donateplease
newsletter
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Teeshae Fikr
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Ghaus Siwani
Title :
   Dalit Ghusse Ka Toofan, Barood Ki Dher Par Hindustan


دلت غصے کا طوفان، باردو کی ڈھیرپر ہندوستان
 
کیا یہ مرکزی سرکار کے خلاف دلتوں کا اعلان جنگ ہے؟
 
تحریر: غوث سیوانی، نئی دہلی
 
دلت سڑکوں پر کیوں اتر رہے ہیں؟ وہ احتجاج ومظاہرے کیوں کر رہے ہیں؟ آخر ا ن کے غصے کا طوفان ساتویں آسمان پر کیوں ہے؟ تمل ناڈو سے اترپردیش تک اور گجرات سے دلی تک وہ آگ بگولہ کیوں نظر آرہے ہیں؟ انھیں سرکاری نوکریوں اور تعلیمی اداروں میں ریزرویشن مل چکا ہے، ان کے لئے پنچایت سے لے کر لوک سبھا تک میں سیٹیں مخصوص ہیں اب انھیں مزید کیا چاہئے؟ جی ہاں! ان دنوں جس طرح سے ملک بھر میں دلتوں کو سڑکوں پر اترتے دیکھا جارہاہے اور ان کے غصے کی زد میں مرکزی اور ریاستی حکومتیں نظر آرہی ہیں ،اسے دیکھتے ہوئے، ہر کسی کے ذہن میں اس قسم کے سوال آتے ہیں۔ حالانکہ اگر غور کیا جائے تو دلتوں کے غصے کی بات سمجھ میں آجاتی ہے۔ دلتوں کو جو کچھ ملنا چاہئے وہ ضرور ملا ہے مگر ایک چیزجو ملنی باقی ہے وہ ہے عزت کی زندگی۔ آج برسراقتدار طبقے سے کبھی امت شاہ ،دلتوں کے گھر جاکر ان کے ساتھ کھانا کھاتے ہیں تو کبھی آرایس ایس اور وشو ہندو پریشد کے لوگ ’’دلت بھوج‘‘ کی اجتماعی تقریبات کرتے ہیں، کبھی راہل گاندھی دلتوں کے گھر چائے ،پانی کرتے ہیں تو کبھی دلی کے وزیراعلیٰ اروند کجریوال ان کے ساتھ مٹھائیاںکھاتے ہیں مگر اس کے باوجود دلتوں پر مظالم اور تشدد کے واقعات میں کوئی کمی نہیں آرہی ہے۔ انھیں آج بھی عزت کی زندگی نصیب نہیں ہے۔آج بھی وہ گندے کام کرنے پر مجبور ہیں۔ آج بھی وہ سو رپالتے ہیں، مردہ جانوروں کی کھالیںاتارتے ہیں، ان کا گوشت کھاتے ہیں،جوتے گانٹھتے ہیں اور غلاظت اپنے سروں پر ڈھوتے ہیں۔آج بھی ان کے ساتھ عام لوگ بیٹی ،روٹی کا رشتہ رکھنا پسند نہیں کرتے۔ آج بھی انھیں مندروں میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔آج بھی وہ بھید بھائو کا شکار ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا سرکاری ملامتوں میں ریزرویشن ہی ان کے لئے کافی ہے؟ کیا نیتائوں کے ،ان کے ساتھ کھانا کھالینے سے انھیں عزت مل جائیگی؟ کیا صرف قانون بنادینے سے دلتوں کے ساتھ بھید بھائوختم ہوجائے گا؟ یا سماج کی ذہنیت کو بدلنے کی بھی ضرورت ہے؟
 
ایک دن کے احتجاج کا سبق
 
ایس سی ایس ٹی ایکٹ پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد جس طرح ایک دن کی ہڑتال میں دلت احتجاج کرتے نظر آئے اور ان کے غصے کے آگے جس طرح حکومت بے بس نظر آئی، اس میں کچھ بھی حیرت انگیز نہیں ہے۔گاڑیوں میں آگ لگائی گئی،ریل کی پٹریاں اکھاڑی گئیں، پولس اسٹیشن نذرآتش کیا گیا،کئی علاقوں میں کرفیونافذ کیا گیا،ایک درجن کے آس پاس ہلاکتیں ہوئیں اور سینکڑوں کی تعداد میں موتیں ہوئیں۔ ظاہر ہے کہ تشددبرپا کرنے کے لئے کوئی جواز پیش نہیں کیا جاسکتا مگر یہ پرتشدد احتجاج بتاتا ہے کہ دلتوں میں کس قدر غصہ بھرا ہوا۔ یہ غصہ ایک دن میں ان کے اندر نہیں آیا ہے بلکہ گزشتہ پانچ ہزارسال کے استحصال کا ثمرہ ہے اور اگر ان پر ہونے والے مظالم نہیں رکے، انھیں عزت کی زندگی نہیں ملی تو آنے والے دنوں میں مزید غصہ پھوٹ سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ آج بھی انھیں گھوڑے پر چڑھنے سے روکا جاتا ہے۔ آج بھی ان کی بارات میں دولہے کو گاڑی سے آنے کی اجازت نہیں ملتی، آج بھی چھوت چھات کا سلسلہ ختم نہیں ہوا ہے اور کچھ گاووں میں تو انھیں نئے کپڑے پہننے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ 
 
