donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Personality
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Maulana Md Tariq Noman
Title :
   Maulana Haq Nawaz Shaheed

امام سنی انقلاب ،امیرعزیمت شہید ناموس صحابہ

مولاناحق نواز  شہید


مولانامحمد طارق نعمان گڑنگی


امیرعزیمت حضرت مولاناعلامہ حق نواز شہیدؒکو آج بچہ بچہ پہچانتاہے ان کے کام ان کے نام اور کردار سے امت مسلمہ واقف ہے آپ 1952؁ء میںموضع چیلہ ضلع جھنگ ولی محمدکے گھر پیداہوئے۔ والدہ محترمہ کاسایہ بچپن میں ہی اُٹھ گیاتعلیم وتربیت کابوجھ آپ کے والد کے سر آیاتوآپ کومقامی پرائمری سکول میں داخل کیالیکن اللہ پاک نے اس ہونہار سے دین کاکام لینا تھا آپ نے پرائمری تک کی تعلیم حاصل کی آپ کے دل میں قرآن سے محبت سرایت کر چکی تھی آپ نے اپنے خاندان کے چشم وچراغ حافظ جان محمدصاحب سے قرآن پاک کی تعلیم شروع کی ۔آپ نے دوسال کے عرصہ میں قرآن پاک یاد کر لیااورتجوید وقرات کے لیے فن تجوید کے مشہور ومستندامام حضرت مولاناقاری تاج محمود کی خدمت میں حاضر ہوگئے جو ان دنوں عبدالحکیم میں پڑھاتے تھے ۔حق نواز جھنگوی ؒ نے حضرت قاری صاحب کی خدمت میں ہی تجوقرات کاکورس مکمل کیااستاذمحترم کواس لائق شاگرد سے پے پناہ محبت تھی بہت کم ایسے شاگرد ہوتے ہیں جن پہ استاذ کونازہوتاہے آپ کی قرات سن کر حضرت قاری صاحب اکثر آپ کودعائوں سے نوازاکرتے تھے ۔جھنگویؒ نے حفظ وتجوید کاکورس مکمل کر کے تفسیر وفقہ ومکمل دینی علوم وفنون حاصل کرنے کافیصلہ کیا۔آپؒ نے اس سلسلہ میں ملک پاکستان کی عظیم دینی درسگاہ دارالعلوم کبیروالاکاانتخاب کیااوراپنے کجاوہ کوکسااورروانہ ہوگئے مولاناؒ نے شیخ الحدیث مولاناعلی محمدصاحب کی خدمت میں کافی عرصہ گزارااوراپنی علمی پیاس کوبجھاتے رہے آہستہ آہستہ اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھے بلآخر ایک دن آیاکہ آپ نے احادیث کی کتب کواُٹھایااوردیکھااورچوماچومنے کے ساتھ ہی حق نواز جھنگوی گھوم اُٹھے کہ یااللہ !میں غریب خان دان کابچہ تھامیری ماں کا سایہ تونے اُٹھایامیں نے حفظ مکمل کیامجھے میری ماں کاسایہ نظر نہ آیامیں نے تجوید پڑھی میرے سر پہ دستار سجائی گئی لیکن پھر بھی میرے سر پہ میری ماں کاہاتھ نہ آیایااللہ !آج اس ماں کابیٹااحادیث شریف شروع کر رہاہے ذرااسے بتادے کہ اب تیرا بیٹاقال اللہ ۔قال الرسول کی صدالگائے گااورحضور کاسچاغلام بن کے صحابہ کرام کے طورطریقے پہ چل کے سچامسلمان کہلائے گاغیب سے آواز آئی کے بیٹے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ایک دن ایساآئے گاکہ امت کی ہرماں تیرے لیے دعائوں کے ہار بنائے گی اورتیرے گلے میں سجائے گی وہی ہواکہ حق نواز کے لیے ہر ماں کی دعاسہارابن گئی ۔مولاناحق نواز جھنگوی ؒ نے دورہ حدیث کے لیے دینی درسگاہ خیرالمدارس کارُک کیاوہاں بھی حدیث شریف کی کتب کوہمیشہ سینہ کے ساتھ لگایااوربڑے بڑے محدثین سے فیض یاب ہوتے رہے ۔درس نظامی مکمل کر لینے کے بعد آپ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں تشریف لائے اوراپنی تدریس کاآغاز ایک دینی ادارے سے کیاکچھ عرصہ وہاں رہے اللہ پاک نے آپ کوتدریس کے ساتھ خطابت کاملکہ بھی عطافرمایاآپ ؒ کے بیان میں سحر تھاجو سنتاآپ کادیوانہ ہوجاتاآپ نے پنی خطابت کاآغاز جھنگ صدرپپلیانوالی مسجد سے کیاآپ نے توحیدوسنت کاپرچم جب اُٹھایاتواپنے بھی بیگانے ہوگئے لوگوں نے کہناشروع کیاکہ ہمارے آبائواجدادجوکرتے آئے ہم بھی وہی کریں گے کوئی جوان سانوں نی روک سکدا۔۔۔آپ نے ان کی پرواہ کیے بغیر اپناکام جاری رکھااورہمیشہ انہیں للکارتے رہے ۔اہل بدعت نے جب طوفان برپاکیاتوبات مناظرہ تک جاپہنچی آپ ؒ نے اپنے رفقاء کے ہمراہ ایک باطل شکن مناظرہ بھی کیاجس سے باطل کے اوسان خطاہوگئے ایک مرتبہ پھر جھنگ کی سرزمین اللہ اکبر کی صداسے گونج اُٹھی۔مولاناحق نواز جھنگوی ؒ نے بے پناہ قربانیاں دیں ہر میدان میں آپ کاوجودنظرآتاتھاکبھی سیات کے میدان میں توکبھی مناظرہ کے میدان میں۔کبھی تحریک ناموس رسالت کی میدان میں تو کبھی دفاع صحابہ کے میدان میں۔مولاناحق نواز جھنگوی ؒ نے اپنی بے پناہ صلاحیتوں کالوہامنوایاجھنگ صدر کاہر بچہ بوڑھااورنوجوان آپ کادیوانہ بن گیااور آپ کی آواز پہ لبیک کہنے پہ تیارہوگیا۔


