donateplease
newsletter
rishta online logo
rosemine
Bazme Adab
Google   Site  
Bookmark and Share 
mazameen
Share on Facebook
 
Literary Articles -->> Adabi Khabren
 
Share to Aalmi Urdu Ghar
Author : Mushtaq Darbangwi
Title :
   Shahid Noor Ke Sheri Majmooa Meetha Neem Ka Ijra

شاہدؔ نور کے شعری مجموعہ ’’میٹھا نیم‘‘ کا اجرا
 
مشتاق دربھنگوی) گزشتہ 8 جون بروز سنیچر کولکاتا کے بھارتیہ بھاشا پریشد ہال میں ’’بزم وامق‘‘ کے زیر اہتمام مغربی بنگال کی نئی نسل کے معروف شاعر جناب شاہد نور کے شعری مجموعہ ’’میٹھا نیم‘‘ کی رسمِ رونمائی ہوئی جس کی صدارت مسلم انسٹی ٹیوٹ کے جنرل سکریٹری پروفیسر سلمان خورشید نے فرمائی۔ آبروئے شعر و سخن پروفیسر قیصر شمیم نے اجرا کی رسم ادا کی۔ شاعر و ادیب ڈاکٹر عاصم شہنواز شبلی نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ بحیثیت مقررین محترم حلیم صابر، ڈاکٹر شمیم انور، ڈاکٹر عقیل احمد عقیل اور مہمان خاص جناب جمیل منظر نے شرکت فرمائی۔ شام 6 بجے تقریب کا آغاز ہوا۔ کولکاتا کی معتبر شاعرہ محترمہ نغمہ نور نے اپنے خیر مقدمی کلمات سے اس تقریب کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا کہ 27 اپریل کو دہلی کے غالب اکیڈمی ہال میں ’’خاتون مشرق‘‘ کے زیر اہتمام پروفیسر اختر الواسع کے ہاتھوں ’’میٹھا نیم‘‘ اجرا کا شرف حاصل کرچکا ہے لیکن شاعر اپنے شہر کا حق ادا کرنا چاہتا ہے۔ آج کی یہ تقریب شہرِ نشاط کولکاتا کے لئے شاہد نور کی طرف سے ہدیہ محبت ہے۔ بعد ازاں مقررین نے یکے بعد دیگرے اپنے اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔ پروفیسر قیصر شمیم نے فرمایا کہ شاہد نور کے کلام کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ جدید لب و لہجہ اور نئی نسل کی ترجمانی ہے، غزل میں الفاظ و مفہوم کا نہایت خوبصورت انتخاب ہے۔ بیشتر غزلوں میں نعت اور حمد کے اشعار بھی ملتے ہیں جو قدیم طرز شاعری کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور کئی اشعار مابعد جدیدیت کا پتہ دیتے ہیں۔ 
 
پروفیسر سلمان خورشید نے کہا کہ شاہد نور کی شاعری پروان چڑھتی جارہی ہے۔ یہ تجربات و مشاہدات کے پیش نظر ادبی ترقی کے منازل بڑی تیزی سے طے کررہے ہیں۔ ’’میٹھا نیم‘‘ جذبات و احساسات، کرب، سماج، سیاست، گھر، دکھ سکھ، تھکن، عزائم اور زندگی کے سبھی پہلوئوں کو الفاظ کا لبادہ دینے کی ایک کامیاب کوشش ہے۔ 
 
ڈاکٹر شمیم انور نے اپنے تاثراتی بیان میں فرمایا کہ شاہد نور کا شعری مجموعہ سرورق سے ہی اپنی گرفت میں لینا شروع کردیتا ہے۔ میں حیران ہوں کہ اس کم عمر شاعر نے اپنے شعروں میں ایسے لفظ بھی شامل کئے ہیں جن کے استعمال سے آج شاعر گریز کرجاتے ہیں مثلاً ماڑ، کباڑ، جنگل ردیف، پیڑا، آٹھ آنہ، لاٹھی، کھرا کھوٹا وغیرہ لیکن شاہد نور نے ان الفاظ کے استعمال سے اپنے شعروں میں جو حسن اور نیاپن لایا ہے وہ واقعی قابلِ ستائش اور نئی نسل کے شعراء کے لئے خوش آئند راہ ہے۔ 
 
محترم حلیم صابر نے شاہد نور کے شعری مجموعہ ’’میٹھا نیم‘‘ کو روایتی اور جدید شاعری کی ایک نئی ساخت کہا۔ انہوں نے فرمایا کہ شاہد نور کی شاعری میں زندگی کے تقاضے سانس لیتے ہیں۔ وہ ادبی نشستوں اور آل انڈیا مشاعروں میں بھی بیحد  کامیاب ہوتے ہیں۔ تخلیق کے ذریعے آج کے شعراء میں اپنا بلند مقام بنا چکے ہیں۔ ان سے ادبی دنیا امیدیں رکھتی ہے۔ جلد ہی ’’میٹھا نیم‘‘ ادبی حلقے میں اعتبار حاصل کرلے گا۔ 
 
ڈاکٹر عقیل احمد عقیل نے شاہد نور کو صاحبِ کتاب ہونے پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ یہ پہلا شعری مجموعہ جس اعتبار کے ساتھ منظر عام پر آیا ہے انشاء اللہ مستقبل میں ایک مقام حاصل کرے گا۔ عقیل احمد عقیل نے یہ بھی کہا کہ شاعر فکر و فن، تجربات و مشاہدات کا مجموعہ ہے اور شاہد نور علم عروض اور افکار کے ساتھ ساتھ اس کم عمری اور قلیل مدت کی شاعری میں جیسے جیسے مشاہدات پیش کررہے ہیں قابل ستائش ہے۔ ڈاکٹر عاصم شہنواز شبلی نے شاہد نور کو لہجہ تراش شاعر قرار دیا اور بہترین نظامت سے محفل کو رونق افروز کیا۔
 
شاہد نور نے اپنی تقریر میں اظہارِ تشکر کے ساتھ ’’میٹھا نیم‘‘ کے حوالے سے چند جملے کہے۔ انہوں نے کہا کہ میں عظیم شاعر ہونے کا دعویٰ نہیں کرتا۔ یہ میرا پہلا شعری مجموعہ ہے۔ غلطیاں ہو ہی سکتی ہیں۔ یہ انسانی تخلیق ہے۔ بے شک خامیوں کی گنجائش رہ سکتی ہے۔ اخیر میں بزم وامق کے روح رواں جناب عنبر صدیقی نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور اجراء کی تقریب کامیابی کے ساتھ اختتام پذیرہوئی۔
 
*****************

 

Comments


Login

You are Visitor Number : 560