مظالم کے اعداد وشمار
 
دلتوں پر مظالم کے خلاف ہمارے ملک میں قانون موجود ہیں مگر دلتوں پر مظالم کے واقعات دن بہ دن بڑھتے جارہے ہیں۔دلتوں پر تشدد، دلت خواتین کی عصمت دری اور قتل کے اعداد وشمار میں کمی آنے کے بجائے روز بروز اضافہ ہورہاہے۔سرکاری اعداد وشمار کہتے ہیں کہ 2016میں پورے ملک کے اندر ،دلتوں کے خلاف جرائم کے40801کیس درج کئے گئے جب کہ 2015میں ان کی تعداد38670تھی اور 2014 میں دلتوں کے خلاف جرائم کی کل تعداد 40401تھی۔ان میں 2541کیس دلت خواتین کے ساتھ ریپ کے ہیں۔ ریپ کے بہت سے کیس نابالغ لڑکیوں کے ساتھ ہوئے ہیں۔دلتوں کے خلاف جرائم میں سرفہرست مدھیہ پردیش، اترپردیش اور بہار ہیں۔ان اعداد کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہندوستان دلتوں کے لئے آج بھی محفوظ نہیں ہے۔ ویسے یہ وہ اعداد ہیں جو پولس تک پہنچے اور رکارڈ میں آئے مگر بہت سے معاملے ایسے ہوتے ہیں جو پولس تک نہیں پہنچتے ہیںاور انھیں گائوں کی پنچایت اور مقامی لوگ سلجھالیتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ جب دلتوں پر مظالم کا سلسلہ روزبروز دراز ہورہاہے؟ ان کی خواتین کی عصمت تک محفوظ نہیں ہے؟ ان کی زندگی ہر وقت دائو پر لگی ہوئی ہے اور سماج میں انھیں برابری کے حقوق حاصل نہیں ہیں تو انھیں غصہ کیوں نہیں آئے گا؟ آخر وہ بھی تو انسان ہیں اور ان کے اندر بھی روز بروز بیداری آرہی ہے۔
 
دلتوں کے ساتھ چھوت چھات
 
آج جب کہ دنیا بھر میں انسانی مساوات کی باتیں کی جارہی ہیں اور بھارت میں بھی اس کے خلاف قوانین موجود ہیں تب بھی دلتوں کے ساتھ بھید بھائو کے واقعات ہورہے ہیں۔ حالیہ کچھ اعداد بتاتے ہیں کہ بھارت کے کچھ صوبوں میں تو چھوت چھات بہت زیادہ ہے اور ایسے صوبوں میں سرفہرست ہے بی جے پی کی حکمرانی والی ریاست مدھیہ پردیش، جہاں دلتوں کے ساتھ چھوت چھات کا تناسب 52فیصد ہے۔ جب کہ ہماچل پردیش میں یہ تناسب50فیصد ہے اور تیسرے نمبر پر چھتیس گڑھ ہے، جہاں یہ تناسب 47فیصد ہے۔ راجستھان اور بہارمیں دلتوں کے ساتھ چھوت چھات کا تناسب 47 ہے۔ اترپردیش ملک کی سب سے بڑی ریاست ہے، جہاں دلتوں کے ساتھ چھوت چھات کا تناسب 43 فیصد ہے جب کہ اترکھنڈ میں یہ چالیس فیصد ہے۔ سرکاری اعداد کو سامنے رکھ کر تجزیہ کریں تو دلتوں کے لئے سب سے خطرناک صوبوں میں سرفہرست  اترپردیش ہے، جہاں دلتوں کے خلاف جرائم کے سب سے زیادہ واقعات سامنے آئے ہیں۔ یہ اعداد ظاہر کرتے ہیں کہ دنیا لاکھ سائنس اور ٹکنالوجی کے دور میں پہنچ گئی ہو مگر بھارت آج بھی اسی عہد وسطیٰ میں جی رہا ہے جہاں یہ کہا جاتا تھا کہ دلت برہما کے پائوں سے پیدا ہوئے ہیں لہٰذا ان کا سماجی مرتبہ سب سے کم تر ہے۔
 