   ؎اک اک آیت قرآن کی تلاوت کرنا
جان پر کھیل کراظہارصداقت کرنا
جھنگ والے نے بتایاہے بزبانِ جرات
زندگی کیاہے تمنائے شہادت کرنا


6ستمبر1984؁ء کوآپ ؒ نے مسجدپپلیانوالی جھنگ صدر میں ایک تنظیم کی بنیاد رکھی جس نام انجمن سپاہ صحابہ ؓ رکھاگیا۔جس کامقصد پاکستان میں صحابہ کرام ؓ کے ناموس کاتحفظ اورخلفاء راشدین کے نظام کے نفاظ کے لیے فضاہموارکرناتھا،انجمن سپاہ صحابہ کی بنیادرکھتے وقت آپ کوایسے جوان ملے کے جن کے اندر بے پناہ صلاحیتیں تھیں جن میں شیخ حاکم جیسے مردجواں اورمحمدیوسف مجاہد جیسے جری انساں تھے۔سپاہ صحابہ کی پہلی کانفرنس آل پاکستان دفاع صحابہ ؓ کانفرنس کے نام سے جھنگ کے ایک وسیع میدان میں ہوئی جس میں شیخ المشائخ حضرت مولاناخواجہ خان محمدصاحب ؒ امیرمجلس تحفظ ختم نبوت،مولانافضل الرحمن صاحب امیرجمیعت علماء اسلام ،مناظراسلام مولاناعبدالستارتونسویؒ ،مولاناصاحبزادہ قاضی احسان الحق صاحب ؒ ،مولاناعبدالستارتوحیدی ؒ،مولاناامیرحسین شاہ گیلانی اورسینکڑوں علماء کرام نے شرکت کی۔مولاناحق نواز جھنگویؒ ایک نڈراوربے باک لیڈرتھے  صدرایوب خان کے دور میں کئی دفعہ آپ کوجیل میں ڈالاگیاآپ کوکئی طریقوں سے ڈرایادھمکایاگیامگر اپنے کاز سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے۔مولاناحق نواز جھنگویؒ نے اپنی جماعت کوعروج پہ پہنچانے کی کوشش کی اورہمیشہ ظلم وستم کوسینے سے لگایامولاناپہ جھوٹے مقدمات بھی بنائے گئے اورآپ کی تقریرجہاں پہ بھی ہوتی وہاں دفعہ 144نافذکردیاجاتااورتقاریرسے روکاجاتا۔


