donateplease
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
design_poetry
Share on Facebook
 
Syed Abdul Azeem
Poet
--: Biography of Syed Abdul Azeem :--

Syed Abdul Azeem

شاعر کا تعارف  :  سید عبدالعظیمؔ

    سید عبد العظیم، اتالیق اردو، ماہر لسانیات، مورخ، شاعر اور ادیب کے ناموں سے جانے پہچانے جاتے ہیں۔تخلص عظیمؔ فرماتے ہیں۔ بھارت کی آزادی کے پہلے ہی سے درس و تدریس میں اپنے نمایاں اور جلیل القدر خدمات انجام دیتے آرہے ہیں۔یکم ستمبر  1930ء  میںضلع چتور کے مریپاڑ گاوئں میں پیدائش ہوئی۔ والد محترم حضرت عبدالرّئوف، ایک دانشور، مذہبی اورادبی شخصیت مانے جاتے تھے۔ تعلیم گرمکنڈہ، مدراس، کرنول اور تروپتی میں ہوئی۔

     عبدالعظیم صاحب صوبہ آندھرا پردیش، علاقہ رائل سیما کے ایک مشہور و معروف ادیب، اردو داں، ترویج و ترقیِ اردو کے لیے جانے پہچانے جاتے ہیں۔ ضلع چتور میں موجودہ اردو کی ترقی چند احباب کی کاوشوں کا نتیجہ ہے جن میں عبدالعظیم صاحب اہم شخصیت مانے جاتے ہیں۔ مریپاڑ میں ان کا خاندان قلعے والے حضرات کے نام سے جانا پہچانا جاتا ہے۔ ان کی تاریخ ساتویں پیڑھی کے جد حضرت سید شاہ صاحب، جو  ایران کے بو شہرہ سے یہاں تشریف لائے ، سے شروع ہوتی ہے۔بو شہرہ سے ان کا تعلق عرب کے شہر مدینہ سے جاملتا ہے۔  ان کا سلسہ سادات سے بھی ہے اور حضرت عمر فاروقؓ سے بھی جا ملتا ہے۔

پیشہ ورانہ زندگی  :     کم سنی میں ہی مدرس کے پیشے پر فائز ہوئے۔ جس کی وجہ سے بحیثیت سرکاری مدرس کافی لمبے عرصہ تک رہے۔ ضلع کے مختلف مقامات میں درس و تدریس کے فرائض کی انجام دہی کی بناء  پر اردو زبان اور ادب کی ترویج و ترقی کا کافی اچھا موقع ملا۔ چتور، تروپتی سے لے کر پنگنور، بی۔کوتہ کوٹہ اور مدنپلی تک کے علاقوں میںاپنے فرائض انجام دئے۔
ادبی سفر  :    اپنے مضامین کئی رسالوں کو روانہ کرتے تھے، اور زیر طباعت ہوتے تھے۔ مضامین میں اکثر مسلم سلاطین کے ہی عنوانات ہوا کرتے تھے، مثلاً سلطنتِ خدادار اور سلطان ٹیپو، والاجاہی نواب وغیرہ۔ آپ کے مراسم، حضرت حسین احمد مدنی، سلیمان ندوی اور حیدرآباد کے علماء سیدخندمیر منوری مہدی جیسے حضرات سے کافی گہرے تھے۔ 44سال کی طویل درسی خدمات کے بعد 1988 میں وظیفہ یاب ہوئے، اور شہر مدنپلی میں مقیم ہیں۔ وظیفہ یاب ہونے کے باوجود بھی اردو کی خدمات سے سبکدوش نہیں ہوئے۔ اردو زبان اور ترویج اسلامی ادب میں اپنا نمایاں کردار ادا کرتے آرہے ہیں۔

آپ کی تصانیف:  ۱۔ تاریخِ مدنپلی، ۲۔ اسرارِ عظیمؔ، ۳۔ ضلع چتور کی اسلامی تاریخ۔ اور کئی تراجم، روئداد و دیگر لسانی اور ادبی کارناموں کے لیے مقبول ہیں۔      موصوف کو کئی اعزازات سے نوازا گیا جس میں مدنپلی رتنا، اُپادھیایا رتنا، مدنپلی انجمن ترقی اردو اور مشاعرہ کمیٹی حضرت مستعان ولی درگاہ کی جانب سے فخرِ ادب کا اعزاز، اور شہر پنگنور کے اسلامیہ ایجوکیشنل اکیڈمی اور انجمن ترقی اردو کی جانب سے فخرِ اردو ایوارڈ۔


***********************

 

 
You are Visitor Number : 1053