دلت بھی تعلیم یافتہ ہورہے ہیں
 
بھارت میں دلتوں کو گزشتہ پانچ ہزار سال سے دباکر کر رکھا گیا ہے اور شہری حقوق تو درکنار انھیں انسانی حقوق بھی حاصل نہیں ہیں۔ پہلے انھیں مذہبی اور سماجی روایت کی دہائی دے کر دبایا گیا اور غلامی پر مجبور کیا گیا اور آج انھیں دوسرے حیلوں اور بہانوں سے پیچھے رکھنے کی کوشش ہورہی ہے۔حالانکہ اس صورت حال کو ہمارے ملک کے انگریز حکمرانوں نے سمجھا تھا اور انھیں آگے لانے کے لئے ریزرویشن دیا تھا۔ ایس سی، ایس ٹی ریزرویشن کی ابتدا انگریزی دور حکومت میں ہی کی گئی تھی جو ملک کی آزادی کے بعد بھی جاری رہا اور اس کا خاطر خواہ فائدہ بھی دیکھنے کو ملا۔1961میں صرف دس فیصد دلت پڑھنا لکھنا جانتے تھے جب کہ آج صورت حال بالکل مختلف ہے ۔ 2011کے اعداد وشمار کے مطابق اب66فیصد سے زیادہ دلت خواندہ ہیں۔  یہاں اس پہلو پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ 1961 میں عام خواندگی کی شرح بھارت میں 28فیصد تھی جب کہ 2011 میں یہ 74فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ گویا عام ہندوستانیوں کے مقابلے اب بھی دلتوں کی خواندگی کی شرح کم ہے مگر بہرحال وہ پہلے کے مقابلے آج زیادہ پڑھے لکھے ہیں اور اپنے حقوق کے تئین بیدار بھی ہوئے ہیں۔ اب انھیں احسا س ہورہاہے کہ ان پر کس طرح ہزارہا سال تک مظالم کا سلسلہ جاری رہا اور انھیں دباکر رکھا گیا۔ آج وہ تاریخ پڑھ رہے ہیں اور مظالم کے اسباب پر بھی غور کر رہے ہیں۔ایسے لٹریچر کی آج کمی نہیں، جس میں دلتوں کے خلاف ہزارہا سال کے مظالم کا تجزیہ ملتا ہے۔ بہت سے دلت ،اعلیٰ عہدوں پر بھی پہنچ رہے ہیں اور بعض دلتوں میں تو اعلیٰ برادریوں کے خلاف انتقام کے جذبات بھی ابھر رہے ہیں۔ 
 
معیار زندگی میں بہتری آئی ہے
 
دلتوں کا ماننا ہے کہ تعلیمی اداروں اور سرکاری نوکریوں میں ریزرویشن ان کا حق ہے۔ اگر انھیں یہ مل رہا ہے تو کوئی احسان نہیں ہے۔ریزرویشن کے اس سسٹم نے ایس سی ایس ٹی طبقے کے اندر بڑے بدلائو کئے ہیں۔ جنھوں نے تعلیم حاصل کی ہے اور نوکریاں پائی ہیں، انھوں نے اپنے بچوں کو بھی علم کے زیور سے آراستہ کیا ہے اور اپنے معیار زندگی کو بہتر کیا ہے۔ سرکاری اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ مرکزی سرکار کی نوکریوں میں شیڈول کاسٹ تقریباً 17فیصد ہیں جب کہ شیڈول ٹرائب ساڑھے 8 فیصد سے کچھ زیادہ ہیں۔ان کی آمدنی بڑھی ہے تو خرچ کی قوت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ شہری علاقوں میں اونچی ذات کے لوگ ایک فیملی کے پیچھے 2000ء تک ماہانہ 5,025روپئے خرچ کرتے تھے جب کہ ایس سی کلاس والے 3,455روپیے خرچ کرتے تھے اور ایس ٹی طبقہ کے لوگ 3455روپئے خرچ کرتے تھے جو 2012ء میں باالترتیب بڑھ کر 16,210اور10,140اور10,965ہوگیا ہے۔  
 
دلت ووٹ کی سیاسی اہمیت
 
بھارت میں ایس سی ایس ٹی کی آبادی 22 فیصد بتائی جاتی ہے مگر صوبائی سطح پر وہ کہیں کم تو کہیں زیادہ ہیں۔ دلت آبادی کا سب سے زیادہ تناسب پنجاب میں ہے جہاں وہ تقریبا32فیصد ہیں۔ اس کے بعد ہماچل پردیش میں ان کا تناسب 25فیصد سے کچھ زیادہ ہے۔مغربی بنگال میں وہ 23فیصد سے زیادہ ہیں جب کہ اترپردیش اور ہریانہ میں ان کی آبادی کا تناسب20فیصد سے زیادہ ہے۔ یہی سبب ہے کہ تمام سیاسی پارٹیاں دلت ووٹ کو حاصل کرنے کے لئے طرح طرح سیاسی ٹونے ٹوٹکے کرتی ہیں۔ دلت ووٹ ماضی میں کانگریس کے ساتھ تھا مگر بعد میں اس کا کچھ حصہ بی جے پی کے ساتھ آیا۔ البتہ الگ الگ ریاستوں میں یہ ووٹ بینک الگ الگ پارٹیوں کے ساتھ رہتا ہے مگر اترپردیش میں دلت، مایاوتی کی بہوجن سماج پارٹی کو ووٹ کرتے ہیں۔ فی الحال دلت ووٹ پر سیاست کا سلسلہ جاری ہے مگر دلتوں کو حالات کو بدلنے کی سنجیدہ کوشش کی اب بھی ضرورت ہے۔اگر ان کے حالات نہیںبدلے تو ملک کی ترقی کی رفتار پر اثر پڑے گا ہی، ساتھ ہی ان کے غصے میں بھی ابال آسکتا ہے۔ 
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  
Comments


Login

You are Visitor Number : 338