احمدپور شرقیہ کاایک دلچسپ واقعہ


احمدپورشرقیہ ضلع بہاولپور میں مولاناحق نواز جھنگوی ؒ کاداخلہ بندکردیاگیاپولیس نے وہی احمقانہ رویہ اپنایاکہ مختلف راستوں کی ناکہ بندی کرکے مولاناکاراستہ روک لیا۔مگر مولاناحق نواز ایک دلچسپ انداز سے اپنالباس تبدیل کر کے جلسہ میں جانے والے کسی سامع کے ساتھ ہوکرجلسہ گاہ پہنچ گئے اورپولیس کوخبر تک نہ ہوسکی مولاناحق نواز جلسہ گاہ پہنچ کرعجیب انداز سے اسٹیج پرنمودار ہوگئے آپ ؒ نے جونہی تقریرشروع کی تومجمع سے آوازیں آناشروع ہوگئیں کہ ۔۔۔طلاق واقع ہوگئی ۔طلاق واقع ہوگئی ،مولانانے تقریرروک کر مجمع سے پوچھاکہ یہ طلاق ہوگئی کے نعرے کیوں لگ رہے ہیں؟اس پر سامعین نے بتایاکہ احمدپورکاایک پیشہ ورمولوی اپنی تقریر میں کہتاتھاکہ مولاناحق نوازاحمدپورکے جلسے میں تقریر نہیں کرسکتااگر وہ یہاں آکر تقریرکرلے تومیری بیوی کوطلاق۔۔۔۔یہ تقریر عوام کے ذہن میں تھی اس لیے عوام نے کہناشروع کردیاکہ مولوی کی بیوی کوطلاق ہوگئی 


پولیس بغیروضوجماعت میں کھڑی ہوگئی 


ترنڈہ  محمدپناہ کے قریب ایک بستی میں جلسہ تھامولاناحق نوازؒ کاداخلہ بندکردیاگیاوہ اپنے طے شدہ منصوبہ کے مطابق جلسہ میں شریک ہوگئے اورعوام کوخطاب فرمایامگر پولیس کوجلسہ کے اختتام پر معلوم ہوا کہ مولاناحق نواز توکسی دوسرے راستے سے اس بستی میں پہنچ گئے ہیں بلکہ مولانانے وہاں تقریر بھی کر لی ہے د ن کو جلسہ تھاجلسہ ختم ہوچکاتھااورعوام عصر کی نماز کے لیے کھڑے ہوچکے تھے۔پولیس نے معلوم کیاہوگاتوکسی نے بتایاکہ مولاناحق نواز جماعت کے ساتھ نماز اداکررہے تھے پولیس والوں نے بھی لوگوں کے ساتھ ہی نماز کی نیت باندھ لی ۔مولاناحق نواز کسی مکان میں وضوفرمارہے تھے انہیں بتایاگیا کہ پولیس پہنچ چکی ہے اورانہوں نے بھی جماعت کے ساتھ نیت باندھ دی ہے آپ کوئی تدبیر کر لیں تاکہ آپ کوگرفتار نہ کیاجاسکے 


