیں پہچانے گا اور آخرت کا کامیابی کو مد نظر نہیں رکھے گا اسلام میں داخل نہیں ہوسکتا ہے ۔ اگر آنکھ بند کرکے اسلام میں داخل ہوبھی گیا تو حالات کا مقابلہ کرنا اس کے لئے ناقابل برداشت ہوگا۔
 
آخر میں میں اپنے تما م غیر مسلم بھائیوں کو یہ دعوت دیتا ہوں کہ وہ اسلام کو قرآن اور حدیث کی روشنی  میں پڑھیں اور سمجھیں' عام مسلمانوں کو دیکھ کر نہیں ۔ اسلام کے بارے میں کوئی بھی رائے قائم کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ اس کی پوری تحقیق کرلیں۔ اپنے مسلمان بھائیوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ غیر مسلم بھائیوں کے ساتھ اپنے اخلاق ' کردار ' معاملات کو ایسا معیاری بنائیں کہ سب لوگوں کو اسلام کی پہچان ہوسکے اور لوگ آپ سے فائدہ اٹھا سکیں ایسا نہ ہو کہ آپ کی بدعملی کہ وجہ سے لوگ آپ سے نفرت کریں اور ساتھ ہی اسلام سے بھی نفرت کرنے لگیں ۔ میری نظر میں اس سے بڑی اور کوئی ٹریجڈی نہیں ہوسکتی ۔ اللہ تعالی  سے دعا ہے کہ اہم دین کے صحیح نمائندے بن سکیں۔
 
(بشکریہ ارمغان جنوری ۲۰۰۹ء   نسیم ہدایت کے جھونکے: پیشکش احمد اوّاہ  ندوی)
 
++++++++++++++++++++++
 
Comments


Login

You are Visitor Number : 562