مولانانے اپنے رفقاء کواپنی گاڑی میں بٹھاکرچندبچوں سے کہاکہ آپ اس گاڑی کے پیچھے حق نواز زندہ باد کے نعرے لگائیںاورڈرائیورسے کہاکہ آپ تیزی سے گاڑی لے جائیں ۔جونہی ساتھی گاڑی میں سوار ہوئے چندنوجوانوں نے جیوے جیوے حق نواز کے نعرے لگانے شروع کر لیے اورڈرائیور نے گاڑی چلاناشروع کر دیاپولیس نے نماز میں ہی یہ سمجھاکہ مولاناحق نوازتونماز میں تھے ہی نہیں وہ گاڑی میں سوار ہوکر روانہ ہوگئے ہیں توپولیس والوںنے نماز توڑکر اپنی گاڑی مولاناکی گاڑی کے تعاقب میں لگادی وائرلیس کے ذریعے آگے اطلاع بھی دے دی کہ مولاناکوگرفتار کرلیاجائے وہ اس طرھ ہمارے ہاتھوں سے نکل چکے ہیں پولیس نے آگے ناکہ بندی کر لی اور مولاناکی گاڑی کوروک لیا۔گاڑی روک کر پولیس والوں نے کہاکہ مولاناحق نواز صاحب آگے تشریف لے آئیںہم انہیں گرفتار کرناچاہتے ہیں گاڑی سے مولاناکے رفقاء باہر آگئے اوربتایاکہ ہم میں مولاناحق نواز کوئی نہیں اس پہ پولیس والوں شرمندہ اورنادم ہوکر رہ گئے۔


جیوے جیوے حق نواز


اسی طرح ایک دفعہ ڈیرہ اسماعیل خان میں اہل سنت کے کارکنان نے مولاناحق نواز جھنگوی ؒ کے جلسے کااہتمام کیا انتظامیہ نے مولاناکے داخلے پہ پابندی عائد کر رکھی تھی (مولاناحق نواز ؒمیں ایک خاصیت تھی کہ وعدے کے پکے اوروقت کے پابند تھے)اسی وجہ سے مولاناحق نواز سے تعمیل کرانے کے لیے دریائے سندھ کے پُل پہ ناکہ بندی کرلی تاکہ مولاناحق نوازؒ شہرمیں داخل نہ ہوسکیں لیکن اس کانام جوحق نواز تھاکہ حق پہ دٹ جانااس کاکام تھامولاناکے استقبال کے لیے لوگ دریائے سندھ کے پُل پہ پہنچے ہوئے تھے مولانابھی پُل کے قریب پہنچے تواپنے رفقاء سے کہاکہ آپ لوگ بیٹھے رہیں پولیس ناکہ لگائے ہوئے ہے آپ اپنی گاڑی سے ٹوپی اُتار کے اترے اورجاکرجلوس والوں میں شامل ہوکر نعرے لگانے لگے کہ


جیوے جیوے حق نواز     جیوے جیوے حق نواز


اس طرح آپ جلسہ گاہ پہنچنے میں کامیاب ہوگئے اوررات کووہاں خطاب فرمایااوریہ صدائے حق بلند کی 


  ؎وہ دن گئے جب ہراک ستم کوادائے محبوب کہہ کے چپ تھے

اُٹھی جوہم پرکوئی اینٹ اب اگر،تواس کاپتھرجواب ہوگا
سکوتِ صحرامیں بسنے والو!ذرارُتوں کامزاج سمجھو
ابھی تواتنی گھٹن بڑھے گی کہ سانس لیناعذاب ہوگا


مولناؒ کی آخری خواہش شہادت کی موت تھی آخر یہ بلند مرتبہ حاصل ہوہی گیاآپ ؒ کوجمعرات 25رجب1410؁ھ  22فروری1990؁ء کوکوگھر سے نکلتے ہوئے تاک میں بیٹھے دہشت گردوں نے شہید کردیے مولاناشادی کی تقریب میں شرکت کے لیے جارہے تھے شہادت کی وقت آپؒ کی عمر 32سال تھی آپ ؒ نے ایک بیوہ اور تین بچوں کوپیچھے چھوڑاسب سے بڑاصاحبزادہ بھی اپنے والد کے پہلو میں آج سویاہے اسے بھی اسی رساتے پہ چلتے ہوئے شہادت کی موت نصیب ہوئی ۔آپ ؒ کے جنازے میں لاتعداد افراد نے شرکت کی جنازے کی امامت مولاناعبداللہ درخواستی ؒ نے کی آپ ؒ کی زبان پہ ہمیشہ یہی شعر ہوتاتھا


  ؎فنافی اللہ کی تہہ میں بقاء کا راز مضمر ہے
 جسے مرنانہیں آتااسے جینانہیں آتا

********************

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 341